بنگلہ دیش انتخابات اور شکوک و شبہات

بنگلہ دیش میں عام انتخابات30 دسمبر کو ہوں گے۔ 8 نومبر کو الیکشن کمیشن نے یہ انتخابات23 دسمبر کو کرانے کا اعلان کیا تھا جس میں ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی ہے۔ سوا 16 کروڑ نفوس پر مشتمل بنگلہ دیش میں ایک ایوانی مقننہ ہے، جسے سنگشاد یا قومی پارلیمان (قومی اسمبلی)کہا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی کی 300 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے مختص 50 نشستیں پاکستان کی طرح متناسب نمائندگی کی بنیاد پر جیتنے والی پارٹیوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔
2014ء کے انتخابات کا حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا اور نتیجے کے طور پر حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے 234 نشستیں ہتھیا لیں۔ 34 نشستیں محترمہ روشن ارشاد کی جاتیہ پارٹی کو دے کر حزبِ اختلاف تشکیل دی گئی۔ باقی ماندہ سیٹیں آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں میں تقسیم کردی گئیں۔
انتخابات کا اچانک اعلان کرکے حسینہ واجد نے سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش کی، لیکن تاریخ سامنے آتے ہی جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)کے 20 جماعتی اتحاد نے ہندوستان مخالف سیاسی تنظیموں کو ساتھ ملاکر جاتیو اوکو فرنٹ یا قومی یک جہتی اتحاد بنانے کا اعلان کرکے حکومت کو حیران کردیا۔
جاتیو اوکو فرنٹ کی ہیئت 1977ء کے پاکستان قومی اتحاد یا PNAجیسی ہے کہ اس میں قوم پرست بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جاتیہ پارٹی کا ایک دھڑا شامل ہے، تو سیکولر خیالات کی لبرل پارٹی، بائیں بازو کی جاتیہ سماج تنتری دل، کمیونسٹ لیگ کے ایک گروپ کے ساتھ دائیں بازو کی کالعدم جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ اور خلافت مجلس سمیت دو درجن سے زیادہ چھوٹی بڑی جماعتیں شامل ہیں۔
حسینہ واجد کو پورا یقین تھا اور شاید اب تک ہے کہ گزشتہ عام انتخابات کی طرح اِس بار بھی حزبِ اختلاف انتخابات کا بائیکاٹ کردے گی۔ جماعت اسلامی کی صفِ اول کی قیادت اور BNPکے بہت سے سینئر کارکن تختہِ دار پر چڑھائے جاچکے ہیں۔ خالدہ ضیا اور امیر جماعت اسلامی سمیت تمام بڑی جماعتوں کے رہنما جیلوں میں ہیں۔ تاہم بائیکاٹ کے بجائے جاتیو اوکو فرنٹ نے راجشاہی کے مدرسہ میدان میں ایک عظیم الشان جلسہ عام کے ساتھ بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کردیا۔ تاسیسی اجلاس میں فرنٹ کے قائم مقام سربراہ کمال حسین نے آزادانہ و غیر جانب دارانہ انتخابات کے لیے مطالبات کی ایک 7 نکاتی فہرست پیش کردی جس میں:
٭وزیراعظم حسینہ واجد اور ان کی کابینہ کا استعفیٰ
٭انتخابات کے لیے نگراں عبوری حکومت کا قیام
٭پارلیمان کی تحلیل
٭غیرجانب دار الیکشن کمیشن کا قیام
٭ تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی
٭پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی تعیناتی
٭ ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینوں (EVMS)کے بجائے کاغذی پرچہ انتخابات اور روایتی مہر کے استعمال پر زور دیا گیا۔
اسی کے ساتھ حزب اختلاف نے تیاری کے لیے انتخابات میں کم از کم چھے ہفتے کی توسیع کا مطالبہ کیا۔ باقی مطالبات تو یکسر مسترد کردیے گئے لیکن ’’موذیوں‘‘ کا منہ بند کرنے کے لیے انتخابات کی تاریخ کو ایک ہفتہ آگے بڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر کمال حسین کو خالدہ ضیا کی ہدایت پر آگے لایا گیا ہے۔ حسینہ واجد ڈاکٹر صاحب کو انکل کہتی ہیں کہ کمال حسین، شیخ مجیب الرحمان کے قریبی دوست تھے اور انھیں شیخ صاحب نے بنگلہ دیش کا پہلا وزیر خارجہ بنایا تھا۔ حزبِ اختلاف کو توقع ہے کہ آنکھ کا لحاظ کرتے ہوئے حسینہ صاحبہ اپنے انکل کو گرفتار کرنے سے باز رہیں گی۔
حالیہ انتخابات کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عمران خان سے متاثر ہوکر بنگلہ دیش کے کرکٹ کھلاڑی بھی قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔ مشرف بن مرتضیٰ اور ثاقب الحسن نے عوامی لیگ کو پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے گھروں کے سامنے نوجوان مظاہرہ کررہے ہیں جس میں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ قاتل حسینہ کے ٹکٹ پر انتخاب نہ لڑیں۔ مظاہروں سے متاثر ہوکر ثاقب نے ٹکٹ کی درخواست واپس لے لی ہے لیکن مشرف اب تک عوامی لیگ کی جانب سے میدان میں اترنے کے خواہش مند ہیں۔
بنگلہ دیش کے غیر جانب دار سیاسی و صحافتی حلقوں کو ان انتخابات کے شفاف ہونے کی کوئی امید نہیں، اور لوگوں کا خیال تھا کہ اگر7 نکاتی مطالبات منظور نہ ہوئے تو جاتیو اوکو فرنٹ انتخابات کا بائیکاٹ کردے گا، لیکن تاسیسی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے BNPکے معتمد عام مرزا قمرالزماں نے پُرعزم لہجے میں کہا کہ انتخابی مہم آمریت کے سناٹے میں نعرۂ آزادی بلند کرنے اور جبر کے ساکت تالاب میں تنقید کی کنکریوں سے ارتعاش پیدا کرنے کا ایک موقع ہے۔ ڈاکٹر کمال حسین نے کہا کہ فرنٹ غیر ملکی تسلط سے آزادی کے لیے بنگہ دیشی عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے۔ بنگالی قوم پرستوں میں ہندوستان کے خلاف دل میں چھپی نفرت کو زبان پر لانے کا حوصلہ نہیں، اس لیے یہ زعما اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ’غیر ملکی تسلط‘ کا گھونگھٹ کاڑھ لیتے ہیں۔ دیوار سے لگی جماعت اسلامی کے لیے یہ قومی دھارے میں شامل ہونے کا نادر موقع ہے۔ عقوبت و جبر کے ماحول میں جاتیو اوکو فرنٹ کی انتخابی مہم صرف اسلامی چھاترو شبر کے جیالے ہی چلا سکتے ہیں، اور اس بات کا حکومت مخالف سیکولر، کمیونسٹ اور قوم پرستوں کو اچھی طرح اندازہ ہے۔ گزشتہ کئی سال سے جماعت اور شبر کے کارکن جس پامردی سے بدترین تشدد کا سامنا کررہے ہیں اس سے ہر باضمیر آدمی متاثر ہے، اور بدترین مخالف بھی جماعت اسلامی کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کررہے ہیں۔ جیلوں میں ہندوستانی را (RAW) کے تربیت یافتہ اہلکار تعینات ہیں جنھوں نے تشدد کے نت نئے طریقے وضع کیے ہیں۔ ناخن کھینچنے، بجلی کے جھٹکے، تیزاب کا چھڑکائو، جسم پر شہد مَل کر چیونٹیاں چھوڑنا جیسے روایتی طریقوں کے ساتھ اب پیروں کے ٹخنوں سے گھٹنوں تک کا گوشت اتارنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے جسے طبی اصطلاح میں TENDONکہا جاتا ہے۔TENDON ہی پٹھوں کو وہ قوت فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہڈیاں جسم کا وزن سہارتی ہیں۔ اس بہیمانہ تشدد کا شکار سینکڑوں جوانانِ رعنا چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی ایک دن کے لیے بھی عملی طور پر معطل نہیں ہوئی، اور ان حالات میں اس کے جماعتی انتخابات بھی باقاعدگی سے ہورہے ہیں۔ جاتیو اوکو فرنٹ نے 20 نشستیں جماعت اسلامی کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ چونکہ الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن منسوخ کردی ہے اس لیے وہ اپنے نام پر انتخاب نہیں لڑ سکتی۔ پہلے کہا جارہا تھا کہ جماعت کے امیدوار BNPکے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے، لیکن نیا پلٹن میں فرنٹ کے مرکزی دفتر کے افتتاح کے موقع پر ریلی کے دوران جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے اعلان کیا کہ ان کے امیدوار جاتیو اوکو فرنٹ کے بینر تلے دھان کی بالی کے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ اب تک جماعت اسلامی نے صرف ایک امیدوار کے نام کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمان ڈھاکا کے حلقہ 15 (میرپور) سے امیدوار ہوں گے۔ ڈاکٹر صاحب ایک معروف معالج، سماجی کارکن اور ہر شخص کے دکھ درد میں شریک ہونے والے شخص ہیں۔ انھیں مقامی مندر میں بھی تربیتی لیکچر کے لیے بلایا جاتا ہے۔ رائے عامہ کے 11 جائزوں کے مطابق حلقہ 15 میں مقبولت کے اعتبار سے متحدہ حزبِ اختلاف کو عوامی لیگ پر برتری حاصل ہے۔ حسبِ توقع ڈاکٹر شفیق الرحمان کی نامزدگی کی خبر آتے ہی ڈھاکا شہر کے نائب امیر منظورالاسلام، علاقہ موتی جھیل کے امیر کمال حسین، ضلع مہرپور کے امیر مولانا تاج الدین خان سمیت حلقہ انتخاب سے 11رہنمائوں کو گرفتار کرلیا گیا اور شبر کے سرگرم کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ تمام کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیاہے تاکہ ان لوگوں کی ضمانت نہ ہوسکے۔ جماعت اسلامی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت ضلع پبنہ سے قومی اسمبلی کی کم از کم 3 نشستوں پر اپنے امیدوار نامزد کرے گی۔ دریائے پدما کے کنارے واقع یہ شہر کپڑے کی صنعت کے لیے مشہور ہے۔ پبنہ جماعت کا گڑھ رہا ہے اور مطیع الرحمان نظامی شہید اس شہر سے کئی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہاں کے تعلیمی اداروں میں اسلامی چھاترو شبر خاصی مضبوط ہے۔ پابندی سے پہلے جامعہ پبنہ برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، پبنہ میڈیکل کالج اور پبنہ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں شبر طلبہ یونین کے انتخابات جیت چکی ہے۔
حزبِ اختلاف کا اتحاد اور جرأت مندانہ انتخابی مہم اپنی جگہ، لیکن غیر جانب دار سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں فرنٹ کی کامیابی نہ صرف مشکوک ہے بلکہ اس بات کا بھی پورا امکان ہے کہ فرنٹ کو زبردستی میدان سے باہر کردیا جائے۔ الیکشن کمشنر محترمہ کبیتہ خانم خود ہی کہہ چکی ہیں کہ 100 فیصد شفاف انتخابات ممکن نہیں۔ خانم صاحبہ ریٹائرڈ جج اور چیف الیکشن کمشنر نورالہدیٰ کے نیچے تین کمشنروں میں سے ایک ہیں۔ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن کے صدر دفتر میں کھلنا، راجشاہی اور رنگ پور ڈویژنوں کے ریٹرننگ افسروں کے ایک تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کبیتہ صاحبہ نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی بالکل شفاف انتخابات نہیں ہوتے، حتیٰ کہ امریکہ تک سے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات آتی ہیں۔ الیکشن کمشنر صاحبہ کا یہ بیان حزبِ اختلاف کے لیے انتہائی حوصلہ شکن ہے۔ خاص طور سے اس پس منظر میں کہ جب سارا ملک پولیس اسٹیٹ بنا ہوا ہے اور گزشتہ 7 دنوں میں جاتیو اوکو فرنٹ کے 30 ہزار کارکن گرفتار کیے جاچکے ہیں، بلکہ اب تو حکمران عوامی لیگ کے باغی بھی زیرعتاب آگئے ہیں اور ایسے تمام لوگوں کو پسِ دیوارِ زنداں دھکیلا جارہا ہے جن کے بارے میں شیخ حسینہ واجد کو ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ پارٹی ٹکٹ سے محرومی پر آزاد حیثیت سے سامنے نہ آجائیں۔ آزادانہ و غیر جانب دارانہ انتخابات کے لیے حزبِ اختلاف کے تمام مطالبات بھی مسترد کردیے گئے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نورالہدیٰ ایسٹ پاکستان رائفلز میں ایک جونیئر افسر تھے، جو 1971ء کے فوجی آپریشن کے بعد پتواکھلی سے فرار ہوکر ہندوستان چلے گئے جہاں انھوں نے مکتی باہنی میں شامل ہوکر فوجی تربیت حاصل کی، لیکن واپس آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ موصوف 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان پر بھارتی فوج کے قبضے کے بعد پتواکھلی واپس آئے اور البدر کے نہتے کارکنوں پر بہادری کے جوہر دکھانے شروع کیے۔ گھر گھر چھاپہ اور البدر کے نام پر پابندِ صوم و صلوٰۃ بنگالی بچوں کو قتل کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ موصوف البدر کے شکاری کے نام سے مشہور تھے۔ قتل و غارت گری سے فارغ ہوکر نورالہدیٰ سول سروس میں آگئے اور پہلے کومیلا، پھر فریدپور کے ڈپٹی کمشنر تعینات ہوئے، لیکن خون آشامی کے ساتھ بے ایمانی بھی ان کی طبیعت میں شامل تھی، چنانچہ بدعنوانی کے الزام میں برطرف کردیے گئے۔ بیگم حسینہ واجد کو الیکشن کمیشن کے لیے ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے، چنانچہ فروری 2017ء میں نورالہدیٰ صاحب چیف الیکشن کمشنر بنادیے گئے۔ محترمہ کبیتہ خانم کی طرح نورالہدیٰ بھی فرما چکے ہیں کہ تیسری دنیا میں بالکل شفاف الیکشن ممکن ہی نہیں۔
عوامی لیگ کی جانب سے انتخابی قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی جاری ہے۔ انتخابی قانون Representation of the People Order یا RPOکے تحت پارٹی ٹکٹ کے لیے ہر حلقے میں نچلی سطح پر پارٹی انتخابات ضروری ہیں، لیکن حسینہ واجد اپنی رہائش گاہ سے براہِ راست ٹکٹ تقسیم کررہی ہیں۔ عوامی لیگی کارکنوں نے الیکشن کمیشن سے پارٹی ٹکٹوں کی فروخت کی شکایت کی ہے۔ ٹکٹوں کی خریدو فروخت کے خلاف لیگی کارکنوں نے دھان منڈی میں حسینہ واجد کی رہائش گاہ کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا، جہاں پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند صادق خان اور جہانگیر کبیر نائک کے حامی لڑ پڑے۔ جھگڑے کے دوران ہتھوڑوں، چھروں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال ہوا جس میں مستری کا ’چھوٹا‘ 17 سالہ محمد سبحان اور ایک 14 سالہ مزدور بچہ عارف حسین جاں بحق ہوگئے۔ تصادم میں دو درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اس خونریزی پر پارٹی رہنمائوں نے الیکشن کمیشن سے احتجاج بھی کیا، لیکن چیف الیکشن کمشنر نورالہدیٰ خود بھی براہِ راست دھان منڈی سے ہدایت حاصل کررہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے حزبِ اختلاف کے جلسوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پولیس ڈھاکا میں نیا پلٹن کے مقام پر واقع بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)کے مرکزی دفتر کے سامنے پارٹی ٹکٹ کے خواہش مندوں پر ٹوٹ پڑی۔ اس تصادم میں 40 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ ہنگامہ اُس وقت شروع ہوا جب پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دینے والوں کے ہجوم کی وجہ سے مرکزی سڑک بند ہوگئی، جس پر پولیس نے لوگوں سے کنارے ہونے کو کہا۔ پولیس کے مطابق بحث مباحثے کے دوران بی این پی کے کارکنوں نے پتھرائو شروع کردیا جس کے جواب میں پولیس نے اشک آور گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا، جس سے اشتعال مزید بڑھا اور کارکنوں نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ بی این پی کا کہنا ہے کہ دھان منڈی میں عوامی لیگ کے دفتر کے سامنے بھی ایسا ہی ہجوم ہے اور وہاں آس پاس کی ساری سڑکیں بند ہیں جس پر پولیس کو کوئی اعتراض نہیں۔
نیا پلٹن تصادم کے بارے میں بی این پی کا کہنا ہے کہ ہجوم کے باوجود سڑکیں کھلی تھیں اور کارکن ٹریفک کے بہائو کو کنٹرول کررہے تھے، اسی دوران عوامی لیگ کی اتحادی جاتیو پارٹی کی طلبہ تنظیم جاتیو باڑی چھاترو دل (JDL)کے رہنما سہاگ بھوئیاں اور شاہ جلال خوندکر نے پولیس کاروں کی توڑ پھوڑ شروع کردی، جن کی تصویریں خود پولیس کیمرے میں ریکارڈ ہوئی ہیں، لیکن پولیس نے شبر کو ذمے دار قرار دیتے ہوئے اس کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرکے دہشت گردی کا پرچہ کاٹ دیا۔
جب حکومت کی نیت میں فتور واضح، چیف الیکشن کمشنر کا کردار مشکوک اور ان کی ٹیم کا عزم متزلزل ہو تو شفاف و غیر جانب دارانہ انتخابات کا تصور بہت مشکل ہے۔ لیکن فرنٹ کی تشکیل کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض میں ہندوستان کے خلاف نفرت کی جو لہر اٹھی ہے اسے دبانا اب کسی کے بس کی بات نہیں، کہ اس حوالے سے فوج اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں میں پھیلی بے چینی بھی بڑی واضح ہے۔ فرنٹ کا کہنا ہے کہ اگر بے ایمانی کے ذریعے عوامی امنگوں پر ڈاکا ڈالا گیا تو انتخابی مہم کو حکومت کے خلاف تحریک میں تبدیل کردیا جائے گا۔

Share this: