علم اور بادشاہت

پیشکش: ابوسعدی
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک عالم و فاضل شخص گردشِ روزگار سے مجبور ہوکر تلاشِ معاش کے لیے شہر بہ شہر خاک چھانتا پھر رہا تھا۔ اثنائے سفر وہ ایک روز ایک ایسے شہر پہنچا جس کے تمام دروازے بند تھے۔ اس نے ایک دروازے کے باہر کھڑے ایک بزرگ سے پوچھا کہ یہ سارے دروازے کیوں بند ہیں؟ اس نے بتایا کہ ’’بادشاہ کا باز اُڑ گیا ہے اور اس نے اُس وقت تک تمام دروازوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے جب تک باز نہیں مل جاتا‘‘۔ عالم نے کہا ’’باز تو آسمانی پرندہ ہے، دروازوں کی بندش اس کی راہ میں کون سی رکاوٹ کھڑی کرسکتی ہے!‘‘ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر عالم نے کہا: ’’حکمت ِخداوندی میں کس کو دخل ہے کہ ایسے بے وقوف کو بادشاہت دے کر لاکھوں انسانوں کو مبتلائے عذاب کر رکھا ہے، اور دوسری طرف علم و ہنر والے تلاشِ رزق میں مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن اس قدر بھی میسر نہیں آتا کہ جسم و جان کا تعلق ہی قائم رہ سکے۔‘‘ یہ سن کر بزرگ نے عالم سے پوچھا: ’’کیا تُو اس بات پر رضامند ہوسکتا ہے کہ بادشاہ کا دماغ تیری کھوپڑی میں رکھ کر بادشاہت تجھے دے دی جائے اور تیرا دماغ نکال کر بادشاہ کی کھوپڑی میں رکھ دیا جائے؟‘‘ عالم نے بلاتامل و توقف کہا: ’’ہرگز نہیں، ایسی بے وقوفی اور جہالت کی حالت میں بادشاہت کا کیا فائدہ! علم کی روشنی چھوڑ کر میں جہالت کے تاریک گڑھے میں گرنا کیونکر پسند کرسکتا ہوں!‘‘ بزرگ نے کہا: ’’اللہ کا شکر اَدا کرو کہ تم دولتِ علم سے مالامال ہو، جس کے مقابلے میں دنیاوی دولت، یہاں تک کہ بادشاہت بھی ہیچ ہے۔ خدا ہر شخص کو وہی دولت بخشتا ہے جس کی اُس کو تمنا ہو۔ تمہیں دولتِ علم کی خواہش تھی اس لیے تمہیں علم کی دولت مل گئی۔ دولتِ علم، دولتِ دنیا اور کمال و اقبال بہت کم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔‘‘
(ملک احمد سرور کی کتاب ’’مخزنِ حکمت و دانش‘‘ سے انتخاب)

مولانا حسین احمد مدنیؒ

مولانا 6 اکتوبر 1879ء کو بانگر مئو ضلع انائو میں سید حبیب اللہ کے ہاں پیدا ہوئے جو مولانا فضل الرحمن، گنج مراد آبادی کے خلیفۂ مجاز تھے۔ تیرہ سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند میں مولانا محمود حسن کی خدمت میں بھیجے گئے۔ یہاں سے فراغت اور مولانا رشید احمد گنگوہی سے بیعت کے بعد 1316ھ میں والدین کے ہمراہ مدینہ منورہ چلے آئے۔ یہاں پر انہوں نے تدریس کی خدمات انجام دیں اور مکہ مکرمہ میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے تعلق قائم کیا۔ 1323ھ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن حجاز آئے تو حج سے فراغت کے بعد، ترکی میں انگریزوں کی شاطرانہ چالوں کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کی، مگر شیخ الہند اپنے رفقا کے ساتھ گرفتار ہوئے اور مالٹا میں ساڑھے چار برس تک قید رہے۔ ان میں مولانا حسین احمد مدنی بھی شامل تھے۔ 1338ھ میں یہ سب لوگ یہاں سے رہا ہوئے۔ اُس زمانے میں برصغیر میں جدوجہدِ آزادی کی تحریک کئی کروٹیں بدل رہی تھی۔ تحریکِ خلافت اور استخلاص وطن کی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوچکا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی طلبی پر شیخ الہند نے مولانا مدنی کو ان کے دارالعلوم کی صدارت کے لیے کلکتہ بھیجا، مگر وہاں سے پھر دارالعلوم دیوبند آگئے اور یہاں پر اکتیس سال تک درسِ حدیث کی سعادت حاصل کی۔ اُس دَور میں اس دارالعلوم کی صدارت بھی ان کے ذمہ تھی۔ 1921ء میں انہوں نے خلافت کانفرنس کراچی میں یہ تجویز پیش کی کہ حکومتِ برطانیہ کی فوج میں ملازمت کرنا یا کسی کو بھرتی کرانا یا اس کی تلقین کرنا اور ہر قسم کی اعانت حرام ہے۔ اس پر ایک طویل مقدمہ چلا، جس پر انہیں دو سال قیدِ بامشقت کا حکم سنایا گیا۔ اس کے بعد وہ برصغیر کی آزادی کی تحریک میں بھرپور طور پر شامل رہے۔ اس سیاسی تگ و دَو میں ان کی وابستگی اور سیاسی فکر کانگریسی حضرات سے وابستہ رہی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے ان کی کانگریس نوازی کے مقابلے میں جمعیت العلمائے اسلام قائم کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد میں مسلم لیگ کے ہم نوا ہوئے۔ مولانا مدنی کی تصانیف میں الشہاب الثاقب، متحدہ قومیت اور اسلام، نقشِ حیات، اور ان کے مکتوبات شامل ہیں۔ نقشِ حیات دو حصوں میں ان کی خودنوشت ہے۔ ان کا انتقال 1957ء میں ہوا۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

محفل میں کہاں بیٹھنا بہتر ہے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:’’جب تجھے دعوت دی جائے تو یاد رکھ، سب سے اُونچی جگہ نہ جا بیٹھنا تاکہ اگر میزبان کا تجھ سے بڑا دوست آجائے تو میزبان تجھ سے یہ نہ کہے کہ ’’اُٹھ اور نیچے جا بیٹھ‘‘۔ ایسا تیرے لیے باعثِ شرمندگی ہوگا۔ اس لیے سب سے حقیر جگہ بیٹھ، تاکہ جس نے تجھے دعوت دی ہے وہ آکر کہے: ’’اُٹھ دوست! اور یہاں اوپر آکر بیٹھ‘‘۔ اس طرح تیری بڑی عزت ہوگی۔ یاد رکھ، جو بھی خود کو بلند کرتا ہے پست کیا جائے گا، اور جو خود کو پست کرتا ہے، بلند کیا جائے گا۔‘‘

نام اوردام

ایک اعرابی نے جنگل سے بلی پکڑی۔ اس نے ایسی بلی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے لے کر شہر کی طرف چل دیا۔ عربی میں بلی کے لیے کوئی ایک درجن الفاظ ہیں مثلاً قط، ہرۃ، خیدع، ضیون، خیطل وغیرہ۔ وہ شہر میں پہنچا تو ایک نے کہا: یہ قط ہے۔ چند قدم آگے گیا تو آواز آئی یہ ہرہ ہے۔ذرا آگے کسی نے پوچھا: یہ خیدع کتنے میں بیچتے ہو؟ چند قدم اور آگے گیا تو تین آدمی سامنے سے آگئے، ایک نے کہا: یہ ضیون ہے۔ دوسرے نے کہا: ’’یہ خیطل ہے۔ تیسرا بول اٹھا: یہ دم ہے۔ اعرابی دل میں خوش کہ یہ کوئی بڑا قیمتی جانور ہے۔ منڈی میں پہنچا اور آواز دی کہ لے لو خیطل خیدع ہرہ ضیون قط اور دم صرف دو سو روپے میں۔ کسی نے کہا: یہ کیا کہہ رہے ہو؟ اسے تو کوئی پانچ روپے میں بھی نہیں لے گا۔ اس نے بلی کو اٹھا کر پھینکا اور کہنے لگا: لعنت اس ذلیل مخلوق پر جس کے نام تو بے شمار ہیں اور دام کچھ بھی نہیں۔
(چشم بیدار۔ نومبر2018ء)

منتخب اشعار

بتوں کی بھی یہ یاد دو روز ہے
ہمیشہ رہے نام اللہ کا
آبروـ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
مولانا ظفر علی خاں
لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہہ شیشہ گری کا
میر تقی میر

Share this: