جدید مغربی تہذیب کے فکری مباحث

نام کتاب: جدید مغربی تہذیب کے فکری مباحث
(مضامین اور انٹرویو کے تراجم)
مصنفہ : مریم جمیلہ (امریکی نو مسلمہ مارگریٹ مارکس)
(Margret Marcus)
مرتب : ڈاکٹر خالد امین (شعبہ اردو جامعہ کراچی)
صفحات: 232قیمت 450روپے
ناشر: قرطاس، فلیٹ نمبر A-15، گلشن امین ٹاور، گلستان جوہر، بلاک 15، کراچی
موبائل: 0321-3899909
ای میل: saudzaheer@gmail.com
ویب سائٹ: www.qirtas.co.nr

محترمہ مریم جمیلہ نومسلمہ تھیں، لیکن وہ سچی اور پکی مسلمہ تھیں۔ انھوں نے اسلامی افکار کی اپنی انگریزی زبان میں عمدگی سے تشریح کی۔ ڈاکٹر خالد امین شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے بڑی خوبصورتی سے مریم جمیلہ کی حیات و افکار پر یہ کتاب مرتب کردی ہے، وہ تحریر فرماتے ہیں:
’’مریم جمیلہ فکر و نظر کے اعتبار سے اسلامی دنیا میں ایک ایسی ممتاز نومسلم مفکرہ ہیں جنھوں نے جدید مغربی تہذیب کے مباحث پر کئی ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کا مطالعہ دانش ورانِ مغرب کی تہذیبی اور فکری کجی کو نمایاں کرتا ہے۔
ان مقالات اور انٹرویوز کو ترتیب دیے جانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مریم جمیلہ کے ان مضامین کو جو اُردو رسائل میں ترجمہ ہوکر بکھرے ہوئے تھے، یکجا کرکے کتابی صورت میں پیش کیا جائے۔ جمع و ترتیب کے اس کام میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اردو رسائل میں جو مضامین ترجمہ ہوئے وہ زیادہ تر مغربی تہذیب اور اس کے فکری مباحث کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان مضامین و مقالات کا مطالعہ امتِ مسلمہ کو اہلِ مغرب کے سامنے جس طرح پیش کرتا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی لحاظ سے بھی آج کی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔
اس کتاب میں صرف اردو رسائل میں موجود مریم جمیلہ کے مقالات پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ کئی اہم مضامین کا ترجمہ بھی متعدد اصحاب سے کروایا گیا ہے تاکہ اس نومسلم مفکرہ نے امتِ مسلمہ کو جس تہذیبِ مغرب سے روشناس کروایا ہے اس سے کماحقہٗ واقفیت حاصل کی جاسکے۔ مصنفہ نے دورِ جدید کے ان مباحث پر تنقید کی ہے جو آج کل ہمارے معاشرے میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ ان میں حقوقِ نسواں کے ذیل میں آنے والے مباحث بھی ہیں۔
اس کتاب میں ’’تحریکِ نسواں اور مسلمان عورت‘‘، ’’قاسم امین کا تصورِ آزادئ نسواں اور مسلمان خواتین‘‘، ’’معاشرے میں مسلمان عورت کا کردار‘‘ جیسے مضامین ہیں جن کا مطالعہ کرنے سے حقوقِ نسواں کی تحریک کے پیچھے چھپے ہوئے مقاصد عیاں ہوجاتے ہیں اور یہ بات بھی سامنے آجاتی ہے کہ اس تحریک کے ذریعے اہلِ مغرب مسلمان معاشرے کو کس جانب لے جانا چاہتے ہیں۔
اہلِ مغرب کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید فکر پر اُٹھنے والے سوالات کو خارج از امکان قرار دے چکے ہیں۔ انھوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جدید تہذیب نہ صرف آفاقی ہے بلکہ اس میں وہ خلاّقانہ قوت بھی موجود ہے جو تمام دنیا کی سیادت و قیادت کرسکتی ہے۔
لیکن ان مضامین کے مطالعے سے یہ بات ہمیں پتا چلتی ہے کہ فکرِ مغربی جس زندگی کا تصور پیش کررہی ہے وہ بے معنی اور بے مقصد ہے۔ ان کے درمیان خدا کا کوئی وجود نہیں۔ ہر طرف لایعنیت کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ وہ جس فلسفے پر عمل پیرا ہیں وہ صرف تبدیلی پر زور دیتا ہے، یعنی ہر چیز مسلسل تبدیلی کی زد میں رہے تو منطقی ہے، اگر کسی شئے کو دوامی پائیداری حاصل ہے تو وہ عہدِ حاضر کا ساتھ نہیں نبھا سکتی۔
ظاہر ہے ان پہلوؤں سے جب اہلِ مغرب اسلامی فکر کا مطالعہ کرتے ہیں تو انھیں سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ اسلام میں جو صداقتِ کلی پائی جاتی ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ اسی لیے وہ اس فکر سے نہ صرف گھبراتے ہیں بلکہ اس کے کردار کی عظمت پر سوالیہ نشان کھڑے کرنے شروع کردیتے ہیں۔
ان مضامین میں مریم جمیلہ نے عہدِ حاضر کے ان سوالات کے جوابات فراہم کیے ہیں جو مغربی فلاسفہ نے اسلام اور اہلِ اسلام کے حوالے سے اُٹھائے ہیں۔ مصنفہ نے چوں کہ خود بھی مغربی تہذیب کو نہایت قریب سے دیکھا تھا اور انھوں نے اس کے فلسفیوں کی فکر کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا تھا، اس لیے ان کے یہاں ان جدید فکر کے حامل افراد پر جو تنقید ملتی ہے وہ نہ صرف دلیل سے مزین ہوتی ہے بلکہ وہ منطقی طور پر تہذیبِ مغرب کی خامیوں کو عیاں کرتی ہے۔
اسی لیے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد جب انھوں نے پاکستان آنے کا قصد کیا تو پاکستان کے حوالے سے ان کے تخیلات نہایت آئیڈیل قسم کے تھے، لیکن انھوں نے جب اس معاشرے کو بھی مغرب زدگی کی طرف تیزی سے جاتے ہوئے دیکھا تو انھیں سخت تکلیف ہوئی جس کا اظہار انھوں نے متعدد مواقع پر کیا ہے۔
مریم جمیلہ کا بنیادی سوال یہ تھا کہ اسلامی معاشرہ جس تیزی سے مغربی فکر سے متاثر ہورہا ہے کیا اس کے پیچھے چھپی ہوئی مسلم اقدار کی نظریاتی دشمنی کو اہلِ اسلام سمجھتے ہیں؟ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مغربی تہذیب کی اصل نفسیات کو سمجھنے کے لیے ذہن پر زور دینا پڑے گا اور اس پر بھرپور توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے کہ ’’تبدیلی‘‘، ’’جدت‘‘ اور ’’جوش‘‘ کی کیا اہمیت ہے۔ بزرگوں کا احترام، اپنے ماضی اور روایات و اقدار۔۔۔ ان سب سے تعلق جوڑے رکھنا کتنا اہم ہے۔ ان کے علاوہ ان چیزوں کا مطالعہ بھی کرنا پڑے گا کہ چودہ سو سال قبل جو قوانین قرآن کے ذریعے امتِ مسلمہ پر لاگو کیے گئے تھے وہ آج کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔
ہمارا معاشرہ تیزی سے بڑھتے بے قابو تبدیلی کے رجحانات میں جس طرح گھر چکا ہے اس نے انسانی تعلقات پر کئی ایسے انقلابات برپا کردیے ہیں جس کا مطالعہ کیا جانا ضروری ہے، اس کے بغیر اسلامی معاشرہ اپنی بقا کے سامان تیار نہیں کرسکے گا۔
یہ مضامین جہاں ایمان کو تقویت بخشتے ہیں وہیں مصنفہ کی بے باکی اور مغرب پر کی جانے والی تنقید کے محاکماتی اسلوب کی جھلک بھی دکھا جاتے ہیں۔ زبان و بیان اور اپنے مؤقف پر انھیں جس طرح مکمل عبور حاصل ہے اس کا اندازہ ان سوالات سے کیا جاسکتا ہے جو اسلام کے دفاع میں انھوں نے اہلِ مغرب کے سامنے پیش کیے ہیں۔ مریم جمیلہ مغرب کی کسی بھی بنیادی فکر کے سامنے اسلام کے نظریۂ حیات کو پیش کرتے ہوئے جھجھک محسوس نہیں کرتیں۔ انھوں نے جس طرح اسلامی نظریات کا دفاع کیا ہے اس سے آج بھی تطہیرِ ایمان کا کام لیا جاسکتا ہے۔
یہ مقالات اپنے تنوع کے لحاظ سے دورِ جدید کے عملی رویوں کی تطبیق کا کام بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس تیزی سے ایک آبادی سے دوسری آبادی میں لوگ نقل مکانی کررہے ہیں اس سے یہ امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ مسلم آبادی بھی بری طرح تنہائی کا شکار ہوجائے گی۔ جدید پیغام رساں آلات ہمارے معاشرے میں تعلقات میں بہ ظاہر قرب پیدا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن حقیقتاً ان سے دوریاں اور روزانہ کی مصروفیات بڑھتی جارہی ہیں، انسانی رشتے بے دلی کا شکار ہورہے ہیں اور سنگ دلانہ جذبات نمو پارہے ہیں۔ ہم انسانوں کے مابین تعلقات میں بھی کوئی جادوکی چھڑی درمیان میں لانا چاہتے ہیں۔ متحارب گروہ، جذباتی رجحان، جنس پرستی اور اس جیسے دیگر عوامل مل جل کر اس ماحول کو ناشائستہ بنارہے ہیں۔ ادراک کی سطح پر وہ اپنے ماحول کو جس انداز سے دیکھ رہی تھیں اس سے ان کی زندگی کے دو پہلو نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آتے ہیں جن کو سمجھے بغیر ان کی فکر سے صحیح معنوں میں واقفیت حاصل نہیں ہوسکے گی۔
ایک تو ان کی علمی شخصیت ہے جس میں انھوں نے بلاشبہ اپنی محنت، لیاقت اور سلاست فکر کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔ انھوں نے صرف علمی موشگافیوں تک اپنی ذات کو محدود نہیں رکھا بلکہ ان کا کردار بھی ان کی ریاضت اور مجاہدۂ نفس کی گواہی دیتا ہے جو آج کی اُن خواتین کے لیے مثالی نمونہ ہے جو تہذیبِ مغرب کی اسیر ہوکر اپنی زندگی اندرون کے بجائے بیرون میں تلاش کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے اس خط کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے جس میں انھوں نے اپنے والدین کو مخاطب کرکے لکھا کہ:
’’اگر زندگی ایک سفر ہے تو کیا یہ حماقت نہیں ہوگی کہ بندہ راستے میں آنے والی منزلوں پر آرام دہ ایام اور خوش گوار ٹھکانوں کی فکر تو کرے لیکن اختتامِ سفر کے بارے میں کچھ نہ سوچے؟ آخر ہم کیوں پیدا ہوئے تھے؟ اس زندگی کا مطلب کیا تھا؟ آخر ہمیں مرنا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ موت کے بعد کیا معاملہ ہونا ہے؟‘‘
آج انسانی معاشرہ خواہ وہ مغرب کا ہی کیوں نہ ہو، تلخ تجربات سے دوچار ہے۔ معاصر سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت نے جس طرح شہری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس سے کم و بیش تمام افعال و اعمال بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔
مریم جمیلہ کی زندگی کا دوسرا پہلو خود ان کی اپنی زندگی بھی ہے۔ جس طرح انھوں نے اسلام کی حقانیت کو پالیا اور پھر اپنی ذات کو اس راہ میں کھپانے کا عزم کیا اس سے انھوں نے اپنوں کے درمیان خود کو اجنبی محسوس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے پاکستان ہجرت کرنے کے بعد انھوں نے ایک بار بھی اس ملک سے واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ مادہ پرستی اور الحاد کے اس دور میں اس سے زیادہ روشن مثال کیا ہوسکتی ہے!‘‘
اس کتاب میں بیس مضامین و مقالات شامل کیے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں:
’’اسلام اور فنونِ لطیفہ‘‘ مترجم: لالہ صحرائی۔ ’’اپنے پرائے‘‘ (ناول: احمد خلیل کا ایک باب)مترجم: لالہ صحرائی۔ ’’مغربی مادہ پرستی کی فلسفیانہ بنیادیں اور اس کے نتائج‘‘ مترجم: محمد زاہد صدیق مغل۔’’مغربی مادّیت کے مآخذ ‘‘مترجم: عثمان رضی۔ ’’شرق شناسی: مستشرقین کے ہتھکنڈے‘‘مترجم: جاوید احمد خورشید۔’’کیا مغربی تہذیب آفاقی ہے؟‘‘مترجم: ابو الفرح ہمایوں۔ ’’اسلام اور دورِ جدید کا انسان‘‘مترجم:حافظ نوید نون ۔ ’’اسلام اور ذہنی صحت‘‘مترجم: بنتِ مجتبیٰ مینا۔ ’’سرسید احمد خان: عالم اسلام میں جدیدیت کے پیش رو‘‘ مترجم: نیاز سواتی۔ ’’ابوالکلام آزاد: برصغیر میں قوم پرستی اور سیکولر ازم کے علمبردار‘‘ مترجم: نیاز سواتی۔ ’’جدید ترقی و تمدن اور مولانا مودودی‘‘ مترجم: شفیق الاسلام فاروقی۔ ’’قاسم امین کا تصورِ آزادی نسواں اور مسلمان خواتین‘‘ مترجم:جاوید احمد خورشید۔ ’’تحریک نسواں اور مسلمان خواتین‘‘مترجم: خالد امین۔ ’’مسلمان خواتین کا معاشرے میں کردار‘‘مترجم: محمود الحق صدیقی۔ ’’میرا مطالعہ‘‘مریم جمیلہ۔ ’’یہودیت سے اسلام تک‘‘مترجم: آباد شاہ پوری۔ ’’خواتین اور جنسی بے راہ روی‘‘(انٹرویو) ڈاکٹر مفکر احمد/ محترمہ مریم جمیلہ۔ ’’مریم جمیلہ کی کہانی خود ان کی زبانی‘‘مترجم : نیاز سواتی
ضرورت اس امر کی ہے کہ مریم جمیلہ کی تمام کتب انگریزی میں ہیں، ان کے اردو تراجم شائع کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے تمام تحریر کردہ مضامین کو بھی مرتب کیا جائے۔
کتاب مجلّد ہے اور سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔

Share this: