نرم دمِ گفتگو… گرم دمِ جستجو،مظفراحمدہاشمیؒ!۔

جماعت اسلامی حلقہ کراچی کے نائب امیر اور سابق رکن قومی اسمبلی جناب مظفراحمد ہاشمی 79سال کی عمر میں 19 جون 2018ء کو اچانک وفات پاگئے۔ اناللہ وانالیہ راجعون۔ مظفر ہاشمی صاحب جماعت کے ابتدائی دور کے ارکان میں سے ایک معروف رکن اور مولانا مودودی کے معتمد ساتھی جناب مولانا محمد رفیع مرحوم ومغفور کے صاحب زادے تھے۔ مولانا محمد رفیع متحدہ ہندستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے باشندے تھے۔ اس ریاست کا مشہور شہر اندور [ضلع بھوپال] ہے۔ مظفر ہاشمی صاحب 1939ء میں اندور شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ پھر لکھنؤ کے ندوۃ العلوم میں بھی زیر تعلیم رہے۔ جماعت اسلامی کے رکن جناب مولانا وصی مظہر ندوی مولانا محمد رفیع صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ وہ حیدرآباد سندھ میں مقیم تھے۔ ہجرت سے قبل لکھنؤ میں رہتے تھے۔ مظفر ہاشمی صاحب کچھ عرصہ لکھنؤ میں ندوی صاحب کے زیر تربیت بھی رہے۔ مظفرہاشمی صاحب کے والد مکرم مولانا محمد رفیع صاحب کے اپنے تعلیمی ریکارڈ کے مطابق مرحوم نے شہر اندور میں ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ معینیہ اجمیر شریف سے دینی تعلیم میں عالم و فاضل کی سند حاصل کی۔ تعلیم کے بعد عملی زندگی میں بھوربند میں تعلیمی شعبے سے منسلک ہوئے۔
ہجرت
تقسیم ہند کے وقت ہاشمی صاحب کا باقی خاندان تو اندور سے ہجرت کرکے پاکستان آگیا، مگر مظفرہاشمی صاحب لکھنؤ ہی میں رہ گئے۔ بعد میں مولانا وصی مظہر کے ہمراہ ہجرت کرکے پہلے لاہور، حیدرآباد اور پھر کراچی پہنچے۔ ان کا خاندان کراچی میں مقیم ہوگیا تھا، جبکہ مولانا وصی مظہر ندوی نے حیدرآباد(سندھ) میں رہائش اختیار کی۔ مولانا محمد رفیع مرحوم متحدہ ہندستان میں اندور اور اس کے قرب وجوار میں مسلم کمیونٹی کے نمایاں افراد میں سے تھے۔ وہ داعیِ اسلام اور مستند عالم دین بھی تھے، وسیع المطالعہ ہونے کی وجہ سے عصری علوم پر بھی موصوف کی گہری اور عالمانہ نظر تھی۔ ہندستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو کچھ عرصے تک کراچی جماعت کی تنظیم میں سرگرم عمل رہے۔ اس کے بعد مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے انھیں جماعتی ذمہ داریوں کے لیے مشرقی پاکستان بھیجا۔ کئی دیگر احباب چودھری علی احمد خاں مرحوم، سید اسعد گیلانی مرحوم، خرم مراد مرحوم اور کچھ عرصے کے لیے ڈاکٹر نذیرشہید نے بھی مشرقی پاکستان میں تحریکی ذمہ داریاں ادا کیں۔ مولانا محمد رفیع صاحب نے مشرقی پاکستان میں جماعت کی بنیاد رکھی اور کراچی واپسی تک امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھاتے رہے ۔ ان کے مشرقی پاکستان میں کم و بیش پانچ سالہ قیام کے بعد مولانا عبدالرحیم صاحب کو وہاں کا امیر مقرر کیا گیا۔ ڈھاکا سے واپسی پر ہاشمی صاحب نے کراچی شہر کے قیم کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔
گلدستۂ مودودیؒ کے خوب صورت پھول
خرم مراد مرحوم تو سقوطِ ڈھاکا تک وہیں مقیم رہے اور جماعت کی قیادت میں ان کا نمایاں مقام تھا۔ انھیں بھی سقوط ڈھاکا کے دل فگار سانحے کے بعد جنگی قیدیوں کے ساتھ بھارت کی قید میں رہنا پڑا۔ وہاں سے وہ پاکستان تشریف لائے تو پہلے لاہور میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں بھی اُس وقت اچھرہ میں مولانا صاحب کے پاس ان کے دفتر میں موجود تھا۔ مشرقی پاکستان میں سب سے زیادہ جماعتی خدمات خرم مراد صاحب کے حصے میں آئیں۔ تاہم وہاں جتنا بھی کام ہوا ہے اور ہورہا ہے اس کی اوّلین بنیادیں مولانا محمد رفیع مرحوم کے ہاتھوں رکھی گئیں۔ اللہ تعالیٰ دینِ حنیف کے لیے زندگیاں وقف کرنے والے ان تمام مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔ آمین! جماعت اسلامی نے مطالبۂ دستورِ اسلامی مہم کا آغاز قیام پاکستان کے بعد کردیا تھا۔ اس مہم میں جماعت کے تمام ارکان، کارکنان پوری یک سوئی اور تن دہی کے ساتھ سرگرم عمل رہے۔ مجلسِ شوریٰ اجلاس منعقدہ 5 تا 8 جولائی1952ء میں اس مہم کو مؤثر اور تیز تر کرنے کے لیے پورے ملک میں خطبا اور مقررین کی ایک چوبیس رکنی فہرست مرتب کی گئی۔ اس میں بڑے بڑے رہنماؤں کے ساتھ مولانا محمد رفیع صاحب کو بھی اس عظیم کام کے لیے مقرر کیا گیا۔ فہرست میں ان کا نام بیس نمبر پر ہے۔ پہلے اور دوسرے نمبر پر مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اور مولانا نعیم صدیقی صاحب کے نام تھے۔ جو قارئین سارے خطبا کے نام جاننا چاہیں وہ ملاحظہ فرمائیں، روداد مجلس شوریٰ حصہ اول، صفحہ 229-230۔
انکسار وسنجیدگی
مولانا محمد رفیع صاحب نے ڈھاکا اور دیگر شہروں میں بڑی تن دہی سے دعوتی وتبلیغی کام کیا اور جماعت کو مقامی آبادی میں متعارف کرایا۔ یہ ابتدائی تحریکی بزرگان بڑے مخلص اور بے لوث مجاہد تھے۔ جب مولانا موصوف مشرقی پاکستان سے واپس آئے تو کراچی میں جماعت کے کام میں مشغول ہوگئے اور ایک مسجد میں خطابت کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے رہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نیوی میں انہوں نے بہت دعوتی کام کیا اور جمعہ کا خطبہ دینے نیوی کے پی این ایس ہمالیہ سینٹر میں باقاعدگی سے کئی سال تک جاتے رہے۔ اس طرح جماعت کے متفقین کا ایک بڑا حلقہ نیوی میں تیار ہوا۔ ان کے خطبے اور تقاریر سننے والے احباب آج تک ان کو یاد کرتے ہیں۔ مولانا بہت منکسر مزاج اور سنجیدہ انسان تھے، علم وحلم اور فہم وفراست کا مجسمہ! مولانا ڈھاکا سے واپسی پر کراچی جماعت میں مختلف مناصب پر فائز رہے۔ جیسا کہ پہلے بھی تذکرہ ہوا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے قیم کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ مرکزی شوریٰ میں خصوصی دعوت پر شریک ہوتے رہے۔
میدانِ سیاست میں
سیاسی میدان میں بھی مولانا محمد رفیع مرحوم کی کارکردگی قابلِ ذکر ہے۔ 1956ء میں پہلی بار بلدیہ کراچی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ ایوب خان نے اپنے فوجی راج کے دوران ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام قائم کیا تو مولانا 1960ء میں بی ڈی ممبر منتخب ہوئے۔ عبدالستار ایدھی، محمود اعظم فاروقی، حکیم اقبال حسین، جناب صادق حسین، شیخ رجب علی اور محمد مسلم صاحب ان کے دوستوں اور نیازمندوں میں شامل تھے۔ مرحوم کے سیاسی ذوق کا عکس ان کے بعد ان کے ہونہار فرزند مظفر ہاشمی صاحب کی زندگی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے، وہ تو بلدیات سے آگے بڑھ کر ملک کی قومی اسمبلی میں بھی فرائض ادا کرتے رہے۔ اہلِ کراچی نے دو مرتبہ انھیں ایم این اے منتخب کیا۔ مولانا کو جب میں نے پہلی بار دیکھا تو ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا۔ وہ وجیہ و شکیل، خوش پوشاک، خوش گفتار اور محبت کرنے والی شخصیت کے روپ میں نظر آئے۔ ان کے بارے میں دوستوں نے ہمیشہ اپنی حسین یادیں بیان کی ہیں۔ سب اس بات کے قائل تھے کہ وہ باکردار، داعیِ حق اور دوستوں کے دوست، اصول پسند اور صاف گو انسان ہیں۔ غربا و فقرا سے محبت اور اپنے احباب کی دعوتیں کرنے کے علاوہ غربا کی مدد کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے تھے۔ کتاب سے انھیں عشق تھا، اپنی اولاد کی تربیت پر بڑی توجہ دی۔
مظفرہاشمی مرحوم بتایا کرتے تھے کہ والد صاحب اپنے بچوں پر ہمیشہ کڑی نظر رکھتے تھے، لیکن جب اللہ نے پوتے نواسے دیے تو ان پر ہمیشہ نرمی اور محبت کی نظر رہی۔ شاید یہ ایک عالمگیر حقیقت ہے جو اکثر جگہوں پر نظر آتی ہے۔ مولانا محمد رفیع صاحب 2 نومبر 1989ء کو طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی۔ ان کے بیٹے جناب مظفر ہاشمی نے ہر لحاظ سے پورے خاندان کا نام روشن کیا۔ اب وہ بھی اپنے عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے منزل سے ہم کنار ہوچکے ہیں۔
بیرونِ ملک حلقہ جات
پچاس کی دہائی کے آخر اور ساٹھ کے آغاز میں چودھری غلام محمد مرحوم (امیر جماعت اسلامی کراچی و ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان) نے بیرونِ پاکستان کے خطوں، بالخصوص عرب ممالک، برطانیہ اور براعظم افریقہ کو آغاز میں توجہ کا مرکز بنایا۔ ان خطوں میں برصغیرپاک وہند سے تعلق رکھنے والے ہم خیال احباب کو منظم کرکے مقامی آبادیوں میں تحریک کی فکر پیدا کرنے اور اس کے لٹریچر کو عام کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ منصوبہ مولانا مودودیؒ نے خود بناکر چودھری صاحب کو ذمہ داری سونپی۔ جب پورا خاکہ بنا تو مولانا نے اس کی تحسین اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ اس سے قبل مولانا مسعود عالم ندویؒ نے مولاناؒ کی ہدایات کے مطابق عرب ممالک میں کام کا آغاز کردیا تھا۔ چودھری غلام محمد صاحب نے اس کام کے لیے برطانیہ کے علاوہ ابتدائی طور پر تین ممالک مشرقی افریقہ میں کینیا، جنوب مغربی افریقہ میں موریشس اور مغربی افریقہ میں نائجیریا کا انتخاب کیا۔ ابتدا میں ان تینوں مقامات پر اسلامک سرکل کے نام سے تنظیمیں رجسٹرڈ کروائی گئیں۔ بعد میں موریشس کے سوا دیگر دونوں ممالک میں تنظیم کا نام اسلامک فاؤنڈیشن کردیا گیا۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی اور نائجیریا کے شمالی اور مسلم اکثریت کے علاقے میں واقع مشہور تاریخی شہر کانو میں، جبکہ موریشس کے دارالحکومت پورٹ لیوس میں ابتدائی تنظیم قائم کی گئی۔ موریشس میں اس تنظیم کا نام تبدیل نہیں کیا گیا۔ وہاں پر یہ اب تک اسلامک سرکل ہی کے نام سے کام کررہی ہے۔
مولانا محمدرفیع صاحب سے ملاقات
مولانا محمد رفیع صاحب کو چودھری غلام محمد صاحب نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مشورے سے اُس زمانے میں نیروبی بھیجا تھا۔ اُس وقت تنظیم بالکل ابتدائی مرحلوں میں تھی اور اس کا نام ابھی تک اسلامک سرکل ہی تھا۔ مولانا نے چند سال ہی وہاں قیام کیا اور پھر واپس آگئے، مگر ان چند برسوں میں انھوں نے وہاں مضبوط حلقہ قائم کردیا۔ جب جنوری 1974ء میں مجھے مرشد مودودیؒ نے کینیا میں جاکر کام کرنے کا حکم دیا تو محترم سید منورحسن صاحب کی وساطت سے کراچی میں مولانا محمد رفیع صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے وہاں کے کچھ حالات بتائے جنھیں سن کر حوصلہ ہوا کہ وہاں مقیم احباب بہت تعاون کرنے والے اور گوناگوں خوبیوں کے مالک ہیں۔ اس پہلی ملاقات کے بعد جب بھی میں کینیا سے پاکستان آتا، یا واپس جاتا تو کراچی میں مولانا محمد رفیع صاحب سے ملاقات ہوا کرتی تھی۔ بڑی پیاری شخصیت کے مالک تھے۔ مولانا کے صاحب زادے جناب مظفرہاشمی سے اُس زمانے میں نہ میری ملاقات ہوئی نہ تعارف، صرف مولانا کی زبانی اتنا معلوم ہوا کہ ان کے دو بیٹے ہیں، بڑے مظفر اور چھوٹے غیور۔
مفید رہنمائی
مولانا محمد رفیع صاحب سے اگرچہ ملاقات خاصی تاخیر سے ہوئی مگر بہت مفید ثابت ہوئی۔ مجھے افسوس ہے کہ کراچی جانے آنے کا سلسلہ اگرچہ دورِ طالب علمی ہی میں شروع ہوگیا تھا، تاہم اس زمانے میں مرحوم کے تعارف سے محروم رہا۔ چودھری غلام محمد امیر جماعت اسلامی کراچی ہوا کرتے تھے۔ آرام باغ میں کراچی جماعت کا دفتر تھا، اسی دفتر میں کراچی جماعت کے تمام اکابر کی زیارت اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا محمد رفیع صاحب سے ملاقات میرے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ تھا۔ میں کینیا کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا، ان کی ملاقات سے میرے ذہن میں باقاعدہ ایک نقشہ تیار ہوگیا۔ الحمدللہ اسی نقشے کے مطابق افریقہ کے اس خطے میں اللہ نے اس ناتواں کو کچھ خدمت کرنے کی توفیق بخشی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے اور میری کوتاہیوں کو معاف فرما دے۔
مظفرہاشمی صاحب سے تعارف
جب میں بیرونِ ملک سے نومبر1985ء میں جماعتی حکم پر مستقل واپس آگیا تو 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلیاں وجود میں آئے چند دن ہی گزرے تھے۔ معلوم ہوا کہ مولانا محمد رفیع صاحب کے بیٹے مظفرہاشمی اور ہمارے دورِ جمعیت کے مربی اور سرپرست جناب عثمان رمز، دونوں کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ مظفر ہاشمی صاحب سے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو بڑی خوشی ہوئی کہ وہ اپنے والد صاحب کی طرح بلکہ اُن سے بھی زیادہ شیریں کلام اور ملنسار تھے۔ میں اب چونکہ پاکستان ہی میں مقیم تھا اور مرکز جماعت میں نائب قیم کی ذمہ داری بھی لگا دی گئی تھی، اس لیے کراچی اور اسلام آباد کے دورے بھی کرنا پڑتے تھے۔ دیگر اراکین قومی اسمبلی کی طرح مظفرہاشمی صاحب سے بھی پارلیمان کے سیشن کے دوران کبھی کبھار اسلام آباد میں ملاقات ہوجاتی۔ اسی طرح کراچی میں بھی ہر مرتبہ نہیں تو کچھ عرصے بعد شرفِ ملاقات حاصل ہوجایا کرتا تھا۔ ہاشمی صاحب واقعتاً نرم دمِ گفتگو اور گرم دمِ جستجو کا نمونہ تھے۔ یہی نہیں، وہ اقبال کے پورے تصور کے مطابق پاک نظر و پاک باز بھی تھے، جسے ہر شخص ان کی گفتگو، چہرے کے اتار چڑھاؤ اور پورے جسم کی حرکات وسکنات سے بخوبی سمجھ سکتا تھا۔
تعمیری کام
1979ء اور 1983ء میں مفظر ہاشمی صاحب کو جماعت نے کو نسلر کے انتخاب میں کھڑا کیا اور دونوں مرتبہ وہ واضح اکثریت سے منتخب ہوئے۔ اُس وقت عبدالستار افغانیؒ میئر کراچی تھے۔ جب عبدالستار افغانی مرحوم کراچی کے میئر منتخب ہوئے تو مظفرہاشمی صاحب کا ساتھ اُن کے لیے ایک بہت بڑی نعمت تھا۔ وہ بلدیہ کے ہر معاملے میں ان سے مشورہ کرتے تھے۔ ہاشمی صاحب بہت صائب الرائے سیاست دان تھے۔ خاموش طبیعت مگر عمیق ذہانت ان کی پہچان تھی۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (K.D.A) میں مظفرہاشمی صاحب کا کردار بہت عظیم تھا۔ وسائل کی کمی کے باوجود شہرِ قائد کی تاریخ میں یہ پہلا دور تھا جبکہ لوگوں نے یہاں عوامی سہولیات اور ڈویلپمنٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بعد کے ادوار میں جناب نعمت اللہ خان صاحب نے اس کام کو نقطۂ عروج تک پہنچایا۔ دوست دشمن سب اس کے گواہ ہیں اور کراچی میں اب بھی کہیں کوئی اچھی چیز نظر آتی ہے تو وہ عبدالستار افغانی مرحوم اور جناب نعمت اللہ خان ہی کی کارکردگی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ایم کیو ایم نے اپنے ہر دور اقتدار میں لوٹ مار کے ریکارڈ تو قائم کیے، مگر ان کے ہاتھوں اہلِ کراچی کے لیے کوئی کارِ خیر شاید ہی کبھی ہوا ہو۔
(جاری ہے)

Share this: