میاں نواز شریف،ماضی، حال اور مستقبل

احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو 7 سال قید اور پونے چار ارب روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ تاہم فلیگ شپ کیس میں میاں صاحب کو بری کردیا گیا۔
حضرت عیسیٰؑ کا قول ہے: جو تلوار کے سہارے زندہ رہے گا وہ تلوار ہی سے مارا جائے گا۔ پاکستان کی سیاست پر اس قول کا اطلاق کیا جائے تو کہا جائے گا کہ جو اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرے گا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مارا جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے سیاست میں آئے اور بالآخر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مارے گئے۔ الطاف حسین کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی سیاست تھی اور بالآخر ان کی سیاست بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں زیر و زبر ہوئی۔ میاں نوازشریف کا سارا سیاسی عروج بھی اسٹیبلشمنٹ کا کارنامہ تھا، چنانچہ اب ان کے زوال پر بھی اسٹیبلشمنٹ کی مہر لگی ہوئی نظر آرہی ہے۔ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کا انجام بھی مختلف نہ ہوگا۔ اس انجام کا آغاز ہوچکا ہے۔ مگر آج ہمارا موضوع میاں نوازشریف ہیں۔
میاں نوازشریف کہنے کو ’’Fight‘‘ کررہے ہیں، مگر ان کی ذہنی اور نفسیاتی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عدالت میں میاں صاحب کو فلیگ شپ ریفرنس میں ’’بری‘‘ کرنے کا فیصلہ آیا تو میاں صاحب ’’خوش‘‘ ہوگئے۔ چند لمحوں بعد انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تو میاں صاحب کا چہرہ ’’مرجھا‘‘ گیا (روزنامہ دنیا۔ 25 دسمبر 2018ء)۔ میاں نوازشریف ایک جانب کہہ رہے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور دوسری جانب انہیں توقع ہے کہ انتقام لینے والے انہیں بری ہونے دیں گے۔ ایسی متضاد کیفیتوں کا شکار وہی شخص ہوسکتا ہے جو خواہش اور حقیقت کے درمیان فرق کرنے سے عاری ہوگیا ہو، اور جس کے تجزیے کی صلاحیت پر خواہش غالب آگئی ہو۔ لیکن اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ میاں نوازشریف پاکستان کی سیاست کا طاقت ور ترین کردار ہیں۔ وہ امریکہ کے چہیتے ہیں، یورپ کے پسندیدہ ہیں، بھارت کے محبوب ہیں، سعودی عرب کے مطلوب ہیں، ترکی کے رجب طیب ایردوان کے مقصود ہیں، اسٹیبلشمنٹ میں ان کے حامی موجود ہیں، عدلیہ میں ان کی جڑیں پھیلی ہوئی ہیں، ذرائع ابلاغ میں ان کی وسیع سرمایہ کاری ہے۔ چنانچہ میاں صاحب کو توقع ہے کہ اب بھی کہیں نہ کہیں سے ان کی مدد ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو شریفوں کو ڈیل اور ڈھیل میسر نہیں آسکتی تھی۔ یہ ڈیل اور ڈھیل ابھی تک جزوی طور پر موجود ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ عمران خان اور شیخ رشید کی چیخ پکار کے باوجود میاں شہبازشریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا اور عمران خان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے، ملک عمران خان نہیں چلا رہے، اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے۔ عمران خان تو صرف گریڈ 24 کے ایک اہلکار ہیں۔ چنانچہ انہیں بتادیا گیا کہ شہبازشریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی سے محروم نہیں کیا جاسکتا، آخر وہ سر کو جھکائے کھڑے ہیں۔ خود میاں نوازشریف کا یہ حال ہے کہ سات سال کی سزا کے باوجود ان کے ردعمل میں ’’انقلابیت‘‘ کیا ’’مزاحمت‘‘ بھی نظر نہ آسکی۔ انہوں نے فرمایا کہ میرا ضمیر مطمئن ہے، سول بالادستی کے لیے آخری حد تک جائوں گا، اللہ سے امید ہے کہ مجھے انصاف ملے گا (روزنامہ ایکسپریس کراچی۔ 25 دسمبر 2018ء)۔ سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف کے بیان میں کہیں بھی خلائی مخلوق کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار ججوں کا تذکرہ کیوں نہیں ہے؟ ان کی گفتگو سے عوامی مزاحمت کیوں غائب ہے؟ مریم نواز نے میاں صاحب کی سزا کے بعد ٹوئٹر کا روزہ توڑا اور فرمایا کہ حکومت کو نوازشریف کا خوف چین نہیں لینے دے رہا۔ حکومت؟ کیا میاں نوازشریف کو سزا حکومت نے دی ہے؟ ملک میں حکومت ہے کہاں؟ ’’جو بھی ہے محبت کا پھیلائو ہے‘‘ کے مصداق ملک میں جو بھی کچھ ہے اسٹیبلشمنٹ کا پھیلائو ہے، مگر مریم بی بی کی ’’نظر‘‘ اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نظر آنا بند ہوچکی ہے۔ البتہ حیرت انگیز طور پر انہیں ہرطرف عمران خان کی حکومت نظر آرہی ہے۔ چند روز پیشتر حمزہ شہباز بھی نیازی صاحب، نیازی صاحب کررہے تھے۔ بلاشبہ عمران خان نیازی احتساب چاہتے ہیں، مگر وہ احتساب کر تو نہیں رہے۔ احتساب تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے اور کروا رہی ہے۔ مگر مریم نوازشریف کی نظر اور یادداشت دونوں جواب دے گئی ہیں۔ ڈیل اور ڈھیل کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ میاں صاحب کی عدم موجودگی میں نواز لیگ کے معاملات مریم نواز نہیں بلکہ ایک ’’مشاورتی کمیٹی‘‘ دیکھے گی۔ حالانکہ میاں صاحب کی سیاسی وارث مریم نواز ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہی وقت تھا کہ مریم میدان میں آتیں اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتیں۔ اس طرح میاں صاحب کا سیاسی خلا بھی پُر ہوجاتا اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے سیاسی مشکلات بھی کھڑی ہوجاتیں۔ مگر مریم صرف ٹوئٹر پر ’’Active‘‘ ہوئیں۔ قیادت کے دائرے اور عمل کے میدان میں وہ ظفر اقبال کے اس شعر کا مصداق بنی ہوئی ہیں ؎

نہ کوئی بات کہنی ہے نہ کوئی کام کرنا ہے
اور اس کے بعد کافی دیر تک آرام کرنا ہے

شریفوں کی ڈیل اور ڈھیل اس امر سے بھی آشکار ہے کہ میاں نوازشریف کی سزا پر نواز لیگ کے رہنما اور کارکنان اتنی ’’شجاعت‘‘ کا مظاہرہ بھی نہ کرسکے جتنی ’’شجاعت‘‘ کا مظاہرہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے کارکنان دعوتوں میں بریانی اور کیک جھپٹنے کے لیے کرتے رہتے ہیں۔ مثل مشہور ہے: بعض لوگ انگلی کٹواکر شہیدوں میں اپنا نام شامل کرا لیتے ہیں، مگر شریفوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ انگلی کٹوائے بغیر شہیدوں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ شریف اداکاری سلطان راہی کی سطح کی کررہے ہیں اور شہرت و عزت انہیں دلیپ کمار کی درکار ہے۔ میاں نوازشریف شہیدوں کی تکریم تو کیا کریں گے، وہ دلیپ کمار ہی کی تکریم کرلیں۔
میاں نوازشریف اور ان کے حواری آئے دن قوم کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ نواز لیگ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اتفاق سے یہ دعویٰ غلط نہیں ہے۔ میاں نوازشریف اور ان کی جماعت پنجاب میں واقعتاً مقبول ہے۔ مگر اس کے باوجود میاں صاحب اپنے کارکنوں اور متاثرین کو عملی مزاحمت پر آمادہ نہیں کر پارہے۔ چنانچہ ان کے سارے سیاسی طوفان چائے کی پیالی میں اُٹھتے ہیں۔ غور کیا جائے تو اس صورتِ حال کی ساری ذمہ داری نوازشریف اور ان کے خاندان پر ہے۔ شریف خاندان 30 سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے مگر اس نے نواز لیگ کو کبھی حقیقی معنوں میں سیاسی جماعت بنانے کی کوشش نہیں کی۔ نتیجہ یہ کہ نواز لیگ کے سارے شیر کاغذی ہیں۔ یہ شیر میاں نوازشریف کو ووٹ اور نوٹ تو دے سکتے ہیں مگر کوئی سیاسی معرکہ سر نہیں کرسکتے۔ اس لیے کہ ان شیروں کے منہ میں نہ دانت ہیں، نہ پنجوں میں ناخن ہیں۔ اصول ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔ جیسے میاں نوازشریف اور شہبازشریف ہیں ویسے ہی نواز لیگ کے رہنما اور کارکنان ہیں۔ میاں نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کی شکایت کرتے ہیں کہ وہ انہیں کچھ کرنے نہیں دیتی۔ مگر میاں نوازشریف تو خود بھی اپنے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کم نہیں۔ وہ دو دہائیوں سے نواز لیگ کو شریف خاندان کا ٹشو پیپر بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی جماعت کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی جمہوری بنیاد ہے۔ چنانچہ میاں نوازشریف جب بھی کسی مشکل میں ہوتے ہیں ان کی جماعت ان کے کام آنے سے انکار کردیتی ہے۔ وہ صاف کہہ دیتی ہے کہ میری ریڑھ کی ہڈی ہی نہیں ہے۔ عجیب بات ہے کہ جو لوگ ملک و قوم کی آزادی کی بات کرتے ہیں وہ خود اپنی جماعتوں تک کو آزادی نہیں دیتے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو میاں نوازشریف کے پاس اسٹیبلشمنٹ کی شکایت کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ بڑی طاقت ور ہے۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ اس لیے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی اصل طاقت سیاسی رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کی وہ کمزوریاں ہیں جو اُن کی اپنی تخلیق ہیں۔ ان کمزوریوں میں ان کی بدعنوانیاں بھی شامل ہیں اور ان کی جماعتوں کا غیر نظریاتی اور غیر جمہوری کردار بھی۔ نواز لیگ شریف خاندان کی زرخرید نہ ہوتی تو اسٹیبلشمنٹ میاں نوازشریف پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی تھی۔ آخر ایک مقبول جماعت کو چار دن میں زیرو کیسے بنایا جاسکتا ہے! اس اعتبار سے دیکھا جائے تو میاں نوازشریف خود اپنے، اپنے خاندان اور نواز لیگ کے دشمن ہیں اور ان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اُن کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ایسے رہنما سے ہمدردی جتانا بھی ایک قومی جرم ہے۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ میاں نوازشریف کی کہانی ختم ہوچکی؟
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پرانی سیاسی کلاس سے عاجز آچکی ہے اور وہ نئے سیاسی غلاموں کی ایک نئی کلاس تخلیق کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف اس سلسلے کی پہلی مثال ہیں۔ لیکن اس مثال کا اب تک کا تجربہ اچھا نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت نے سیاسی نااہلی کے نئے ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان باہم اتنے آمیز ہوگئے ہیں کہ یہ فرق کرنا دشوار ہوگیا ہے کہ عمران خان کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کہاں ختم ہوتی ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان ملک میں سول مارشل لا کی علامت بن کر اُبھر رہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ پہلے اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں میں تعلقات فاصلوں سے خراب ہوتے تھے، اِس بار اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی قربت سے خراب ہوں گے۔ جہاں تک نوازشریف کا تعلق ہے تو اُن کے حوالے سے اب اہم سوال یہ ہے کہ نوازشریف کا خاتمہ صرف نوازشریف کا خاتمہ ہے، یا مریم نواز اور شہبازشریف کا خاتمہ بھی اس خاتمے میں شامل ہے؟ دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ میاں نوازشریف کو بیرونی دنیا سے کوئی غیبی یا عیبی امداد فراہم ہوتی ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں میاں صاحب کی بدن بولی کو دیکھا جائے تو میاں صاحب خود اپنے مستقبل سے مایوس نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف فیصلہ سن کر دلیپ کمار پر فلمایا گیا یہ گیت گنگنایا:

اے مرے دل کہیں اور چل
غم کی دنیا سے دل بھر گیا
ڈھونڈ لے اب کوئی گھر نیا

سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف کا نیا گھر جیل ہے یا پہلے کی طرح کسی دوسرے ملک میں جلاوطنی؟ اس سوال کا جواب وقت جلد ہی فراہم کردے گا۔

Share this: