پیدل چلیں، وزن کم کریں

شکیل صدیقی
ڈائنا جب دفتر سے گھر آتی ہے تو اپنے کپڑے تبدیل کرکے پیدل چلنے والا لباس پہن لیتی ہے، پھر چند بسکٹ اور مربا کھاکر گھر سے نکل جاتی ہے۔ دوسرے افراد کی طرح وہ اپنا وزن گھٹانے کے لیے مہنگے طریقے نہیں اپناتی، اور نہ ایسی ادویہ کھاتی ہے جن کے جسم پر پہلوئی اثرات پڑتے ہیں۔
23 سالہ ڈائنا نے صرف پیدل چل کر اپنا وزن 65 سے 52کلو کرلیا ہے۔ وہ روزانہ 45 منٹ تک پیدل چلتی ہے۔
اسی طرح سے 39 سالہ ٹیلی بھی ڈائنا کی طرح تقریباً ایک گھنٹہ پیدل چلا کرتی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے 18ماہ میں 15کلو وزن گھٹا لیا ہے۔ وزن کم کرنے کے کئی طریقے ہیں اور ادویہ بھی کھائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈائنا اور ٹیلی نے سادہ طریقہ اپنایا ہے، وہ 45منٹ پیدل چلتی ہیں۔
پیدل چلنا ہی بہتر ہے
دنیا میں لاکھوں افراد اپنا وزن گھٹا لیتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ایسے افراد شامل ہیں جو پیدل چلتے ہیں۔ کولوریڈو یونی ورسٹی کے ڈاکٹر جیمز ہل نے دو ہزار افراد کا مشاہدہ کرکے بتایا کہ 50 افراد میں سے 49 نے پیدل چل کر اپنا وزن گھٹا لیا۔ انھوں نے دوسری ورزشیں بھی کیں، لیکن پیدل چلنے سے انہیں زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔
بہت سے افراد نے ڈاکٹر جیمز ہل کے مشاہدے کی تصدیق کی کہ جسم کو چھریرا اور متناسب بنانے کے لیے پیدل چلنا ہی بہتر ہے۔ آپ جتنے متحرک ہوں گے، اتنا ہی آپ کا وزن کم رہے گا۔ چلنے سے حرارے زیادہ جلتے ہیں۔
45منٹ ہی کیوں چلنا چاہیے؟
اس سلسلے میں اب تک کوئی باقاعدہ تحقیق نہیں ہوسکی کہ دن میں کتنی دیر تک چلنے سے وزن کم ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر جیمز ہل کا کہنا ہے کہ میں وثوق سے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ سوال آپ ڈاکٹر جیمز ہل کے علاوہ دوسرے ڈاکٹروں سے بھی کریں گے تو آپ کو یہی جواب ملے گا کہ دن میں 45 منٹ پیدل چلنا چاہیے۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ 45 منٹ تک مسلسل چلتے رہیں۔ آپ پندرہ پندرہ منٹ کے دورانیے میں بھی چل سکتے ہیں۔
روزانہ پیدل کیوں چلا جائے؟
ہفتے میں سات دنوں کے بجائے آپ پانچ روز بھی پیدل چل کر اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں، آپ جس روز ناغہ کرنا چاہیں اس سے ایک روز پہلے ایک گھنٹہ بھی چل سکتے ہیں۔ پیر سے جمعہ تک آپ کو کتنا چلنا ہے اس کا انحصار آپ پر ہے۔ اپنا دورانیہ خود ہی مقرر کرلیجیے اور اس پر باقاعدگی سے عمل کیجیے۔ یہ دھیان میں رکھیے کہ صرف ایک یا دو روز کے لیے پیدل چلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ڈائنا کا کہنا ہے کہ صبح بیدار ہونے کے بعد مجھے پہلا خیال یہ نہیں آتا کہ دانتوں میں برش کرنا ہے، بلکہ میں پیدل چلنے کے بارے میں سوچتی ہوں، اس لیے کہ یہ صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
کھانے میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟
اگر آپ روزانہ پیدل چلتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو خوب جی بھر کر کھانے کی اجازت ہے۔ ڈاکٹر رپ کا کہنا ہے کہ اگر آپ نے یہ خیال نہیں رکھا کہ آپ کھانے میں کیا کھا رہے ہیں تو پھر ورزش کرنے اور پیدل چلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مناسب غذا کھانے اور خوب پانی پینے سے ہی آپ کا وزن کم ہوسکتا ہے۔
کتنے عرصے میں کتنا وزن کم کیا جائے؟
اس کا انحصار بھی آپ پر ہے۔ آپ کی عمر کم ہے اور آپ کا نظام ہضم بالکل درست ہے تو آپ چھ ماہ میں نو کلو وزن کم کرسکتے ہیں۔ جبکہ ڈائنا ہر ماہ ایک کلو وزن کم کرلیتی ہے۔ اگر آپ ڈائٹنگ یا کم کھانے کو معمول بنالیں تو وزن تیزی سے کم ہوسکتا ہے۔ لیکن اسے برقرار رکھنا بہرحال دشوار ہے۔
کتنی تیزی سے چلنا چاہیے؟
تیز قدمی سے مراد دوڑنا ہرگز نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ آپ کا سانس بری طرح پھول جائے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایک گھنٹے میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرلیں گے تو آپ کو فائدہ پہنچے گا۔ بہرحال کتنی تیز چلا جائے یا کتنا آہستہ، اس کا انحصار آپ ہی پر ہے۔
اسے دل چسپ کیسے بنائیں؟
پیدل چلتے وقت اگر آپ بیوی کو ساتھ لے لیں تو سفر دل چسپ رہے گا۔ اس کے علاوہ دو تین دوست مل کر بھی پیدل چل سکتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ چلتے وقت ایک ہی سمت کا تعین کریں۔ آپ اپنے راستے تبدیل کرتے رہیں گے تو چلنے میں دل چسپی پیدا ہوجائے گی۔ پیدل چلنے سے وزن کم ہونے کے علاوہ بلڈ پریشر بھی قابو میں رہتا ہے۔

Share this: