پاکستان کا آبی بحران

سپریم کورٹ کے زیراہتمام ’’پانی کی قلت اور مسائل‘‘ کے موضوع پر دوروزہ سمپوزیم ہوا جس سے صدر مملکت عارف علوی، چیف جسٹس ثاقب نثار، اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور ماہرین نے خطاب کیا۔ چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے سمپوزیم کے شرکاء کو پاکستان میں آبی وسائل کی صورتِ حال، پانی کی ضرورت اور اس سے منسلک مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے اقدامات کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی۔ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر فنڈ قائم کردیا، وزیراعظم فنڈ کو سپریم کورٹ کے فنڈ میں ضم کردیا گیا۔ صدر مملکت عارف علوی کے بقول اس فنڈ میں اب تک چھے ارب روپے سے زائد کی رقم جمع ہوچکی ہے، مگر یہ رقم متذکرہ ڈیموں کے مجموعی اخراجات کا عشرعشیر بھی نہیں۔ تقریب کے اختتام پر ملک میں پانی کی کمی کے پیش نظر ڈیموں کی اہمیت اور چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ڈیم فنڈ کے قیام سمیت کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ترانہ بھی پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس نے افتتاحی خطاب کیا۔’’آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر 2 روزہ عالمی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر گزشتہ چالیس سال سے مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔ پانی ہماری زندگی ہے اور ہماری بقاء کے لیے ضروری ہے، جبکہ پاکستان اس وقت شدید آبی بحران سے دوچار ہے۔ پانی کی قلت دور کرنے کے لیے وسائل پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ زرعی ملک کے طور پر پاکستان کے لیے پانی کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، جبکہ یہاں آبی ذخائر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو ہمیں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک میں آبی ذخائر میں اضافے کے لیے عدلیہ بھی اپنا کردار ادا کررہی ہے، ہمیں پانی کے استعمال میں بھی بھرپور احتیاط اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، پاکستان کے لیے بطور زرعی معیشت پانی کی انتہائی اہمیت ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2040ء تک پاکستان پانی کے سنگین دبائو کے شکار 33 ممالک میں سے 23 ویں نمبر پر ہوگا، عالمی حدت میں اضافے کے باعث ہمیں وسائل کی قلت، خشک سالی، قدرتی آفات، شدید موسمی حالات، سیلابوں، بیماریوں اور دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ آئین کی محافظ ہونے کی حیثیت سے عدلیہ کی ذمے داری ہے کہ
وہ شہریوں کو پانی کی فراہمی جیسے بنیادی حق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا ہے جس میں ہم نے پانی کی قلت کی وجہ سے درپیش خطرات اور ان سے بچائو کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ڈیموں کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں حصہ ڈالے، جس پر قوم کی جانب سے انتہائی مثبت جواب سامنے آیا اور اس نے نہایت فراخدلی سے ڈیم فنڈ میں عطیات جمع کیے جو سپریم کورٹ آف پاکستان پر قوم کے اعتماد اور احترام کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو پانی کے مسئلہ سے آگاہی ہوئی ہے، موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان مسائل کو موجودہ سطح پر ہی حل کرلیا جائے۔ ہمارا مقصد آبی وسائل کے انتظام میں مہارت، علم اور تجربے کو یکجا کرنا ہے، اور اس حوالے سے نئے تصورات اور طریقوں کو زیر غور لایا جائے گا۔ اس سے حکومت کو مستقبل کے خطرناک رجحانات کے مقابلے کے لیے قوم کو مؤثر طور پر تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف جسٹس نے سپموزیم کے دوران زیرغور آنے والے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے درکار فنڈز جمع کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک مناسب واٹر پرائسنگ ماڈل تشکیل دیں۔ انہوں نے آلودگی دور کرنے اور زیر زمین پانی کے بے دریغ ضیاع کو روکنے کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کے مسائل کا انتہائی اہم پہلو پالیسیوں کا نفاذ اور اس حوالے سے انتظامیہ کا کردار ہے۔ واٹر پرائسنگ سسٹم کی تشکیل، مناسب اداروں کے قیام، فضلہ اور آلودگی کے انتظام کے لیے ریگولیشنز، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کے لیے فنڈنگ کی رفتار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کو پانی کے درست و منصفانہ استعمال اور بچت کے طریقوں سے آگاہی دینے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سمپوزیم کے مختلف سیشنز میں پیش کی جانے والی سفارشات پانی کے مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل وضع کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی، امید ہے کہ اس سمپوزیم کے ذریعے ہم کئی اہم پالیسی فیصلوں کے بارے میں اتفاق رائے حاصل کرلیں گے، سمپوزیم کے اختتام پر تجویز کی جانے والی پالیسیوں کو جتنا جلد اپنایا جائے گا، اتنے ہی تیز ان کے نتائج حاصل ہوں گے۔
صدر مملکت عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملکی ضروریات کے لیے ہماری پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف تیس دن تک محدود ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے پانی کے بحران کی شکل میں قوم کو درپیش چیلنج سے نمٹنے کی راہیں تلاش کرنے کے لیے سمپوزیم کا اہتمام کرکے بلاشبہ ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے۔ گزشتہ اپریل کے اواخر میں چاروں صوبوں کے اتفاقِ رائے سے تشکیل پانے والی اس قومی آبی پالیسی میں پانی کے وسائل کی حفاظت و تقسیم، نئے ذخائر کی تعمیر سمیت تمام متعلقہ امور شامل ہیں۔ بھاشا ڈیم کے لیے سابقہ دور میں 14 ہزار ایکڑ زمین بھی خریدی جاچکی ہے، لیکن آئندہ چار پانچ سال میں بھاشا اور مہمند ڈیم مکمل کرنے کے لیے کئی سو ارب روپے کے خطیر وسائل درکار ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ غیرمعمولی اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ چیف جسٹس نے چند ماہ پہلے بینکوں کے قرضے واپس نہ کرنے والی222 کمپنیوں اور اشخاص کے خلاف ازخود کارروائی کے دوران اس کے نتیجے میں54 ارب روپے تک کے مالی وسائل فراہم ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اس سمت میں کامیاب پیش رفت ڈیموں کی تعمیر کے لیے ایک معقول رقم کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ کرپشن کے خلاف حکومتی مہم، جس کے نتیجے میں ملک کے اندر اور باہر سے لوٹی ہوئی قومی دولت کی بڑے پیمانے پر واپسی کے امکانات ہیں، ڈیموں کی تعمیر اور دیگر ملکی ضروریات کے لیے وافر وسائل کے حصول کا باعث بن سکتی ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں سے وزیراعظم نے ڈیم فنڈ میں شرکت کی جو اپیل کی تھی، اسے مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے بھی تمام ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ توانائی کی لامحدود فراہمی کا ایک بآسانی قابلِ استعمال ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ پاکستان کو سورج کی روشنی کی شکل میں دیا ہے۔ ملک بھر میں لوگ اب اپنے طور پر عام مارکیٹ سے سولر پینل اور بیٹریاں خرید کر اس نعمت سے استفادہ کررہے ہیں۔ ایک اوسط گھرانہ اس ٹیکنالوجی سے ڈیڑھ دو لاکھ کے خرچ سے روزمرہ بجلی کی ضروریات میں خودکفیل ہوجاتا ہے ،جبکہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کرکے اضافی آمدنی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ حکومت اس سلسلے میں عوامی آگہی کی مہم چلاکر، سولر پینل اور بیٹریوں پر ٹیکس میں چھوٹ دے کر، اور قومی بینک اس مقصد کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرکے بہت کم وقت میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا بوجھ ہلکا کرسکتے اور عوام کو بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی سے نجات دلاسکتے ہیں۔ پانی کے بحران اور دیگر سنگین قومی چیلنجوں سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور یک جہتی بھی بہرحال ایک ناگزیر ضرورت ہے، لہٰذا وقتی اور سیاسی مفادات کے لیے بے ثبوت الزام تراشیوں اور پروپیگنڈے سے سب کو اجتناب کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کو سیاسی اکھاڑے کے بجائے مہذب جمہوری ملکوں کی طرح قومی ایشوز پر بامقصد بات چیت اور افہام و تفہیم سے مسائل کے حل کی تلاش کا ادارہ بنایا جانا چاہیے، قومی یک جہتی کی اس ضرورت کی تکمیل کے بغیر کسی بھی قومی ہدف کے حصول میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وسائل سے مالامال کیا ہے، اسے بہترین نہری نظام ملا، مگر قیام پاکستان کے بعد منگلا اور تربیلا سمیت چند ہی ڈیم بنائے گئے، جبکہ وقت کے ساتھ پانی کے استعمال میں اضافہ اور ذخائر میں کمی ہوئی۔ پانی کو محفوظ اور ذخیرہ کرنا بنیادی مسئلہ ہے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، اس لیے ہمیں فوری طور پر بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے پانی کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ کم خرچ توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لایا جائے۔ سورج اور ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول پر بھی کام ہونا چاہیے۔ تھرپارکر میں بچے پانی کی کمی کے باعث موت کا شکار ہورہے ہیں جبکہ قومی آبی پالیسی موجود ہے، اس پر مؤثر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھی مذاکرات ضروری ہیں، اورآبی قلت پر قابو پانے کے لیے شجرکاری بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔
آج پانی کی قلت ہی بلاشبہ ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ ہمارا پانی روکنے کی بھارتی سازشوں کے علاوہ ہم نے خود بھی اپنے ساتھ دشمنی کی ہے اور زیرزمین تیزی کے ساتھ نیچے جاتے ہوئے پانی کو محفوظ کرنے کی کبھی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کی ہی نہیں۔ بے شک پانی قدرت کے ودیعت کردہ وسائل میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ ہم نے اس نعمت کی بے قدری کرتے ہوئے اسے بری طرح ضائع کیا، نتیجتاً زیرزمین پانی کی سطح بتدریج نیچے ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ دو دہائیاں قبل تک جو پانی ہمیں زیرزمین 80 سے سو فٹ تک آسانی سے دستیاب تھا وہ اب آٹھ سو فٹ تک نیچے جا چکا ہے، اور اس کے نیچے جانے کی رفتار میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ آبی ماہرین کی سروے رپورٹوں کے مطابق پانی کے زیرزمین نیچے جانے کی یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ دہائی تک ہمیں پینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہوگا اور ہمارے لیے اناج اور دوسری فصلیں اگاتی یہ زرخیز دھرتی بنجر ہوکر بے آب و گیاہ ریگستان میں تبدیل ہوجائے گی۔ واپڈا کے سابق چیئرمین ظفرمحمود نے آبی انجینئروں کے ذریعے کرائے گئے سروے کی رپورٹ میں بلوچستان کے لیے تین سال قبل خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اور یہ چشم کشا عندیہ دیا تھا کہ آئندہ پانچ سال تک بلوچستان کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے، کچھ عرصے بعد ایسی ہی صورتِ حال پنجاب اور اسلام آبادکے لیے پیدا ہوجائے گی۔

Share this: