’’سمندر پار ملکوں میں اردو کا مستقبل‘‘

کینیڈا میں مقیم معروف ادیب و شاعر اشفاق حسین اربابِ علم و دانش میں کسی تعارف کے محتاج نہیں، یہ عرصہ دراز سے کینیڈا میں بڑی بڑی تقاریب سجاتے ہیں، بقول محمود شام یہ کینیڈا میں اردو کے سفیر ہیں۔ اشفاق حسین کی پاکستان آمد پر ان کے اعزاز میں علمی، ادبی حلقوں کی جانب سے تقاریب کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں بزم یاور مہدی نے اپنی 139ویں تقریب آپ کے اعزاز میں منعقد کی جس میں ’’سمندر پار ملکوں میں اردو کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کی صدارت معروف دانش ور اور ’’ادارہ پاکستانی بیانیہ‘‘ کے روحِ رواں پروفیسر ڈاکٹر ذوالقرنین احمد شاداب احسانی نے کی۔ آپ ان دنوں ’’پاکستانی بیانیہ‘‘ کے بارے میں فکر انگیز تقاریر مختلف فورمز پر کررہے ہیں اور اربابِ حل وعقد کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔ آپ نے کہا کہ:
’’جب قوموں کا بیانیہ مقامی نہیں رہتا تو وہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جاتی ہیں، اور اس سے بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ماضی میں یہ طاقتیں ملکوں پر قبضہ کرلیتی تھیں۔ آج معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کو 71برس ہوگئے لیکن تاحال پاکستانی بیانیہ ظہور میں نہ آسکا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی نظام ہو کہ معاشی نظام، سب کچھ تنزل کا شکار ہے۔ کرپشن کی آوازوں سے لے کر ناانصافی، میرٹ کے فقدان کے نعروں کی گونج میں تقسیم در تقسیم کے عمل کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ یہ کہانی ہر گھر کی کہانی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام قصہ پارینہ ہوتا جارہا ہے، کیونکہ ایک ہی خاندان کے افراد میں بھی اتفاق و اتحاد کمیاب ہوتا جارہا ہے۔ یہ ماحول اس لیے پیدا ہوا کہ تاحال ہمارا بیانیہ انگریزی کے زیراثر ہے۔ پاکستان کی تشکیل میں اردو زبان کو تفوق حاصل رہا کہ اس زبان میں پورے ہندوستان کے رہنے والوں کے ملّی تصورات جگہ پاگئے تھے، یعنی مسلمانوں، ہندوئوں، سکھوں اور عیسائیوں وغیرہ کے ملّی تصورات۔۔۔۔ گویا ان تصورات نے اردو کو پورے ہندوستان کی زبان بنادیا تھا، حالانکہ یہ زبان براہِ راست ہندوستان کے کسی بھی خطے سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ 1862ء میں فرانسیسی مستشرق ڈاکٹر گستاولی بان کے مطابق ہندوستان کی 25کروڑ کی آبادی میں سب سے زیادہ یعنی 8کروڑ 25لاکھ اردو بولنے والے پائے جاتے تھے۔ 1877ء میں بلوچستان کی سرکاری زبان بھی اردو رہی۔ سنسکرت بیانیے کے کمزور پڑنے کے بعد فارسی بولنے والے ہندوستان کے حکمران بنے، لیکن اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں فارسی بیانیہ کمزور پڑ گیا تو نتیجتاً اردو جو سب کی زبان بنتی جارہی تھی، دربار نے بھی اسے اپنا لیا۔ لیکن جب انگریزوں نے ہندی کو اردو کے مقابل لاکھڑا کیا تو معاملات ایک بار پھر تقسیم در تقسیم کی ڈگر پر چل نکلے۔ جناب! زبان ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جو مذہب سے بڑی اکائی بناتی ہے۔ انگریز اپنے بیانیے کے ساتھ اردو کی ترویح میں بھی حصے دار ہے، لیکن 1835ء میں یہ اعلان سامنے آیا کہ تعلیم بہ زبانِ انگریزی ہوگی تو یہ مطلب واضح تھا کہ اردو اور ہندوستان کی دوسری زبانیں انگریزی بیانیے کے زیراثر ہوں گی۔ تاریخ شاید ہے کہ بیانیہ کسی قوم کو غلام بناتا ہے اور کسی قوم کو آزاد کرتا ہے، مگر قوموں کو یہ آزادی اُس وقت میسر آتی ہے جب قوموں کا اپنا بیانیہ مقامی ہو۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فرانسیسی بیانیہ تشکیل پانے میں بہت وقت لگا۔ یہی معاملہ جرمنی بیانیے کا رہا اور یہی دیگر اقوام کا ہے۔ فن لینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے، وہاں تعلیمی نظام مثالی ہے، اور وہ اس لیے مثالی ہے کہ وہاں کی ثقافت سے ہم آہنگ بیانیے نے انہیں مثالی ترقی سے ہم آہنگ کررکھا ہے اور Nokia Mobileکی ایکسپورٹ سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کا نام ہی انہوں نے اپنے تشخص پر رکھا۔ یہاں یہ بات محلِ نظر رہے کہ جب تک انگریزی بیانیہ لاطینی کے زیراثر رہا برطانوی سامراج ترقی سے کوسوں دور رہا۔
پس ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زبانوں سے اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا کہ اپنا بیانیہ نہ ہونے سے پڑتا ہے۔ اگر کسی قوم کے بیانیے میں تشخص نہیں تو پھر کوئی اسے ذلت و رسوائی سے نہیں بچاسکتا۔ قوم اپنے بیانیے کے بغیر متحد نہیں ہوسکتی، اس کی مثال ہمارے پڑوس میں ہی موجود ہے۔ یعنی ہندوستان میں، جہاں سہ لسانی فارمولا ہے۔ وہاں کے لوگ خواہ انگریزی بول رہے ہوں، گجراتی بول رہے ہوں، مراٹھی بول رہے ہوں، ان کا بیانیہ ہندوستانی ہے۔ جبکہ ہندی بھی وہاں کسی کی ماں بولی نہیں ہے۔ ان کی معیشت، خارجہ پالیسی اور سافٹ ویئر میں ان کا 22فیصدحصہ یہ بتاتا ہے کہ بیانیہ ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ آج ہمیں دانش و بینش کی سطح پر تیزی سے پاکستانی بیانیے کی طرف آنا چاہیے۔ یہاں کسی زبان سے کسی زبان کا جھگڑا نہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہماری قومی زبانیں انگریزی کے ساتھ ترقی کرسکتی ہیں یا اردو کے ساتھ؟ کیا پاکستانی بیانیے کے بغیر ہم ایک قوم بن سکتے ہیں؟ کیا پاکستانی بیانیے کے بغیر ہم غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں؟“
صاحبِ اعزاز معروف ادیب وشاعر اشفاق حسین نے کہا کہ اردو اسلامی دنیا کی بڑی زبان اور ایک طاقتور بولی ہے۔ اردو سمندر پار ملکوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جب تک لوگ اردو بولتے رہیں گے، اردو زندہ رہے گی۔ اردو کاٹتی نہیں جوڑتی ہے۔ اردو کا مستقبل اچھا ہے۔ کینیڈا کے بچے اردو بولتے ہیں، لیکن لکھتے رومن میں ہیں۔ ہمارے ہاں نئے لکھنے والوں کا ایک اچھا ادبی ذخیرہ ہے۔ ہمیں نت نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کو بھی بڑھانا ہوگا۔
معروف صحافی، ادیب، شاعر، دانش ور محمود شام نے کہا کہ اشفاق حسین کینیڈا میں اردو کا سفیر کہا جاسکتا ہے۔ سمندر پار اردو کا مستقبل پاکستان میں اردو کے سلوک سے وابستہ ہے۔ ہمیں اردو کو ترقی دینی چاہیے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے سیمینار بھی اردو میں ہونے چاہئیں۔
معروف دانش ور سید قمر رضی نے کہا کہ اردو ایسی زبان ہے جو دنیا میں ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے، اس کا دائرہ روز بروز وسیع ہورہا ہے۔ یاور مہدی اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت کی بڑی خدمت کررہے ہیں۔ ہمیں ان کے کام کو مزید آگے بڑھانا ہوگا۔ نوجوان اسکالر فراز جمیل نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ کمیونی کیشن اردو میں کرنی چاہیے۔
تقریب کی ابتدا معروف ثنا خواں عزیزالدین خاکی نے تلاوتِ کلام پاک اور نعت مبارکہ سے فرمائی۔ زینش ندیم نے اقبال اشعر کی نظم ’’اردو ہے میرا نام‘‘ ترنم سے سنائی۔ تقریب کی نظامت ندیم ہاشمی نے کی، جبکہ اربابِ علم وادب کے ساتھ صغیر احمد جعفری، عابد رضوی، راشد نور، نسیم نازش، اقبال احمد خان، اویس ادیب انصاری، شگفتہ فرحت، نوید ہاشمی، جہانگیر سید، ناصر خالق، سحر علی، محمود حسن، محمد اسلم، پروفیسر سلطان احمد، یامین خان، فیاض رضوی، محمد علی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر عزیز الدین خاکی، شگفتہ فرحت اور محمود حسن نے کتابوں کے تحائف اشفاق حسین کو پیش کیے۔ انیس زیدی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Share this: