جام کمال حکومت کے 100دن

جام کمال نے وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد100دنوں میں کارکردگی دکھانے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ دعویٰ تحریک انصاف کے چیئرمین، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کیا تھا۔100دن گزرگئے، مگر ان کے پاس دکھانے اور پیش کرنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ 100دن کا اعلان نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اس قلیل مدت میں یقینی بات ہے کہ کوئی بھی حکومت مثالی کارکردگی میں سرخرو نہیں ہوسکتی۔ ان کے پاس پانچ سال کا طویل عرصہ ہے، چنانچہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ آئندہ آنے والے انتخابات سے قبل کامیابیوں کی فہرست عوام کے سامنے رکھتے۔ تحریک انصاف و عمران خان کی ہدایت پر چاروں گورنر ہائوسز کو عوام کے لیے کھولنے کی بات ہوئی۔ چنانچہ ایسا کوئٹہ کے قدیم گورنر ہائوس کی عمارت کے بارے میں بھی سنائی دیا۔ یہ عمارت انگریز نے کوئٹہ پر قبضے کے کچھ عرصے بعد یعنی 1888ء میں تعمیر کی تھی۔1935ء کے زلزلے میں عمارت کو نقصان پہنچا، جس کے بعد دوبارہ اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کی گئی۔ یہ وسیع رقبے پر مشتمل ہے۔ انگریز وائس رائے کا مجسمہ، قدیم تصاویر، مختلف تہذیبوں کے نادر و نایاب مجسمے اور اشیاء، اسی طرح کوئٹہ کے پہاڑوں کے نایاب درندے ’’مم‘‘ کا مجسمہ بھی رکھا گیا ہے۔ گویا خوبصورت عمارت ہے اور واقعی دیکھنے کی جگہ ہے۔ دوسرے صوبوں کی دیکھا دیکھی یا وزیراعظم کی ہدایت پر گورنر ہائوس بلوچستان میں بھی اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ سیر کے لیے بلائے جاتے ہیں۔ امان اللہ خان یاسین زئی گورنر بلوچستان ہیں۔ وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ بلوچستان کے معروف قانون دان ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے بلاشبہ انہیں گورنر مقرر کرکے بہترین قدم اٹھایا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ گورنر ہاؤس کو گورنر ہاؤس ہی رہنے دیا جائے۔ وفاقی حکومت کو تعلیمی ادارے، عجائب گھر وغیرہ تعمیر کرنے ہیں تو اس کے لیے کوئٹہ میں اور بھی مقامات ہیں، جہاں تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت ہے، اور پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کی بہتری پر توجہ دی جائے۔ رہی بات گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنے کی، تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے درمیان والی چند میٹر کی سڑک (زرغون روڈ) کو عوام کے لیے مستقلاً کھولا جاتا۔ یہ شاہراہ گزشتہ چند برسوں سے عوامی آمد و رفت کے لیے مکمل بند ہے۔ دو طرف سے آہنی گیٹ اور اس سے پہلے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ یعنی گورنر ہاؤس کو نمائشی طور پر عوام کے لیے کھول دیا جاتا ہے مگر اس کے سامنے والی شاہراہ جسے ریڈ زون کہتے ہیں، شہریوں کے لیے ممنوعہ علاقہ ہے، جو کہ سراسر تضاد ہے۔ کوئٹہ کی ایک اور شاہراہ حالی روڈ بھی جہاں ایف سی ہیڈکوارٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت ہے، چند برسوں سے شہریوں کے آنے اور جانے کے لیے بند ہے۔ وائٹ روڈ کی آدھی سڑک بھی سیکورٹی کے نام پر گویا ہتھیا لی گئی ہے۔ معلوم نہیں کیوں عمران خان ان عمارتوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ نہ یہ نوازشریف کی ملکیت ہیں اور نہ نوازشریف بادشاہ تھے کہ ان کی سلطنت کے پُرشکوہ محلات کو عبرت کے لیے کھولا جارہا ہے۔ نہ عمران خان کوئی انقلابی لیڈر ہیں جو انقلاب لاچکے ہیں۔ یہ حکومتِ پاکستان یا صوبائی حکومتوں کی جائدادیں ہیں جن میں آئین پاکستان کے تحت حلف اٹھانے والے گورنر اپنی مدتِ گورنری میں مقیم رہتے ہیں۔ عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ عمارتیں غلامی کے دور کی یاد دلاتی ہیں، یعنی انگریز کی باقیات میں سے ہیں۔ تو پھر ہونا یہ بھی چاہیے کہ ملک کے طول و عرض میں بنے ریلوے اسٹیشنوں کی عمارتیں واگزار کرائی جائیں، بنائے گئے بڑے بڑے ریلوے پل اور سرنگوں کا بھی خاتمہ کیا جائے، قدیم چھائونیوں خاص کر کوئٹہ چھائونی اور اسٹاف کالج بھی انگریز کی باقیات میں سے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ منطق بے معنی ہے۔ البتہ یہ بات ٹھیک ہے کہ احاطہ کی دیواریں ہٹا کر فینسنگ کی جائے، تاکہ گزرنے والوں کو اندر کی عمارت دکھائی دے۔ اس اقدام سے لاہور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔ کوئٹہ کے گورنر ہائوس کی دیواریں بھی ہٹائی جائیں تو شہر بھلا لگے گا۔ کوئٹہ شہر ویسے بھی قلعے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بدامنی کی وجہ سے تمام سرکاری عمارتیں دیواریں تعمیر کرکے چُھپا دی گئی ہیں۔
ہم بات کررہے تھے 100دنوں کی کارکردگی کی، تو اس میں جام کمال کی حکومت خوامخواہ کود پڑی۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ بلوچستان کی حکومت نے ایسا کوئی اعلان و دعویٰ سرے سے کیا ہی نہ تھا، لیکن پھر بھی سو دنوں کی کارکردگی پیش کرنا شروع کردی، جسے کارکردگی نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ سو دنوں کی بات سے ہٹ کر جام کمال کی حکومت نے مختلف محکموں میں تقریباً 29 ہزار اسامیاں تین ماہ کے اندر پُر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان بینک کے قیام کی صوبائی کابینہ نے منظوری دی ہے جس کے لیے پندرہ سو اسامیاں رکھی گئی ہیں۔ حکومت کہتی ہیں کہ بینک کے قیام سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کا منافع ہوگا۔ دریں اثناء بلوچستان کی حکومت نے گوادر اور دوسرے علاقوں میں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے لیے زمین کی ملکیت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یعنی زمین مالکانہ حقوق کے بجائے لیز یا کرائے پر دی جائے گی۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے جس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

Share this: