احترام استاد

پیشکش:ابوسعدی

خلیفہ واثق عباسی (842۔847ء) کا یہ دستور تھا کہ جب بھی اس کا اتالیق محمد بن زیاد دربار میں آتا تو اسے اپنی مسند پر بٹھاتا اور خود اس کے قدموں میں بیٹھ جاتا۔ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ یہ وہ پہلا انسان ہے جس نے میری زبان کو اللہ کے ذکر اور مجھے اللہ کی رحمت سے آشنا کیا تھا۔

صبر کی حقیقت
شیخ شہاب الدین سہروردی ( 1234ء) سے کسی نے پوچھا کہ صبر کی حقیقت کیا ہے؟ فرمایا: صبر کے کئی مظاہر ہیں مثلاً:
1۔ شکم پروری میں صبر، جس کا دوسرا نام قناعت ہے۔
2۔ جذبۂ جنسیت میں صبر، جس کا دوسرا نام عفت ہے۔
3۔ جنگ میں صبر، جس کا دوسرا نام شجاعت ہے۔
4۔ غصے میں صبر، جس کا دوسرا نام حلم ہے۔
5۔ مصائب میں صبر، جس کا دوسرا نام استقلال ہے۔
6۔ اشتعال میں صبر، جس کا دوسرا نام عفو ہے۔

منہ کھولنے کا نقصان
ایک جھیل میں دو بطخیں اور ایک کچھوا رہتا تھا۔ جب خشک سالی کی وجہ سے جھیل سوکھنے لگی اور بطخوں نے سفر کا ارادہ کیا تو کچھوا ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو۔ بطخوں کو رحم آگیا، انہوں نے ایک پتلی سی لاٹھی کو پنجوں میں تھام کر کچھوے سے کہا کہ وہ اسے منہ سے پکڑ لے اور کسی صورت منہ نہ کھولے۔ دس بیس میل اڑنے کے بعد کچھوا کہنے لگا کہ مجھے بھوک لگی ہے۔ اور وہ نیچے جا پڑا۔

چوری کا گدھا
ایک چور چوری کا گدھا بیچنے کے لیے منڈی گیا، وہاں ایک خریدار جس کے ہاتھ میں دو مچھلیاں تھیں، کہنے لگا: ذرا یہ مچھلیاں پکڑو اور گدھا مجھے دو تاکہ میں اس کی چال ڈھال دیکھوں۔ چور نے باگ اس کے حوالے کردی۔ خریدار نے گدھے پر سوار ہوتے ہی اسے ایڑ لگائی اور نظروں سے غائب ہوگیا۔
جب چور واپس آگیا تو سردار نے پوچھا: ’’گدھا کتنے میں بکا ہے؟‘‘
کہا: ’’اصل قیمت پر، اور یہ دو مچھلیاں منافع ہیں۔‘‘
(انتخاب: علی حمزہ)

قابل اجمیری
قابل اجمیری کا اصل نام عبدالرحیم تھا اور وہ 27 اگست 1931ء کو چرلی، اجمیر شریف، راجستھان، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔ قابل اجمیری کی زندگی نامساعد حالات میں گزری۔ جب وہ سات برس کے تھے تو ان کے والد ٹی۔ بی کے مرض میں مبتلا ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ قابل کا کچھ وقت یتیم خانے میں بسر ہوا۔1948ء میں قابل اپنے بھائی شریف کے ساتھ پاکستان آگئے اور حیدرآباد میں رہائش پذیر ہوئے۔قابل اجمیری نے صرف 31 برس کی عمر وفات پائی مگر اتنی کم عمری میں وفات پانے کے باوجود وہ آج بھی اردو کے صفِ اول کے شعرا ء میں شمار ہوتے ہیںاور ان کے متعدد اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا
٭…٭
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
٭…٭
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
٭…٭
میں اپنے غم خانہ جنوں میں
تمہیں بلانا بھی جانتا ہوں
٭…٭
کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں
رہ گزار حیا ت میں ہم نے
خود نئے راستے نکالے ہیں
٭…٭
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
انقلاب فکر اور دلائل سے آتا ہے
انقلاب دنیا میں نعروں سے اور سلوگن سے نہیں آئے گا۔ انقلاب آئے گا فکر سے اور دلائل سے۔ دنیا آپ کی بات سن کر کہے کہ ہمارے سامنے ایک نیا سسٹم آگیا ہے، اس پر غور کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ آج آپ کہیں بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کہیں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ بہت سی چھوٹی بڑی تبدیلیاں واقع ہوتی ہی رہتی ہیں، لیکن ہم جو تبدیلی چاہتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا یہ کہے کہ ہمارے سامنے ایک فکر آگئی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک متبادل پیش کیا جارہا ہے اور ایک نیا نقطہ نظر غورو فکر کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بنیاد پر بھی دنیا کا نظام چل سکتا ہے۔ یہ سوال ابھی ہم نے نہیں کھڑا کیا ہے۔ میں آپ کی خدمات کا ہزار بار اعتراف کروں گا، لیکن اس واقعے سے آپ انکار نہیں کرسکتے کہ دنیا میں یہ سوال ابھی تک آپ نے کھڑا نہیں کیا ہے، جب کہ آپ کے پاس ایک مضبوط لٹریچر بھی ہے اور اس لٹریچر کی بنیاد پر یا اس نہج پر آپ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔
مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند
کی کتاب ’’خطباتِ پاکستان‘‘ سے انتخاب

عظیم ملاح اور امریکہ
کولمبس وہ جاں باز ملاح ہے جس نے آج سے ساڑھے چار سو سال پہلے جب بحری سفر سخت خطرناک تھا، ایک کمزور سے جہاز میں اوقیانوس کو عبور کیا اور ساڑھے پانچ ہزار میل کے سفر کے بعد 1492ء میں وہ امریکی ساحل کے قریب جزائر بوہاما میں جا اُترا۔ وہ اس سفر میں اسپین کے فرماں روا فردینان کی منظوری و اجازت سے روانہ ہوا تھا۔ وہ بوہاما سے واپس آیا، فردینان کو ایک نئے ملک کی خبر دی۔ فردینان نے اسے وہاں کا گورنر مقرر کردیا۔ چنانچہ یہ دوبارہ وہاں پہنچا۔ نظم و نسق قائم کیا۔ سات سال بعد اس کی گرفتاری کے احکام جاری کردیے گئے۔ دنیا کا یہ عظیم ملاح اس حال میں واپس آیا کہ ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ بادشاہ نے اسے جیل میں پھینک دیا۔ گو کچھ عرصے بعد اسے رہا کردیا لیکن بھوک، ناداری اور بیماری نے آخر تک اس کا پیچھا کیا اور چھ برس کے بعد ایک سرائے میں اس کی وفات ہوگئی۔ سالِ وفات 1506ء ہے۔
(ڈاکٹر غلام جیلانی برق)

Share this: