ایس ایم ظفر کے صاحبزادے کی رحلت

پاکستان کے سینئر اور انتہائی ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کے صاحبزادے، اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر بیرسٹر علی ظفر کے بھائی طارق ظفر انتقال کرگئے۔ وہ علی ظفر کے ساتھ اپنے والد کی مزاج پرسی کے لیے کراچی پہنچے تھے، جو آغا خان اسپتال میں عارضہ قلب کے علاج کے لیے داخل تھے۔ ہوائی اڈے ہی پر ان کا انتقال ہوگیا۔ایران فی الوقت جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ امریکی انٹیلی جنس کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے شواہد نہیں ملے ہیں وہیں ٹرمپ انتظامیہ کی امیدوں کے باوجود اس بات کے امکانات کم ہیں کہ شمالی کوریا اپنے تمام جوہری ہتھیار تلف کردے گا۔ حال ہی میں جاری کی جانے والی ’ورلڈ وائیڈ تھریٹ اسیسمنٹ‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اور روس کی جانب سے سائبر حملوں کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، اور یہ دونوں ممالک 2020ء کے امریکی انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

افغانستان: امریکی فوج کا انخلا… نئے خطرات

خطے کی بدلتی صورت حال میں ہمیں بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ہم ایک طویل عرصے سے اس جنگ میں مبتلا چلے آئے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک ہمیں یقین تھا کہ ہم نے روسی سامراج کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔ اس کا گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب چکناچور کردیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی مجبور کردیا ہے کہ وہ ہماری پشت پناہی کریں۔ اب کہتے پھر رہے ہیں یہ ہماری جنگ تھی ہی نہیں، اور یہ کہ پاکستان اب پرائی جنگ کبھی نہیں لڑے گا۔ نہ وہ بیانیہ سو فیصد درست تھا، نہ یہ بات صحیح ہے۔ اس بحث کو رہنے دیجیے، موجودہ صورتِ حال کا فی الحال جائزہ لیتے ہیں۔ ہمیں دوچار باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں، اور ابھی سے سوچ لینا چاہیے کہ افغان جنگ کے خاتمے کے بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے، یہاں فتح کس کی ہونے والی ہے، ہم کہیں تاریخ کے غلط رخ پر تو خود کو صف بستہ نہیں کررہے! جنگ کا خاتمہ جس صورت میں ہے، ہمارے لیے مشکلات ختم ہونے والی نہیں۔ یہ جو بیانیہ ہے کہ ہمیں بس یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، اس کے بعد خیر ہی خیر ہے، افغانستان سے امریکی افواج مکمل طور پر جاتی ہیں تو بھی ایک ایسا طوفان اٹھے گا کہ خدا کی پناہ۔ جنگ نے اس سرزمین کو لہولہان کر رکھا ہے۔ دشمنیوں کی ایسی آماجگاہ بنادیا ہے کہ آسانی سے یہاں امن و سکون ہونے والا نہیں۔ ہمیں اپنے پتّے بہت احتیاط سے کھیلنا ہیں۔ یہاں امریکہ اور روس دونوں کا بہت خون بہا ہے۔ دونوں کے مفادات کا ٹکرائو ہوا ہے۔ چین اس لڑائی سے الگ رہا ہے، مگر وہ اس سرزمین سے دست بردار ہونے کو کسی صورت تیار نہیں ہوگا۔ اس جنگ کے اثرات دور دور تک ہیں۔ مذاکرات قطر میں ہورہے ہیں، آج سے نہیں ایک لمبے عرصے سے۔ ایک زمانے میں اسلام آباد میں بھی ہوئے، مگر اب یہاں نہ ہو پائے۔ بیجنگ میں بھی بات چیت کا ڈول ڈالا گیا۔ روس میں بھی ابھی چند روز پہلے ہی بازار گرم ہوا تھا۔ ترکی الگ مذاکرات کا مرکز رہا ہے۔ سعودی عرب اس جنگ میں بری طرح ملوث چلا آتا ہے۔ ایران نے اپنے کارڈ بڑے سلیقے سے کھیلے ہیں۔ بھارت بھی اپنے دانت تیز کیے بیٹھا ہے۔ ایسے میں میرا مشورہ ہے کہ ہم بڑھکیں اور ڈینگیں مارنے کی عادت ختم کریں۔ خارجہ امور میں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ یہ نمبر گیم بھی نہیں ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ یہ اچانک کیا ہوگیا تھا کہ ہمیں گالیاں دیتا ہوا ٹرمپ اگلے ہی روز پیامبر بھیجتا ہے کہ میرے پیارے پاکستان، کچھ مدد کرو۔ دوستی کا حق ادا کرو۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے خزانوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ حکومت کو حق ہے کہ وہ اسے اپنی سیاسی و سفارتی کامیابی قرار دے، مگر ذرا احتیاط سے۔ نہ صرف یہ کہ اس میں خطرات بہت ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کا کسی لمحے بھی الٹ جواب آسکتا ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں خوامخواہ سینہ نہیں پھلانا چاہیے۔ ہم اس کھیل میں نہ بادشاہ ہیں نہ ملکہ، اور فرزیں سے تو پوشیدہ ہیں شاطر کے ارادے۔ اگر امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ اٹھارہ ماہ کے اندر اپنی افواج افغانستان سے لے جائے تو شاید یہ امریکہ کے لیے آسان نہ ہو، اور اگر ایسا ہوجائے تو بھی افغانستان کی صورت حال ایک دم شاندار نہیں ہوجائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اس خطے کی ایک بہت بڑی جنگ میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔ مگر اس کے بعد ہم ایک دوسری جنگ میں اس طرح شریک ہوئے کہ کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ مجاہدین سے مل کر روس کے خلاف جنگ کا منظرنامہ یکسر مختلف تھا، اور امریکہ کے مشتعل ہونے کے بعد طالبان کے خلاف ان کی جنگ بالکل ایک الگ پس منظر رکھتی تھی۔ ہمارے بیانیے کی اس سے بڑی شکست اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے دونوں کو گڈمڈ کرکے ایک کردیا ہے! ایسا ہے نہیں، اور اب جو ہونے والا ہے اس میں بھی ہم بہت کچھ ماضی کی طرح گڈمڈ کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی اچھی طرح اندازہ ہونا چاہیے کہ ہم ایک دوسری جنگ کی لپیٹ میں بھی آچکے ہیں۔ سی پیک کے بارے میں ہمارا موجودہ متذبذب بیانیہ اس جنگ کا ایک حصہ ہے۔ جس دن پاکستان کے ایک وزیر نے کہا تھا کہ سی پیک کو ایک سال کے لیے موخر کردینا چاہیے، اُس دن ہمیں اندازہ ہوجانا چاہیے تھا کہ وہ جنگ شروع ہوچکی ہے۔ یہی وہ دن تھے جب امریکہ کی طرف سے ہمیں دھمکیاں ملنے لگی تھیں۔ یہ تک کہا گیا کہ سی پیک ایک متنازع علاقے میں ہے۔ یہ خیال امریکہ کو پہلی بار آیا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ کسی نے ایک بڑا دلچسپ تبصرہ کیا تھا: پاکستان کو 5 بلین ڈالر درکار ہیں۔ چین سے بھی مل سکتے ہیں، آئی ایم ایف سے بھی۔ ہمیں طے کرنا ہے کہ ہمیں کہاں سے لینے ہیں۔ دونوں کے الگ الگ مطلب ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جب ہمیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے قرضے کی پیش کش ہوئی۔ شاہ محمود قریشی شاید اس اعتبار سے درست کہتے ہیں کہ ہمیں پیسے کا تو مسئلہ ہے ہی نہیں۔ گویا یہ تو کہیں سے مل سکتا ہے۔ طے یہ کرنا ہے کہاں سے لینا ہے۔ سیاسی طور پر دونوں کے الگ الگ معانی ہیں۔ ہم نے اب تک جو کام کیے ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم پھر مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے ایسا کیا تو ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہوں گے۔ میری بات سمجھ گئے ناں۔ دہرائے دیتا ہوں اگر ہم نے طے کرلیا ہے کہ ہمیں دوسروں کی جنگ نہیں لڑنا تو ہمیں اپنی معاشی پالیسی اور اسٹرے ٹیجک حکمت عملی کو بھی اس سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ ہم سی پیک کو مؤخر تو کرسکتے ہیں، ختم نہیں کرسکتے۔ چین کی بھی اس میں بہت سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ صرف معاشی سرمایہ کاری نہیں، اور بہت طرح کی سرمایہ کاری بھی۔ ہمارا نیا سیکورٹی بندوبست اگرچہ ابھی تک امریکہ سے پوری طرح آزاد نہیں ہوا، مگر چین کی مدد سے ہم اس کا جو متبادل بنانا چاہتے ہیں وہ بھی ابھی تک راہ گزر میں ہے۔ اس کے کچھ چرچے مغربی پریس میں ہو بھی رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اس میدان میں خودانحصاری ملے گی تو وہ صرف چین کی مدد سے۔ ہم نے ایک دوسرے کا بہت ساتھ دیا ہے۔ امریکہ یا مغرب سے ہم نے جو کچھ سیکھا ہے وہ ریورس انجینئرنگ سے ہے۔ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی سے نہیں۔ چین کا معاملہ دوسرا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی چین ہی کے ذریعے پڑے گی۔ البتہ ہمیں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو یہ بتانا ہوگا کہ ہمارے ہاں امکانات کی ایک دنیا ہے۔ پھر کیسے نہ ہوگا کہ یہ سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ چین سے البتہ ہمیں اس طرح کی معاملہ فہمی نہیں کرنا پڑی۔ اس سے تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔ یہ نہیں کہ اس میں چین کا کوئی مفاد نہیں۔ ایسا نہیں ہے، چینی قیادت کی دوررس نگاہوں نے جانچ لیا تھا کہ پاکستان مستقبل میں ان کے لیے کتنا اہم ہوگا۔ موجودہ صدر سے پہلے بھی ڈینگ ژیائو پینگ، مائوزے تنگ، چواین لائی پاکستان کی اس اہمیت سے واقف تھے۔ یوں کہہ لیجیے یہ تعلقات ٹھوس مفادات کی بنیادوں پر استوار ہوئے ہیں، اور اب انہیں جڑ سے اکھاڑنا ممکن نہیں۔ یہ کوئی ’’تجاوزات‘‘ نہیں، سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اگر ہم نے ان چند باتوں کا خیال نہ رکھا تو مستقبل میں بیٹھے پھر ہاتھ مَل رہے ہوں گے کہ ہم سے ہاتھ ہوگیا۔ ہم پھر اعلان کررہے ہوں گے کہ ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ یقیناً ہمارا مفاد اس بات میں ہے کہ افغانستان پُرامن و پُرسکون ہو۔ ہمارے بارے میں نہ یہ سمجھا جائے کہ ہم اس سرزمین پر نظر رکھتے ہیں، نہ یہاں مختلف ملکوں اور قوموں کے مفادات سے ہمارا بے معنی تصادم ہو۔ یقیناً بھارت یہاں ہمارے پچھواڑے میں آکر ہمارے لیے پرابلم پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں اس کے ارادے ناکام کرنا ہیں، وگرنہ اس سرزمین سے ہمارے جو تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتے ہیں، ان کا توڑبھارت کے پاس نہیں ہے۔
(سجاد میر، روزنامہ 92۔ پیر 28 جنوری 2019ء)

Share this: