چین کا انٹرپول کے سربراہ پر رشوت لینے کا الزام

چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انٹرپول کے لاپتہ ہونے والے سربراہ مینگ ہونگ وائی اس کی حراست میں ہیں اور ان سے مبینہ طور پر رشوت لینے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔بیجنگ نے کہا ہے کہ اس کا اینٹی کرپشن کا ادارہ ان سے قانون کی غیر معین خلاف ورزی کی تحقیقات کر رہا ہے۔چین کی پبلک سکیورٹی کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحقیقات ‘درست اورحقائق پر مبنی پر تھیں اور یہ کرپشن کے خلاف صدر شی جن پنگ کی انتظامیہ کی مہم کی یکسوئی ظاہر کرتی ہے۔’مینگ ہونگ وائی چین کے پبلک سکیورٹی کے نائب وزیر بھی ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب وہ 25 ستمبر کو فرانس کے شہر لیون سے چین کے لیے روانہ ہوئے۔انٹرپول کا کہنا ہے کہ اتوار کو انھیں مینگ ہونگ وائی کا بطور صدر استعفی ملا۔چین کے نیشنل سپرویڑن کمیشن بدعنوانی کے کیسسز کو دیکھتا ہے، اس نے اپنی ویب سائٹ پر بیان میں کہا ہے کہ مینگ ہونگ وائی سے پوچھ گچھ جاری ہے۔اس سے قبل فرانس نے انٹرپول کے چینی سربراہ مینگ ہونگ وائی کی چین میں گمشدگی کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کے اس کے پاس مزید معلومات نہیں ہیں۔بین الاقوامی پولیس ایجنسی نے چین سے کہا تھا کہ وہ مینگ ہونگ وائی کے بارے میں واضح کریٹوئٹر پر انٹرپول نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے مینگ ہونگ وائی کا استعفی موصول ہوا ہے۔ایک بیان میں انٹرپول نے کہا ہے کہ وہ اپنے سربراہ کی گمشدگی سے باخبر ہے۔ ‘یہ معاملہ فرانس اور چین کے متعلقہ حکام کے درمیان ہے۔’انٹرپول نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے روزمرہ معاملات ادارے کے جنرل سیکریٹری دیکھتے ہیں، نہ کہ صدر۔انٹرپول کسی شخص کی گرفتاری کے لیے ‘ریڈ نوٹس’ جاری کر سکتی ہے، تاہم اس کے پاس کسی ملک میں جا کر افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جمال خاشقجی کی گمشدگی میں سعودی ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا ہو گی: امریکی سینیٹر

امریکہ کی رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنزی گریم نے سعودی نڑاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی سعودی عرب کو چیلنج کیا ہے کہ وہ لاپتہ صحافی کے قونصلیٹ سے روانہ ہونے کے شواہد دے۔جمال خاشقجی گذشتہ ہفتے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد انھوں نے گذشتہ سال کئی ایسے مضامین لکھے تھے جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقید کی گئی تھی۔مریکی سینیٹر لنزی گریم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’اگر سعودی حکومت نے کوئی غلط کام کیا تو یہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے لیے تباہ کن ہو گا، اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عمارت سے چلے گئے تھے، تاہم انھوں نے اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو سعودی عرب کی حکومت کے مخالف سعودی صحافی کے اچانک غائب ہو جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔سعودی قونصلیٹ کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کاغذی کارروائی پوری کرنے کے بعد وہاں سے چلے گئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خاشقجی کو سعودی قونصل خانے کی چار دایوری کے اندر مارے جانے کے دعوے کے بعد ترکی نے سعودی قونصلیٹ کی تلاشی لیے جانے کی درخواست بھی کی تھی۔ تاہم سعودی عرب ایسے کسی الزام کی تردید کرتا ہے۔طیب اردوغان کا پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں کہنا تھا ’قونصلیٹ کے حکام یہ کہہ کر خود کو نہیں بچا سکتے کہ خاشقجی اس عمارت سے چلے گئے تھے۔‘اتوار کو ترک حکام کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں کے پاس ’ٹھوس شواہد‘ موجود ہیں کہ خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے اور یہ اس 15 رکنی سعودی ٹیم نے کیا ہے جو گذشتہ ہفتے ملک میں آئی تھی۔خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز کہتی ہیں کہ انھوں نے 11 گھنٹے تک قونصل خانے کے باہر جمال کا انتظار کیا لیکن وہ باہر نہیں نکلے جمال خاشقجی نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی تھی اور وہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لئے کالم لکھا کرتے تھے۔ماضی میں خاشقجی نے سعودی شاہی خاندان کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا تھا لیکن وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حالیہ اصلاحات اور سنہ 2030 ویڑن کے تحت ملک کو جدید بنانے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔خاشقجی الوطن نامی اخبار کے مدیر بھی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ بی بی سی کے سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بنائے جانے والے پروگراموں کے لیے کنٹری بیوٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

انڈیا میں بندر کے بس ’چلانے‘ پر ڈرائیور معطل

انڈیا میں ایک بس ڈرائیور کو بندر سے بس ’چلوانے‘ پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے لیکن جنوبی ریاست کرناٹکا میں اس بس پر سوار 30 یا اس سے زائد مسافروں میں سے کسی ایک نے بھی اس ڈرائیور کے خلاف شکایت نہیں کی۔تاہم جب قدرے پرسکون اور بظاہر ماہر لنگور بندر کی بس چلاتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی تو بس ڈرائیوروں کے مالکان نے ایکشن لیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کسی بندر کو سٹیئرنگ پر بٹھا کر مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔‘عینی شاہدین کے مطابق یہ بندر ایک اور مسافر کے ہمراہ بس پر چڑھا لیکن اس نے کہیں اور بیٹھنے سے انکار کیا اور بس کے شروع میں بیٹھنا چاہا۔ڈرائیور جس کا نام ایم پراکاش ہے کو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑا اور اس نے اپنے نئے دوست کو سٹیئرنگ پر بیٹھنے دیا اور سفر شروع کر دیا۔اگر ڈرائیور پراکاش کی بات کی جائے تو حقیقت میں انھوں نے پورا وقت اپنا ایک ہاتھ سٹیئرنگ پر ہی رکھا، اور اگر بندر کی بات کی جائے تو اس نے اپنی تمام تر توجہ سڑک پر رکھی۔رپورٹس کے مطابق آخرکار بندر اپنی منزل تک پہنچا اور آگے کے سفر کے لیے ڈرائیور کے حوالے کر گیا۔

قدیم چین، سی پیک اور مسلم لیگی حکومت

چین مستقبل قریب میں امریکہ کا ہم پلہ اقتصادی قوت بننے جارہا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ہتھیار ٹینک اور میزائل نہیں بلکہ معیشت اور تجارت ہیں۔ چین کے موجودہ صدر نے یہ منصوبہ بنایا کہ اپنی برآمدات کو بیرونی دنیا تک پہنچانے اور تجارت بڑھانے کے لئے پرانے سلک روٹ کی طرز پر اقتصادی راہداریوں کا ایک جال بچھایا جائے۔ تصور سلک روڈ سے لیا گیا لیکن یہ اس کے بنسبت بہت وسیع ہے اور اس میں بحری راہداریاں بھی شامل ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے تحت2013 ءسے سات اکنامک کاریڈورز پر کام کا آ?غا ز کردیا گیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے ،جس کا ابتدائی نام ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ تھا، کے تحت چینی سات اکنامک کاریڈورز بنارہے ہیں جن میں ایک چین پاکستان اکنامک کاریڈور بھی ہے۔ پہلا کاریڈور نیوایروایشین لینڈ برج ہے جو مغربی چین سے روس تک جاتا ہے۔ دوسرا چائنا منگولیا رشیا کاریڈور ہے جو منگولیا کے راستے مشرقی روس تک جاتا ہے۔ تیسرا چائنا سنٹرل ایشیا کاریڈورہے جو سنٹرل ایشیا کے راستے ترکی تک جاتا ہے۔ چوتھا انڈوچائنا پننسلویلا کاریڈور جو جنوبی چائنا سے انڈونیشیاکے راستے سنگاپور تک جاتا ہے۔ پانچواں چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور ہے جو مغربی چائنا سے گوادر تک جاتا ہے۔ چھٹا بنگلہ دیش چائنا انڈیا میانمار کاریڈور ہے جو جنوبی چائنا سے انڈیا اور بنگلہ دیشن کے راستے برما تک جاتا ہے جبکہ ساتواں میری ٹائم سلک روٹ ہے جو ساحلی چین کو سنگاپور اور ملائیشیاکے راستے بحرہند اور بحیرہ عرب کو ملاتا ہے۔ ابھی تک چینی اس منصوبے کے تحت نو سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں جن میں سے صرف ساٹھ ارب ڈالر سی پیک کے لئے مختص ہیں۔ اس منصوبے میں صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے ستر سے زائد ممالک شامل ہیں۔ چینی چونکہ زبان بند رکھ کر خاموشی کے ساتھ کام کرنے کے قائل ہیں اس لئے نہ تو چین میں اس منصوبے کی بنیاد پر کوئی سیاست ہورہی ہے اور نہ دنیا کے باقی ممالک جو مختلف کاریڈورز میں شامل ہیں، کے اندر ان کا غلغلہ ہے تاہم پاکستان میں پہلا ظلم مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ڈھایاکہ اس منصوبے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اٹھتے بیٹھتے وزیراعظم اور وزرا سی پیک، سی پیک کا ورد کرنے لگے۔ اپنے ساتھ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا اور نہ صوبوں کو۔ میں چیختا چلاتا رہا کہ سودوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں لائی جائیں اور جے سی سی میں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی نمائندگی دی جائے لیکن مسلم لیگی حکومت جہاں زیادہ ڈھنڈورا پیٹتی رہی وہاں ہر معاملے میں اخفا اور پراسراریت سے کام لیتی رہی۔ ایک طرف انفراسٹرکچر سے زیادہ وسائل توانائی اور وہ بھی ہائیڈل نہیں بلکہ مہنگی بجلی کے منصوبوں کی طرف موڑ دئیے اور دوسری طرف بنیادی مغربی روٹ کی بجائے مشرقی روٹ کو کاریڈور کا بنیادی روٹ بنا دیا گیا۔ اس وقت حکومت کے ساتھ یہ جنگ مجھ جیسے طالب علم یا پھر سید عالم محسود جیسے لوگ لڑتے رہے۔ اختر مینگل صاحب نے آواز بلند کئے رکھی۔ پیپلزپارٹی ، اے این پی اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں نے بھی کسی حد تک کوششیں کیں لیکن پی ٹی آئی کی قیادت دھرنوں میں الجھی رہی۔ چنانچہ مسلم لیگی حکومت نے اس منصوبے کا جو حشر کرنا تھا ، کرڈالا۔ اب باری پی ٹی آئی کی آ?گئی ہے اور رہی سہی کسر وہ پوری کررہی ہے۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ سی پیک چین اور پاکستان کا دوطرفہ منصوبہ ہے اور جس طرح چین اپنی شرائط منوا یا بدلوا سکتا ہے ، اسی طرح یہ حق پاکستان کو بھی حاصل ہے لیکن چینی اپنی عادت کے مطابق یہ کام خاموشی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔
سلیم صافی،جنگ،6اکتوبر،2018\

سرد جنگ کی تباہ کاری

سرد جنگ کا مفہوم پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے کہ گزشتہ ستر سال سے یہ جنگ ان کی سرزمین پر لڑی جا رہی ہے۔ گولہ و بارود سے ان کے شہر تباہ ہو رہے ہیں اور قتل و غارت سے ان کے ہرے بھرے میدان لہو رنگ ہو چکے ہیں۔ کیا خوبصورت استعارہ یا آج کے دور کے مطابق بیانیہ ایجاد کیا گیا تھا ’’سرد جنگ (Cold War)‘‘۔ جنگ بھی کبھی سرد ہوئی ہے۔ البتہ یہ واقعی ان قوموں کے لیے سرد ہی تھی جو دور بیٹھ کر اس کا تماشہ دیکھتی تھیں یا پھر جن کے اسلحے کی فیکٹریاں اور جنگی سازوسامان کے کارخانے رات دن مال کما رہے تھے اور ا?ج بھی کمائے چلے جا رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے آ?غاز سے یورپ کو قوم پرستانہ نفرت اور تعصب نے جنگ کی ہولناکیوں کا شکار کر دیا۔ 28جولائی 1914ء کو فرانس، برطانیہ، روس، اٹلی اور جاپان کے ممالک نے جرمنی، ا?سٹریاوہنگری، بلغاریہ اور خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ کا آ?غاز کیا۔ 1917ء میں روس میں بالشویک کمیونسٹ انقلاب آ?یا، زار روس کی حکومت ختم ہو گئی تو روس نکل گیا لیکن دو دراز بسنے والا امریکہ اس میں شامل ہو گیا۔ تقریباً سات کروڑ فوجی دستے اس میں شامل ہوئے جن میں چھ کروڑ یورپ کے ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور ایک کروڑ ہندوستان جیسی کالونیوں سے بھرتی کر کے لائے گئے تھے۔ اس جنگ کی تباہ کاریوں میں براہِ راست مرنے والوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ بتائی جاتی ہے لیکن چونکہ پورا خطہ صحت کی سہولیات سے دور ہو گیا تھا، اس لیے جب جنگ کے آخری سال انفلوئنزا کی وبا پھیلی تو دیکھتے ہی دیکھتے دس کروڑ لوگ لقمہ اجل بن گئے اور شہروں دیہاتوں میں دوا دینے والا تو دور کی بات ہے لاشیں دفن کرنے والا بھی میسر نہ آتا تھا۔ موت کی وادیوں میں بسر کرنے کے بعد پیرس کے محلاتی مضافات میں 1919ءمیں امن کانفرنس ہوئی۔ یہ علاقہ ’’ورسائی‘‘ کہلاتا ہے جہاں فرانس کے بادشاہوں نے سونے چاندی سے آراستہ محل بنائے تھے اور اسی چھوٹے سے شہر سے انقلابِ فرانس کا آغاز بھی ہوا تھا۔ 28جون 1919ءکو معاہدہ ہوا اور اس کی کوکھ سے امن کی فاختہ برا?مد ہوئی، جس کا نام لیگ ا?ف نیشنز رکھا گیا۔ ’’ممالک کی عالمی تنظیم‘‘ امن کی اس فاختہ کے قیام کے صرف بیس سال بعد مغربی دنیا ایک بار پھر قوم پرستانہ تعصب کے نام پر 1939ء میں الجھ پڑی۔ اس دفعہ اس جنگ میں تقریباً تیس کے قریب ممالک شامل تھے۔ چار اتحادی قوتوں کے لیڈر اس جنگ کے دوران مقبول ہوئے۔ امریکہ کا فرینکلن روز ویلٹ، برطانیہ کا چرچل، روس کا سٹالن اور چین کا چیانگ کائی شیک۔ جب کہ دوسری جانب جرمنی کا ہٹلر، جاپان کا ہیروہیٹو اور اٹلی کا مسولینی ا?ج بھی معتوب تصور ہوتے ہیں۔ دونوں جانب سے لڑنے والے قوم پرستانہ متعصب جذبات سے آلودہ تھے اور اپنی قوم کی نسلی برتری کے ترانے گاتے تھے جبکہ دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت جمہوری طور پر منتخب رہنمائوں کی تھی۔ سوائے روس اور چین کو چھوڑ کے، سب کے سب عوام کے ووٹ لے کر برسراقتدار ا?ئے تھے۔ اس جنگ کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا خونی معرکہ کہا جاتا ہے۔ جس کی زد میں آ?نے والے براہِ راست نو کروڑ لوگ لقمہ اجل بنے، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں اور قحط سے بھی اتنے ہی افراد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اتحادی افواج نے جنگ جیت لی۔ امن کی فاختہ لیگ ا?ف نیشنزکو ذبح کر کے ایک نئی فاختہ ’’اقوام متحدہ‘‘ کا جنم ہوا اور اس کی سکیورٹی کونسل میں پانچ عالمی طاقتوں کو ویٹو کا اختیار دے کر انہیں دنیائے امن کے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا۔ یہ تھیں امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور چین۔ اس کے بعد اس دنیا میں امن اور جنگ کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں دے دیا گیا۔ چونکہ یہ جنگ امریکہ کی فوجی مدد سے جیتی گئی تھی اور امریکہ کی مالی امداد سے ہی یورپ کے ممالک میں بحالی کا کام شروع ہوا تھا، اس لیے بظاہر امریکہ دنیا کا بلا شرکتِ غیرے حکمران بن کر ابھرا۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے ذریعے امریکی ڈالر کی بالادستی پوری دنیا پر مسلط کر دی گئی۔ ایک خفیہ معاہدے کے تحت دنیا میں موجود تمام نوآبادیاتی قوتوں کو اپنے زیر تسلط علاقے ا?زاد کرنا تھے، سو بھارت اور پاکستان جیسے کئی خطوں سے برطانیہ اور فرانس نے اپنا بوریا بستر گول کر لیا۔ اس لیے کہ اب امریکہ یہاں معاشی و عسکری طور پر اپنے پنجے گاڑنا چاہتا تھا۔
اوریا مقبول جان،5اکتوبر،2018

Share this: