خوش نظر آنے والے دکھی لوگ

ق انجم
رواں سال کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ نے خوشحال ممالک کی قلعی کھول دی اسکینڈے نیوین ممالک میں نئی نسل تنہائی اور تنائو کا شکار ہورہی ہے
نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا میرے ایک دوست ڈاکٹر عبدالخالق جو جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے عقیدت مندوں میں سے تھے ایک نجی دورے پر بیرونِ ملک گئے تو مجھے بتایا کہ اس دورے کے دوران میرا گزر اسکینڈے نیوین ممالک (سویڈن، ڈنمارک، ناروے، فن لینڈ اور آئس لینڈ سے بھی ہوا) کیونکہ میرے مرشد مولانا مودودی نے میری ڈیوٹی لگائی ہے کہ اپنے بیرونی سیاحتی دورے میں اِس بار اُن ملکوں کو بھی شامل کرو جہاں بظاہر عوام خوشحالی اور اطمینان و سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں مگر وہ دل کے سکون سے محروم ہیں۔ مولانا نے اس دور میں کی گئی ایک محتاط تحقیق کے نتائج میرے سامنے رکھ دیئے جس میں بتایا گیا کہ وہاں خودکشی کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے جس کے اسباب جاننے کے لیے اپنے ذرائع سے حقائق معلوم کریں۔ ڈاکٹر عبدالخالق مرحوم نے اس دورے کے اختتام پر وطن واپس آکر مولانا مودودی کو اپنی تحقیق کی رپورٹ پیش کی جس میں یہ نتائج اخذ کیے گئے تھے کہ جن علاقوں یا ملکوں کے عوام تنہائی کا شکار ہوں اور جہاں دن رات کے اوقات میں بہت زیادہ فرق ہو یعنی راتیں بہت زیادہ طویل ہوں یا دن، وہاں ڈپریشن کی شرح خطرناک حدوں تک پہنچ جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسکینڈے نیوین ملکوں میں بظاہر مطمئن اور پُرمسرت زندگی گزارنے والے لوگ بھی بے چین اور مضطرب ہیں، یہاں تک کہ ان میں خودکشی کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ مولانا مودودی نے اپنے عقیدت مند ڈاکٹر کے علاوہ اپنے طور پر بعض دیگر ذرائع سے بھی تحقیق کا اہتمام کیا۔ مولانا مرحوم و مغفور جب بھی کسی موضوع پر قلم اٹھاتے تو تحقیق کا حق ادا کردیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالخالق کے علاوہ مولانا کی دیگر ذرائع سے تحقیق کے بھی نتائج کم و بیش یہی تھے کہ جہاں رات دن کے اوقات میں تفاوت زیادہ ہے وہاں پُرسکون زندگی کی دولت بہت کم ہوتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی 26 اگست 2018ء کی اشاعت میں مارٹن سیلسوئے سورن سین (Martin Selsoi Sorensen)کا ایک مختصر تحقیقی مقالہ شامل ہوا جس میں لکھا ہے: دنیا میں کون سی قوم کتنی خوش ہے اور کون کتنی ناخوش؟ اس کا تجزیہ ہر سال کیا جاتا ہے۔ ناروے، فن لینڈ اور آئس لینڈ اس فہرست میں عموماً بہت اوپر ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں سماجی بہبود کا بہترین تصور اپنایا گیا ہے۔ عوامی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا قریب قریب سب کچھ حکومت نے اپنے ذمے لے رکھا ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ ان ممالک کے رہنے والے انتہائی سکون اور مسرت کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ تمام بنیادی سہولتیں اور بہتر زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کردیے جانے سے زندگی کے تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں؟ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ باضابطہ تجزیوں اور جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ جنہیں انتہائی خوش و خرم ممالک یا اقوام تصور کیا جاتا ہے ان میں لاکھوں ایسے ہیں جو اب تک زندگی کے حوالے سے خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے اور خاصی پریشانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
2018ء کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ میں فن لینڈ، ناروے، ڈنمارک اور آئس لینڈ نے ٹاپ کیا۔ سوئیڈن بھی زیادہ پیچھے نہیں رہا، وہ نویں نمبر پر تھا۔ ان تمام ممالک میں زندگی عمومی سطح پر انتہائی پُرسکون اور پُرکشش ہے۔ دنیا بھر کے لوگ ان ممالک میں زندگی بسر کرنے کے خواہش مند ہیں۔ کسی بھی پسماندہ ملک سے ان ملکوں میں قدم رکھنے والا واپس جانے کا سوچتا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام ملکوں کی حکومتیں اپنے شہریوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کرتی ہیں جن کے سہارے بہتر زندگی بسر کرنا ممکن ہوتا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے کہ ان ملکوں میں سبھی خوش ہیں؟ دنیا کو تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پانچوں ملکوں میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اپنی زندگی سے زیادہ خوش نہیں۔
(بشکریہ ہفت روزہ تکبیر کراچی)

اقوامِ مشرق

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور
زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر
یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود لب گور

-1جن قوموں کی آنکھ محکومی اور تقلید کے باعث اندھی ہوگئی، انہیں بے پردہ حقیقتیں بھی نظر نہیں آسکتیں۔
مشرقی قوموں کی یہی حالت ہے،انہیں مغرب کی محکومی اور اندھی تقلید ہی نے زوال کے آخری درجے پر پہنچا دیا۔
-2اہلِ یورپ کا تمدن خود قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہے، وہ ایران اور عرب کو کیونکر زندہ کرسکتا ہے؟
(مطالب کلام اقبال اردو۔۔۔ غلام رسول مہر)

Share this: