قطرے سے موتی تک

ابو سعدی

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی

والا معاملہ تھا۔ اچانک پانی کا ایک ننھا سا قطرہ بادل سے ٹپکا اور دریا میں آگرا۔ اسے دریا کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ ہوا تو اپنی ذات بہت ہی حقیر نظر آئی۔ سوچنے لگا:، اتنے بڑے دریا کے مقابلے میں بھلا میری کیا ہستی ہے! میں کسی شمار قطار ہی میں نہیں آسکتا۔ باقی رہوں تو کیا، فنا ہو جائوں تو کیا۔
قطرے نے عاجزی اور نگوں ساری سے یہ باتیں سوچیں تو ایک صدف نے منہ کھول کر اسے اپنے اندر لے لیا اور پھر پرورش کرکے ایک قیمتی موتی بنادیا۔ یقینا یہ اعزاز اور مرتبہ اسے اس لیے ملا کہ اس نے خود کو حقیر جانا ؎

عاجزی اختیار کی جس نے
رتبہ اس کا بہت بلند ہوا
سر اُٹھایا غرور سے جس نے
نہ معزز نہ ارجمند ہوا

وضاحت: حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں عاجزی کی برکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ یہی وصف اخلاق اور انسانیت کی معراج ہے۔ مغرور اور دوسروں کو کم ترسمجھنے والا شخص اپنی طرف سے تو اپنی عزت و توقیر بڑھا رہا ہوتا ہے لیکن دراصل اخلاقی طور پر اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کررہا ہوتا ہے۔ ایسے خیالات کم درجے کے لوگوں کے ذہنوں ہی میں آتے ہیں۔ مثل مشہور ہے: تھوتھا چنا باجے گھنا۔

حکیمانہ اقوال

’’ہر شے کا جوہر ہوتا ہے، انسان کا جوہر اس کی عقل ہے اور عقل کا جوہر توفیق ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ عقل کا جوہر صبر و برداشت ہے‘‘۔
’’حُسنِ اخلاق کے معنی یہ ہیں کہ اذیت برداشت کرے، غصہ بالکل نہ آئے، چہرے پر مسکراہٹ ہو اور گفتگو عمدہ ہو‘‘۔
’’ہر زاہد کو اس کی معرفت کی بقدر ہی زہد حاصل ہوتا ہے اور معرفت اس کی عقل کی بقدر، اور عقل اس کی ایمانی قوت کی بقدر‘‘۔
’’عبودیت و بندگی کی تعریف یہ ہے کہ تم دنیا میں خود کو کسی چیز کا مالک نہ سمجھو اور تمہیں یاد رہے کہ تم کسی نفع و ضرر کے مالک نہیں‘‘۔
’’جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ درحقیقت خود اس نعمت کے زوال کا سبب بنتا ہے‘‘۔
’’ظالم شخص کی لوگ کتنی ہی تعریف کریں، اسے ندامت و شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ اور مظلوم کی لوگ خواہ کتنی ہی مذمت کریں، وہ محفوظ رہتا ہے۔ قناعت شعار بھوکا رہ کر بھی مال دار ہے، اور حریص دولت مند ہوکر بھی محتاج رہتا ہے‘‘۔
(مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی)

علم و عمل

ایک بالغ نظر نقاد نے کہا ہے کہ انسان کا تخیل ایک پرندہ ہے جو اڑنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس پرندے کو بلندیوں پر پہنچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مسلسل مطالعے کے ذریعے اسے غذا بہم پہنچائی جائے، ورنہ یہ زیادہ بلندیوں پر جانے کے قابل نہیں ہوگا۔ بس نیچے نیچے ایک خاص دائرے ہی میں چکر کاٹتا رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ جو علم حاصل کیا جاتا ہے اس کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس پر عمل ہو۔ ورنہ اس کی حیثیت اُس بیج کی سی ہوتی ہے جسے بو تو دیا جائے لیکن اس سے کوئی پودا یا درخت پیدا نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں علم کے ساتھ عمل پر زور کی خاص تاکید ہے۔
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں: ’’علم عمل کو پکارتا رہتا ہے۔ جواب نہیں پاتا تو رخصت ہوجاتا ہے‘‘۔ یعنی عمل نہ کرنے سے علم بھی ختم ہوجاتا ہے۔ (بنتِ الاسلام)
آزادی کے لیے جو کچھ ہوسکتا ہے ضرور کرنا چاہیے، مگر یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ جس قوم کا لباس ایک نہیں، جس کے کھانے کے اوقات مقرر نہیں، جس میں یکسانی اور یک جہتی کا کوئی بھی پہلو نظر نہیں آتا وہ آزادی سے کیا فائدہ اٹھائے گی۔ کوشش کرو کہ اس سرزمین پر بسنے والے لوگ واقعی ایک قوم بن جائیں جو ایک نظامِ زندگی کی پابند ہو۔
(احمد شاہ بخاری پطرس۔ نقوش پطرس نمبر۔ صفحہ 105)

نظر

lہر ایک بات جو ذکر سے خالی ہو، لغو ہے۔ ہر ایک خاموشی جو فکر سے خالی ہو، سہو ہے۔ اور ہر ایک نظر جو عبرت سے خالی ہو، لہو ہے۔
(بو علی سینا)
lنظر اُس وقت تک پاک ہے جب تک اٹھائی نہ جائے۔
lچھے چیزیں آنکھوں کے نور کو نقصان پہنچاتی ہیں: زیادہ گرم طعام کھانا،گرم پانی سر پر ڈالنا، چشمہ آفتاب کی طرف دیکھنا، دشمن کا منہ دیکھنا، کثرتِ گریہ اور استعمالِ منشیات۔
lآنکھیں تین قسم کی ہوتی ہیں: جسمانی آنکھ، جو انسان و حیوان دونوں کو حاصل ہے۔ اس کا فعل صرف دیکھنا ہے۔ عقلی آنکھ بصیرت کہلاتی ہے جو صرف انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ ایمانی آنکھ خدا پرستوں کی ملکیت ہے جو دنیا کے علاوہ عالم بالا کا بھی نظارہ کراتی ہے۔ (بقراط)
lباطن نگاہ حق ہے اور ظاہر پر خلق کی نظر پڑتی ہے۔ خدا کی نظر گاہ لازم ہے کہ زیادہ پاک و صاف ہو, بہ نسبت اس کے جسے صرف لوگ دیکھتے ہیں۔ (ابن عطار)
lجس کی آنکھ میں عشق کا سرمہ لگا ہو اُس کی نظر میں عرش سے تحت الثریٰ تک کوئی حجاب باقی نہیں رہتا۔
(خواجہ قطب الدین بختیار کاکی)
lجو کام حکمت سے خالی ہے وہ آفت ہے۔ جو خاموشی سے خالی ہے وہ غفلت ہے۔ جو نظرحکمت سے خالی ہے وہ ذلت ہے۔
(خواجہ حسن بصری)

امیر خسرو

ابوالحسن یمین الدین امیر خسرو دہلوی(1325-1253ء) برصغیر کے معروف فارسی گو شاعر ہیں۔ کمسنی میں شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ مختلف سلاطین کے ہاں ملازمت کی اور اس سلسلے میں سامانہ، بنگالہ، دہلی، ملتان اور اودھ وغیرہ میں رہے۔ علاء الدین خلجی اور غیاث الدین تغلق کے عہد تک بادشاہوں نے ان کی سرپرستی کی۔ آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔ فنِ شاعری میں متنوع اسالیب اور موضوعات میں جدت و ندرت ہے۔ فنِ موسیقی میں بھی کمال استعداد تھی۔ فارسی کے علاوہ ہندی اور عربی میں بھی شعر کہے ہیں۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

Share this: