لائق۔ڈس لائق اور نالائق

تلفظ کو چھوڑیے، مزے مزے کی سرخیاں اخبارات میں نظر نواز ہورہی ہیں… روزنامہ جسارت میں29 دسمبر کو صفحہ اوّل پر چار کالمی سرخی ہے ’’لائق ڈس لائق کی پالیسی نہیں چلے گی‘‘۔ جس صحافی نے یہ سرخی نکالی ہے اسے داد دینے کو جی چاہتا ہے، لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ داد کم پڑ جائے گی۔ مذکورہ سرخی نکالنے والے فاضل سب ایڈیٹر نے ’لائیک‘ کو ’’لائق‘‘ کردیا، یہ اس کی لیاقت کا ثبوت ہے، لیکن اصل قصور تو بیان دینے والے کا ہے۔ وہ پسند، ناپسند بھی کہہ سکتے تھے جس کو بگاڑنا آسان نہ ہوتا۔ اب یہ مذکورہ سب ایڈیٹر بتائیں گے کہ لائق میں ’ڈس‘ (Dis) کا پیوند کیوں لگایا؟ لائق اور نالائق لکھ دیتے۔
اخبارات میں بڑے تواتر کے ساتھ ’’ایک ذرائع کے مطابق‘‘ شائع ہورہا ہے، اور رپورٹرز کو ’ایک ذریعہ‘ لکھنے سے گریز ہے۔ ثابت یہ کرنا ہے کہ خبر کے کئی ذرائع ہیں، ایک نہیں۔ ایسے میں اگر ’’ایک‘‘ نکال دیا جائے تو جملے میں عیب دور ہوجائے گا۔ روزنامہ نوائے وقت میں 2 جنوری کو ایک کالم میں رائو عمران سلیمان نے بھی ’’ایک ذرائع‘‘ پر ہاتھ صاف کیا ہے۔
آج کل پاکستان بھر میں تجاوزات کے خلاف مہم چل رہی ہے جس کے ساتھ ’’ناجائز‘‘ بھی (بطور سابقہ) لگایا جارہا ہے، جب کہ اس کی ضرورت نہیں۔ تجاوزات بجائے خود ناجائز ہیں، جیسے کہتے ہیں کہ ’’حد سے تجاوز نہ کرو‘‘۔ یہاں بھی ’’ناجائز‘‘ لگنا چاہیے تھا۔ تجاوزات کے ساتھ ایک اور ستم یہ ہورہا ہے کہ ہر ٹی وی چینل پر انہیں ’’مَس مار‘‘ کیا جارہا ہے، جب کہ مسمار میں پہلا میم بالکسر ہے یعنی ’مِس مار‘۔ یہ عربی کا لفظ ہے اور عربی میں اس کا مطلب بڑی کیل، میخ، کھونٹی وغیرہ ہے۔ اردو میں ’کِیلا‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب منہدم، مسمار کرنا، ڈھانا، ویران کرنا، تباہ کرنا، برباد کرنا وغیرہ (بطور صفت) ہے۔ دیکھا ہوگا کہ جب کوئی دیوار ڈھائی جاتی ہے تو بڑی سی کیل یا لوہے کی میخ استعمال کی جاتی ہے۔ اسی سے مسمار کرنا بن گیا۔ لیکن میم کے نیچے بہرحال زیر ہے۔ مکان یا دیوار کے گر پڑنے پر بھی کہتے ہیں کہ مسمار ہوگئی یا ہوگیا۔ آتشؔ کا شعر ہے:

بے طرح جوش میں سیلاب سرشک آیا ہے
چار دیوار عناصر کہیں مسمار نہ ہو

ممکن ہے کچھ قارئین جاننا چاہیں کہ یہ ’’سرشک‘‘ کیا ہے؟ یہ فارسی کا لفظ ہے اور بکسر اوّل و دوم ہے، یعنی سین اور را کے نیچے زیر ہے۔ اصل میں سراشک بمعنی آنسو کا قطرہ ہے۔ یہ مذکر ہے۔ مذکورہ شعر میں سیلابِ سرشک کا مطلب آنسوئوں کا سیلاب ہے۔ نسیم کا مصرع ہے ’’سرشک دیدہ استقبال کو تا آستیں آیا‘‘ یعنی آنسو آستین تک آگیا۔ بارش کے قطرے کو بھی سرشکِ باراں کہتے ہیں۔
بات صرف مسمار کے غلط تلفظ کی نہیں، کسی بھی ٹی وی چینل کے سامنے بیٹھ جائیں، متعدد الفاظ کا غلط تلفظ سننے کو ملے گا، بشرطیکہ خود آپ کو صحیح تلفظ معلوم ہو۔ ملکیت میں میم بالکسر ہے یعنی مِل کیت۔ لیکن کسی بھی ٹی وی چینل پر صحیح تلفظ سننے میں نہیں آیا۔ بڑے بڑے جگادری جو مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں، وہ بھی ’’مَل کیت‘‘ ہی کہتے ہیں۔ ذرا غور کریں کہ یہ مِلک سے ہے، اسے تو کوئی میم پر زبر کے ساتھ مَلک نہیں کہتا کہ اس کا مطلب کچھ اور ہوجائے گا۔ عدالتوں میں جو مقدمات چل رہے ہیں ان کی وجہ سے یہ لفظ روزانہ ہر چینل پر سننے میں آرہا ہے۔ ایسا ہی ایک لفظ استعفا ہے جس میں پہلا حرف بالکسر ہے، لیکن اسے بالفتح کہا جارہا ہے یعنی ’’اَس-تعفا‘‘۔ اِستعفا میں الف اور ت دونوں کے نیچے زیر ہے۔ لغوی معنیٰ ہے: معافی چاہنا۔ عموماً ملازمت چھوڑنے کی درخواست کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ویسے اس کا ایک اور استعمال بھی ہے یعنی ’’یہی ٹھہری جو شرط وصلِ لیلیٰ تو استعفا مرا بحسرت و یاس‘‘۔ یہ شاید پہلے بھی لکھا جاچکا ہے کہ لیلیٰ اور لیلہ میں فرق ہے۔ الف لیلہ کو عموماً الف، بے والے الف کی طرح کہا جاتا ہے، جب کہ یہ اَلْف بمعنی ہزار ہے، اور الف لیلہ کا مطلب ہے ہزار راتیں۔ (الف بروزن جبر)
بعض اخبارات میں ایک اور دلچسپ غلطی نظر سے گزرتی رہتی ہے، یعنی ’فی‘ کے ساتھ ’پر‘ کا استعمال۔ ایک اخبار کی سرخی ہے ’’فی پیکٹ پر اتنے روپے بڑھادیے گئے‘‘۔ اس میں فی کے ساتھ پر کی ضرورت نہیں۔ یعنی ’فی پیکٹ اتنے روپے بڑھا دیے گئے‘۔ ’فی‘ عربی میں حرفِ جار ہے اور مطلب ہے: درمیان، اندر، میں، ہر ایک (جیسے فی کس) اور ساتھ۔ فی الجملہ عربی میں متعلق فعل ہے یعنی حاصلِ کلام، القصہ، الغرض، قصہ مختصر، قریب قریب وغیرہ۔ اسی ’فی‘ کے ساتھ فی الحال، فی الحقیقت، فی الفور، فی المثل وغیرہ مطابق فعل ہیں۔ ’جملہ‘ صفت اور مذکر ہے اور مطلب ہے تمام، سب، کُل۔ ٹی وی چینلوں پر ایک دوا خانے کا اشتہار بڑے زور، شور سے چل رہا ہے جس میں کہا جارہا ہے ’’تمام جملہ امراض کا علاج‘‘۔ ’تمام‘ اور ’جملہ‘ کا ایک ساتھ استعمال کسی حکیم کے لیے جائز نہیں۔ یا تو ’تمام امراض‘ کہیں، یا ’جملہ امراض‘۔ مرض دور ہو نہ ہو، جملہ تو صحیح ہوجائے گا۔ ویسے مغلوں کے دور میں ’جملہ‘ نام بھی ہوتا تھا۔ اورنگزیب کے ایک جنرل کا نام ’میر جملہ‘ تھا۔ شاید ان میں جملگی ہو۔ یہ اصطلاح اردو والوں کی بنائی ہوئی ہے اور لغت کے مطابق اس کا مطب کلّیت ہے۔ ایک اور دوا کا اشتہار ٹی وی پر چل رہا ہے جس میں ایک بڑے عالم شفا کو مذکر اور دوسرے اسے مونث کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں، جب کہ شفا عربی کا لفظ ہے اور مونث ہے۔ حضرت مولانا مہینوں سے کہہ رہے ہیں ’’اس میں شفا رکھا ہے‘‘۔ کسی نے اب تک حضرت صاحب کو یہ نہیں بتایا کہ شفا مونث ہے اور خود وہ عربی کے عالم بھی ہیں۔
ایک ٹی وی چینل پر کراچی کی پرانی عمارت کا تعارف کرایا جارہا تھا اور تعارف کرانے والے نوجوان لائٹ ہائوس کو ’’پر شکوا‘‘ عمارت کہہ رہے تھے۔ پتا نہیں ان کے چینل میں سے کوئی ان کی تصحیح کرے گا یا نہیں، تاہم یہ لفظ ’’شکوا‘‘ نہیں، ’شکوہ‘ ہے، جس کا تلفظ کوہ ہے اور شین پر پیش ہے۔ علامہ اقبال کا شکوہ، جواب شکوہ الگ چیز ہے۔ شُکوہ کا مطلب ہے دبدبہ، رعب، شان و شوکت۔ بادشاہ شاہجہاں کے بڑے بیٹے کا نام دارا شُکوہ تھا۔ یہ فارسی کا لفظ ہے اور شِکوہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے شکایت، گلہ وغیرہ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سبق اپنے صحافی بھائیوں کو بار بار پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اخبارات میں ابھی تک ’ہامی بھرنا‘ اور ’’حامی بھرنا‘‘ کا فرق واضح نہیں ہوسکا۔
Window یعنی کھڑکی بہت عام سا لفظ ہے اور اردو میں بھی درآیا ہے، انگریزی میں یہ لفظ VINDAUGA سے آیا ہے جس کا مطلب ہے ’’ہوا کی آنکھ‘‘۔ اور کیسا لطیف استعارہ ہے۔

Share this: