تیسرا منی بجٹ بااثر طبقات۔۔۔ غریب عوام کے لیے مہنگائی

تحریکِ انصاف نے 5 مہینوں میں دوسرا منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے، اور یوں ایک سال کے اندر 3 منی بجٹ پیش ہوچکے ہیں جو نیا ریکارڈ ہے۔ تیسرے فنانس بل کی برکت ہی تھی کہ وزیرِاعظم عمران خان بھی 3 ماہ سے زائد عرصے کی غیر حاضری کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ کو اصلاحاتی پیکیج قرار دیا ہے۔ اس پر مختصر اور جامع تبصرہ یہی ہوسکتا ہے کہ یہ بجٹ گا،گی، گے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جن اشیاء پر حکومت نے ریلیف دیا ہے، اس پر عمل درآمد اگلے سال یکم جولائی سے ہوگا۔ جب یہ حکومت اگلا بجٹ لائے گی تو اس میں ایک بار پھر اسی ریلیف کی کہانی دہرائی جائے گی۔ تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی ہے 12 ارب ڈالر خسارے کی بات کرتی چلی آرہی ہے، اور اب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے فراہم شدہ معاشی سہاروں کے باوجود ہماری ریاست کو اس برس اپنا گزارہ کرنے کے لیے کم از کم 200 ارب روپے مزید درکار ہیں، لہٰذا اس کا حل حکومت نے منی بجٹ میں تلاش کیا۔ منی بجٹ کے اقدامات سے ملکی معیشت کے بڑے لابی گروپس یعنی بینک، بڑے کاروباری ادارے، آٹو موبائل، کمرشل امپورٹرز، فرٹیلائزر سیکٹر اور اسٹاک مارکیٹ کے اسٹیک ہولڈر فائدہ اٹھائیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت جب قائم ہوئی تھی تو اس نے بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اصل مسائل قرار دیا۔ منی بجٹ میں بھی ان دونوں خساروں میں اضافے کا رونا رویا، لیکن اصلاح نہیں کی۔ جن اقدامات کا اعلان کیا گیا وہ حیران کن اس لیے سمجھے جائیں گے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ سے حکومت کی قرض وصولی میں کمی ہوگی اور بجٹ یا مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوگا، اسی کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے سے درآمدات میں اضافہ متوقع ہے جس سے تجارتی خسارے میں اضافہ ناگزیر ہے، اس کا اثر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی اضافے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اس فنانس بل میں کوئی انقلابی نوعیت کے اقدامات تجویز نہیں کیے گئے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے روپے کی قدر میں عدم استحکام۔ حکومتی اقدامات اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید 10 روپے تک کمی ہوسکتی ہے، یوں مہنگائی بڑھے گی جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کو بنیادی شرح سود میں اضافہ کرنا ہوگا، جس سے معاملات مزید خرابی کی طرف جاسکتے ہیں۔
بجٹ کی روایت یہی رہی ہے کہ اسے قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں سینیٹرز اپنی سفارشات قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھیجتے ہیں۔ حکومت ان سفارشات کو تسلیم کرے یا نہ کرے یہ الگ معاملہ ہے، لیکن حالیہ بجٹ تو ایک نئی روایت کے ساتھ پیش کیا گیا، قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ نے اسے پیش کیا اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر سینیٹ کے میدان میں اتارے گئے، سینیٹ نے ابھی اپنی سفارشات بھی مرتب نہیں کیں کہ بجٹ منظور کیے بغیر ہی قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی اصلاحاتی پیکیج میں جو کچھ بھی اعلان ہوا ہے اُس پر عمل درآمد ہونا شروع ہوگیا ہے۔
وزیر خزانہ بجٹ تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن کے جملوں کا جواب دیتے رہے۔ ان کی توجہ بجٹ پیش کرنے پر کم، اور اپوزیشن کا جواب دینے میں زیادہ رہی۔ بجٹ میں حکومت نے بجلی، گیس اور کھاد کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا عندیہ دیا، بجٹ تقریر سے عین تین گھنٹے پہلے نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 57 پیسے فی یونٹ اضافہ کرنے کا فیصلہ سنایا، گیس کی قیمت حکومت پہلے ہی 143 فی صد بڑھا چکی ہے، ڈالر کا ریٹ 98 روپے سے 140 روپے تک جا پہنچا، اور کھاد کی قیمت پہلے چار سو روپے بڑھائی اور اب دو سو روپے کا ریلیف دے دیا۔ ملکی صنعت ہو یا میڈیا انڈسٹری، حکومت نے اپنے حالیہ اصلاحاتی پیکیج میں صرف مالکان کو فائدہ پہنچایا ہے، اور بجٹ سے بڑے سیٹھوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔ ناجائز منافع خور سیٹھوں سے پیسہ نکلوانے کا کوئی طریقہ اور پلان بجٹ میں نہیں دیا گیا۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتیں بڑھا دیں۔ بجلی کی قیمت بڑھے گی تو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، اور اس کے نتیجے میں مہنگائی ہوگی۔ حالیہ ضمنی یا منی بجٹ میں جن کاروباری لوگوں کو فائدہ دیا گیا وہی تو ڈالر کے ریٹ میں اضافے کا باعث بنے تھے جس سے ادویہ سمیت اشیائے ضروریہ سمیت زندگی کی ہر چیز مہنگی ہوگئی۔ ضمنی بجٹ میں ادویہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے کوئی اقدامات تجویز نہیں کیے گئے، تعلیم اور صحت کا شعبہ بھی نظرانداز کیا گیا۔ بلاشبہ بجٹ سے متعلق یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے ملک میں بجٹ تو اب خوف کی علامت بن گیا ہے۔ بجٹ عوام پر بم اور بجلی بن کر گرتا ہے، لیکن اب منی بجٹ زیادہ زہریلا ثابت ہوا ہے، حکومت اس کے ذریعے سب کچھ نچوڑ کر لے جاتی ہے۔ اس بجٹ کے بارے میں جو توقعات تھیں، یہ ویسا ہی ثابت ہوا۔ اسد عمر کی جانب سے معاشی اصلاحات کے پیکیج میں کوئی ایسی خاص بات نظر نہیں آئی جس سے معیشت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی جانب کوئی ٹھوس قدم اٹھتا نظر آیا ہو۔ حکومت کے حامی دانشور، معاشی ماہرین اور تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی بجٹ کی تعریف کررہے ہیں، لیکن اس بجٹ میں عام آدمی، چھوٹے طبقات، مزدور اور کسان کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ ہر حکومت بجٹ تیار کرتے ہوئے وسائل کی فراہمی، بجٹ خسارے اور کرنٹ خسارے کی صورت حال کو مدنظر رکھتی ہے۔ بجٹ میں حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بیرونِ ملک اثاثوں کے مالکان کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ کیا یہ پاکستان کی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم قرار پائے گی؟ جس سے آف شورکمپنیوں کے پاکستانی مالک بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ بیرونِ ملک اثاثوں پر شاہد خاقان عباسی حکومت کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم دی گئی تھی، اُس وقت تحریک انصاف نے اس کی مخالفت کی تھی۔ تحریک انصاف جس ایمنسٹی اسکیم کو حرام قرار دے رہی تھی اب اسے حلال سمجھ رہی ہے۔ بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے اقدامات بھی نظر نہیں آتے، حکومت کو دہرے خسارے کا سامنا ہے جس میں کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ خسارہ شامل ہیں، مگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دراصل حکومت کے بجٹ خسارے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حکومت نے معاشی ترقی کے لیے مراعات دی ہیں اور یہ دراصل چھوٹی بُرائی کے انتخاب جیسا ہے۔ اگر تحریک انصاف کے پہلے اور دوسرے ضمنی بجٹ کا مشترکہ طور پر جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پہلے فنانس بل میں تحریک انصاف نے بجٹ خسارے کو کم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن کچھ ہی ماہ میں دوسرا بل تاجروں، صنعت کاروں اور مضبوط لابیز کو مراعات دینے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ پہلے ضمنی بجٹ میں ٹیکسوں کی وصولی بڑھانے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کا ہدف تھا، مگر دوسرے ترمیمی فنانس بل میں دراصل مضبوط لابیز کو مراعات دے دی گئی ہیں۔ پہلے ضمنی بجٹ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے 980 ارب روپے خسارے کی یہ نوید بھی سنائی تھی کہ خسارہ 2.7 ہزار ارب روپے کی سطح پر پہنچ جائے گا جو جی ڈی پی کا 6.6 فیصد ہوگا اور یہ خسارہ پاکستان کی تاریخ کا بلند ترین خسارہ ہوگا۔ اب دوسرے فنانس بل میں بعض اہم شعبوں پر ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے جس سے خسارے میں مزید اضافہ ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے بقول اسے بیرونی وسائل کی طلب و رسد کے مسائل کا سامناتھا، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر سے زائد رہا تھا جو تاریخ کا بلند ترین خسارہ تھا۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے سابقہ حکومت نے 34 ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے، اور یوں ملکی قرضوں کا حجم 95 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا جس پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے مالی معاونت کے پیکیج ملے۔ حکومت کی جانب سے لیے گئے بیرونی قرضے ملکی تاریخ میں قلیل ترین مدت میں لیے جانے والے سب سے زیادہ قرضے ہیں۔
ضمنی بجٹ میں زراعت کے حوالے سے جو اعلانات کیے گئے ہیں، اُن سے کسان کو کم جبکہ بینکوں اور فرٹیلائزر سیکٹر کو براہِ راست زیادہ فائدہ ہوگا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ہی یوریا کھاد کی کمی کے حوالے سے اقدامات پر فیصلے کیے گئے تھے اور ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد کی درآمد کے علاوہ اس پر 7 ارب روپے زرِ تلافی دینے کا اعلان بھی پہلے ضمنی بجٹ میں کیا گیا تھا۔ ضمنی بجٹ میں اسد عمر نے نوید سنائی ہے کہ فرٹیلائزر سیکٹر پر عائد گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کوختم کرنے کی منظوری بھی کابینہ دے گی جس سے یوریا کی فی بوری قیمت مزید 200 روپے سستی ہوجائے گی۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق حکومت کو کاروباری اداروں سے سالانہ 1.2 ارب روپے کا خسارہ ہورہا ہے جو جی ڈی پی کا 4 فیصد ہے۔ جبکہ گزشتہ 5 سال میں سرکاری کاروباری اداروں کا خسارہ 3.47 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔ اس اہم ترین معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے تاحال کوئی پالیسی نہیں دی ہے۔ ضمنی بجٹ کے ذریعے عوام پر مجموعی طور پر 3.8 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے، برآمدکنندگان کو خام مال کی درآمد پر 6 ارب 80کروڑ روپے کی ڈیوٹی کی چھوٹ دی گئی۔ ایف بی آر کو پاکستانیوں کے بیرونِ ملک پکڑے جانے والے اثاثوں پر عبوری ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ 220 درآمدی خام مال پرعائد5 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی کم کرکے3 فیصد، جب کہ 83 اشیاء پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کردی گئی ہے۔ جو خام مال ٹیکسٹائل، پلاسٹک، لیدر، شمسی توانائی، الیکٹرانکس، فارماسوٹیکل و دیگرشعبوں میں استعمال ہوتا ہے، اس کی درآمد پر برآمدی صنعت کو 6 ارب 80 کروڑ ڈالرکا ریلیف ملے گا۔ سستا گھر اسکیم، زرعی قرضے اور چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضے فراہم کرنے والے بینکوں کے لیے انکم ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصدکرنے، فائلرکی طرف سے بینک سے پیسے نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی مکمل چھوٹ، اور بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے نان فائلر کے لیے بھی ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جس سے2 سے 3ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ ڈیوٹی میں کمی کے باوجود آئندہ برس کا ریونیو ہدف 4398 ارب روپے برقرار رکھا گیا ہے، اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ حکومت ریونیو کے لیے اب ایس آر اوز جاری کرے گی۔ سرمایہ کار خوش ہیں کہ سپرٹیکس ختم کردیا گیا ہے، تاہم یہ دیکھا جائے گا کہ اب ایڈیشنل ٹیکس کتنا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں مالی خسارہ بڑھے گا یا کم ہوگا؟ مالی خسارہ بڑھے گا تو اس سے مہنگائی بڑھے گی۔ بجٹ تقریر میں یہ اعتراف کیا گیا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بکھرا ہوا ہے، اس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ جو قدم اٹھایا گیا ہے اس کا فائدہ ایک خاص طبقے کو پہنچا ہے۔ منی بجٹ پر سب سے بڑی مبارک باد اُن خصوصی پاکستانیوں کے لیے ہے جن کے اثاثے باہر ہیں، مگر انہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔ خفیہ اثاثے باہر رکھنے والوں کو کہا گیا کہ اگر آپ اب پکڑے بھی گئے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ٹیکس فائلر کے لیے بینکوں سے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنا اچھا فیصلہ ہے۔ اس منی بجٹ کے بعد سال کا مالیاتی خسارہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اسے کیسے پورا کرے گی۔ حکومت کیا کرے گی؟ نوٹ چھاپے گی جس سے مہنگائی ہوگی، مزید قرض لے گی یا نئے ٹیکس عائد کرے گی۔

بجٹ کے اہم نکات

بینکوں کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت اور گھروں کے قرضوں سے ہونے والی آمدن پر ٹیکس کی 50 فیصد چھوٹ دی گئی ہے۔ ان مدات میں بینکوں کی آمدنی پر ٹیکس 39 فیصد کے بجائے 20 فیصد کردیا گیا ہے۔
چھوٹے گھروں کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپے قرضِ حسنہ اسکیم۔
انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے بینک لین دین پر عائد ٹیکس ختم۔
1300 سی سی گاڑیوں کی خریداری کے لیے انکم ٹیکس دہندہ ہونے کی شرط ختم، جبکہ 1800 سی سی یا زائد کی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافہ۔
کاروبار میں آسانی کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس ریٹرن سال میں ایک مرتبہ کے بجائے دو مرتبہ جمع کرانے کی سہولت۔
شادی ہالز پر عائد ٹیکس کو 20 ہزار سے کم کرکے 5 ہزار روپے کردیا گیا۔
آسان ٹیکس کے لیے پائلٹ پروجیکٹ اسلام آباد سے شروع کرنا۔
اخباری صنعت کے نیوز پرنٹ پر ڈیوٹی کا خاتمہ۔
صنعتی خام مال پر ڈیوٹی کا خاتمہ یا 5 فیصد تک کرنا، یہ رعایت خصوصاً آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے ہے۔
کمرشل امپورٹرز کے لیے 6 فیصد ٹیکس کو ہی اصل ٹیکس تصور کرنا۔
سی پیک کے خصوصی اکنامک زونز کے لیے عمارتی سامان پر ڈیوٹی کا خاتمہ۔
گرین فیلڈ منصوبوں اور متبادل توانائی (شمسی اور پون) کے لیے 5 سال تک کسٹم ڈیوٹی، سیلزٹیکس اور انکم ٹیکس کی چھوٹ۔
کھیلوں کی فرنچائز خریدنے والوں کو ٹیکس کی چھوٹ۔
یکم جولائی 2018ء سے سُپر ٹیکس کا خاتمہ۔
کارپوریٹ انکم ٹیکس میں سالانہ ایک فیصد کی کمی۔
ری پے منٹس پر ٹیکس اور انٹر کارپوریٹ ٹیکس کی چھوٹ۔
اسٹاک بروکرز پر عائد ٹیکس ختم۔
تاجروں اور صنعت کاروں کے ٹیکس ری فنڈ کے لیے حکومتی بانڈ دینے کا فیصلہ۔
کیپٹل گین ٹیکس میں نقصان کی صورت میں 3 سال کی ری فارورڈ کی سہولت۔

Share this: