تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب کی رحلت

لاریب یہ دنیا فانی ہے۔ بلاشبہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ صرف خالق و مالکِ کائنات کی ہستی کو دوام ہے، جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے سوا سب کچھ فنا ہوجانے والا ہے۔ نیک ہوں یا بد، سب کو اسی انجام سے دوچار ہونا ہے۔ تاہم کچھ انسان دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی اس ڈھب سے گزارتے ہیں کہ ان کے اثرات تادیر باقی رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک شخصیت تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب کی بھی تھی، جنہوں نے اتوار 18 نومبر 2018ء کی صبح داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ وفات کے وقت ان کی عمر 95 برس تھی، وہ طویل عرصے سے علیل تھے، وفات سے چند روز قبل انہیں سانس اور سینے کی تکلیف کے باعث لاہور کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں ڈینگی بخار بھی تشخیص کیا تھا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے اور سانس میں رکاوٹ کے بعد انہیں مصنوعی تنفس کی خاطر وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ اتوار کی صبح ان کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور ملک کے طول و عرض سے ان سے محبت کرنے والے رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز پہنچ گئے، جہاں اجتماع گاہ کے وسیع و عریض میدان میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جنازے میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کا اجتماع اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اسے دو حصوں میں تقسیم کرنا پڑا۔
مولانا طارق جمیل نے جنازے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حاجی عبدالوہاب مرحوم کے حالاتِ زندگی اور اوصاف بیان کیے اور مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ نمازِ جنازہ سے قبل حاجی عبدالوہاب کے خدمت گار اور منہ بولے بیٹے مولانا محمد فہیم نے ان کی وصیت پڑھ کر سنائی جو انہوں نے 17 ستمبر 2015ء کو تحریر کروائی اور اپنے دستخط ثبت کیے تھے۔ وصیت میں انہوں نے اپنے وابستگان کو تلقین کی کہ جو کارکن مجھ سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو پسِ پشت ڈال کر آخرت کی تیاری کے پیشِ نظر دعوت و تبلیغ کے کام کی خاطر اپنے گھروں سے نکلیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کو عام کریں، استغفراللہ اور درود پاک کثرت سے پڑھا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوسکے۔
حاجی عبدالوہاب نے اپنی زندگی ہی میں تبلیغی جماعت کی قیادت کے لیے اپنے جانشین کے طور پر تین نام تجویز کیے تھے جن میں مولانا نذرالرحمن، مولانا احمد بٹلہ اور مولانا عبیداللہ کے نام شامل تھے۔ ان میں سے جماعت کی مجلس شوریٰ نے مولانا نذرالرحمن کو نیا امیر مقرر کیا ہے، انہوں نے ہی حاجی عبدالوہاب صاحب کی نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ نمازِ جنازہ میں ملک کی ممتاز سیاسی اور سماجی شخصیات، تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام و دینی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد حاجی صاحب کے جسدِ خاکی کو رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز سے ملحقہ قبرستان میں جماعت کے سابق امیر مولانا محمد بشیر مرحوم کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
حاجی عبدالوہاب کا اصل نام راؤ عبدالوہاب تھا، اور آبائی تعلق بھارت کے دارالحکومت دہلی سے تھا، جہاں وہ 1923ء میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کرکے پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا کے گاؤں ٹوپیاں والا میں آباد ہوئے، اور لاہور کے اسلامیہ کالج سے تعلیم مکمل کی، جس کے بعد انہوں نے بطور تحصیل دار سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ تبلیغی جماعت سے ان کی وابستگی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے دور ہی میں ہوگئی تھی، جب کہ مولانا محمد یوسف کاندھلوی اور مولانا انعام الحسن کاندھلوی سے بھی ان کے قریبی تعلقات تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت ترک کرکے اپنی زندگی تبلیغ کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے ایک شادی کی مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی، چنانچہ مولانا محمد فہیم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا، جو زندگی کے آخری دم تک ان کی بھرپور خدمت کرتے رہے۔ دنیاوی معاملات سے انہوں نے تقریباً قطع تعلقی اختیار کرلی تھی اور ان کی اوّلین ترجیح اور تمام تر توجہ تبلیغ اور دعوت و اشاعتِ دین پر مرکوز تھی۔ ان کے فنا فی التبلیغ ہونے کے باعث ان کا شمار تبلیغی مرکز رائے ونڈ کے اہم ترین بزرگوں میں ہوتا تھا۔ وہ جماعت کے تیسرے امیر تھے۔ پہلے امیر محمد شفیع قریشی کی وفات کے بعد حاجی محمد بشیر جماعت کے امیر بنے، جب کہ ان کی وفات کے بعد حاجی عبدالوہاب کو جماعت کا امیر مقرر کیا گیا۔
حاجی عبدالوہاب کا شمار مسلم دنیا کی مؤثر ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ اکتوبر 2014ء میں عمان کے تحقیقی ادارے رائل اسلامک اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز سینٹر نے دنیا کی 500 بااثر ترین مسلمان شخصیات کی فہرست شائع کی تھی جس میں پاکستان کی عالمی سطح پر سب سے بااثر قرار پانے والی شخصیات میں ان کا 10 واں نمبر تھا۔ اس کے علاوہ اردن کے رائل اسلامک اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز سینٹر نے دنیا بھر کی 500 بااثر ترین مسلم شخصیات سے متعلق اپنی 2018ء کی رپورٹ جاری کی تھی جو 272 صفحات پر مشتمل تھی، جس میں اسلامی دنیا کی سب سے بااثر شخصیت الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ احمد کو قرار دیا گیا تھا، جب کہ اس فہرست میں پاکستان میں تبلیغی جماعت کے سربراہ حاجی محمد عبدالوہاب بھی شامل تھے۔ بطور عالمِ دین ان کی شخصیت اور گراں قدر دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
حاجی عبدالوہاب تبلیغِ اسلام کی تحریک کا روشن ستارہ تھے۔ دین کے فروغ اور دنیا بھر میں شعائرِ اسلام پر عمل درآمد کے لیے ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ وہ نہ صرف پاکستان اور عالمِ اسلام میں، بلکہ پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی وفات سے دعوتِ دین کا روشن باب بند ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول اور لغزشوں کو معاف فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

Share this: