قرآنِ مجید اور نوعِ انسانی

پیشکش: ابوسعدی

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقدس سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ٹھیرے، تو قیامت تک ساری امت کی روحانی تربیت کی ذمے داری بھی ان پر عائد ہوگئی۔ اب نجات کا واحد راستہ صرف حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری میں ہے۔ ان کے بتائے ہوئے راستے سے ہٹ کر اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا تو وہ گمراہی میں ہوگا۔ یہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے طے کردیا ہے کہ اب حق و صداقت کا واحد سرچشمہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔ وہی منشائے خداوندی کے آخری رازدان ہیں، جن کے اعمال و اقوال نوعِ بشری کے لیے قیامت تک موجود ہیں اور خدا کی اطاعت کی واحد شکل اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے۔ اب خدا اور دین کے نام پرکسی کو دھوکا اور فریب نہیں دیا جا سکتا۔ اللہ کی آخری کتاب اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہمارے درمیان کسوٹی کی شکل میں موجود ہے، جس پر ہم زندگی کے ہر معاملے کو پرکھ کر اس کی صحت اور صداقت کا اچھی طرح اندازہ کرسکتے ہیں۔ اب کسی دوسرے شخص کی غیر مشروط اطاعت ہم پر لازم نہیں۔ اب کوئی تنقید سے بالاتر نہیں۔ اب کوئی اور معیارِ حق و باطل نہیں۔ سب لوگوں کے افکار و نظریات، ان کے اعمال و افعال کو اس ایک معیار پر جانچ کر ہی ان کی قدروقیمت کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
(پروفیسر عبدالحمید صدیقی، مدیر ترجمان القرآن)

جس نے کی شرم، اس کے پھوٹے کرم

غیرت مند اور تکلف والے ہمیشہ نقصان میں رہتے ہیں، جب کہ بے شرم اور تکلف نہ کرنے والے موج کرتے ہیں۔ اس کہاوت کے متعلق ایک حکایت اس طرح بیان کی جاتی ہے:
ایک زمیندار کے دو بیٹے تھے۔ اس نے اپنے ایک بیٹے کی شادی ایک مہذب گھرانے کی لڑکی کے ساتھ کردی۔ وہ اپنی بہو کو اپنے ساتھ لے آیا۔ زمیندار کی بیوی بہت چالاک تھی۔ وہ بہو کو بہت کم کھانا دیتی اور اس پر اپنا حکم چلاتی۔ دلہن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ نہ کہتی۔ وہ ساس کی دستِ نگر بنی رہی اور مسلسل تکلیف اٹھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد زمیندار کے چھوٹے بیٹے کا بیاہ ہوا۔ ساس نے اپنی چھوٹی بہو کے ساتھ بھی ویسا ہی برتائو کیا جیسا کہ وہ بڑی بہو کے ساتھ کرتی تھی۔ چھوٹی بہو نہایت شوخ اور بے باک تھی۔ اس نے ساس کی چالاکی کو بھانپ لیا اور مناسب موقع کے انتظار میں رہی۔ کچھ عرصے کے بعد چھوٹی بہو کے ایک بچہ ہوا۔ وہ اسی موقع کی تلاش میں تھی۔ وہ رسوئی میں بچے کو دودھ دینے کے بہانے سے جاتی، دودھ کے برتن سے دودھ نکال کر پی لیتی اور جلدی جلدی ساری ملائی چٹ کر جاتی۔ جب اس طرح کئی روز گزر گئے تو ساس کو فکر ہوئی کہ دودھ اتنا کم کیسے ہوجاتا ہے اور ملائی کہاں چلی جاتی ہے؟ اس کو اپنی چھوٹی بہو پر شبہ ہوا۔ فوراً چھوٹی بہو کو بلایا اور پوچھا تو اس نے کہا: ’’ہاں میں دودھ پیتی ہوں اور بالائی بھی کھاتی ہوں، جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم‘‘۔ بڑی بھی ساس اور دیورانی کی باتیں سن رہی تھی۔ سرد آہ بھرکر بولی: ’’واقعی تم سچ کہہ رہی ہو۔ جس نے کی شرم، اس کے پھوٹے کرم۔ جس نے کی بے حیائی، اس نے کھائی دودھ ملائی۔ میں نہ شرم کرتی اور نہ بھوکی مرتی‘‘۔

سورہ فاتحہ کا منظوم ترجمہ

ستائش کے تُو لائق ہے کہ ربِ دو سرا تُو ہے
رحیم و مہربان و مالکِ روزِ جزا تُو ہے
تجھی کو پوجتے ہیں ہم، نہیں تیرے سوا کوئی
اعانت چاہتے ہیں تجھ سے، سب کا آسرا تُو ہے
چلا ہم کو تُو سیدھی راہ پر، ہے آرزو اتنی
کہ اس کج رو زمانے میں ہمارا رہنما تُو ہے
طریقہ ان کا ہو جن پر ہوا لطف و کرم تیرا
کہ ہر کس اور ناکس کا سہارا اے خدا تُو ہے
نہ ان کا راستہ جن پر ہوا قہر و غضب تیرا
نہ رستہ گمرہوں کا جن سے ناخوش اور خفا تُو ہے

(محمد یوسف ناز صدیقی)

عدل و احسان

خلیفہ منصور عباسی (775-754ء) کے سامنے دو مجرم پیش ہوئے، دونوں کا گناہ ایک ہی تھا۔ ایک کو سزائے موت ملی جب کہ دوسرے کا مقدمہ پیش ہوا تو وہ کہنے لگا:
’’اے امیرالمومنین! اللہ نے عدل اور احسان ہر دو کا حکم دیا ہے، آپ نے میرے ساتھی کے ساتھ عدل کیا ہے، اب میرے ساتھ احسان فرمائیے‘‘۔
خلیفہ اس نکتے پر جھوم اٹھا اور دونوں کو معاف کردیا۔

اقوالِ اقبال

٭ قطرہ سمندر میں مل کر فنا ہوجاتا ہے اور میں قطرہ رہبر سمندر بننا چاہتا ہوں۔
٭ گر جھکا تُو غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من۔
٭ فکر و وجدان ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ان دونوں کا سرچشمہ ایک ہے۔
٭ مومن ریشم کی طرح نرم اور فولاد کی طرح سخت ہوتاہے۔
٭ علم چار چیزوں سے حاصل ہوتا ہے: تاریخ، مطالعۂ کائنات، صفائیِ دل اور وحی سے۔
٭ انسان ایک حقیقی فعالیت ہے۔ ایک صعودی روح، جو اپنے عروج میں ایک وجود سے دوسرے میں قدم رکھتی ہے۔
٭ زندگی وہ فرحت ہے جس میں خودی کو عمل کے بے شمار مواقع ملتے ہیں، اور موت اس کا پہلا امتحان ہے، یہ دیکھنے کے لیے کہ اسے اپنے اعمال کی شیرازہ بندی میں کتنی کامیابی ہوئی۔
٭ مذہبی زندگی تین ادوار سے گزرتی ہے۔ اول ایمان، جہاں انسان ہر بات کو بے دلیل لیتا ہے۔ دوم دورِ فکر اور آخر معرفت، جس میں حقیقتِ مطلقہ سے براہِ راست رابطہ قائم ہوتا ہے۔

Share this: