مآثر رحیمی

ڈاکٹر محمد سہیل شفیق
ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اسلامی تاریخ، جامعہ کراچی
نام کتاب: مآثر رحیمی
(بیرم خاںا ور عبدالرحیم خانِ خاناں کی سوانح)
مصنف: عبدالباقی نہاوندی
مترجم: سید منصور علی سہروردی
نظر ثانی: شریف حسین قاسمی
حواشی و ضمیمہ جات: ڈاکٹرحسن بیگ
صفحات: 280…قیمت: 750روپے
سنِ اشاعت: مارچ 2018ء
ناشر: الفیصل ناشران، لاہور
برائے رابطہ:042-37231387

سوانح یا خودنوشت تاریخ کا ایک اہم ماخذ ہیں۔ سوانح یا آپ بیتی لکھنے والے ہر قسم کے ہوتے ہیں، ان میں شاعر، ادیب، فن کار، سیاست دان، حکمراں، فوجی جنرل اور کبھی کبھی عام زندگی سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہوتے ہیں۔ مغل بادشاہوں میں سے بابر اور جہانگیر نے آپ بیتیاں لکھی ہیں۔ بابر کی آپ بیتی ’تزک بابری‘ کو ڈائری بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس نے واقعات کو سن وار بیان کیا ہے، اس میں اس کی پوری شخصیت ابھر کر آتی ہے۔ اس کی تزک میں جو دلکشی، خوبصورتی اور روانی ہے ’تزک جہانگیری‘ میں نہیں، مگر یہ دونوں تاریخ کا اہم ماخذ ہیں۔
مغل بادشاہ بابر اور جہانگیر کے سوا کسی بادشاہ یا امیر نے اپنی یادداشتیں نہیں لکھیں۔ امراء میں عبدالرحیم خانِ خاناں وہ واحد امیر ہے جس نے اپنی تاریخ لکھوائی۔ خانِ خاناں سب سے بڑا خطاب تھا جو دہلی کے بادشاہوںکی طرف سے اعلیٰ ترین افسروں کو دیا جاتا تھا۔ یہ خطاب بابر کے زمانے میں بھی رائج تھا اور دلاور خان پسر دولت کو عطا ہوا تھا۔ جن لوگوں نے خان خاناں کے خطاب سے سب سے زیادہ شہرت پائی ان میں اکبر کے وزیر بیرم خاں اور اس کے بیٹے عبدالرحیم کو امتیاز حاصل ہے۔
خان خاناں بیرم خاں جسے اکبر بادشاہ اپنی کم سنی میں محبت اور عزت کی بنا پر عام طور سے ’خان بابا‘ یا ’باباام‘ کہا کرتا تھا، نہایت وسیع المطالعہ اور درباری آداب میں پوری طرح تربیت یافتہ تھا۔ وہ صرف سولہ سال کی عمر میں ہمایوں کی ملازمت میں داخل ہوا۔ بابر نے اسے 1529ء میں بدخشاں کی گورنری پر مامور کردیا تھا۔ وفاداری بیرم خاں کی سرشت میں تھی۔ ایران کے شاہ طہماسپ نے بیرم خاں کو ملازمت کی پیش کش بھی کی لیکن بیرم خاں نے ہمایوں ہی کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ ہمایوں نے بیرم خاں کو اکبر کا اتالیق بھی مقرر کیا اور سرکاری طور پر خان بابا کا خطاب مرحمت کیا۔
بیرم خاں ایک بلند پایہ عالم و فاضل، ترکی اور فارسی زبانوں کا اچھا شاعر، فنونِ لطیفہ کا قدر شناس اورمزاجاً آزاد خیال تھا۔ وہ عالموں، فاضلوں، حتیٰ کہ شاعروں، مصوروں، مغنیوں، موسیقاروں اور اہلِ صنعت و حرفت کا بڑا قدردان اور سرپرست تھا۔ بدایونی جیسے نکتہ چین نقاد نے بھی اس کی ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کی دل کھول کر تعریف کی ہے۔
ہر کمالِ را زوال است کے مصداق بیرم خاں کے بعض ناعاقبت اندیشانہ افعال نے اسے زوال سے دوچار کیا۔ مثلاً تردی بیگ کا قتل، بادشاہ کا جیب خرچ مقرر کرنے میں کوتاہی اور بے توجہی، جس کی ضروریات عمر کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہی تھیں، شاہی خاندان کے لوگوں کے لیے بہت معمولی وظیفے مقرر کرنا اور اپنی خدمات کا مبالغہ آمیز اندازہ اور احساس، اور حد درجہ متکبرانہ طرزعمل… ان سب باتوں نے اس کی طرف سے اکبر کے خیالات اور رویّے میں تبدیلی پیدا کردی، جس کا نتیجہ 31 جنوری 1561ء کواس کے قتل کی صورت میں نکلا۔ اُس وقت وہ پٹن کے مقام پر خیمہ زن تھا۔ اس کا خیمہ لوٹ لیا گیا اور اس کے اہل و عیال، جس میں اس کا چار سالہ بچہ مرزا عبدالرحیم خان بھی تھا، بالکل خالی ہاتھ احمد آباد پہنچے۔
اکبر نے جو اپنے باپ کی طرح خود اپنے تاج و تخت کے لیے بھی بیرم خاں کا مرہونِِ منت تھا، اپنی ناسپاسی کی تلافی اس طرح کی کہ اول تو بیرم خاں کے یتیم بچے مرزا عبدالرحیم کی پرورش اور اعلیٰ تعلیم و تربیت خود کی اور میرزا خان کا لقب دیا۔ بعد ازاں اس کی فاتحانہ خدمات کے اعتراف کے طور پر اسے خان خاناں کا لقب دیا۔ اور اُس وقت کا سب سے بڑا منصب پنج ہزاری بھی عطا کیا۔ گجرات کی کمان بھی اس کی تحویل میں رہی۔ 1598ء میں وہ دربار شاہی کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوا اور شہنشاہ کا وکیل بنادیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی اسے جون پورکی جاگیر بھی عطا ہوئی۔ اسی سال اس نے شہنشاہ کی خدمت میں بابرنامہ کا فارسی ترجمہ، جو اس نے ’’واقعات بَابُری‘‘ کے عنوان سے کیا تھا، پیش کیا۔
عبدالرحیم خان خاناں بہت ممتاز عالم، سخنور اور سخن پرور تھا۔ عربی، فارسی، ترکی اور ہندی زبانوں کا ماہر تھا۔ رحیمؔ تخلص تھا اور چاروں زبانوں میں شعر کہتا تھا۔ ادب اور فنونِ لطیفہ کا بہت بڑا سرپرست تھا۔ ’’مآثر رحیمی‘‘ میں ایسے شعراء کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے جو اس کے خوانِِ کرم پر پرورش پاتے تھے۔ اس کی فیاضی اور سخاوت ضرب المثل بن گئی تھی۔ اس پر اگرچہ بارہا غداری اور بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ وہ بہترین منتظم تھا اور دکن کے مسائل پر اس کی گرفت کسی اور مغل سپہ سالار کی نسبت زیادہ تھی۔
پیش نظر کتاب ’’مآثر رحیمی‘‘ دراصل بنیادی طور پر بیرم خاں، عبدالرحیم خاں اور ان کے اجداد و اخلاف کی تاریخ ہے۔ مآثر کے مصنف عبدالباقی نہاوندی نے اپنے ممدوح عبدالرحیم خان خاناں کو مرکزِ تحریر بنایا ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں زیادہ تر مواد اسی سے متعلق ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کے والد بیرم خاں کا تذکرہ مختصر ہے۔ نہاوندی کے مطابق کتاب کی تحریک اس کو عبدالرحیم کے پاس برہان پور پہنچ کر، عبدالرحیم کی فتوحات، اس کے دربار کی اہمیت، اس کے تعلقات، علمی خدمات اور اس کی علم پروری کو دیکھ کر ہوئی۔ اس نے عبدالرحیم خان خاناں سے اس کی سوانح لکھنے کی گزارش کی جس پر اس کو لکھنے کی اجازت ملی۔ عبدالرحیم خان خاناں کو خود تاریخ اور اس کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی اہمیت کا اندازہ تھا۔
عبدالباقی نہاوندی کی اس کتاب کا فارسی سے اردو ترجمہ سید منصور علی سہروردی نے کیا، اور اس پر نظرثانی ڈاکٹر شریف حسین قاسمی نے کی۔ جب کہ اس پر حواشی و ضمیمہ جات ڈاکٹر حسن بیگ کی کاوش کا نتیجہ ہیں۔ جناب حسن بیگ جو پیشے کے اعتبار سے معالج ہیں، تاریخ پاک و ہند سے خصوصی لگائو رکھتے ہیں۔ بالخصوص مغل دور سے۔ ’’مآثر رحیمی‘‘ سے قبل مغل دور پر تین کتابیں آپ کی ادارت میں شائع ہوچکی ہیں: ’’خان خاناں نامہ‘‘، ’’بیرم خاں‘‘ اور ’’وقائع بابر‘‘۔
ڈاکٹر حسن بیگ نے بعض نئے ماخذ و آثار کی روشنی میں اس خاندان کا مفصل تعارف کرایا ہے اور تفصیلی و تحقیقی حواشی لکھے ہیں جن کے بغیر مغلیہ عہد کی اس تاریخی کتاب کی تفہیم آسان نہ تھی۔ اس سلسلے میں انھوں نے مختلف ماخذ اور تصاویر، ایشیاٹک سوسائٹی لندن، برٹش لائبریری، برٹش میوزیم لندن، چسٹر بٹی لائبریری ڈبلن، فریئر گیلری اور آرتھر ایم سیکلر گیلری واشنگٹن سے حاصل کی ہیں۔
ڈاکٹر حسن بیگ کی محنت اور جستجو کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ’’مآثر رحیمی‘‘ کی اشاعت کے سلسلے میں پروفیسر شریف حسین قاسمی کے ساتھ اُن مقامات کے سفر کیے جہاں بیرم خاں اور عبدالرحیم نے قیام کیا تھا۔ احمد آباد، پاٹن، چانپانیر(گجرات)، برہان پور، خلد آباد، احمد نگر وغیرہ کا سفر کیا اور وہ تمام مقامات دیکھے جن کا خان خاناں سے قریب یا دور کا تعلق رہا ہے۔ تحقیق کی غرض سے سفر کی ایک ایسی ہی مثال ہمیں ماضیِ قریب میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ مرحوم و مغفور کی ملتی ہے جنھوں سفرِ ہجرت کے مطالعے کے لیے انھی راستوں پر مکے سے مدینے کا سفر کیا جس راستے کا انتخاب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ مزید برآں حسن بیگ صاحب نے خان خاناں پر لکھی جانے والی معاصر اور بعد کی تقریباً تمام ہی کتابوں کا بغور مطالعہ کیا ہے، جس سے کتاب کی اہمیت و افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس پر مستزاد کتاب کا اشاریہ ہے جس نے کتاب کی اہمیت کو چار چاند لگادیے ہیں۔
جو لوگ تحقیق کی پُرخار وادیوں کے راہی ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کسی تاریخی کتاب پر حواشی وتعلیقات لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ خونِ جگر صرف کرنا پڑتا ہے۔ کتنے ہی لوگ اس راہ میں قدم رکھتے ہی الٹے قدم لوٹ جاتے ہیں تو کتنے ہی راہ میں تھک کر بیٹھ جاتے ہیں۔کم ہی خوش نصیب افراد ثابت قدم رہ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر بیگ ان میں سے ایک ہیں۔ ان کے عزم و حوصلے کو دیکھتے ہوئے بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کے ایسے ہی مزید کارنامے بھی ہمارے سامنے آئیں گے۔

Share this: