حافظ شیرازی

پیشکش:ابوسعدی

حافظ شیرازی: بقول شبلی نعمانی، تاریخِ شاعری کا کوئی واقعہ اس سے زیادہ افسوس ناک نہیں ہوسکتا کہ خواجہ حافظ صاحب کے حالاتِ زندگی اس قدر کم معلوم ہیں کہ تشنگانِ ذوق کے لب بھی تر نہیں ہوسکتے۔ اس پائے کا شاعر یورپ میں پیدا ہوا ہوتا تو اس کثرت اور تفصیل سے اس کی سوانح عمریاں لکھی جاتیں کہ اس کی تصویر کا ایک ایک خدوخال آنکھوں کے سامنے آجاتا۔ شمس الدین محمد حافظ معروف بہ خواجہ حافظ شیرازی، جن کا لقب ’لسان الغیب‘ ہے، تقریباً 724ھ میں شیراز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بہاء الدین، اتابکان سلغری کے عہدِ حکومت میں اصفہان سے ہجرت کرکے شیراز چلے آئے اور یہاں پر تجارت سے بہت سی دولت جمع کی۔ ان کا شمار دولت مندوں میں ہونے لگا۔ ان کی والدہ کا تعلق اہلِ کازرون سے تھا۔ انھوں نے شیراز ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ قرآن مجید بھی حفظ کیا۔ علمی مرتبے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ’’کشاف‘‘ اور ’’مصباح‘‘ پر حاشیہ لکھا ہے۔ ہم شبلی کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرسکتے کہ ’’معمولی سواد خوانی کی بھی لیاقت حاصل کی‘‘۔ شیراز میں ایک نانبائی کی دکان پر ایک مختصر سی مجلسِ سخن ہوتی تھی۔ حافظ اس میں شریک ہوتے، اور یہیں سے انھیں شعر گوئی کی تحریک ہوئی، جو ابتداً ناپختہ، مگر بعد میں مقبولِِ عام و خاص ہوگئی۔ 742ھ میں جب شیخ جمال الدین ابواسحق اینجو شیراز پر قابض ہوا تو اس نے حافظ کی پذیرائی کی۔ اب حافظ کے ہم عصر علما اور مشائخ بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ جمال الدین اینجو اور اس کے خاندان کو آلِ مظفر کے بانی مبارز الدین نے ختم کردیا۔ اس کے بعد شاہ شجاع اور زین العابدین، شاہ شجاع کے خاندان کے ایک اور رکن شاہ منصور، یہ سب حافظ کے مداح تھے۔ حافظ تمام عمر شیراز ہی میں رہے، صرف ایک مرتبہ پردیس گئے۔ وہ فارسی زبان کے مایہ ناز اور ممتاز شاعر ہیں۔ مقبولیت میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ حلقۂ رندان میں رند، بزم صوفیہ میں زاہد و عابد اور مجلسِ علما میں معارف شناس سمجھے جاتے ہیں۔ کلام کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج تک لوگ اس سے فال نکالنے کا کام لیتے ہیں۔ ان کے کلام کا دنیا کی اہم ترین زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اس کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں۔ ان کے کلام کی تاثیر، اعجاز اور فنی مقام پر مستقل مقالات اور کتب لکھی گئی ہیں۔ جرمن کے وہ شعرا جن کا تعلق ’تحریک مشرقی‘ سے ہے، انھوں نے حافظ کی شاعری کے گہرے اثرات قبول کیے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس تحریک مشرقی کے شعرا کا تذکرہ پیامِ مشرق کے دیباچے میں کیا ہے۔ حافظ 791ھ میں شیراز میں واصل بحق ہوئے، جہاں ان کی آرام گاہ ’حافظیہ‘ کے نام سے معروف ہے۔ حافظ شیرازی نے شاعری اور تصوف دونوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ (پروفیسر عبدالجبار شاکر)

علم، تدبر، فکر

قرآن کا آج کے پریشان کن حالات میں بھی مسلمانوں کا مرجع عقیدت ہونا بجائے خود ایک بڑی نعمت ہے، مگر بہت بڑے پیمانے پر یہ عقیدت اپنی صحیح شکل میں کام نہیں کرتی، ہمارے بیشتر لوگوں کی قرآن سے عقیدت اس احساس پر مبنی ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے، اس میں جو کلام درج ہے اس کے اوراد و وظائف سے حیرت انگیز کرامات ظہور میں آتی ہیں۔ اسی احساسِ عقیدت کے ساتھ وہ اسے چومتے ہیں، ریشمی غلافوں میں رکھتے ہیں، اونچی جگہ دیتے ہیں۔ کچھ اہلِ توفیق اسے پڑھتے بھی ہیں، کچھ کو اس کا تھوڑا بہت حصہ یاد بھی ہوتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جو قرآن کو ایک فرمان نامۂ الٰہی اور نظام زندگی کے پیش نظر رکھتے اور اس کی ہدایت کو اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے پر غالب و کارفرما کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اندریں حالات ہماری مروجہ عقیدت بالقرآن بھی قرآن کے عرفان اور عمل بالقرآن کی راہ میں ایک طرح سے رکاوٹ بن رہی ہے۔ قرآن اندھی عقیدت پر راضی نہیں ہوتا۔ وہ ایمان کے بعد علم، تدبر و تفکر اور عمل مانگتا ہے۔
(قرآن اور ہمارے درمیان حائل پردے… نعیم صدیقی)

موتی

ایک مرغ بھوک سے بے تاب ہوکر دانے کی جستجو میں کوڑے کے انبار کو کرید رہا تھا۔ بہت دیر کے بعد ناگاہ ایک بیش قیمت موتی نکلا۔ موتی کو دیکھ کر مرغ نے بڑی حسرت کے ساتھ آہ کی اور کہا: ’’افسوس اتنی جاں کاہی کے بعد مجھ کو ملا بھی تو موتی، جس سے نہ میرے دل کو تشفی ہوسکتی ہے اور نہ میری بھوک کو تسکین۔ یہ موتی اگر کسی جوہری یا دولت مند کو ملتا تو وہ اس کی قدر کرتا اور اس کو عزیز رکھتا۔ لیکن میرے لیے ایسی زور کی بھوک میں جوار یا چنے کا ایک دانہ اس سے کہیں بہتر تھا۔‘‘
حاصل: نمائش اور آرائش کی اصلی چیزیں زندگی کی اصلی ضرورتوں میں کام نہیں آتیں۔
(نذیر احمد دہلوی، منتخب الحکایات)

حسد

حسد سے بچو! حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے۔ (الحدیث)
پہلی امتوں کا مرض تم میں بھی سرایت کررہا ہے، ایک حسد، دوسرے باہمی دشمنی۔ ان میں سے ہر چیز مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بالوں کو مونڈتی ہے بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔
(الحدیث)
سب سے بہتر آدمی وہ ہے جس کے دل میں کھوٹ اور حسد نہ ہو اور زبان کا سچا ہو۔ (الحدیث)
جب لوگ آپس میں حسد نہ کریں گے، ان میں ہمیشہ بھلائی اور خیر سایہ فگن رہے گی۔ (الحدیث)
کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ (الحدیث)
نماز، روزہ اچھی چیز ہے لیکن غرور اور حسد دل سے دُور کرنا انہیں اور اچھا بنادیتا ہے۔
(حضرت ابو الحسن خرقانیؒ)

جغرافیائی اکتشاف

۔-1 مشہور مسلم جغرافیہ دان اور نقشہ نویس الشریف الادریسی (1099ء تا 1166ء) نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شمالی افریقہ کے ملاحوں کے ایک گروپ نے لبسون (پرتگال) سے بحر ظلمات و کہر آلود (بحر اوقیانوس) میں سفر کیا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس سمندر میں کیا کیا ہے اور اس کی حدود کہاں جاکر ختم ہوتی ہیں۔ بالآخر وہ ایک جزیرے پر پہنچے جہاں لوگ بھی تھے اور زراعت بھی۔ چوتھے روز ایک ترجمان نے ان سے عربی زبان میں بات کی۔
-2 مسلمانوں کی حوالہ جاتی کتب میں شیخ زین الدین علی بن فضل کے بحر اوقیانوس میں سفر کے دستاویزی ثبوت پائے جاتے ہیں۔ شاہ ابو یعقوب سیدی یوسف (1286ء تا 1307ء) کے دورِ حکومت میں اس نے طرفایا (جنوبی مراکش) سے سفر کا آغاز کیا اور 1291ء میں بہر کیریبیئن کے گرین آئی لینڈ میں اُترا۔ اس کے سفر کی تفصیلات اسلامی حوالہ جاتی کتب میں پائی جاتی ہیں اور بڑی تعداد میں مسلم اسکالرز اس تاریخی واقعے سے آگاہ ہیں۔
(بحوالہ:ڈاکٹر یوسف مروح۔ ’’کولمبس سے 500سال پہلے‘‘)

Share this: