فرائیڈے اسپیشل…کچھ یادیں

پاکستان کے حق میں گواہی ہے، ذہنی غلامی سے آزادی کا ایک پیغام ہے
کوئی جمہوری اور غیر جمہوری حکمران اس سے خوش نہیں رہا

اس وقت پاکستان میں جو ہفت روزہ میگزین شائع ہورہے ہیں ان میں فرائیڈے اسپیشل ایک منفرد ہفت روزہ ہے، اور سب کے درمیان رہ کر بھی ان سب سے ممتاز ہے۔ محدود وسائل، کم افرادی قوت اور ہفت روزہ کی بنیادی ضرورت سے کہیں کم دستیاب وسائل کے باوجود اس ہفت روزہ کی تیاری اور خبریت سے بھرپور دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ بروقت اور مسلسل اشاعت نے جہاں اسے میگزین کی دنیا میں باوقار بنا رکھا ہے وہیں اس نے قیامت بھی بپا کر رکھی ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کی اشاعت کی اپنی ایک تاریخ ہے، اور اس سفر میں نوازشریف، جنرل (ر) پرویزمشرف، مسلم لیگ(ق)، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا دور دیکھنے کے بعد تحریک انصاف کا دور دیکھ رہا ہے اور مسلسل اپنے قاری کو حقائق سے بھی آگاہ کررہا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے اس چھبیس سالہ سفر میں جو کارکن بھی اس ادارے سے وابستہ رہے کہ وہ قابلِ تعریف لوگ ہیں، ان سب نے اس سفر میںاپنا پسینہ بہایا ہے۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ فرائیڈے اسپیشل ’’باغی‘‘ قسم کا ہفت روزہ ہے، لیکن یہ تحریکِ پاکستان کی معقولیت، نظریۂ پاکستان کی جامعیت کے ادراک کی گرہیں کھولتا ہے، اور ہر دم آئینِ پاکستان، اسلام کے نظریۂ حیات، صحافتی اخلاقیات، ریاست پاکستان کی بنیادی اساس کا پابند ہفت روزہ ہے، مگر اپنی رائے بھی رکھتا ہے۔ اس کا ہر صفحہ پاکستان دشمنوں کے لیے انگارہ، الخالد، ضرار ٹینک اور عنزہ میزائل ہے۔ یہ بلوچستان پہنچتا ہے تو انگاروں پر چل کر حق پر ہونے کی اپنی صفائی پیش کرتا ہے، سندھ میں تقسیم ہوتا ہے تو شاہ بھٹائی کے پیغام کی خوشبو بکھیرتا ہے، پنجاب میں پہنچتا ہے تو ستلج کی طرح صوبے کے ہر شہر اور ہر ضلع کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی رپورٹس اس کے دامن میں جمع ہوئی ملتی ہیں۔ کے پی کے میں اس کا انتظار بابا خوشحال خان خٹک کی شاعری کی طرح ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر کے باسی اسے حریت پسند ہفت روزہ کا نام دیتے ہیں، اور گلگت بلتستان کے لوگ اسے اپنا رفیق سمجھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور مغرب میں بسنے والے پاکستانیوں کے ہاتھوں میں پہنچتا ہے تو وہ اسے پاکستان کا سفیر خیال کرتے ہیں۔ مضبوط روایات کا امین یہ ہفت روزہ ایسا ہے کہ اس سے اختلاف کی گنجائش بہت کم ہے، ہاں البتہ بہتری اور اصلاح کی گنجائش ہمیشہ اور ہر کام میں رہتی ہے کہ جدوجہد میں ہی زندگی کا راز مضمر ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کی ہر اشاعت علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر ہوتی ہے

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

فرائیڈے اسپیشل کے شائع شدہ اداریے اور ’’خبر لیجے زبان بگڑی‘‘ جیسے سلسلے اگر ایک الگ کتاب کی صورت میں شائع کیے جائیں تو نسلوں کی رہنمائی کا سامان میسر رہے گا۔ میں خود بھی ہر ہفتے فرائیڈے اسپیشل کو ایک قاری کے طور پر پڑھتا ہوں۔ بہت سے سوالات بھی ذہن میں آتے ہیں، پھر یکسوئی ہوتی ہے کہ کم تر وسائل کے ساتھ اس سے بہتر ہفت روزہ مارکیٹ میں میسر نہیں ہے۔ فرائیڈے اسپیشل ایک میگزین ہی نہیں بلکہ شہادتِ حق کی ایک کہانی ہے اور پاکستان کے حق میں گواہی ہے، ذہنی غلامی سے آزادی کا ایک پیغام ہے۔ کوئی جمہوری اور غیر جمہوری حکمران اس سے خوش نہیں رہا۔ ان کی ناخوشی اور ناراضی کی طویل داستان ہے، لیکن اس کا یہ بھی اعزاز ہے کہ اس میں شائع ہونے والی تحریروں کی تردید تک نہیں ہوئی۔ عام قاری سے لے کر خواص تک سب اس کے قاری ہیں۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں چیف جسٹس کے چیمبر میں ہر جمعہ کو ان کی میز پر ہوتا تھا۔ نوازشریف کے دوسرے دور میں کوٹیکنا کیس کی سماعت کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کے وکیل راجا انور نے ایک حوالہ دیا تو جسٹس ریاض احمد شیخ نے کہا کہ لگتا ہے یہ حوالہ آپ نے فرائیڈے اسپیشل سے لیا ہے۔ نوازشریف کے دوسرے دور میں مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا، اُس وقت وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عمارت سپریم کورٹ سے متصل ہے۔ جس وقت حملہ ہوا اُس وقت کے وزیر اطلاعات مشاہد حسین سید اسی عمارت میں تھے اور انہوں نے یہ منظر وزیراعظم سیکرٹریٹ کی کھڑکیوں سے دیکھا تھا۔ فرائیڈے اسپیشل نے یہ سب کچھ لکھا اور مشاہد حسین سید نے سپریم کورٹ میں دیے گئے اپنے بیان میں اس کی تصدیق بھی کی۔ فرائیڈے اسپیشل میں نوازشریف کے دوسرے دور میں شریف خاندان کے کاروبار سے متعلق ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ ملک میں اس خاندان کی ملکیتی ملیں کہاں کہاں ہیں، زرعی اراضی کہاں ہے، رائے ونڈ گھر کیسے تعمیر ہوا، بیرون ملک سے بلٹ پروف گاڑیاں کیسے منگوائی گئیں… ان تمام تفصیلات کی بعد میں نیب نے بھی تصدیق کی۔ اسی رپورٹ میں دبئی کاروبار کا بھی ذکر ہے۔ فرائیڈے اسپیشل میں غالباً مئی 1999ء میں ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ نوازشریف حکومت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ختم ہوجائے گی تو مدثر بخاری (آج کل بزنس ہیڈ سچ ٹی وی) اور شاہد رضوی (اس وقت عوامی آواز، کلیم سکھر) نے باقاعدہ ’’مانیٹرنگ‘‘ شروع کردی اور ایک ایک دن گننے لگے۔ اکتوبر کا مہینہ شروع ہوا تو ان کی نبض مزید تیز چلنا شروع ہوگئی۔ ایک ایک دن بھاری ہوگیا۔ کہتے تھے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ جب نوازشریف حکومت 12 اکتوبر کو برطرف ہوئی تو باقاعدہ جھومتے ہوئے جسارت کے دفتر آئے اور مجھے گلے لگایا۔ نوازشریف حکومت کی متوقع برطرفی کی رپورٹ اُس وقت کے سیاسی حالات کے درست تجزیے کی بنیاد پر لکھی گئی تھی۔ نوازشریف کے دوسرے دور میں سپریم کورٹ حملہ کیس میں ان کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ چلا، کالم نگار اردیشر کائوس جی نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور اپنی درخواست میں فرائیڈے اسپیشل میں شائع ہونے والی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ رٹ دائر کرنے کے بعد کسی نے ان سے کہا کہ جن جن اخبارات کا حوالہ دیا ہے کسی وکیل نے (اب نام یاد نہیں) ان سے پوچھ بھی لیا ہے کہ وہ مؤقف پر کھڑے رہیں گے؟ کہنے لگے ’’باقی سالوں کا (یہ ان کا اندازِ بیان تھا) تو علم نہیں، لیکن فرائیڈے اسپیشل نہیں بھاگے گا‘‘۔ پھر فرائیڈے اسپیشل نے ہی یہ لکھا کہ نوازشریف کے عدالت میں معافی نامے کا متن سیکرٹری قانون نے لکھا ہے(اُس وقت جسٹس ثاقب نثار سیکرٹری قانون تھے) اور ممتاز وکیل ایس ایم ظفر نوازشریف کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ یہ بھی فرائیڈے اسپیشل کا ہی اعزاز ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے سب سے پہلا انٹرویو فرائیڈے اسپیشل کو دیا۔ چاغی سے واپسی کا پروگرام بناتے ہی انہوں نے اسلام آباد جسارت کے دفتر فون کیا اور کہا کہ اسلام آباد پہنچ رہا ہوں، آپ گھر آجائیں۔ جب وہ اسلام آباد پہنچے تو انٹرویو کے لیے عظیم چودھری، ہارون الرشید، حمیداللہ عابد اور راقم ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے گھر ایف الیون میں گئے اور ان کے ڈرائنگ روم میں انٹرویو کیا۔ میں نے ان کی اہلیہ محترمہ خالدہ ثمر مبارک مند کے ذریعے ڈاکٹر صاحب سے فرائیڈے اسپیشل کے لیے سب سے پہلے انٹرویو کے لیے وعدہ لے لیا تھا۔ نوازشریف کے دوسرے دور میں فرائیڈے اسپیشل میں بینکوں کے قرضوں کے نادہندہ افراد، صنعت کاروں اور کاروباری حضرات، اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کرانے والے سیاست دانوں کی ایک فہرست شائع ہوئی جسے معروف وکیل حبیب وہاب الخیری نے اپنی رٹ پٹیشن کا حصہ بنایا۔ اسی طرح نیشنل بینک میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر مبنی ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اُس وقت محمد میاں سومرو نیشنل بینک کے صدر تھے، ان کے لیے وہ دن بہت تلخ تھے، حتیٰ کہ ان پر بیرونِ ملک جانے پر بھی پابندی لگ جانے کا امکان تھا، تاہم نوازشریف حکومت برطرف ہوئی تو جنرل پرویزمشرف اقتدار میں آئے، اس طرح محمد میاں سومرو کے لیے زندگی آسان بن گئی۔ جنرل پرویزمشرف جب اقتدار میں آئے تو سب سے پہلے فرائیڈے اسپیشل نے یہ بات چھاپی کہ وہ ترجیحی طور پرکابینہ میں این جی اوز سے وابستہ افراد کو شامل کریں گے۔ بہرحال شروع میں تو وہ سخت مزاج نہیں تھے، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آغاز میں انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی، نائن الیون ہوا تو اہلِ صحافت نے جب پیامِ واشنگٹن کے جواب میں پیامِ پاکستان لکھنا شروع کیا تو پرویزمشرف تلخ ہونا شروع ہوگئے، کیونکہ ان کے تنہا فیصلوں پر یہی پیغام تھا

فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

تو وہ بہت پریشان ہوئے، لیکن تلخ اور شیریں حالات چلتے رہے۔ اُن دنوں ان کے ترجمان میجر جنرل(ر) راشد قریشی نے فرائیڈے اسپیشل کے لیے جنرل پرویزمشرف کے انٹرویو کا وقت تقریباً طے کرلیا تھا، لیکن حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ جنرل پرویزمشرف کے تنہا فیصلوں اور خاص طور پر جب ممتاز سائنس دان ڈاکٹر قدیر کو نظربند کیا گیا تو فرائیڈے اسپیشل نے اپنی قومی اور ملّی ذمے داریوں کے احساس کی بنیاد پر اس فیصلے کے خلاف لکھا تو جنرل پرویزمشرف سخت ناراض ہوگئے اور انہی دنوں جسارت اور فرائیڈے اسپیشل کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، لیکن فرائیڈے اسپیشل نے بیداری، خودشناسی، خودنگری کا پیغامِ پاکستان جاری رکھا۔ ملک میں عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ(ق) کی حکومت بنی تو سردار یار محمد رند، فاروق لغاری کی جماعت کے کوٹے سے وفاقی وزیر بنے۔ وہ فرائیڈے اسپیشل کے مستقل قاری تھے، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ فرائیڈے اسپیشل میں ان کا انٹرویو شائع کیا جائے۔ شوکت عزیز وزیر خزانہ تھے تو فرائیڈے اسپیشل میں اقتصادی موضوع پر شائع ہونے والے ہر آرٹیکل پر باقاعدہ پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر یا وزارت کے دفتر میں بلا کر اپنا نکتہ نظر دیا کرتے تھے اور مسکرا کر کہتے ’’یار ہماری بھی بات بھی سن لیا کریں‘‘۔ جب وہ وزیراعظم بنے تب بھی رابطے میں رہے۔ افتخار محمد چودھری جب چیف جسٹس بنے تو فرائیڈے اسپیشل میں ’’گرین ٹیلی فون‘‘ سے متعلق ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ دراصل جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہرے رنگ کا ٹیلی فون سیٹ بہت پسند تھا، یہ بہت تگ و دو کے بعد مارکیٹ سے حاصل کیا گیا۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد اُس وقت کے رجسٹرار امین فاروقی بہت سیخ پا ہوئے لیکن چونکہ رپورٹ حقائق پر مبنی تھی لہٰذا خاموش رہے۔ جنرل (ر) حمیدگل، پاک بحریہ کے سابق سربراہ جنرل افتخار سروہی، اور پرویزمشرف دور میں وزیر صحت نصیر خان باقاعدگی سے اسے پڑھتے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ جنرل صاحب ناراض ہیں۔ کہنے لگے ’’میں جانتا ہوں مگر ایک بار چھپا کر کابینہ کے اجلاس میں لے گیا تھا‘‘۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین، سابق وزیر قانون اقبال احمد خان اور نواب زادہ نصراللہ خان بھی فرائیڈے اسپیشل کے مستقل قاری تھے۔ نواب زادہ نصراللہ کہا کرتے تھے ’’فرائیڈے اسپیشل خانہ ساز ہفت روزہ نہیں ہے‘‘ (وہ خانہ ساز اُس خبر کو کہا کرتے تھے جو گھڑی جاتی ہے)۔ دفتر خارجہ کے ترجمان حنیف گل، خالد محمود، محمد صادق (قاضی حسین احمد کے کلاس فیلو بھی رہے)، الطاف احمد اور نیاز اے نائک فرائیڈے اسپیشل کے باقاعدہ قاری تھے۔ سابق سیکرٹری خارجہ آغا شاہی (مرحوم) نے تو فرائیڈے اسپیشل کے لیے انٹرویو بھی دیا تھا، کہتے تھے کہ میری گفتگو کو بیک گرائونڈ نالج کے لیے استعمال کرنا۔ پرویزمشرف حکومت کے وزیر خارجہ عبدالستار بھی کبھی کبھی ناراض ہوجاتے تھے۔ طارق فاطمی چند روز کے لیے دفتر خارجہ کے ترجمان بنے تو دفتر خارجہ کے طور ہی بدل گئے۔ انہوں نے بھی دفتر خارجہ کی فائل سے فرائیڈے اسپیشل بند کرادیا تھا۔ پاکستان بار کونسل کے رکن اور سینئر قانون دان نواز کھرل فرائیڈے اسپیشل کے قاری ہیں، فرائیڈے اسپیشل کے ایڈیٹر یحیی بن زکریا صدیقی اسلام آباد آئے تو ان سے ملاقات کرائی۔ اس ملاقات میں یحییٰ صاحب نے پوچھا کہ آپ فرائیڈے اسپیشل پڑھتے ہیں؟ مسکرا کر کہنے لگے کہ مجھے ملتا ہی نہیں، البتہ منیر سے ضرور ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ بس اس کے بعد سے آج تک انہیں فرائیڈے اسپیشل ان کے دفتر میں مل رہا ہے۔ آج کل وہ گلگت میں ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں فرائیڈے اسپیشل مستقل بھجوایا جاتا ہے(پنجاب سے لیفٹ کے ذہن کے بار کے ایک صدر گزرے ہیں، ان کا نام نہیں لکھ رہا) ان کی کوشش تھی کہ اسے بند کرادیا جائے، لیکن ان کی مدت مکمل ہوگئی، وہ فرائیڈے اسپیشل بند نہیں کرا سکے۔ تاہم جب آصف علی زرداری صدر بنے تو فرحت اللہ بابر (ان کے پریس سیکرٹری) نے جسارت اور فرائیڈے اسپیشل ایوانِ صدر کی خریداری فہرست سے نکال دیا۔ ابھی ماضیِ قریب کی بات ہے، اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی اور نجی ہائوسنگ سوسائٹی( بحریہ ٹائون)کے مشترکہ پروگرام میں بدنظمی ہوئی، اسٹیج گرجانے سے شائقین کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی، ایوان صدر کے فوٹو گرافر عدنان کی اہلیہ اس حادثے میں جاں بحق ہوئیں، لیکن مجال ہے کسی میڈیا گروپ نے اس بارے میں خبر شائع کی ہو۔ سب میڈیا ہائوسز اشتہارات کی چمک کا شکار ہوئے، لیکن فرائیڈے اسپیشل میں اس کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی۔ بہرحال گفتگو مزید بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس امید پر کہ قاری اور فرائیڈے اسپیشل کا رشتہ قائم رہے گا، یار زندہ صحبت باقی۔

Share this: