اویسؒ وہرم

پیشکش: ابوسعدی
آخری عمر میں حضرت اویس ؒ(657ء) کوفہ میں آگئے تھے اور عموماً دریائے فرات کے کنارے مصروف ِعبادت رہتے تھے۔ ایک دن اس عہد کے ایک بزرگ ہرم بن حبان اویس کے ہاں گئے اور علیک سلیک کے بعد یہ گفتگو ہوئی:
ہرم:… السلام علیکم
اویسؒ:… وعلیکم السلام یا ہرم بن حبان
ہرم:… حیرت ہے، آپ کو میرا اور میرے والد کا نام کیسے معلوم ہوا؟
اویسؒ:… اہلِ ایمان کی روحیں ایک دوسرے کو جانتی ہیں، فرمائیے کیسے آنا ہوا؟
ہرم:… تاکہ آپ سے مل کر سکون حاصل کروں۔
اویسؒ:… مومن کو اللہ کے سوا کہیں اور سکون نہیں مل سکتا، آپ اس نعمت کو غلط مقام پر تلاش کررہے ہیں ۔
ہرم:… بجاارشاد ہوا، مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔
اویسؒ:… سوتے وقت موت کو سرہانے رکھو اور بیداری میں آنکھوں کے سامنے، گناہ کو حقیر نہ سمجھو کہ یہ اللہ کی توہین ہے۔
ہرم:… دعا فرمائیے کہ اللہ رزق میں کسی کا محتاج نہ کرے۔
اویسؒ:… جس شخص کو اللہ کی رزاقی پر اتنا شک ہو، اس کے لیے دعا کروں! یہ کہا اور اُٹھ کرچلے گئے۔
ماہنامہ چشم بیدار ؍مارچ 2017ء

آغاز و انجام

مہلب بن ابی صفرہ (691ء) دورِ امیہ کے چیدہ امراء میں سے تھا۔ یہ مدتوں خوارج کے خلاف لڑتا رہا۔ اسے خلیفہ عبدالملک نے خراسان کا گورنر بھی مقرر کیا تھا۔ یہ ایک دن نہایت عمدہ لباس پہنے اکڑ کر چل رہا تھا کہ کسی عالم نے کہا: اللہ کو یہ چال پسند نہیں۔ کہنے لگا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں کون ہوں؟ کہا: ہاں میں جانتا ہوں، تم آغاز میں بدبودار پانی کا ایک قطرہ تھے اور عنقریب تمہاری لاش کو کیڑے چاٹ رہے ہوں گے۔
ماہنامہ چشم بیدار؍اکتوبر2018ء

راز کی حفاظت

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (603۔680ء) کے ایک درباری ولید بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک راز بتایا، میں اپنے والد کو بتانے لگا تو انہوں نے روک دیا اور کہا کہ یہ عادت اچھی نہیں ہے، جب تک راز تمہارے سینے میں ہے تم اس کے مالک ہو، اور بعد از افشا دوسرا مالک بن جائے گا اور تم اس کے غلام۔
ماہنامہ چشم بیدار؍جولائی2017ء

اورنگ زیب عالمگیر

اورنگ زیب عالمگیر (1027۔1118ھ) شاہزادہ خرم کی بیگم ممتاز محل کے بطن سے پیدا ہوا۔ پیدائش پر عظیم الشان جشن ہوا۔ عالمگیر آٹھ سال کا تھا کہ جہانگیر کا انتقال ہوگیا۔ اس کے والد شاہجہاں نے تخت و تاج سنبھالا تو بالخصوص اورنگ زیب کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔ اس نے ذہانت و شجاعت دونوں میں نام پیدا کیا۔ جوانی میں کئی محاذوں پر خدمات انجام دیں اور کئی علاقوں کی صوبیداری کا انتظام سنبھالا۔ وسیع تر مغل حکومت میں اورنگ زیب نے متعدد ذمہ داریاں ادا کیں اور کئی محاذوں پر فتوحات حاصل کیں، بالخصوص دکن کی بغاوتوں کو ختم کرکے اسے مغل سلطنت میں قائم رکھنا اس کا کارنامہ ہے۔ شاہجہاں کے آخری دور میں تخت نشینی کی جنگ میں بالآخر اسے کامیابی نصیب ہوئی۔ خود شاہجہاں نے ایک مرصع تلوار تبریک کے پیغام کے ساتھ روانہ کی، جس پر عالمگیر کا خطاب کندہ کرایا۔ عالمگیر کا دورِ حکومت1658ء سے 1707ء تک ہے، جس میں مثالی انداز میں انتظامِ سلطنت کو سنبھالا۔ اس کی اصلاحات بہت اہم ہیں۔ اس کا نظم و نسق بہت مثالی رہا۔ اس نے ایک مثالی مسلمان حکمران بننے کی شعوری کوشش کی۔ عالمگیر کی ذات پر بہت سے الزامات لگائے جاتے ہیں (جن کا ایک دفاع علامہ شبلی نعمانی نے ’’اورنگ زیب عالمگیر پر ایک نظر‘‘ لکھ کر کیا ہے)۔ عالمگیر نے بہت سی علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا، جن میں ایک فتاویٰ عالمگیری کی تالیف ہے۔ وہ خود بھی مصنف تھا۔ وہ فنونِ لطیفہ میں غیر اسلامی عناصر کے خلاف تھا۔ متعدد عمارات بنوائیں، مگر اس کا اصل کارنامہ خطاطی کا فروغ ہے۔ وہ خود عبدالباقی حداد کا شاگرد تھا اور قرآنِ مجید کے متعدد نسخوں کی کتابت کا شرف حاصل کرچکا تھا۔ اسلامی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی حفاظت و اشاعت میں وہ کسی سے کم نہیں۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

حکایت

شیر، ریچھ، چیتا اور بھیڑیا چاروں شکار کی جستجو میں تھے۔ سب نے صلاح کی، آئو چاروں مل کر دریا کی ترائی میں شکار کریں، جو شکار ملے گا چاروں برابر حصے بانٹ لیں گے۔
اتفاقاً نیل گائے کو مارا اور عہد و پیمان کے مطابق برابر کے چار حصے کیے۔ قریب تھا کہ ہر ایک اپنا اپنا حصہ لے، اتنے میں شیر لپک کر بولا: ’’سنو بھائی، یہ ایک حصہ تو قول و قرار کی رو سے میرا ہے، اور دوسرے حصے کا میں اس واسطے دعوے دار ہوں کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں۔ کہیں شکار ہو مجھ کو چہارم بطور خراج کے ملتا ہے، اور تیسرا حصہ میں اس وجہ سے لوں گا کہ اس میں دل اور جگر ہے، جس کو تم جانتے ہو کہ میری غذا ہے۔ رہا چوتھا حصہ، سو میں نہیں جانتا کہ تم تینوں میں اس کو کیوں کر تقسیم کروں۔ اس سے بہتر ہے کہ اس کو بھی اپنے ہی صرف میں لائوں۔‘‘
یہ کہہ کر شیر چاروں حصے چٹ کر گیا اور سب کے سب منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔شیر چاروں حصے چٹ کر گیا اور سب کے سب منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔
حاصل
زبردست کے ساتھ ساجھا کرنے میں ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔
(منتخب الحکایات۔ نذیر احمد دہلوی)

اقوال

lجس کو خدا تعالیٰ مقبول کرتا ہے اس پر ظالم کو مسلط کرتا ہے جو اس کو رنج دیتا ہے۔
(حضرت بایزید بسطامیؒ)
lتین لوگ ہمیشہ ضرور رنج میں رہیں گے۔ ایک، جو دوسروں کی حمیت کو اپنی پریشانی اور دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی خیال کرے۔ دوسرے، جو باوجود قدرت رکھنے کے نیکی نہ کرے۔ تیسرے، جو بغیر سوچے ایسا کام کرے جس کا نتیجہ پریشانی ہو۔
lدوسروں کی خوشی اپنے غموں کو تازہ کرتی ہے اور غم اپنے غموں کو ہلکا کرتا ہے۔
lچھوٹے غم واویلا کرتے ہیں، بڑے غم خاموش ہوتے ہیں۔
lتمہاری شادمانی دراصل تمہارا غم ہے جسے بے نقاب کردیا گیا ہے۔
خلیل جبران
(بحوالہ: اقوال زرین کا انسائیکلوپیڈیا)

Share this: