رواداری کیا ہے؟

پیشکش:ابوسعدی

’’عموماً لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ دس مختلف خیالات رکھنے والے آدمیوں کے مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دینا ’’رواداری‘‘ ہے۔ حالانکہ یہ دراصل رواداری نہیں، عین منافقت ہے۔ رواداری کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے عقائد یا اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں اُن کو ہم برداشت کریں، ان کے جذبات کا لحاظ کرکے ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کو رنج پہنچانے والی ہو، اور انہیں ان کے اعتقاد سے پھیرنے یا ان کے عمل سے روکنے کے لیے زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس قسم کا تحمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد و عمل کی آزادی دینا نہ صرف ایک مستحسن فعل ہے بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اگر ہم خود ایک عقیدہ رکھنے کے باوجود محض دوسرے لوگوں کو خوش رکھنے کے لیے اُن کے مختلف عقائد کی تصدیق کریں، اور خود ایک دستور عمل کے پیرو ہوتے ہوئے دوسرے مختلف دستوروں کا اتباع کرنے والوں سے کہیں کہ آپ سب حضرات برحق ہیں، تو اس منافقانہ اظہارِ رائے کو کسی طرح رواداری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ مصلحتاً سکوت اختیار کرنے اور عمداً جھوٹ بولنے میں آخر کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔
(مولانا مودودی ؒ ماہنامہ بیدار، اکتوبر 2014ء)

حضرت ابو ہریرۃؓ

حضرت ابوہریرہؓ نے حضرت طفیل بن عمرو الدوسیؓ کی وساطت سے اسلام قبول کیا۔ ہجرتِ مدینہ کے چھے سال بعد تک یہ اپنی قوم دوس ہی میں مقیم رہے، پھر اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ کا نام عبدشمس تھا، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا، البتہ یہ اپنی کنیت ابوہریرہ سے زیادہ معروف ہیں۔ اس کنیت کا باعث ان کا ایک چھوٹی سی بلی کے ساتھ کھیلنا ہے۔ آپؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور علم کی تڑپ رکھتے تھے۔ علمِِ دین کی اس محبت کا یہ نتیجہ ہے کہ آپ کو 1609 احادیث زبانی یاد تھیں۔ محدثین نے کثرت سے آپؓ کی روایات کو بیان کیا ہے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

دنیائے دَنی کو نقشِ فانی سمجھو
رودادِ جہاں کو اک کہانی سمجھو
پر جب کرو آغاز کوئی کام بڑا
ہر سانس کو عمرِ جاودانی سمجھو

(حالیؔ)
قرآن میں مسلمانوں کو جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اشاعت ِحق کے پیچھے شمشیر کی حمایت ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ بغیر طاقت کے امر و نہی کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ اگر امر و نہی کے فرائض مسلمان ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں تلوار کا ہونا ضروری ہے۔
(اقبالؔ)

اعتدال و میانہ روی

-1 سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچ میں میانہ روی آدھی معیشت ہے، لوگوں کی محبت آدھی عقل ہے اور اچھی طرح سوال کرنا آدھا علم ہے۔ (بیہقی)
-2مترفؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب طریقوں میں بہترین میانہ روی ہے۔ (بیہقی)
-3 سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں: چھپے اور ظاہر خدا سے ڈرنا، خوشی اور ناخوشی میں حق بات کہنا، فقیری اور مالداری میں میانہ روی اختیار کرنا۔ (بیہقی)
-4 سیدنا عبداللہؓ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں چار چیزیں ہوں تو کوئی چیز دنیا میں نہیں جو تمہیں نقصان پہنچا سکے: ایفائے عہد، سچ گوئی، حُسنِ خلق اور خوراک میں اعتدال۔ (بیہقی)
(ماہنامہ بیدار، ستمبر 2018ء)

نسب پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

-1محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عَبَد مَناَف
-2بن قصّی بن کَلاَب بن مُرّہ بن کعب بن لوی بن غالب
-3بن فَہر بن مالک بن النضر بن کِنانَہ بن خُزیمہ
-4بن مُدرکہ بن اِلیاس بن مضّر بن نزار بن معد بن عدنان
-5بن اودین مقُوم بن ناحُور بن تیرح بن یعرب بن یشحب
-6بن نابَت بن اسمٰعیل بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام
-7بن ابراہیم بن تارَح بن ناحُور بن سارُوح
-8بن راعُو بن فالِخ بن عیبَر بن شَالخ
-9بن اَرفخغشند بن سام بن نوح بن لامک بن متوشلخ
-10بن اخنوع بن برو بن مَہلِیل بن قنیل
-11بن یانش بن شیث بن آدم علیہ السلام
(ماخوظ از ا بن ہشام صفحہ 23)

ریاست مدینہ

’’جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن کی عملی تعبیر تھی اسی طرح مدینہ منورہ کی ریاست قرآنی تعلیمات کا نمونہ تھی، اور اس سے ثابت ہوگیا کہ اگر قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق کوئی ریاست قائم کی جائے، اُس کا آئین قرآن ہو، اُس کا ضابطۂ قانون دیوانی اور فوجداری قرآن کے ضابطۂ قانون کے مطابق ہو، اس میں معاشی نظام وہ ہو جس کا مطالبہ قرآن کرتا ہے، اس کا معاشرتی نظام اُن اصولوں پر مبنی ہو جو اس غرض کے لیے قرآن نے پیش کیے ہیں، اور اس کا سیاسی نظام بھی قرآن ہی کے احکام و فرامین کے مطابق ہو تو اس ریاست میں خیر و برکت کے چشمے اُبلنے لگتے ہیں۔ امن و اطمینان کی نسیم بہاری سے دلوں کے غنچے کھل جاتے ہیں۔ دولت کی ریل پیل ہوجاتی ہے۔ غربت و افلاس کا نام و نشان نہیں رہتا اور اُس ریاست کے باشندے جس طرف اپنے گھوڑوں کی باگیں اُٹھا کر چلتے ہیں فتح و نصرت اُن کی رکاب تھام کر ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ داخلی اعتبار سے کامیابی و کامرانی اُن کے قدم چومتی ہے اور خارجی اعتبار سے وہ دنیا کی اقوام پر غالب آجاتے ہیں‘‘۔
(مولانا ملک نصر اللہ خاں عزیز)

Share this: