تقسیم ہند،ہندو، مسلم مسئلے کا واحد حل

قائداعظم محمد علی جناح کی مختصر مگر جامع نشریاتی تقریر جو آپ نے 12 دسمبر 1946ء کی شب کو قیام لندن کے دوران میں امریکن براڈ کاسٹنگ کمپنی کی وساطت سے اہلِ امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے لندن سے ارشاد فرمائی۔

ہندوستان میں موجودہ صورتِ حال نہایت خطرناک ہے۔ ہندو اور مسلمان دو الگ اور جداگانہ قومیں ہیں، اور زندگی کے ہر اہم شعبے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر اس المناک سانحے کا جس میں ہندوستان چند مہینوں سے مبتلا ہوچکا ہے، جلد از جلد سدباب نہ کیا گیا اور برطانوی حکومت اسی پالیسی پر کاربند رہی تو ہندوستان خانہ جنگی میں گرفتار ہوجائے گا، اور اس کی صدائے بازگشت ساری دنیا میں گونج کر رہے گی۔ صرف صوبہ بہار میں ہی ہندوئوں کے منظم گروہ تیس ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں، اور پندرہ ہزار مسلمان تباہ حال اور خانماں برباد ہوچکے ہیں۔
اس مختصر سی تقریر میں تفصیلات میں نہیں جا سکتا، لیکن پورے غور و فکر کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے، اور وہ یہ کہ ہندوستان کو پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کردیا جائے۔ پاکستان میں مسلمانوں کی آبادی سات کروڑ ہوگی، اور ہندوئوں کے مقابلے میں وہ 70 فیصدی اکثریت میں ہوں گے۔ ہندوستان میں ہندوئوں کی اکثریت ہے اور مسلمانوں کے مقابلے میں وہ 75 فیصدی اکثریت میں ہوں گے۔
جتنی جلدی برطانوی حکومت اعلان کرکے اس امر کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ ظاہر کردے گی اتنی ہی جلدی ان ہولناک بربادیوں سے بچ کر نکلنے کی صورت پیدا ہوسکے گی جن کو میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ کئی برسوں سے ’’وحدتِ ہند‘‘ کے حق میں کوششیں جاری ہیں، اور ہر دفعہ انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ کیونکہ یہ سراسر غیر ممکن چیز ہے۔ ہندوئوں کو کوئی وجہ شکایت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ انہیں ہندوستان کا تین چوتھائی حصہ مل رہا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں مسلمانوں کو اس براعظم کا صرف ایک چوتھائی حصہ ملے گا۔
مسلمانوں کے نقطہ ٔ نظر سے ’’وحدتِ ہند‘‘ اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے تغلب اور تسلط کے ماتحت ایک دوامی غلامی ہے، اور مسلم ہندوستان اس کے لیے کبھی رضامند نہ ہوگا۔
آج بالآخر برطانوی حکومت ہندوستان میں موجودہ حالات کی نزاکت کا احساس کررہی ہے، اور صحیح واقعات سے روشناس ہورہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب آپ اس مسئلے کے صحیح خدوخال کا مطالعہ کرسکیں گے، اور ان کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
مجھے اس حقیقت کا پورا علم ہے کہ ہمارے خلاف بے پناہ پروپیگنڈا جاری ہے اور مسلم ہندوستان کی غلط نمائندگی کرکے مسلمانوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ آزادی کی تڑپ ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ہم بھی برطانوی تسلط سے استخلاص کے متمنی ہیں۔ مگر ہم اس بات پر کبھی رضامند نہیں ہوسکتے کہ ہمیشہ کے لیے ہندوئوں کی غلامی میں منتقل کردیا جائے۔ ہم ایک آزاد اور خودمختار پاکستان چاہتے ہیں اور اپنے ہمسایہ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔
مجھے اس بات پر کامل یقین ہے کہ ہندو اس حقیقت کو محسوس کریں گے کہ دس کروڑ مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانا ایک غیر ممکن چیز ہے۔ وہ اقلیت نہیں ہیں بلکہ … وہ ایک قوم ہیں؟‘‘

شام و فلسطین

رندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت
پُر ہے مئے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا
ہے خاکِ فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا؟
مقصد ہے ملوکیتِ انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا

حلب: شام کاایک مشہور شہر، جو کسی زمانے میں شیشے بنانے کے لیے مشہور تھا اور وہیں اعلیٰ درجے کے آئینے بنائے جاتے تھے۔ شیشۂ حلبی اور آئینۂ حلبی دونوں فارسی اور اردو ادبیات میں معروف ہیں۔ نارنج: نارگنی، سنگترہ، مالٹا۔ فلسطین کے ساحلی علاقے میں سنگترے اور مالٹے کے بہت وسیع باغ ہیں۔ یہودیوں نے زمینیں خرید خرید کر دور تک باغ لگادیئے۔ رطب: چھوارا، کھجور۔
-1 فرانس کے رندوں کا شراب خانہ سلامت رہے۔ وہ جب سے شام پر مسلط ہوئے ہیں، انہوں نے ہر جگہ شراب نوشی عام کردی ہے۔ گویا حلب کے ہر شیشے کو گلاب کے پھول جیسی سرخ شراب سے بھر دیا ہے۔
-2شام فرانس نے سنبھال لیا تھا۔ فلسطین پر انگریز قابض ہوگئے اور انہوں نے اسے یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی ٹھان لی۔ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس پردے میں یہودیوں کی بڑی تعداد فلسطین پہنچا دیں اور انہیں اپنی سرپرستی میں اس قدر مضبوط کردیں کہ وہ عربوں کے پہلو میں خنجر بنے رہیں۔ قومی وطن کے دعوے کی بنا یہ تھی کہ یہودی اصل میں فلسطین ہی کے باشندے تھے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر یہودیوں کو دو ہزار سال کے بعد فلسطین کا حق دار بنادینا جائز ہے تو یہ بتائیے کہ ہسپانیہ پر عربوں کا حق کیوں نہیں جو آٹھ سو سال وہاں حکمران رہے اور انہیں وہاں سے نکلے ہوئے ابھی صرف سو سال ہوئے ہیں؟ اس اعتراض کا جواب کوئی نہیں ہوسکتا ۔
-3اقبال کہتے ہیں کہ فلسطین میں یہودیوں کا لانا اس لیے نہیں کہ فلسطین ان کا قومی وطن ہے۔ یہ بھی نہیں کہ انگریز اس ذریعے سے سنگترے، مالٹے، شہد اور کھجور کی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ انگریزوں کے سامراج کا اصل مقصد اور ہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ عربوں میں تفرقہ ڈال سکیں، انہیں اپنے آپ کو منظم کرنے کا موقع نہ دیں، اور ہر وقت ان کے لیے بے چینی کا باعث بنے رہیں۔ نیز اگر جنگ کا نازک موقع پیش آجائے تو فلسطین کو مرکز بناکر اردگرد کی اسلامی آبادیوں اور بڑے بڑے جنگی مقامات پر حملے کرسکیں۔ مثلاً نہر سویز، باب المندب، پورٹ سوڈان وغیرہ۔

Share this: