ششماہی الایام

نام مجلہ: ششماہی الایام( 17)
علمی، تحقیقی جریدہ
مدیرہ : ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر
نائب مدیران: ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق۔ ڈاکٹر زیبا افتخار
صفحات: 280
قیمت فی شمارہ 300روپے،سالانہ 500روپے
ناشر: مجلس برائے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافت
فلیٹ نمبر A-15، گلشن امین ٹاور، گلستانِ جوہر بلاک 15، کراچی
فون 0300-2268075-03009245853:
ای میل nigarszaheer@yahoo.com
ویب سائٹ www.islamichistory.co.nr:
یہ ششماہی ’’الایام‘‘ کی جلد 9 کا پہلا شمارہ ہے۔ جنوری، جون 2018ء مسلسل عدد 17۔ ڈاکٹر صاحبہ اداریے میں تحریر فرماتی ہیں:
’’جب یہ جریدہ آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا تو اُمید ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کا آغاز ہوچکا ہوگا۔ اِس بار بننے والی تحریک انصاف کی حکومت سے بجا طور پر پاکستانی عوام نے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ الیکشن مہم کے دوران اپنے کیے جانے والے وعدوں اور منشور کے مطابق، اُمید ہے نئی حکومت میرٹ پر تقرریوں، کرپشن کے خاتمے، صحت اور تعلیم کے حوالے سے پاکستان کی واضح سمت متعین کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
مستقبل کے ممکنہ وزیراعظم عمران خان نے 25 جولائی 2018ء کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد 26 جولائی کو اپنی تقریر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے۔
فلاحی ریاست (Welfare State) ہر وہ (اسلامی یا غیر اسلامی) ریاست ہوسکتی ہے جس کی انتظامی اور دفاعی حکمت عملیاں عوام دوست ہوں۔ جو ملکی اُمور میں اس بات کا خیال رکھے کہ اس کی کسی پالیسی کی زد شہریوں کے حقوق پر نہ پڑے۔ حکومت اپنے شہریوں کے درمیان مساوی رویہ رکھے، اپنے تمام شہریوں کو خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ضمانت دے۔ اگر ریاست کی حدود میں کہیں بھی فقر و فاقہ، غربت و افلاس اور ظلم و جور ہے تو اس کا تدارک کرے، اور اپنی تمام قوتیں اور وسائل انسانی مسائل کو حل کرنے یعنی Human Development کے لیے وقف کردے۔
حقیقی اسلامی ریاست اپنے نتائج کے اعتبار سے فلاحی ریاست ہی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں جو ریاست قائم کی اور جس کا تسلسل خلفائے راشدین نے برقرار رکھنے کی کوشش کی وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے فلاحی ریاست ہی تھی۔ وہ ریاست اپنے شہریوں کی کفالت کا بندوبست بھی کرتی تھی جو مجبور، معذور، لاچار اور بے روزگار تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
-1’’جو شخص مرجائے اور اس کے ذمے قرض ہو اور اسے اَدا کرنے کے قابل مال نہ چھوڑے تو اس کا اَدا کرنا میرے (اسلامی ریاست کے) ذمے ہے۔ اور اگر وہ مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔‘‘ (ابوداؤد)
-2’’جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جو ذمے داریوں کا بار چھوڑ جائے تو وہ ہمارے (یعنی حکومت کے) ذمے ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص نہیں تھی۔ امام ابویوسفؒ نے اپنی کتاب ’’الخراج‘‘ میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ حضرت خالدؓ بن ولید نے حیرہ کے غیر مسلموں سے جو معاہدہ کیا تھا اس میں بہ صراحت یہ موجود تھا کہ جو شخص بوڑھا ہوجائے گا، یا جو کسی آفت کا شکار ہوگا، یا جو مفلس ہوجائے گا اس سے جزیہ وصول کرنے کے بجائے مسلمانوں کے بیت المال سے اُس کی اور اُس کے کنبے کی کفالت کی جائے گی۔
فلاحی ریاست ایسی ریاست ہوتی ہے جہاں صرف بنیادی حقوق ہی حاصل نہ ہوں بلکہ بہت سے اضافی حقوق بھی حاصل ہوں۔ یعنی معاملہ صرف ’’عدل‘‘ کا ہی نہ ہو بلکہ ’’احسان‘‘کا ہو۔ عدل تو یہ ہے کہ ہر شخص کو وہ ملے جو اس کا حق ہے، اور احسان یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے حق سے تھوڑا زائد مل جائے۔ حکومت اور عوام کے درمیان یہ ایک ایسا خیر خواہانہ معاملہ ہے جو دونوں کے تعلقات میں خوشگواری کے جذبات لاتا ہے، ایسی حالت میں عوام، حکومت کے لیے دعاگو ہوتے ہیں، اور یہ مثالی صورتِ حال ہے۔ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت اپنے عوام سے نفرت کرے اور عوام حکومت سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’تمہارے بہترین امام اور قائد وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور وہ تم کو چاہتے ہوں، تم ان کو دعائیں دیتے ہو اور وہ تم کو دعائیں دیتے ہوں۔ اور تم میں بدترین رہنما وہ ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ تم کو ناپسند کرتے ہوں، وہ تم پر لعنت بھیجتے ہوں اور تم اُن پر لعنت بھیجتے ہو۔‘‘ (مسلم)
مجلہ دو حصوں میں منقسم ہے: اردو اور انگریزی۔ اردو حصے میں درج ذیل مقالات شامل کیے گئے ہیں، ان میں ایک عربی زبان میں بھی مقالہ ہے:
’’اسلامی اور مغربی تصورِ تاریخ: ایک تقابلی جائزہ‘‘ فراز انجم۔ ’’عرب قومیت کے تصور کا پس منظر‘‘نگار سجاد ظہیر۔ ’’تاریخِ تعمیر و توسیع مسجدِ نبوی‘‘زیبا افتخار۔’’شاہنامہ فردوسی۔ قدیم ایرانی تہذیب و روایات کا ایک اہم مآخذ‘‘عصمت درّانی۔ ’’رحمدلانہ قتل: شرعی اور قانونی نقطہ ٔ نظر‘‘محمد خُبیب۔ ’’فتاویٰ شامی:ایک مطالعہ ‘‘محمد وقار۔’’ اردو کی نعتیہ شاعری میں خواتین کا حصہ‘‘محمد سہیل شفیق۔ ’’لالۂ صحرائی کا جذبۂ حب الوطنی‘‘زاہرہ نثار۔’’ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایٹمی پروگرام‘‘ رضوانہ جبین۔ ’’قضیۃ المعرب ولمولد والد خیل‘‘ (عربی مقالہ)عبدالماجد ندیم۔
ادبیات
تراجم
’’قرونِ وسطیٰ کا اسلامی فلسفہ ‘‘اگناز گولڈ زیہر
(مترجم: سید وحید الدین)
لسانیات
’’اردو تو بے زباں ہے…‘‘ غازی علم الدین
مکاتیب
’’غلام حسین ذالفقار بنام نگار سجاد ظہیر‘‘
شخصیت
’’ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب‘‘محمد راشد شیخ
کتب خانہ
’’میرا کتب خانہ، حضرو: ایک تعارف‘‘عبدالقیوم
وفیات
’’ڈاکٹر فواد سیز گین‘‘محمد سہیل شفیق
English Section
Letters from Raja Tridiv Roy to Prof, Syed Munir Wasti Abstracts
مجلہ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوا ہے۔

Share this: