سانحۂ بیلہ…ذمے دار کون؟

ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی ہے جو ریاستی اداروں کی ناکامی، نااہلی اور بدعنوانی کی گواہی دیتی ہو۔ ہماری قومی زندگی کا پورا جسم زخمی ہے، قومی زندگی کا کون سا مسئلہ ایسا ہے جسے مرکزی حیثیت حاصل نہ ہوگئی ہو! اب حالت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ حالات کی اصلاح کے لیے آغاز کہاں سے ہو، اس کا بھی تعین نہیں کیا جاسکتا۔ خبروں کے ہجوم میں دل دہلا دینے والی کئی خبریں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک دل دہلا دینے والی خبر بلوچستان سے آئی ہے جو سانحہ ساہیوال کی وجہ سے پس منظر میں چلی گئی ہے۔ سانحہ ساہیوال کی طرح یہ خبر بھی ہمارے ریاستی اداروں کی ناکامی کا اعلان بن گئی ہے۔ یہ خبر بظاہر سڑک پر ہونے والے ایک حادثے کی ہے جو ملک کا معمول ہے۔ اس حادثے کی سنگینی یہ ہے کہ اس میں 36 افراد زندہ جل گئے۔ یہ حادثہ بلوچستان کے علاقے بیلہ میں پیش آیا جہاں پنجگور سے کراچی آنے والی مسافر کوچ ایک ٹرک سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کوچ میں آگ بھڑک اٹھی۔ مسافر کوچ کے ٹرک سے ٹکراکر آگ لگنے کا سبب یہ تھا کہ مسافر کوچ میں ایران سے اسمگل ہونے والا تیل لدا ہوا تھا۔ ابتدائی خبروں کے مطابق مسافر کوچ میں آگ لگنے کے بعد صرف 5 مسافر گاڑی سے کود کر جان بچانے میں کامیاب ہوسکے، 30 مسافر گھنٹوں جلتے رہے۔ کچھ مسافر شدید زخمی حالت میں گاڑی سے نکال لیے گئے جو زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ اس سانحے نے بہت سارے سوالات ہمارے حکمرانوں اور قوم کے سامنے کھڑے کردیے ہیں۔ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے کُل پاکستان کا تقریباً 43 فیصد رقبہ رکھتا ہے۔ بلوچستان کے ساتھ ساحلی رقبہ 60 فیصد سے زائد ہے، بلوچستان کی آبادی بہت کم ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال اور تزویراتی جغرافیائی اہمیت کے باوجود یہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ ہے۔ اس صوبے کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ پاکستان، ایران اور افغانستان تینوں مسلم برادر ملک ہیں اور سرحدوں کے آر پار آبادی کے بھی فطری تعلقات ہیں۔ اگر ایران کے ساتھ پاکستان کی زمینی تجارت کو باضابطہ کردیا جائے تو بلوچستان کی آبادی کے معاشی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری حکومت کی عوام دشمن ذہنیت ہے جو مسائل کے حقیقی اور فطری حل سے گریز کرتی ہے۔ بلوچستان میں غربت اور محرومی کی وجہ سے اضطراب ہے۔ اس اضطراب کو بیرونی قوتیں استعمال کرتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی حقیقی ذہنیت کیا ہے، اس کا اندازہ سابق فوجی آمر جنرل پرویزمشرف کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے، انہوں نے بلوچستان کے رہنمائوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایسی جگہ سے میزائل تمہیں مارے گا جہاں سے تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا‘‘۔ یہ ذہنیت ہے جس کا ردعمل اپنے ہی شہریوں کو گمراہ کرتا ہے، اسی وجہ سے ماورائے عدالت قتل اور لاپتا افراد کا مسئلہ بلوچستان کا بھی سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ریاستی اداروں کی کارکردگی کیا ہے اس کی شہادت سانحۂ بیلہ سے ہوسکتی ہے۔ اس سانحہ نے یہ بتایا کہ بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ یہ وہ ’’راز‘‘ ہے جس کا سب کو علم ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایران کے ساتھ زمینی تجارت کو باضابطہ کیا جائے تاکہ تیل کی ترسیل قواعد و ضوابط کے مطابق کی جاسکے۔ لیکن ایسا کرنے سے ’’نامعلوم‘‘ وجوہ کی بنیاد پر گریز کیا جارہا ہے۔ صرف پیٹرول اور تیل ہی نہیں، بلوچستان کے باشندوں کی بڑی تعداد کی معیشت کا انحصار اسمگلنگ پر ہے جس سے ہمارے حکمرانوں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کوسٹل ہائی وے پر چلنے والی تمام مسافر بسوں میں ہزاروں لیٹر پیٹرول کی ترسیل کی جاتی ہے۔ کیا ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس خطرناک اقدام سے بے خبر ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہے، سب کو معلوم ہے کہ ایرانی پیٹرول بلوچستان میں بڑی مقدار میں آتا ہے۔ پیٹرول کی جس طرح ترسیل کی جاتی ہے اس کے لیے حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ یہاں تک کہ مسافر بسوں اور کوچوں کو بھی پیٹرول کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو چلتے پھرتے آتش فشانی دہانے ہیں۔ پیٹرول عام استعمال کی شے ہے، پاکستان جتنا چاہے ایران سے پیٹرول خرید سکتا ہے، لیکن اس تجارت کو باضابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے پیٹرول کی ترسیل کے نظام میں حفاظتی قوانین کی پابندی بھی نہیں کی جارہی۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر پیٹرول سمیت ایرانی مصنوعات کی زمینی تجارت کو باضابطہ کرنے سے گریز کی وجہ سے اسمگلنگ فروغ پا رہی ہے، جبکہ بلوچستان کے علاقے پاکستان کے بڑے شہروں سے دور ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت کو باضابطہ بنا کر بلوچستان کے باشندوں کے روزگار کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے غیر قانونی تجارت یعنی اسمگلنگ کو فروغ ملتا ہے، جس کی وجہ سے جرائم پیشہ ذہنیت کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔ بلوچستان کے ایک سرکاری افسر کے گھر سے کروڑوں روپے نقد بازیاب ہونا اس بات کی علامت ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے۔ جس ملک میں ایسے لوگ طاقتور ہوجائیں جو اپنے مفادات کے لیے ایک فیکٹری میں آگ لگواکر زندہ انسانوں کو جلا کر راکھ کردیں اور اس کے مجرموں کو سزا بھی نہ دی جاسکے، اس ملک میں کسی حادثے میں زندہ جل کر ہلاک ہونے والوں کی کس کو پروا ہوسکتی ہے! سانحہ بلدیہ ٹائون اس کی زندہ مثال ہے۔ بلوچستان میں پیٹرول کی غیر محفوظ ترسیل ایک زندہ مسئلہ ہے۔ اس وقت کرپشن کا خاتمہ قومی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے ادارے متحرک اور فعال ہیں، لیکن کرپشن اور بدعنوانی ہماری قومی زندگی میں جس حد تک پھیلی ہوئی ہے اس کا علاج بھی آسان نہیں ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی نے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سانحہ بیلہ بھی ایک قتلِ عام ہے۔ اس قتلِ عام اور دہشت گردی کے ذمے داروں کا تعین ضرور ہونا چاہیے۔

Share this: