اسلامی اسکالر اور دانشور حامد کمال الدین سے فرائیڈے اسپیشل کا مکالمہ

عرفان احمد بھٹی/عبدالرئوف
تدوین عبدالحمید رازی
پہلا حصہ

حامد کمال الدین عربی اور علومِ اسلامی کے اسکالر ہیں۔ تعلیم و تدریس اور دعوتی و فلاحی اداروں سے وابستہ رہے۔ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہوئے۔ دورانِ طالب علمی ڈاکٹر عبداللہ عزام کے شاگرد رہے۔ عصرِ حاضر میں احیائے دین کی تحریکیں اور شخصیات آپ کی دل چسپی کا خصوصی موضوع ہے۔ بعض عربی جرائد میں عربی زبان میں تحریر و تصنیف کا آغاز کیا۔ 1999ء میں سہ ماہی علمی جریدہ ’’ایقاظ‘‘ جاری کیا جس کے ایڈیٹر ہیں۔ اس سے قبل کویت میں ایک فلاحی ادارے کے تعلیمی شعبے کے سربراہ رہے۔ 8 برس تک امریکہ میں ایک اسلامی سینٹر کے سربراہ بھی رہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں، جدید تعلیمی اداروں کے طالب علموں میں دعوتِ دین کا کام کیا۔ اس کے علاوہ نومسلموں کی تعلیم و تربیت اور دینی و نفسیاتی رہنمائی (Counseling) بھی کرتے رہے ہیں۔ 30 سے زائد کتب کے مصنف ہیں جن میں ابن تیمیہ اور محمد قطب کی کتابوں کے ترجمے بھی شامل ہیں۔ اسلامی تبدیلی کے معاشرتی پہلو، مسلمانوں میں وحدیت، گمراہی کی جدید شکلوں سے آگاہی پر زیادہ ارتکاز رہا ہے۔ حامد کمال الدین سے مسلمانوں اور اسلامی بیداری کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کے بارے میں مکالمہ کیا گیا۔ اس کے اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔

سوال:گزشتہ ایک صدی میں اسلامی تحریکوں کی جدوجہد کے نتیجے میں جو بیداری پیدا ہوئی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس وقت تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟
جواب: برصغیر کا دینی طبقہ ٹریک پر چڑھنے کے حوالے سے بڑی دشواری محسوس کررہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریز کی آمد کے بعد دینی طبقہ تنہا ہوا تھا، یہ تنہائی ایک فطری اور بدیہی بات تھی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی فاتح کسی جگہ آئے اور آپ اگلے ہی دن اُس کی سوچ کا یا اُس کی حکومت کا حصہ بن جائیں، آپ کو خاص وقت تک سردمہری دکھانا ہوتی ہے۔ اس سارے معاملے میں زندگی کی جو دوڑ تھی دین دار طبقہ اُس سے بہت پیچھے رہ گیا اور اُس وقت سے ہم Patch up نہیں کر پا رہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ برصغیر ہندو پاک کے لوگوں میں دینی غیرت و حمیت اور خلوص و وفاداری کا جذبہ کمال درجے کا ہے، اور شاید ہی ایسا جذبہ عالم اسلام میں کہیں اور موجود ہو۔ دینی طبقہ سوسائٹی کے ساتھ رابطے میں ایک بہت بڑی دقت سے دوچار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دو بڑے بحرانوں کا سامنا ہے جو حسب ذیل ہیں:
(1) مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر سے وابستگی (یہ مسلمانوں کو آپس میں بانٹتے ہیں)
(2) مُلّا ازم (یہ مسلمانوں کی پس ماندگی، نکبت و ادبار کا ذمہ ہے)فرقہ بندی اور پس ماندگی کی یہ بڑی وجہ ہے ۔
اسلامی تحریکوں نے مسلمانوں میں قرآن کی عظمت و اہمیت کا ادراک پیدا کرکے اسے مسلمانوں کے لیے ایک من پسند مرغوب کتاب بنادیا ہے، نتیجتاً اُن کا دین داری کی طرف رجحان بڑھا ہے۔ لیکن اس مسلکیت اور مُلّا ازم کے معاملے کو ہم پوری طرح حل نہیں کرپائے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ ہمارا دشمن جو فکری پتّے پھینکتا ہے اُن کے فہم و ادراک میں، ان کو سمجھنے میں ہمارا دینی طبقہ کم از کم پندرہ برس لگا دیتا ہے، اُس کے بعد ہم اُس کا جواب فراہم کر پاتے ہیں، جسے ہم فکری بیانیہ یا اسلامی بیانیہ کہتے ہیں۔ مثلاً کمیونزم آیا تو اُس نے اکثر ذہنوں کو متاثر کیا، بالخصوص شاعر، ادیب کو… انہوں نے اپنی شاعری اور ادب کے ذریعے کمیونزم کو فروغ دیا، تب جاکر ہمارے دینی لوگوں اور مولوی کو پتا چلا کہ کمیونزم ایک فکری لائحہ عمل ہے۔ اُس کے بارے میں سوچنا اور غور کرنا شروع کیا گیا، رفتہ رفتہ جب اُس کا رد کیا گیا تو بہت سارا معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تھا، تاہم مسلمانوں کی نگاہِ واپسی کمال کی تھی، اور بالآخر دینی فکر نے ہی کمیونزم کو اپنے انجام کو پہنچایا۔ اِس وقت لبرل ازم کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل اسی نہج پر جاچکا ہے۔ جس طرح کمیونزم نے اچانک ایک جھٹکا مارا تھا، تو اسی طرح یہ لبرل ازم بھی اپنا جھٹکا دینے میں کامیاب ہوگیا۔
کمیونزم کی تردید کے لیے جو علم الکلام برتا گیا وہ اب کارگر نہیں رہا۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ہمارے لیے ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ جس وقت کمیونزم منصۂ شہود پر آیا اُس وقت اقبال جیسا عبقری ذہن موجود تھا، سید سلیمان ندوی اور سید مودودی جیسی نابغہ ِ روزگار شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے فکری طور پر لوگوں کو تیار کیا۔ اس کے برعکس آج یا تو ایسی شخصیات موجود نہیں، اور ہیں تو میدانِ عمل میں اس طرح سے نہیں کہ جو اُنگلی پکڑ کر لوگوں کو اس بحرانی کیفیت سے نکال سکیں۔ گویا ابھی ہمارے ہاں اس حوالے سے تیار شدہ علمی خوراک موجود نہیں، جو عام آدمی کو دی جا سکے۔ کیوںکہ عام آدمی خود تحقیق نہیں کرتا، اُسے تیار شدہ علمی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جیسے وہ کھائے اور ہضم کرسکے، جیسا کہ مولانا مودودی نے بہت بڑے معرکہ آرا علمی کام کیے، مگر اپنے کارکنوں کی صورت میں عام آدمی کے لیے ایک قابلِ عمل صورتِ حال بنادی۔ تو میرے خیال میں لبرل ازم کی صورتِ حال یہاں پر اس لیے ہمیں کچھ آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔
سوال:کمیونزم کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے علاوہ دیگر علماء نے کیا کیا ہے؟
جواب: میرا خیال ہے کہ کمیونزم کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اِس خطے جب آیا تو یہاں کی اکثریت سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ وابستہ تھی اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد چڑھتے سورج کی پجاری ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ علمائے کرام میں سے صرف مولانا عبیداللہ سندھی ہی ایسی شخصیت ہیں جن کی فکر میں کمیونزم کی طرف جھکائو پایا جاتا ہے۔
سوال: لیکن عبیداللہ سندھی کے علاوہ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور اس کے ساتھ ساتھ شاہ ولی اللہ کو بھی اسی فکر کے ساتھ جوڑنے کی صورت پیدا کی جاتی ہے؟
جواب: درست فرمایا، لیکن آپ دیکھیں گے کہ اُن کا وزن اور اپیل کچھ بھی نہیں تھی،کمیونزم تو ایک طرح سے الحاد اور بے دینی کے ساتھ بریکٹ ہوگیا تھا، جیسے لبرل ازم الحاد کا ایک مظہر ہے اسی طرح کمیونزم بھی اُسی کا ایک عکس تھا، اُس نے ادب اور شاعری کے ذریعے عوام کی صفوں میں نشوونما پائی، لیکن داڑھی والے دین دارآدمی کے لیے اس میں کوئی کشش نہ تھی۔ قیام پاکستان سے پہلے اس کی طرف لوگوں کا جھکائو ان کی انگریز کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے تھا۔ عالم اسلام میں اگر کسی نے فکری طور پر کمیونزم کی مزاحمت کی ہے تو وہ ’’اخوان المسلمون‘‘ اور ’’جماعت اسلامی‘‘ ہیں۔ ورنہ کمیونزم نے غریب آدمی کو متاثر کرنا شروع کردیا تھا۔ مذہبی بیانیہ میں اُس وقت سرمایہ داری کے ساتھ غیر اعلانیہ مفاہمت موجود تھی۔
سوال: خلیج جنگ کے بعد نائن الیون کے واقعات اور اُس کے بعد کی ساری صورتِ حال میں نہ صرف ایک عام آدمی، بلکہ دینی لوگوں میں بھی یہ خواہش اب دم توڑتی جا رہی ہے کہ اسلامی نظام ہونا چاہیے، یعنی بجائے اس کے کہ Aggressive ہوں، ہم Defensive ہوگئے ہیں، آپ اس صورت حال کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ آپ کو جو محسوس ہورہا ہے اس کی ظاہری صورت تو بالکل ایسی ہی ہے، گویا ایک مایوسی کی فضا ہے جو ہمارے اور آپ کے لیے پریشان کن ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اپنے لوگوں کو فکری طور پر متحرک اور توانا کیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان یا ہمارا خطہ باقی ساری دنیا سےIsolate ہوچکا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر یہاں بھی وہی کچھ ہونا چاہیے جو عالم اسلام میں ہورہا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مجموعی طور پر عالم اسلام کا رُخ کدھرکو ہے؟ یعنی ترکی میں اسلام کدھر کو گیا ہے، مصر میں کدھر گیا ہے۔ مراکش میں ابھی انتخابات ہوئے ہیں اور اسلام پسند طبقے نے میدان مارا ہے۔ تیونس میں کیا ہوا ہے؟ اسی طرح دیگر ممالک میں صورتِ حال نے کیا رُخ اختیار کیا ہے؟ مغرب نے تہذیبی طور پر ایک کھلی پسپائی ظاہر کی ہے، اور یہ پسپائی صرف اور صرف اسلام کے مقابلے میں ہے، یعنی کیپٹل ازم نے کمیونزم کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا، اور مغربی بلاک یعنی سرمایہ دارانہ بلاک نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اچانک ہزیمت اور پسپائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ تہذیبی طور پر اسلام نے اُن کو بہت زیادہ پیچھے دھکیلا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اسلام کو کلیتاً پسپائی ہوئی ہو، ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان بھی اس صورتِ حال میں تنہانہیں ہوا، بلکہ ہوا یہ ہے کہ سیاسی منظرنامے سے دین پس منظر میں چلا گیا ہے،اس طرح سیاسی منظرنامے میں پیچھے ہٹنے کی بھی کئی وجوہات ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی تحریکیں دراصل جہاد کی طرف گئی ہیں۔
اب اگر پچھلے 20۔30 سال کا جائزہ لیں تو اُن میں افغان جہاد بہت اہم واقعہ ہے۔ افغان جہاد نے اس خطے سے ہی غذا پاکر ایک سپر پاور کو شکست دی، ایسا نہیں ہوا کہ صرف امریکی میزائل اور ٹیکنالوجی جیت گئے ہوں… جذبہ، شجاعت اور دست و بازو تو انھی مجاہدین کے تھے جنہوں نے پہلے روس کو شکست دی اور نتیجتاً وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، بعد ازاں مجاہدین امریکی جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہوگئے، یوں اس خطے کا مسلمان جہاد میں مصروف ہوگیا۔
چونکہ لبرل ازم کے خلاف ہمارے پاس بیانیہ اور جوابی استدلال موجود نہیں ہے، اس کی وجہ سے مدارس کی رونق ماند پڑگئی، نیزیونی ورسٹیوں اور کالجوں میں ہی لبرل ازم نے اپنے پرُزے نکالنا شروع کر دئیے، یوں اس کے نتائج کاعکس اور پرتو ان اداروں میں کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے اندر ہمیں (اسلام پسندوں کو) پسپائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ایک نئے فکری خطرے کے خلاف اپنے ہتھیار (تیر اور تلوار) تیار نہیں کیے۔ یونی ورسٹیوں میں جب آزاد خیال اور بزعمِ خود روشن خیال پروفیسر اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں تو طالب علم بے چینی سے تلملا رہے ہوتے ہیں، اس لیے کہ ان کے پاس برہان و استدلال کی قوت ہی موجود نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اساتذہ کے پیش کردہ افکار کا جواب دے سکیں، البتہ کوئی ایک آدھ استاد انہیں ایسا بھی میسر آجاتا ہے جو دینی فکر کا نمائندہ ہوتا ہے، اس کی ایمان افروز باتوں سے اسلام کی تعلیمات کے متعلق طلبہ کے وثوق و اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا مودودیؒ نے ایسے لوگ تیار کیے جو پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اسلام کو نظام حیات کی حیثیت سے پیش کرسکتے تھے۔ ان لوگوں کا کارنامہ اسلامی تعلیمات کے متعلق یہ اعتماد اور وثوق ہے کہ۔ وہ سچے دینی جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ تہذیبی معرکے میں آپ کا کارآمد ہتھیار آپ کا وثوق ہوتا ہے۔ آپ یقین کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس یقین کا اثاثہ ختم ہوگیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ خالی ہاتھ رہ گئے، آپ کی عمر بھر کی جمع پونجی لُٹ گئی، گویا کہ آپ کا سارا کچھ ختم ہوگیا۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ہمارے سامنے یہ حقیقت نمایاں ہوکر آتی ہے کہ اسلامی حوالے سے مدارس کی رونق میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ یونی ورسٹیوں کی رونق میں کمی واقع ہوئی ہے، حالانکہ یہ بھی ایک بدیہی اور واقعاتی حقیقت ہے کہ ہمارا مولوی اپنے وقت کا ساتھ نہیں دیتا، گویا آج کا مولوی وقت کا نبض شناس نہیں ہے۔
سوال: تیونس اور باقی ممالک میں اسلامی تحریکوں نے اپنے نظریات سے انحراف کرکے ایک مکس سا کلچر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان تحریکوں کی مساعی کے نتیجے میں ہمیں کہیں کہیں اسلام پسندی کے غلبے کے جو آثار نظر آرہے ہیں اسے ہم اسلامی تحریکوں کی کامیابی کہیں گے یا ناکامی؟
جواب:تیونس میں راشدالغنوشی صاحب جو اقدامات کررہے ہیں، اس کو بہت سے مذہبی حلقے بھی اپنا رہے ہیں۔ وہ وہی کچھ کررہے ہیں جس کا عکس ہمیں یہاں عمران خان کے طرزِِ سیاست میں نظر آرہا ہے۔ لیکن وہ بات جو وہاں قابلِ قبول ہے وہ ہمارے یہاں مردود اور ناقابلِ قبول کیوں ہے؟
جواب: دیکھیں، اسلام ایک چیز ہے اور اہلِ اسلام دوسری چیز ۔ یہ جماعتیں جنہوں نے اس طریقے سے اسلام کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، میرے نزدیک پیش رفت نہیں ہے، مگر ایسا ہوتا رہا ہے، اب بھی ہورہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا، اس لیے جب Rightist گروپس اس قدر زیادہ ہوں گے تو ظاہر سی بات ہے کہ مقابلہ بھی ان کے اپنے ہی درمیان ہوگا۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ کچھ اسلامی شعار عروج پر ہوتے ہیں، اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ جس قدر پسپائی گزشتہ دس سال کے عرصے میں ہوئی ہے، پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی اتنی پسپائی کبھی ہوئی ہو۔ اسلامی سلوگنز اور دینی شعائر کو پیش کرنا گویا انہیں گوارا نہیں ہے۔ آخر مَیں کس بات پر خوشی کا اظہار کروں، اس بات پر کہ ان کے Rightist گروپس کے آنے سے اسلام شدید طور پر Isolation کا شکار ہوا ہے! دوسری پارٹیوں کی مثالیں مختلف نوعیت کی ہیں خواہ وہ راشدالغنوشی کی جماعت ہو، یا ترکی میں ایردوان کی جماعت۔ یہ لوگ ایک نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ اور آپ واضح طور پر محسوس کرسکتے ہیں کہ ان کے ہاں عوامی دائرے میں بھی اور سماجی دائرے میں بھی اسلام روزافزوں ترقی کررہا ہے۔ آپ اُن کے منہج سے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن انہوں نے سیاسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کی پوزیشن کو بلند اور نمایاں کردیا ہے، جیسے عربی میں کہتے ہیں کہ کشتیوں کی سطح بلند کرنی ہے تو بند باندھ کر پانی کی سطح بلند کردو، یوں کشتیاں بلند سطح اختیار کرلیں گی۔ جب کہ ہمارے ہاں پانی کی سطح معاشرتی حوالے سے پستی کی طرف جارہی ہے۔ ہماری مثال ان سے بالکل مختلف نوعیت کی ہے۔ طیب ایردوان اسلام کے نام پر کچھ نہیں کچھ لے رہے ہیں، آخر امریکہ کو کیا تکلیف پہنچی ہے!کوئی بھی انسان اس امر سے بے خبر نہیں کہ پورے مغرب کو ایردوان قبول نہیں ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاسی منظرنامے میں ڈیموکریسی بھی ہے، سیکولرازم بھی ہے، ہم نے مغرب کے دو بت سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں، پھر وہ ہم سے کیوں خوش نہ ہوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے رول اس گیم کے ساتھ وابستہ ہیں، اور اس گیم میں وہ بازی جیت رہے ہیں۔ اُن کی اپنی ذہنیت ہے، اسلامی ونگ کی اپنی ذہنیت ہے۔ بات یہ ہے کہ ہمارادایاں بازو اچھا ہے، اگر اسلامی قوتوں کے اندر صلاحیت ہو، وہ اپنے اندر جذبہ اور شوق رکھتی ہوں تو پھر وہ کوئی بھی معرکہ سر کرسکتی ہیں۔ دوسری طرف یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کا رائٹ ونگ جو سیاسی گروپ ہے وہ مفاد پرست ہے، جب کہ بایاں بازو الحاد کا علم بردار ہے۔
سوال: کمیونزم کی شکست کو ہم اپنی کامیابی گردانتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں سرمایہ داری کا غلبہ ہوا ہے، ہماری پوری معاشرت میں مغرب کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ کیا اس کو کامیابی سمجھنا چاہیے؟
جواب: اسلام اور سرمایہ داری دونوں اس جنگ میں اسٹیک ہولڈر تھے، دونوں ہی جیتے ہیں، دونوں ہی کو اپنے اپنے حصے کے فائدے ملے ہیں۔ کمیونزم کی شکست سے یہ ہوا ہے کہ سرمایہ دار کے پاس ریاستی طاقت ہے، وہ ریاستیںرکھتا ہے۔ اسلام کے پاس خودمختار ریاستیں نہیں ہیں، ان کا اختیار اغیار کے ہاتھوں میں گروی رکھا ہوا ہے، اور جس کے پاس کوئی خودمختار ریاست نہیں ہے اس کو آپ باعزت طریقے سے جیتا ہوا نہیں دیکھیں گے۔کمیونزم کے انہدام سے سرمایہ دارانہ نظام اچھا خاصا پریشان ہے، اور جس نے اُس کو اس قدر پریشان کیا ہے وہ یقینا اسلام ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ ایک بڑا نقصان یہ ہواکہ کمیونزم کے خلاف لڑنے والے ہمارے سارے منصوبہ ساز اڑا دیئے گئے، ورنہ ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہوتے۔ اگر آپ جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں تو جنگ جیتنے کی صورت میں بھی کچھ ہوتا ہے۔ جو لڑ رہا تھا وہی چلا گیا تو اب باقی کیا بچا! ضیا الحق تھا، پوری لیڈر شپ تھی، سب نے مل کر کمیونزم کے خلاف جنگ لڑی۔ یہ جنگ حقیقت میں پاکستان نے ہی لڑی، یہ وہ لوگ تھے جوقرآن پڑھنے والے تھے، نماز پڑھنے والے تھے۔ دوسری طرف جہادی عبداللہ عزام کا گروپ تھا جس کے لوگوں کو فارغ کردیا گیا۔ عبداللہ عزام کوئی ایک شخص نہیں تھا، جہاد کی بہت سی جہتیں ابھی تک واضح نہیں ہوئی تھیں۔ تو سارے نوجوان طبقے کو جو تیار کرنے والا، اُن پر گرفت رکھنے والا عنصر عبداللہ تھا، اُس کا بڑا بلند پایہ اور قد کاٹھ تھا، وہ ایک سنجیدہ و متین عالم اور شریعت کا ماہر تھا۔
اُسامہ بن لادن اور دیگر جہادی، علما نہیں تھے۔ عبداللہ عزام شریعت کے علوم پڑھا ہوا تھا، اس کے ساتھ ساتھ تجربہ کار مجاہد بھی تھا، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ وہ عالمی جہاد کا رمز شناس اور ماہر تھا تو بے جا نہ ہوگا۔ مقامی طور پر آپ گلبدین حکمت یار یا دیگر لوگوں کا نام لے سکتے ہیں، لیکن عالمی منظرنامے پر اس تحریک کو سامنے لانے والا عبداللہ عزام تھا، تو اس جہاد کا فادر (Father) ہی نوجوان مجاہدین کو عقل و تمیز کی بات سمجھا سکتا ہے، لیکن شومیٔ قسمت کہ عبداللہ عزام جب نہ رہا تو مقامی طور پر جو اسلامی تحریکیں چل رہی تھیں ان میں بائیں بازو کی سوچ کو اثرو نفوذ کا موقع مل گیا، جس کی وجہ سے ہمارا دشمن اتنا کامیاب ہوا کہ اس نے ہمیں جہاد ہی کے ہتھیار سے ہماری صفوں میں ابتری اور انتشار پھیلا دیا، یہ TTPاور داعش اسی کی کڑیاں ہیں۔ ہمارے مخالفین کی یہ ایک پالیسی ہے کہ مسلمانوں کو جہاد ہی کے ہتھیار سے مار ڈالو اور شریعت کی آڑ میں مسلمانوں کی ناک میں دم کردو۔ کون نہیں جانتا کہ عراق کا استحکام اسلام کی کتنی بڑی ضرورت ہے، اسی طرح سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی سلامتی کس قدر اہم ہو سکتی ہے۔
عالمی شیطان نے پاکستان میں جہاد کے نام پر ہی وار کیا ہے۔ جہاد کی ٹیبل پر گزشتہ 10 برسوں میں ہمیں خاصی پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے۔ اس کے بعد میرے خیال میں لبرل ازم کو غیر معمولی پذیرائی اور کامیابی ملی ہے۔ پاکستان کی سطح پر چونکہ کمیونی کیشن کا خلا تو عوام میں پہلے سے موجود تھا۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں، ہمارے علماکی کمیونٹی کبھی بھی Proactive نہیں رہی، وہ خطرے کو پیشگی طور پر بھانپ لینے کی صلاحیت سے محروم تھی، اسی بنا پر ہمیں یہ سارے بڑے بڑے دھچکے لگے ہیں۔ ہمارے ہاں عام آدمی کو کوئی لائحہ عمل میسر نہیں تھا، اس صورتِ حال کے پیش نظر ہمیں ضرورت سے کہیں بڑھ کر نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔
سوال: لبرل ازم کے بیانیے کے جواب میں عام آدمی اور خاص آدمی کے لیے اسلامی تحریکوں کے پاس کیا بیانیہ ہے؟
جواب: عام آدمی لمبی چوڑی فلسفیانہ بات تو سمجھتا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی جو دلیلیں دی ہیں وہ اتنی عام اور سادہ رکھی ہیں کہ ایک عام آدمی اُس کو دیکھ کر قبول کرسکتا ہے۔ ہم اُن سے کہتے ہیں کہ آپ جس چیز کو لبرل ازم کہتے ہیں، یہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ یعنی طرزِ زندگی پہلے ہے اور طرزِ سیاست بعد میں۔ اس کے مقابلے میں کمیونزم ہے جو طرزِسیاست پہلے ہے اور طرزِ زندگی بعد میں۔ ورنہ یہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں الگ الگ قطعاً نہیں ہیں۔ مغربی معاشرے میں جہاں پر اس طرزِ معاشرت کا تجربہ ہوا ہے وہاں پر انسان ناپیدا ہوا ہے۔ وہاں پچھلے کئی عشروں سے انسان درآمد ہورہا ہے۔ یعنی ہمارے ہاں تو انسان ہیں، ہمیں چیزیں درکار ہیں۔ اُن کے پاس چیزیں ہیں، اُنہیں انسانوں کی ضرورت ہے۔
ضروری تو نہیں کہ پتھر برسیں، زلزلہ آئے اور سبھی آپ کو مُردہ حالت میں ملیں۔ یہ بھی تو اہلِ نظر کے لیے ایک لطیف قسم کا عذاب ہے کہ اُن کی آبادی بتدریج گھٹ رہی ہے، اسکینڈے نیویا سے لے کر امریکہ اور کینیڈا تک یہی صورت حال ہے۔ کینیڈا ہر سال لاکھوں لوگوں کو امیگریشن دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر اُس کا ملک چلے گا ہی نہیں۔ اگرچہ اسے ضرورت اس سے بھی زیادہ لوگوں کی ہے لیکن وہ اتنے ہی لوگ اپنے ہاں بلاتا ہے، اور وہاں اُنہیں ایڈجسٹ کرتا ہے۔ بہرحال عقل مند ہیں کہ وہ اتنے ہی لوگ بلواتے ہیں جو اُن کے ثقافی سانچے میں ڈھل جائیں۔ بعد میں نئی کھیپ منگوا لیتے ہیں۔ ایک دم اتنے انسان نہیں بلوائے جا سکتے جو اُن کے معاشرتی ماحول سے سازگاری کے ضمن میں دشواریاں پیدا کریں۔ آخرکار یہ کس طرف اشارہ ہے کہ آدھی آبادی جیلوں میں ہے، آدھی آبادی Homesexual ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ جو اللہ نے نظام بنایا ہے جس میں نسلِ انسانی کے تسلسل اور بقا کا راز مضمر ہے وہ فرسودہ اور لایعنی نظام ہے۔ گویا وہ مرد اور عورت کے جائز جنسی تعلق کو قدامت پسندی قرار دیتے ہیں۔
آخر یہ کیا بکواس ہے کہ عورت اور مرد کا ازدواجی طور پر اکٹھے رہنا بھی ایک طرح سے دین داری ہوگیا تو اس کام میں بھی بغاوت ضروری ہے! خاندان کا جو ادارہ ہے، اُس پر آپ نے ہاتھ ڈالا تو اللہ نے دنیا میں اُس کی سزا دے دی۔ یہ تو افریقی عورت ہے جو اُن کو بچے جَن کے دیتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی آبادی میں ذرا رمق پیدا ہوئی ہے۔ یہ اِسی عورت کے ایثار کا نتیجہ ہے کہ یہ انہیں زندگی دیتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے لمبی لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر خود ہمارے گھر میں دانے ہوتے تو ہم اُن کے پاس کیوں جاتے؟ یعنی اگر تیسری دنیا Stable ہوتی تو کہاں ہوتے یہ لبرل معاشرے؟
ہم کوئی نظریاتی باتیں نہیں کریں گے، صرف یہ دکھائیں گے کہ اُن کی معاشرت کا حال کیا ہے۔ وہ جو خاندانی محبتیں ہوتی ہیں اُن کے لیے خواب ہیں، کیوں کہ خاندان ہوگا تو محبت ہوگی۔ دس میں سے دو عورتیں ہوں گی جو کہ اپنی پہلی شادی کے بعد آخرعمر تک اپنے خاوند کے ساتھ رہ لیتی ہیں۔ ہر مرد عورت نے کئی کئی شادیاں کی ہیں۔ ایسے ماحول میں خاندانی محبتیں خاک ہونی ہیں! کئی ایسی مغربی عورتوں کے تاثرات سننے کو ملے جو امریکہ میں مسلمان ہوجاتی تھیں تو مسلم ممالک سے گئے ہوئے لوگوں کے ساتھ اُن کی شادی ہوجاتی تھی۔ ظاہر ہے کچھ عرصے کے بعد پاکستان یا دیگر مسلم ممالک میں ان کی اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ واپسی ہوتی تھی، تو اُن سے پوچھا جاتا کہ کیسے حالات رہے؟ تو وہ بتاتی تھیں کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ مشترکہ خاندان میں کزن اور خاندان کے دیگر افراد اس طرح بھی محبت کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے لیے تو یہ نارمل بات ہے، لیکن اس کی قدر اُن سے پوچھو جن کی خاندانی روایت دم توڑ چکی ہے۔ جس نے بھی فطرت کے ساتھ مذاق کیا، اُسے یہ سارے سانحے دیکھنے پڑے۔ ویمن امپروومنٹ کا پرچار ہے، عورت کو گھر سے نکالنا اور زینتِ محفل بنانا عام وتیرہ ہے۔ عورت گھرسے نکلے گی تو ہی گھر اجڑے گا۔ اس کے بعد وہی (مغرب والی) کہانی ہمارے یہاں بھی ہوجائے گی جو ایک بدترین طرزِ زندگی ہے اور اس نے اپنے بدترین اثرات دکھا دیے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا ایک قول بڑا مشہور ہے کہ ’’تم اُن کو اُن کے پھلوں سے پہچانو گے‘‘۔ بہت کمال کی بات ہے۔ عام آدمی بے چارا یہ نہیں پہچان سکتا کہ بیج کس چیز کا ہے۔ بھئی پھل آچکے ہیں ذرا اُن کو تو دیکھ لو۔ یہ جو لبرل ازم کی پڑیا ہمیں دی جا رہی ہیں یہ کہیں آزمائی نہیں گئی۔ اس نے ممالک اور خاندانوں کے خاندان تباہ کرکے رکھ دیئے ہیں۔ اگر اُن کی اقتصادی ترقی اور اس سے بڑھ کر ہماری بدحالی نہ ہو تو یہ فرق آپ کو بڑا واضح نظر آجائے۔
وہاں پر بہت سے کام ریاست(State) کرتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں جو بوڑھے اور معذور ہیں، ان کوکون سنبھالے؟ جس کے پاس پیسہ ہے وہ تو خرچہ کرلے گا، جس کے پاس نہیں ہے اُس کو ریاست سنبھالتی ہے۔ اسی طرح جو معذور اور بے روزگار ہیں اُن کو کون سنبھالے؟ ہمارے ہاں تو کبھی بھی ریاست بوڑھے کو نہیں سنبھالتی، لیکن کتنے بوڑھے ہوں گے جو کہ بے چارے سڑکوں پر پھر رہے ہوں گے۔ ان کو یہاں پرکون سنبھالتا ہے؟ ہمارے ہاں تقریباً ہر گھر میں بوڑھے ہوتے ہیں، بسا اوقات معمر والدین کا خاصا مہنگا علاج ہوتا ہے، لیکن لوگ کروا لیتے ہیں، اور اہلِ خانہ بڑے فخر سے ماں باپ پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اگرچہ خود چٹنی کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں لیکن اپنے والدین اور دیگر بزرگوں کو اپنے سرکا تاج سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب ہم مسلمانوں کا خاندانی نظام ہے، کنبے ہیں، قبیلے ہیں۔ قرآن کریم پڑھیں، صلۂ رحمی کا ذکر ملے گا، قطع رحمی کی ممانعت ملے گی۔ صلۂ رحمی پر بشارتیں ملیں گی، قطع رحمی پر سخت وعیدیں ملیں گی۔ اسلام نے قابلِ احترام اور پاکیزہ رشتوں کا باقاعدہ ایک نظام دیا ہے۔ ہماری اسٹیٹ نے کبھی کسی کو نہیں سنبھالا۔ ہمارے ہاں اگر حالات قدرے درست ہوجائیں تو آپ حشر دیکھیے گا امریکہ، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک کا۔
فطری نظام خالصتاً شریعت کا ہی دیا ہوا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری سوسائٹی میں اکثرو بیشتر اسلامی شریعت عملاً کارفرما نہیں ہوتی، یعنی اس کا نفاذ نہیں ہوتا، لیکن ہمارے ہاں فیملی کا نظام جو موجود ہے، اس وجہ سے اس قدر خلا محسوس نہیں ہوتا جتنا کہ مغربی معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ خاندانی نظام بھی اپنے اپنے زمانوں میں انبیاء نے ہی دیا ہوگا، جس کی جھلک اور تابناکی آج بھی اسلامی معاشروں میں پائی جاتی ہے۔
ایک حدیث ہے:
’’اے عائشہؓ ! جب تیری حیا چلی جائے تو پھر جو چاہے مرضی کر‘‘۔
یہ جو رشتے ہیں اور ان رشتوں کی بنیاد پر وجود میں آنے والی قربانیاں ہیں، یہ ساری کی ساری چیزیں خالصتاً دین کی سوغات ہیں۔ روپے پیسے اور مال و دولت کی پوجا تو بدترین گل کھلاتی ہے۔ یہ بات کسی کے لیے جاننا اور ماننا کیا مشکل ہے کہ روپے پیسے کی عبادت کیسے بدترین انجام سے دوچار کرتی ہے۔ آخرت میں جواب دہی کا تصور نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی شریعت کا پاس نہ ہو تو پھر قربانی کہاں سے آئے گی؟
یہ لبرل ازم ایک مفلس ترین نظریہ ہے۔ کمیونزم میں پھر بھی کچھ جان تھی، اس میں کسی نہ کسی ذریعے سے قربانی آتی تھی۔ جبکہ لبرل ازم خالصتاً مادے کی عبادت ہے اور خواہش کی غلامی ہے۔ اس چیز کو کوئی لوگوں کو سمجھاتا اور ذہن نشین نہیں کراتا۔
ادب ہمیشہ محرکات کے ذریعے ہی تخلیق ہوتا ہے، مطلب یہ کہ آپ کو کبھی کوئی چوٹ لگتی ہے تو ادب تخلیق ہوتا ہے، کسی کو کوئی خوشی ملتی ہے تو بھی ادب تخلیق ہوتا ہے۔ بلاوجہ ادب کی تخلیق اور صورت گری نہیں ہوتی۔ کمیونزم کے زمانے میں مولانا مودودیؒ، علامہ اقبال، نعیم صدیقی کا اپنا ایک مقام تھا۔ اسی طرح سید سلیمان ندوی، مولانا ظفر علی خان کو دیکھ لیں۔
(جاری ہے)

Share this: