بلند فشار خون سے نجات کیسے؟

سجاول خان
آپ کو ہائی بلڈ پریشر سے واسطہ پڑا ہے تو آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ دوبارہ اس کی اذیت سے گزریں۔ ہائی بلڈ پریشر کئی برسوں تک علم میں آئے بغیر ہوسکتا ہے اور خطرناک ہے۔ آپ کے علم میں ہے کہ آپ کو ہائی بلڈ پریشر ہے تو اس کو کنٹرول میں رکھنے کا اہتمام کریں، ورنہ دل کے دورے، اسٹروک، ڈیمنشیا، گردوں کے فیل ہونے اور معذوری کے عوارض سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ کیا کھاتے ہیں۔ درست غذا ان کی زندگی بچا سکتی ہے۔ بعض غذائیں خطرناک حد تک آپ کا بلڈ پریشر بڑھاتی ہیں، جبکہ دیگر اس کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
بیکری کی اشیاء:
بیکری کی زیادہ تراشیاء میں خمیر استعمال ہوتا ہے، جو زیادہ مقدار میں سوڈیم کا حامل ہوتا ہے۔ پھر سویٹس اور بیک کی ہوئی چیزیں کھانے سے وزن بڑھتا ہے اور زیادہ وزن ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے۔
بڑا گوشت:
بڑا گوشت کھانا ہی پڑے تو اس کی مقدار کم ہونی چاہیے۔ حیوانی چکنائی والی چیزیں دل اور رگوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ریستوران میں پکائے گئے گوشت کے قتلے نہ کھائیں۔ ان میں زیادہ سوڈیم ہوتا ہے۔
کھانے میں نمک:
نمک یا سوڈیم آپ کے بلڈ پریشر کو چھت سے جا لگاتا ہے۔ اس لیے جو اشیاء خریدیں اُن میں دیکھیں کہ کہیں نمک زیادہ تو نہیں۔ گھر میں پکے کھانوں میں نمک کی مقدار کم کریں۔ بھنی ہوئی اشیاء کم کھائیں۔
وزن کم کریں:
آپ کے جسم پر فالتو چربی ہے، اسے کم کریں۔ یہ بلڈ پریشر کم کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے ہر روز باقاعدگی سے واک کریں۔ ورزش کریں۔ سائیکل چلائیں۔ سوئمنگ کریں۔ ان میں واک سب سے آسان اور مفید ہے۔
کھچائو سے بچیں:
ایسی باتوں، شخصیات اور واقعات سے بچیں، جو آپ میں کھچائو کا باعث بنیں۔ کھچائو سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔ اس کے بجائےموٹی ویشنل چیزیں پڑھیں اور تفریحی پروگرام دیکھیں۔ شکر گزاری کا رویہ اختیار کریں۔
بلڈ پریشر چیک کریں:
کھانے سے نصف گھنٹہ پہلے اور نصف گھنٹہ بعد بلڈ پریشر چیک کریں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون سے کھانے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور کس سے نہیں بڑھتا۔
پھل اور سبزیاں کھائیں:
سبزیوں اور پھلوں میں پوٹاشیم اور میگنیشیم زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر کم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر سیب، کیلا، خوبانی، شاخ گوبھی، گاجر، خربوزہ، سنگترہ، آڑو، آلو، سبز رنگ والی سبزیوں میں خاصی مقدار میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو آپ کے گردوں کو اضافی نمکیات سے چھٹکارے میں مدد دیتا ہے۔ بروکلی اور پالک کا استعمال مفید ہے۔
نیلے رنگ کے جامن میں ایک خاص مادّہ ہوتا ہے جو بلڈ پریشر گھٹانے میں مدد دیتا ہے۔ چقندر کا جوس 24گھنٹوں میں بلڈ پریشر کم کردیتا ہے۔ کم چکنائی والا دودھ کم کیلشیم کے باعث مفید ہے۔ دلیہ زیادہ ریشوں، کم چکنائی اور کم سوڈیم کے باعث بلڈ پریشر بڑھنے سے روکنے میں سودمند ہے۔ دہی کم چکنائی والا استعمال کریں۔
(بشکریہ: ماہنامہ اقدار ملت)

Share this: