حرف گیری

کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے صحیح املا میں ابہام ہوجاتا ہے، مثلاً ’جز‘ یا ’جزو‘۔ ساتھی پوچھ بیٹھیں تو ہم خود اُلجھ جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ’جز‘ ہو یا ’جزو‘ دونوں ہی صحیح ہیں… یہ فارسی کے الفاظ ہیں۔ ان کے استعمال میں تھوڑا سا فرق ہے۔ ’جز‘ جزو کا مخفف ہے، فارسی اور اُردو میں جب مضاف ہوتا ہے تو وائو کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ’جز‘ کا مطلب ہے: غیر، سوائے، بدون، بغیر، بیشتر اس جگہ بجز مستعمل ہے، اس معنیٰ میں اضافت کے ساتھ مستعمل نہیں۔ اردو میں 16صفحوں کو بھی جز کہتے ہیں۔ پریس وغیرہ میں ’جز بندی‘ کا استعمال عام ہے۔ ایک شعر ہے:

ہوائے وصل و آبِ اشک و سوزِ ہجر و گردِ غم
یہ ہے ایک ایک جز ہم عاشقوں کے چار عُنصر کا

خاصا مشکل شعر ہے۔ جزدان اور جزودان جس میں قرآن کریم لپیٹ کر رکھا جاتا ہے، اور کچھ گھرانوں میں لپٹا ہی رکھا رہتا ہے۔ اس سے ایک اور لفظ ’جزرس‘ بمعنی ذہین، کفایت شعار، کنجوس بھی ہے۔ جزو کا ایک مطلب ریزہ ، پارہ وغیرہ بھی ہے۔ غذا کے بخوبی ہضم ہوکر خون میں شامل ہوجانے کو جزوِ بدن ہوجانا کہتے ہیں۔ داغؔ کا شعر ہے:

کیا غم سے پھولتا نہیں انسان چارہ گر
جو استخواں گھلا وہیں جزوِ بدن ہوا

(استخواں کا تلفظ’ استخاں‘)
ایک لفظ ’جمعیت‘ ہے جو جمع سے ہے، تاہم ایک لفظ ’جمیع‘ ہے جس میں میم کے بعد ’ی‘ آتی ہے۔ جمعیت (ع) کا مطلب ہے آدمیوں کا گروہ (مونث)۔ علاوہ ازیں فراہمی، اکٹھا ہونا، جمگھٹا وغیرہ ۔ جمیع صفت ہے، کل، سب، مجموع وغیرہ۔ دونوں ہی عربی کے الفاظ ہیں، مصدر جمع ہے۔ اس سے دیگر الفاظ بنتے ہیں مثلاً دل جمعی یعنی اطمینان، تسکین۔ جمعیتِ خاطر یعنی تسلی، تشفی۔ تسلی وغیرہ کے لیے اردو میں کہا جاتا ہے ’’خاطر جمع رکھیے‘‘۔
پاکستان میں جمہور اور جمہوریت کا چرچا برسوں سے ہے۔ علامہ اقبالؒ بھی کہہ اٹھے تھے کہ:

سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹادو

نہ تو ایسا زمانہ آسکا اور نہ ہی نقوشِ کہن مٹائے گئے۔ اس سے قطع نظر دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہور عربی کا لفظ ہے اور عربی میں اس کا مطلب ہے: ریت کا ڈھیر۔ پاکستان میں جمہور کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس سے ظاہر ہے کہ حکمران بھی ان معنوں سے واقف ہیں۔ علامہ اقبال نے تو مسلمان کو راکھ کا ڈھیر قرار دیا تھا۔ بہرحال جمہور کا اصطلاحی معنی ہے: آدمیوں کا بھاری گروہ، تمام، سب وغیرہ۔
جمہور ہی کی طرح کا ایک دلچسپ لفظ ہے ’’حرف‘‘۔ عربی کا یہ لفظ اردو میں بہت عام ہے۔ بچوں کی خواندگی کا آغاز ہی حرف شناسی سے ہوتا ہے، لیکن عربی میں اس کا مطلب ہے: کنارہ، تیزی، دھار، پہاڑ کی چوٹی۔ حرف تہجی سے سب ہی واقف ہیں۔ اہلِ فارس نے بمعنی سخن اور عیب بھی استعمال کیا ہے جیسے فلاں پر حرف آرہا ہے۔ اس کا مطلب بات، سخن، کلمہ، لفظ وغیرہ ہے۔ اردو میں کوئی کنارہ یا پہاڑ کی چوٹی کے معنوں میں استعمال نہیں کرتا مگر یہ معانی لغت میں ہیں۔ ایک شعر ہے:

سنا ہے غیر کا گودا ہے اس نے ہاتھ پہ نام
اگر یہ سچ ہے تو حرف اپنی زندگی پر ہے

حرف کا مطلب ہے الزام آنا، عیب لگنا۔ ذوقؔ کا شعر ہے:

حرف آیا جو آبرو پہ مری
ہیں یہ چشمِ پر آب کی باتیں

گرامر میں حرف علت بھی ہوتا ہے، اردو زبان پر حرف مطلب بھی آجاتا ہے۔
برس مذکر ہے جیسے ’ایک برس گزر گیا‘۔ اس کی جمع ’برسوں‘ بنے گی جیسے ’مرے گھر وہ آئے تھے برسوں کے بعد‘۔ اس کی جمع ’برسیں‘ نہیں بنے گی۔ ہم اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ سال کی جمع ’’سالوں‘‘ خواہ درست ہو لیکن اس سے گریز کیا جائے ورنہ ’’سالے‘‘ ناراض ہوسکتے ہیں۔ اس کی جگہ یا تو ’برسوں‘ لکھیں یا ’کئی سال‘ جیسے ’میں اسے کئی سال سے جانتا ہوں‘۔
’سنہرا‘ اور ’سنہری‘ دونوں لفظ استعمال میں آتے ہیں۔ یہ اسم صفت ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ موصوف مذکر ہوگا تو ’سنہرا‘ لکھیں گے جیسے ’سنہرا رنگ‘ ؎ ’’روپ بجلی کا سنہرا، رپہلا بادل‘‘۔ موصوف مونث ہوگا تو ’سنہری‘ لکھیں گے جیسے سنہری رنگت، سنہری جوتی۔ ؎ ’’تاکتا ہے تُو ثریا کی سنہری بوتل‘‘۔
سید مسعود حسن رضوی (مرحوم) مشہور ادیب اور اردو دان تھے۔ ڈاکٹر محمد حسن نے ایک مضمون میں مرحوم کا ایک واقعہ لکھا ہے:
’’ایک بار جوش ملیح آبادی نے، جو خود زبان داں تھے اور لفظ لفظ کی صحت کا خیال رکھتے تھے، اپنی مشہور نظم پڑھی جس کا ٹیپ کا مصرع تھا:

رواں دواں بڑھے چلو، رواں دواں بڑھے چلو

داد سے چھتیں اڑ گئیں۔ جلسے کے بعد چائے پر مسعود صاحب نے جوش ملیح آبادی کو الگ بلا کر بڑی نرمی اور شائستگی سے کہا ’’جوش صاحب! جب یہ نظم شائع کریں تو یہ نوٹ ضرور دیجیے گا کہ ’’رواں دواں‘‘ یہاں لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، محاورے کے اعتبار سے نہیں‘‘۔ جوش صاحب چوکنا ہوگئے، بولے ’’اور محاورے میں اس کا کیا مفہوم ہے؟‘‘ مسعود صاحب نے بتایا ’’رواں دواں کا محاورے کے اعتبار سے وہ مفہوم ہے جو صفی لکھنوی نے یتیموں کے بارے میں اپنی نظم میں ادا کیا ہے: رواں دواں ہیں، غریب الدیار ہیں ہم لوگ۔ رواں دواں یعنی مارے مارے پھرنے والے بے سہارا لوگ۔‘‘
شاید اسی لیے کہتے ہیں ’’کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے‘‘۔ لیکن اب تو جو آتی تھی وہ بھی جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

Share this: