جدیدیت، سائنس اور الہامی دانش کامسئلہ

طارق جان
جدیدیت کیا ہے؟ یہ اصرار کرنا کہ جدیدیت (Modernity) اور مغربیت لازم و ملزوم ہیں، اور کسی معاشرے کے جدید بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغربیت کو اپنائے، یا یہ کہ جدیدیت سیکولرزم کی خارجی شکل ہے اور دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، دراصل ایک پیچیدہ سوال کو سادگی سے پیش کرنا ہے۔
اسی طرح یہ کہنا کہ جتنی زیادہ جدیدیت کسی معاشرے میں آئے گی اتنا ہی سیکولرزم کا پھیلائو ہوگا، غلط بیانی تو ہوسکتی ہے لیکن حقیقت نہیں۔ ایسا کہنے والا جدید علوم کے نئے افقوں سے ناآشنا قرار پائے گا۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ جدیدیت اور سیکولرزم کے لازم تصور کو بیسویں صدی کے چھٹے عشرے میں پیٹربرجر (Peter Berger) اور دوسرے عالمانِ سماجیات نے پیش کیا تھا۔
پیٹر برجر کی مشہور کتاب The Sacred Conopy جو اسی زمانے کی تخلیق ہے، اسی مؤقف کی ترجمانی کرتی ہے۔ لیکن 1990ء کے عشرے میں پیٹر برجر اور اس کے دیگر رفقاء نے اپنے اس دعوے کو اس بنا پر واپس لے لیا کہ دنیا میں ایسا ہوا نہیں۔ جدیدیت تو آئی لیکن سیکولرزم کو وسعت نہیں مل سکی۔ مذہب نہ صرف کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا، بلکہ قدامت پرست جماعتیں مذہبی حلقوں کے زور پر خود یورپ اور امریکہ میں اقتدار کے ایوانوں میں آبیٹھیں، جس کے نتیجے میں اخلاقی مباحث اور قدریں، سیاسی و سماجی بیانیہ میں پھر سے اہمیت اختیار کر گئے۔
مسلم دنیا کے نقشے پر ایران اور ترکی جو نسبتاً زیادہ جدیدیت میں رنگے ہوئے تھے وہاں مذہب نے سیاسی اور معاشرتی سطح پر زبردست پیش رفت کی اور ایک زمانے کو اتھل پتھل کرکے رکھ دیا۔ اس لیے اگر میں یہ کہوں کہ جدیدیت اور اس سے متعلقہ مقدمات کو اس طرح سادگی سے پیش کرنا موضوع سے انصاف نہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ایسی روش نہ صرف بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ اپنے اندر خطرناک سیاسی مضمرات بھی سموئے ہوئے ہے۔ میں اسے بدنیت روش اس لیے کہتا ہوں کہ اس سے مسلمانوں کی ’’بیماری‘‘ کے لیے مغرب کے تجویز کردہ نسخے کی بُو آتی ہے۔ کیلی فورنیا میں ورلڈ افیئرز کونسل کے سامنے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی تقریر (مورخہ یکم اگست 2004ء) میں مغربی اقدار کے ذریعے سے مسلم عوام کی تبدیلیِ قلب کی بات کی گئی ہے۔ بلیئر کے الفاظ تھے:
We could have chosen security as battleground. But we did not. We chose values.
’’ہم چاہتے تو سیکورٹی کو میدانِ جنگ بناتے، لیکن ہم نے یہ نہیں کیا، ہم نے اقدار کا انتخاب کیا۔‘‘
اہلِ مغرب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی اسلام سے وابستگی انہیں مغربی تسلط کے خلاف مزاحمتی جذبہ عطا کرتی ہے۔ اوریہ کہ وہ اسی صورت میں مغرب کے سامنے سرِتسلیم خم کریں گے کہ ان کے وجود سے اسلام کو نکال کر انہیں نیا روپ اور نیا وجود دے دیا جائے۔
[سیکولر زم، مباحث و مغالطے]

جنو ن

زجاج گر کی دکاں شاعری و ملائی
ستم ہے خوار پھرے دشت و در میں دیوانہ!
کسے خبر کہ جنوں میں کمال اور بھی ہیں
کریں اگر اسے کوہ و کمر سے بیگانہ!
ہجوم مدرسہ بھی سازگار ہے اس کو
کہ اس کے واسطے لازم نہیں ہے ویرانہ!

زجاج گر: شیشہ بنانے والا
-1 ہماری شاعری اور ملائی شیشہ بنانے والوں کی دکانیں ہیں، جنہیں توڑ کر ریزہ ریزہ کردینے کی سخت ضرورت ہے۔ کتنا اندھیر ہے کہ دیوانہ بیابان اور آبادی میں خوار پھر رہا ہے اور دکانوں کو نہیں توڑتا!
-2اگر جنون کو پہاڑ اور پہاڑ کے دامن سے بیگانہ بھی کردیا جائے تو کون جانتا ہے کہ جنون میں اور بھی کمالات موجود ہیں؟ یعنی جنون صرف اسی لیے نہیں کہ پہاڑوں اور جنگلوں میں ہائو ہو کے نعرے لگاتا رہے۔ وہ اور کمالات بھی دکھا سکتا ہے۔
-3درس گاہوں کا ہجوم بھی جنون کے لیے سازگار ہے۔ اس کے لیے بیابان کوئی لازمی چیز نہیں۔ یعنی ضروری نہیں کہ صاحبِ جنون بیابانوں ہی میں چکر لگاتا رہے۔ وہ درس گاہوں میں بھی اپنے کمالات کی نمائش کرسکتا اور ان کے طور طریقے بدل سکتا ہے۔
(مطالب ضربِ کلیم… مولانا غلام رسول مہرؔ)

Share this: