پردے کا مسئلہ سمجھنے میں حائل رکاوٹیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے، اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام)، پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اُس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا، اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اُس کی مثال اُس چرواہے کی ہے جو (شاہی محفوظ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے (اور شاہی مجرم قرار پائے)، سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ (پس ان سے بچو اور) سن لو بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوگا سارا بدن درست ہوگا، اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔(صحیح بخاری۔ کتاب ’’ایمان کی حقیقت‘‘۔ حدیث نمبر 52)
دنیا ہزاروں سال سے تمدن میں عورت کا… یعنی عالمِ انسانی کے پورے نصف حصے کا… مقام متعین کرنے میں ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ کبھی افراط کی طرف جاتی ہے اور کبھی تفریط کی طرف… اور یہ دونوں انتہائیں اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔ تجربات اور مشاہدات اِس نقصان پر شاہد ہیں۔ اِن انتہائوں کے درمیان عدل و توسط کا مقام، جو عقل و فطرت کے عین مطابق اور انسانی ضروریات کے لیے عین مناسب ہے، وہی ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں متعدد ایسے موانع پیدا ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے لیے اس صراطِ مستقیم کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
یہ ایک امرِ واقع ہے کہ اسلام کا کوئی حکم اور کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو ثابت شدہ علمی حقائق کے خلاف ہو، بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ جو کچھ علمی حقیقت ہے وہی عین اسلام ہے۔ مگر اِس کو دیکھنے کے لیے بے رنگ نگاہ کی ضرورت ہے تاکہ ہر چیز کو اِس کے اصلی رنگ میں دیکھ سکے۔ وسیع نظر کی ضرورت ہے تاکہ ہر چیز کے تمام پہلوئوں کو دیکھ سکے۔ کھلے دِل اور سلیم فطرت کی ضرورت ہے تاکہ حقائق جیسے کچھ بھی ہوں ان کو ویسا ہی تسلیم کرے، اور اپنے رجحانات کے تابع بنانے کے بجائے رجحاناتِ نفس کو ان کے تابع کردے۔ جہاں یہ چیز نہ ہو وہاں اگر علم ہو بھی تو بیکار ہے۔
دنیائے مغرب کے لیے اِسلام کو سمجھنا اسی لیے مشکل ہوگیا ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہوگئی ہے۔ اُس کے پاس جتنا بھی علم ہے وہ سب کا سب ’اسلام‘ ہے۔ مگر خود اس کی اپنی نگاہ رنگین ہے۔ پھر یہی رنگ ’یرقانِ ابیض، بن کر مشرق کے نئے تعلیم یافتہ طبقے کی نگاہ پر چھا گیا ہے اور یہ بیماری ان کو حقائقِ علمیہ سے صحیح نتائج نکالنے اور مسائلِ حیات کو فطری نگاہ سے دیکھنے میں مانع ہوتی ہے۔
دوسری وجہ جو فہم صحیح میں مانع ہوتی ہے، یہ ہے کہ عام طور پر لوگ جب اسلام کے کسی مسئلے پر غور کرتے ہیں تو اس نظام اور سسٹم پر بہ حیثیتِ مجموعی نگاہ نہیں ڈالتے جس سے وہ مسئلہ متعلق ہوتا ہے، بلکہ نظام سے الگ کرکے مجرد اُس خاص مسئلے کو زیرِ بحث لے آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ تمام حکمتوں سے خالی نظر آنے لگتا ہے اور اس میں طرح طرح کے شکوک ہونے لگتے ہیں۔
’پردہ‘ کا مسئلہ بھی اسی کا شکار ہوا ہے۔ اگر آپ پوری عمارت کو دیکھنے کے بجائے صرف اس کے ایک ستون کو دیکھیں گے تو لامحالہ آپ کو حیرت ہوگی کہ یہ آخر کیوں لگایا گیا ہے۔ آپ کو اس کا قیام حکمتوں سے خالی نظر آئے گا۔ آپ کبھی نہ سمجھیں گے کہ انجینئر نے عمارت کو سنبھالنے کے لیے کس تناسب اور موزونیت کے ساتھ اسے لگایا ہے، اور اس کو گرا دینے سے پوری عمارت کو کیا نقصان پہنچے گا۔ بالکل ایسی ہی مثال پردے کی ہے۔ جب وہ اس نظامِ معاشرت سے الگ کرلیا جائے گا جس میں وہ عمارت کے ستون کی طرح ایک ضرورت اور مناسبت کو ملحوظ رکھ کر نصب کیا گیا ہے تو وہ تمام حکمتیں نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں گی جو اس سے وابستہ ہیں، اور یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہ آسکے گی کہ نوعِ انسانی کی دونوں صنفوں کے درمیان یہ امتیازی حدود آخر کیوں قائم کیے گئے ہیں۔ پس ستون کی حکمتوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس پوری عمارت کو دیکھ لیا جائے جس میں وہ نصب کیا گیا ہے۔
اب اسلام کا حقیقی پردہ آپ کے سامنے ہے۔ وہ نظامِ معاشرت بھی آپ کے سامنے ہے جس کی حفاظت کے لیے پردے کے ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔ اس نظام کے وہ تمام ارکان بھی آپ کے سامنے ہیں جن کے ساتھ ایک خاص توازن کو ملحوظ رکھ کر پردے کا رُکن مربوط کیا گیا ہے۔ وہ تمام ثابت شدہ علمی حقائق بھی آپ کے سامنے ہیں جن پر اس پورے نظامِ معاشرت کی بنا رکھی گئی ہے۔ اِن سب کو دیکھ لینے کے بعد فرمائیے کہ اِس میں کہاں کمزوری پاتے ہیں؟ کس جگہ بے اعتدالی کا کوئی ادنیٰ سا شائبہ بھی نظر آتا ہے؟ کون سا مقام ایسا ہے جہاں… کسی خاص گروہ کے رجحان سے قطع نظر محض علمی و عقلی بنیادوں پر… کوئی اصلاح تجویز کی جاسکتی ہو؟ میں علیٰ وجہِ البصیرت کہتا ہوں کہ زمین اور آسمان جس عدل پر قائم ہیں، کائنات کے نظم میں جو کمال درجہ کا تسویہ پایا جاتا ہے، ایک ذرّہ کی ترکیب اور نظامِ شمسی کی بندش میں جیسا مکمل توازن و تناسب آپ دیکھتے ہیں، ویسا ہی عدل و تسویہ اور توازن و تناسب اس نظامِ معاشرت میں بھی موجود ہے۔ افراط اور تفریط اور یک رُخی جو انسانی کاموں کی ناگزیر کمزوری ہے، اُس سے یہ نظام یکسر خالی ہے۔ اِس میں اصلاح تجویز کرنا انسان کی قدرت سے باہر ہے۔ انسان اپنی عقلِ خام کی مداخلت سے اگر اس میں کوئی ادنیٰ ردّ و بدل بھی کرے گا تو اس کی اصلاح نہ کرے گا بلکہ اس کے توازن کو بگاڑ دے گا۔
(تفہیم القرآن، جلد سوم)

Share this: