کچھ’’بزرگوں‘‘ کے بارے میں

مادہ پرستی اور نفس پرستی کی ذہنیت کے سبب آج گھرانوں میں ایسے بزرگوں کا اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ جن کے علاج معالجے کے لیے اولاد اپنا پیسہ خرچ کرنا فضول خیال کرتی ہے، انہیں درد کی گولیوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے، بہوئیں انہیں کھانا بھی پورا نہیں دیتیں… نہ صرف یہ کہ ان سے گھر کے معاملات میں کوئی مشورہ نہیں ہوتا بلکہ انہیں اس کی بھی اجازت نہیں ہوتی کہ گھر کے معاملات میں لب کشائی کریں۔ بچوں کی بدتمیزی پر انہیں روکنے، ٹوکنے کی بھی جرأت نہیں ہوتی کہ یہ بہو بیٹیوں کو ناگوار گزرے گا۔ اگر کہیں انہیں کھانے کو اچھا مل بھی جاتا ہے تو پیار نہیں ملتا، وہ کسی کی توجہ کے مستحق نہیں ہوتے۔ ان کے جگر گوشوں کو یاد نہیں آتا کہ ان کے ماں باپ نے ان کی پرورش کے لیے کیا کچھ دکھ سہے تھے۔
ایک مسئلہ ’’جنریشن گیپ‘‘ کا ہے۔ یہ گیپ تو پہلے بھی رہا ہے، ہر نئی نسل پرانی نسل سے مختلف انداز میں سوچتی رہی ہے۔ ایسا ہونا فطری ہے اور اچھا بھی ہے، لیکن پہلے اس جنریشن گیپ کے باوجود نسلِ نو بزرگوں کے خیالات کو وقعت دیتی تھی، جنریشن گیپ نظرآتا تو اپنے آپ کو قصوروار قرار دے دیتی تھی۔ خطائے بزرگان خطا است کے مقولے پر عمل کرتی تھی۔ بزرگوں کی ایسی باتوں کو بھی سر جھکا کر خاموشی سے سنا جاتا تھا جو ناپسند ہوتی تھیں۔ بزرگوں کی باتوں پر عمل نہ کرنا ہوتا تب بھی بہ تقاضائے ادب اسے سن لیا جاتا اور کہا جاتا تھا کہ ’’باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب‘‘۔ بزرگوں کے ادب کا سبق گھرانے کی چار دیواری سے شروع ہوکر محلوں، بستیوں سے ہوتا ہوا بڑے بڑے دفاتر اور ایوانوں تک پہنچتا تھا، اپنے سے بڑے کی ہر جگہ عزت تھی۔ گھروں میں یہ کبھی نہیں ہوتا تھا کہ لڑکے خواہ جوان ہوں، صاحبِ اولاد ہوجائیں مگر باپ کے سامنے ٹانگ پھیلا کر بیٹھیں۔ اب اس تکلف میں کوئی نہیں پڑتا۔ بچے ماں باپ کو زمانۂ قدیم کی ازکارِ رفتہ چیز سمجھتے ہیں کہ انہیں نئے زمانے کے تقاضوں کا پتا نہیں، نہ یہ صوفوں کے نئے ڈیزائنوں کے بارے میں کچھ جانتے ہیں، نہ پردے کے رنگوں کا انتخاب انہیں آتا ہے، بس ہر وقت کفایت شعاری پر لیکچر دیتے رہتے ہیں۔ دوستوں کی محفل میں باپ آجائے تو انہیں برا لگتا ہے کہ یہ حضرت بے وقت کیوں آن ٹپکے! سیر و تفریح کے لیے جاتے وقت ماں یا باپ کو ساتھ رکھنا پسند نہیں کیا جاتا کہ یہ کباب میں ہڈی ہوں گے۔ ان کے ساتھ گھڑی دو گھڑی بیٹھ کر انہیں بات کرنے کی فرصت نہیں کہ ان بے چاروں کا جی بہلے اور یہ سمجھیں کہ ہماری بھی اہمیت ہے۔ یہ ماحول اس لیے ہوگیا ہے کہ آج کی دنیا اخلاقی اقدار کی دنیا نہیں ہے۔ مادی پیمانوں سے ہر چیز کو ناپنے تولنے کی دنیا ہے۔ مادیت اور نفسانیت کے اس ترازو میں بزرگ بے وزن قرار پاتے ہیں۔ وہ لوگ بھی جو اخلاقی اعتبار سے اچھے خاصے لوگ ہیں، بزرگوں سے سلوک کے معاملے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے، اُن کی طرف سے غفلت ہی رہتی ہے۔ کیا آپ بھی اس غفلت کا شکار ہیں؟ کیا آپ کے گھر میں بھی کوئی بزرگ سینے میں اپنا غم چھپائے ہوئے ہے اور آپ اس غم کو نہیں دیکھ سکتے؟
بزرگوں کو بھی اپنی روش کا جائزہ لینا چاہیے۔ ایسے بزرگ کسی گھرانے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھے جاسکتے جو ہر وقت ٹرٹراتے رہتے ہیں، ہر چیز میں خامیاں ہی خامیاں نکالتے ہیں اور نصیحتوں کا دفتر کھولے رہتے ہیں۔ انہیں نئی نسل کے لوگوں میں برائیاں بہت نظر آتی ہیں، خوبی کوئی نظر نہیں آتی۔ لیکن یہ نظر نہیں آتی تو اس میں قصور ان کے ذہن اور ان کی نظر کا ہے، ورنہ نئی نسل میں بہت سی وہ کمزوریاں نہیں ہیں جو بزرگوں میں رہی ہیں، اور کئی خوبیاں وہ رکھتے ہیں جو پہلے بزرگوں کو حاصل نہیں تھیں۔ اس لیے بزرگ نسلِ نو کی روش پر تنقید ضرور کریں مگر ان کی خوبیوں کا بھی اعتراف کریں کہ آج کی نسل باتوں کو زیادہ گہرائی میں سمجھنا چاہتی ہے، وہ سوچ میں آزاد ہے اور اپنی سوچ کا دھارا خود متعین کرنا چاہتی ہے، اور اقبال کی طرح دعا کرنی چاہیے کہ خدا جوانوں کو پیروں کا استاد کردے۔
ہر زمانے میں نوجوان پرانی دنیا سے غیر مطمئن اور نئی دنیا بسانے کے آرزومند رہے ہیں، یہ آرزو آج کل کے نوجوانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس خواہش کا احترام ہونا چاہیے۔ نوجوان نہ صرف اجتماعی زندگی میں بلکہ اپنے گھروں کے سازو سامان، اپنے ملبوسات، اپنے طور طریق میں بھی یکتا بننا چاہتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ وہ بزرگ جو اس راہ میں مزاحم ہوتے ہیں، غلطی کرتے ہیں۔ کہیں آپ بھی اس طرح کے بزرگ تو نہیں ہیں؟
بزرگ بہرحال جیسے بھی ہوں، عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ ان کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے ہونی چاہیے۔ ان کی مادی ضروریات ہی نہیں، نفسیاتی ضروریات کا بھی خیال رکھنا چاہیے، اور یہ اُس وقت ہی ہوسکتا ہے جب آپ کے دل میں’’بزرگوں کا احترام‘‘ ایک مستقل قدر کے طور پر موجود ہو، اور یہ قدر ہو تو اس کی بنیاد پر ایک تہذیب بنتی ہے۔ جہاں بزرگوں کا ادب و احترام ختم ہوجائے تو سمجھ لیجیے وہاں انسانیت بھی ختم ہورہی ہے اور تہذیب مٹ رہی ہے۔ اس معاشرے میں اگر آپ آج جوان ہیں تو کل بوڑھے بھی ہوں گے، اور آج کے جوانوں نے بوڑھوں کے احترام کی قدر کو نہیں اپنایا تو کل کے معاشرے میں وہ بھی کسی قدر کے حامل نہیں ہوں گے اور ایک بوجھ سمجھے جائیں گے۔
بوڑھوں کے لیے تسکین کا بڑا سامان اُن چوپالوں اور بیٹھکوں میں تھا جو سرِ شام یا بعد از شام کسی گھر یا کسی پبلک مقام پر منعقد ہوتی رہی ہیں، اب بھی کہیں کہیں ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ان محفلوں میں بوڑھے صرف حالاتِ حاضرہ کا ہی اپنے نقطہ نظر سے جائزہ نہیں لیتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے ذاتی دکھوں میں بھی شرکت کرتے تھے اور ایک دوسرے کو نفسیاتی سہارا فراہم کرتے تھے۔ اکثر ان مجلسوں میں کچھ نوجوان بھی آتے تھے اور بڑوں کی بات غور سے سنتے اور اس سے کچھ سیکھتے سمجھتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ چوپالیں اور بیٹھکیں ختم ہورہی ہیں۔ پہلے مسجد میں آنے والے نمازیوں کے درمیان بھی جن میں اکثر بزرگ ہوتے تھے، ایک خاص ذہنی اور قلبی رشتہ ہوتا تھا۔ اب مسجد میں نوجوانوں کی اکثریت ہے، بوڑھے لوگ بھی آتے ہیں مگر کیا جوان، کیا بوڑھے… سب بھاگم بھاگ آتے اور دوڑے دوڑے چلے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے تو خیر کام کاج ہوتا ہے، مگر بزرگ لوگ بھی جلدی میں ہوتے ہیں، ایک دوسرے کا حال سننے سنانے کی انہیں بھی فرصت نہیں ہوتی یا اس کا اشتیاق نہیں ہوتا، کیونکہ اب بچہ، بوڑھا، جوان سب اپنے حال اور کھال میں مست ہیں، دنیا ایسی ہوگئی ہے کہ انسان کا انسان سے تعلق فقط بنائے ضرورت ہوتا ہے، اور کوئی ضرورت لاحق نہ ہو تو آپس کا ربط ضبط یا میل جول بھی نہیں ہوتا۔ لیکن بزرگوں کے پاس وقت ہے، وہ مل بیٹھ سکتے ہیں۔ بزرگ گھروں میں مقید ہوکر نہ رہیں، نہ صرف اپنی عمر کے لوگوں سے ملیں بلکہ نوجوانوں سے بھی گپ شپ کریں، اس سے اُن کی مُردہ دلی دور ہوگی۔ اور نوجوان، بزرگوں سے قصے کہانیاں سن کر اپنے لیے کوئی سبق حاصل کریں گے۔
(23 تا 29اپریل 1999ء)

Share this: