روح الامین کی معیت میں

محمود عزیز
روح الامین کی معیت میں
کاروانِ نبوت ؐ(جلد ششم)
مصنف: تسنیم احمد، پی ایچ ڈی
قیمت: (فنڈ برائے اشاعت مزید) 390 پاکستانی روپے یا 15امریکی ڈالر
بہ اہتمام: صہیب یحییٰ (مدیر مکتبہ دعوۃ الحق7193، اٹاوہ سوسائٹی، احسن آباد، کراچی 75340)
کتاب ملنے کا پتا: قیوم بک ڈپو، اردو بازار، کراچی۔
اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی
ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔
مکتبہ اسلامیہ، اردو بازار، لاہور
مکتبہ اسلامیہ، فیصل آباد
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس منفرد کتاب میں سیرت کو قرآن کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ نزولِ قرآن، سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، توحید، آخرت اور کشمکشِ حق و باطل اس کتاب کے کلیدی موضوعات ہیں۔ ان موضوعات کو مصنف نے دس جلدوں میں سمیٹنے کا عزم کیا ہے، جس میں وہ کامیابی سے چھٹی جلد تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کتاب کو پیش کرنے پر وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اپنی جانب پلٹ آنے کی توفیق دے اور ذلت و نکبت کی دلدل سے ان کو نکال دے، اور دینِ حق کو دنیا میں غالب کردے جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ ختم نبوت ہوچکی اور کارِِ نبوت باقی ہے جس کے لیے مصنف نے اس قابلِ قدر منصوبے کی داغ بیل ڈالی ہے۔
عرضِ مولف کے ضمن میں اللہ کا شکر بجالاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ جلد ششم تک پہنچنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کو قرآن مجید کے نزول کے ساتھ بیان کرنے کی توفیق و سعادت کو یہاں تک جاری رکھا کہ وہؐ غارِ حرا سے اتر کر، گالیاں کھاکے، دعائیں دیتے ہوئے اور پتھر کھاکھاکر مسکراتے ہوئے اس وقت اور مرحلے تک پہنچ گیا ہے جہاں اللہ اور اپنے رفیق خاص کے ساتھ غارِ ثور سے ہوتے ہوئے یثرب پہنچنے والا ہے، اور پھر یثرب ہمیشہ کے لیے مدینۃ النبیؐ بن جائے گا۔ زیر تبصرہ جلد ششم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے آخری دور پر روشنی ڈالتی ہے جس میں نبوت کے بارہویں اور تیرہویں برسوں میں پیش آنے والے واقعات اور اس دوران نازل ہونے والی آیات ِ قرآنی کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے، اور بقول مصنف یہ وہ ماہ و سال تھے جب تاریخ ایک نیا موڑ کاٹنے کو تھی، کیونکہ اہلِ مکہ نے دینِ اسلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔ وہ اپنے آباو اجداد کے طرزِ کہن پر اڑے ہوئے تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نازل کردہ دین کے پھلنے پھولنے کے لیے مکہ کے بجائے یثرب جس کو مدینۃ النبیؐ کے نام سے مشہور ہونا تھا، کا انتخاب کررکھا تھا، جہاں سے رشد و ہدایت کا چراغ ساری انسانیت کے لیے روشن ہونا تھا۔
مصنف کہتے ہیں کہ پورا قرآن سیرت کی داستان بیان کرتا ہے۔ تمام آیاتِ قرآنی کی شانِ نزول اپنے نزول کے وقت کی حکمت عملی بیان کرتی ہیں اورخاص وقت کے حالات، اُس وقت اسلام و کفر کے درمیان برپا کش مکش کی مستند نقشہ کشی کرتی ہیں۔
قرآنی طرزِ تخاطب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے:
جب قل کہہ کر آپؐ سے کچھ کہلوایا جاتا ہے تو وہ آپؐ کا تاریخی بیان ہوتا ہے جو اس موقع پر جاری کیا گیا، اور جب اہلِ ایمان یا منکرین سے خطاب کیا جاتا ہے تو ان کی ضرورت، خیالات و گمان کا پتا چلتا ہے۔ جب واقعات پر تبصرہ ہوتا ہے تو وہ اس دور کی تاریخ کی تدوین ہے۔ جب دیگر انبیا اور قوموں کے تذکرے ہوتے ہیں تو وہ بھی اس خاص دور میں جاری کش مکش کے دوران ویسی ہی صورتِ حال میں انبیا اور قوموں کے طرزِعمل کے ہو بہو عکاس ہوتے ہیں، اور آج کے دور میں ہمارے لیے دورِِ نبوت کی تاریخ ہوتے ہیں۔ کتاب میں اس دور کا ذکر ہے جس میں قریش اسلام کی انقلابی دعوت سے سراسیمہ ہیں، چنانچہ چراغِ مصطفوی سے چراغِ بولہبی ستیزہ کار ہے اور اس زمانے میں قریش سے کشمکش اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے، کیونکہ مشرکینِ مکہ اپنے ہاتھوں سے قیادت و سیادت دینِ توحید کے علَم برداروں کو جاتے دیکھ رہے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے:
اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔
یہ دعوت وہی دعوتِ توحید تھی جو سارے نبیوں کی دعوت تھی۔ مصنف، دعوتِ توحید کے باب میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دعوت کا نقطہ آغاز انسانوں کو معبودانِ باطل سے بیزار اور منقطع کرکے ایک اللہ کی بندگی میں داخل کرنا ہوتا ہے۔ قوموں میں اصلاح کے بعد جب بھی گمراہی پھیلتی ہے تو وہ توحید سے ہی انحراف کا نتیجہ ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ جب بگاڑ کے اس منبع (توحید) کو چھوڑ کر دوسرے مفاسد کی اصلاح کرنے کی کوشش کی گئی ہے بگاڑ میں اضافہ ہوا ہے۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بشیر و نذیر بناکر بھیجے جانے والے قرآنی حکم:
’’اے محمدؐ! ہم نے تمہاری قوم کے لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب بھیجی ہے، جس میں ہمارے پیغام کی تفصیل علمِ قطعی کی بنیاد پر ہے، اور جو ایمان لانے والوں کے لیے (ان کی سیرت میں ہدایت اور رحمت بنی نظر آرہی ہے) اس قرآنی ہدایت اور رہنمائی میں جو انسان سازی ہوئی اس نے ان لوگوں کو جو زیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے کا سردار ہونے کا خواب دیکھ سکتے تھے، دنیا کے وسیع رقبے کا مالک بنادیا۔
بعثت ِنبویؐ کی اہم ترین وجہ انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا تھا کہ یہ کائنات اور اس میں موجود سب کچھ کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے، لہٰذا کائنات میں حکم بھی اللہ کا ہی چلے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے والوں کو بشارت، اور اس دعوت سے منہ موڑنے والے باغیوں کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے ڈرانا تھا۔
کیونکہ اللہ رحیم و کریم ہے، لہٰذا اس نے کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑدیا، بلکہ ان کی ہدات کے لیے انبیا و رسل کا سلسلہ قائم کیا اور ان پر اپنا کلام صحائفِ آسمانی کی شکل میں نازل کیا جس میں قرآن وہ آخری کتاب ہے جس کے ذریعے انسانیت نے فلاح کی راہ دیکھی۔ کتاب میں دعوت و تبلیغ کے مختلف مرحلوں اور طریقوں کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ قرآن نے گمراہی پر ڈٹے رہنے والے اہلِ مکہ کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی اور انفس و آفاق کی نشانیاں بیان کیں۔ شرک سے باز آنے کے لیے کہا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کرکے اللہ واحد کی بندگی قبول کرنے کے لیے آمادہ کیا، ان کو ہر طرح سمجھایا کہ نبی کی دعوت کو قبول کرکے وہ عرب و عجم کے مالک بن جائیں گے۔ مگر ماسوائے کچھ سعید روح رکھنے والوں کے، وہ شرک و بت پرستی سے باز نہ آئے۔ متلاشیانِ حق کو ان کی حق پرستی اور استقامت کا جب پھل ملا جب کہ اہلِ مدینہ نے اُن کو پورے جوش و خروش سے خوش آمدید کہا۔
مصنف توجہ دلاتے ہیں کہ انبیا کی تحریکاتِ توحید سے قوم کے سربرآوردہ لوگ سہم جاتے ہیں، ان کو اپنے قدموں سے زمین کھسکتی نظر آتی ہے، لہٰذا وہ وقت کے انبیا کی دعوت پر مخالفت پر کمربستہ ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت نوحؒ، حضرت صالح ؒ، حضرت لوطؒ، حضرت شعیبؒ کے دعوتی مشن کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب قومیں عصیان و طغیان میں حد سے بڑھ گئیں تو ان پر کیسے سخت غذاب آئے۔ اہلِ مکہ کو برباد ہونے والی قوموں کے حوالے سے متنبہ کیا گیا کہ نبی کی آمد کے بعد قوم کے لوگوں کو کبھی ڈھیل دے کر آزمایا جاتا ہے اور کبھی سختی کی جاتی ہے تاکہ لوگ وقت کے نبی پر ایمان لے آئیں، مگر برادرانِ قوم سرکشی اور تکبر میں مبتلا رہتے ہیں جو اللہ کے غضب کو بھڑکا دیتا ہے اور نتیجۃً ان کے وجود کو مٹادیا جاتا ہے۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد اللہ نے دعوت کی راہ کشادہ کردی اور مکہ میں جو مشکلات تھیں وہ دور کردیں۔
مدینہ میں اوس و خزرج کی آپس کی ناچاقی اور یہودیوں کی سازشی سرشت جس نے ماحول کو آلودہ کررکھا تھا، دعوتِ توحید کو نہایت پُرکشش بنادیا تھا، جس نے اسلام کی تبلیغ میں آڑے آنے والے قریش اور ان کی جاہلی تہذیب کو مغلوب کرکے ان کی قیادت و سیادت پر کاری ضرب لگادی۔ نبوت کے گیارہویں سال کے آخر دو ماہ میں یثرب سے آئے ہوئے جن چھے افراد نے اسلام قبول کرلیا تھا انہوں نے اسلام کا پھریرا مدینہ میں لہرایا، جہاں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد اس ٹیم کے ذریعے رکھی گئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی براہِ راست نگرانی میں گیارہ سال کی شب و روز محنت کے بعد تیار کی تھی، اور جو اللہ کا پیغام پھیلانے والے ایسے بہترین انسانوں پر مشتمل تھی کہ ایسا گروہِ انسانی روئے زمین پر نہ اس سے پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ مصنف نے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی ممالک میں پھیلی گمراہی پر بھی نظر ڈالی ہے کہ اب دین کو بھی نفع و نقصان کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے کیونکہ صورت حال یہ ہے کہ
پڑھتے نہیں بھول کے اللہ کی کتاب
ہوتے نہیں چشمۂ زمزم سے فیضیاب
قرآن سے دور کرنے پر مسلم ممالک کی روش پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں ایران و توران کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں اور راگ رنگ کے ماحول میں قرآن کی تلاوت اور قرآنی افکار پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔ انفس و آفاق کے دلائل اور دنیا میں عذابِ الٰہی اور آخرت میں نارِ جہنم کی بات کم کم سننے میں آتی ہے۔ مغربی تہذیب کے پھیلائے ہوئے مغالطوں کی بھی خبر لی گئی ہے کہ اس سے:
پھیلا ہوا ملتِ بیضا میں انتشار
بے جا تصورات کی ہر قوم ہے شکار
ان گمراہ کن تصورات میں ایک کم لباسی بھی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے: لباس اللہ تعالیٰ کا نوعِ انسانی پر وہ منفرد احسان ہے جس سے دنیا کی کسی اور مخلوق کو نہیں نوازا گیا۔ جبکہ مغربی تہذیب کا انسانوں سے خصوصاً خواتین سے ممکنہ حد تک بے لباس ہوکر مہذب بن جانے کا مطالبہ ہے اور اسی شیطانی ایجنڈے کو مسلمان ممالک میں رواج دیا جارہا ہے، اور اس سے قطع نظر کیا جارہا ہے کہ جسم کے کچھ حصے چھپانے کے لیے ہیں جس کے لیے انسان کی فطرت میں عریانیت سے اجتناب اور جھجک پیدا کی گئی ہے۔
مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنانے اور زندگی کے تمام معاملات میں اتباعِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے، مگر افسوس کہ اب تو حالت یہ ہے:
مغرب کے میکدوں کے چڑھائے ہوئے شراب
اس درجہ ہوچکے ہیں مسلمان اب خراب
کہ سڑکوں پہ ناچتی ہیں کنیزیں بتولؓ کی
اور تالیاں بجاتی ہے امت رسولؐ کی
امت کی نماز سے غفلت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نماز کی وجہ سے مقام محمود پر فائز ہوئے، مگر جب سے امت کی قیادت بے نمازیوں کے ہاتھ آئی ہے نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر مسلمان ذلت و نکبت کا شکار ہیں۔ ان کو اس گراں خوابی سے جگانے کے لیے مصنف نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گوشے وا کیے ہیں۔ درحقیقت مصنف نے کتاب قرآن و سنت کی روشنی میں ڈوب کر لکھی ہے اور موجودہ دور میں مسلمانوں کی دینِ متین اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری کا سدباب کرنے کی سعی کی ہے۔ امید ہے مصنف کی یہ کاوش رنگ لائے گی اور یہ کتاب ان کو چشم ِبینا عطا کرے گی۔

Share this: