قواعد یا قوائد؟

گزشتہ دنوں ”صحیح املا کیسے لکھا جائے“ کے موضوع پر ایک ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ طالبات میں خاص طور پر صحیح اردو لکھنے اور املا درست کرنے کی لگن ہے۔ لطیفہ یہ ہوا کہ جن چند الفاظ کے املا کی تصحیح کرنے کی کوشش کی تھی اسی دن کے اخبار میں وہ غلطیاں موجود تھیں۔ مثلاً ”اہلیان“، ”خردبرد“ وغیرہ۔ لطیفہ یہ ہے کہ چند دن پہلے ایک ٹی وی چینل پر مشاعرہ ہورہا تھا جس میں ایک شاعر نے ”اشیائے خَرد“ کی مہنگائی کا شکوہ کیا۔ مشاعرے میں جناب اعجاز رحمانی جیسے استاد بھی موجود تھے لیکن سرِ بزم ٹوکنا مناسب نہیں تھا۔ ستم یہ تھا کہ شاعر صاحب نے خ پر زبر بھی لگا دیا تھا تاکہ کوئی اسے خِرد (خ بالکسر) نہ سمجھے، ورنہ تو اشیائے خِرد کی عدم دستیابی کا شکوہ بجا تھا (خ۔ رد) جس کا منہ بولتا ثبوت وہ شاعر خود تھے۔ انشاء اللہ خان انشا نے ایک شاعر کو سرِمحفل یہ کہہ کر ٹوک دیا تھا کہ ”اتنانہ اپنی جائے سے باہر نکل چلے، کہ بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے“۔ عروض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں بحروں میں بہت معمولی سا فرق ہے۔ تاہم اس کے جواب میں شاعر موصوف نے ایک طویل جواب منظوم کردیا جس کے کچھ مصرعے ضرب المثل بن گئے مثلاً ”تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تُو“۔ یا ”وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے“۔ انشا کا اعتراض تو اتنا معروف نہیں ہوا لیکن عظیم (شاعر) کے جواب سے اردو کو کئی محاورے مل گئے۔ کیا پتا اشیائے خَرد پر ٹوکنے سے بھی کوئی عظیم اٹھ کھڑا ہوتا۔ شاعر موصوف اگر خَرد پر زبر کے بجائے پیش لگادیں تو بھی کچھ مطلب نکل آئے گا۔ خُرد چھوٹے کو کہتے ہیں۔ یہ سمجھا جائے گا کہ جناب شاعر چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مہنگائی پر شکوہ کناں ہیں۔ خُرد کا ایک فارسی محاورہ تو بہت مشہور ہے ”سگ باش، برادر خرد مباش“۔ یعنی کتا بن جائے چھوٹا بھائی نہ بنے۔ خُرد میں وائو نہیں آئے گا، یعنی یہ خورد نہیں ہے۔ خرد بروزن برد ہے۔ شیخ سعدی کا شعر ہے:

بیا موز رفتار از طفل خرد
کہ چوں استعانت بدیوار برد

خرد سال: کم عمر، کم سن۔ خرد سالی کا مطلب چھوٹی یا کم عمر سالی نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کم سنی، بچپن، لڑکپن۔ ایک لفظ خردی ہے جو بزرگی کا نقیض ہے۔ تھوک فروش کے مقابلے میں خردہ فروش تو سنا ہی ہو گا یعنی جو چھوٹی چھوٹی چیزیںبیچتا ہے۔
بعض لوگ تصحیح کرنے پر چراغ پا ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی عجیب لفظ ہے، ہم یہ سمجھتے رہے کہ یہ بھی ”سیخ پا“ کی طرح ہے کہ چراغ پر پائوں پڑ جانے سے پورے بدن میں چراغ پائی کی تاثیر دوڑ جاتی ہو گی بشرطیکہ چراغ جل رہا ہو۔ لیکن لغت میں کچھ اور معنی ہیں اور ”چراغ پا“ کا مطلب ہے ”گھوڑے کا پچھلے پائوں کے بل کھڑا ہونا“۔ لیجیے صاحب کہاں چراغ اور کہاں گھوڑا۔ معروف معنیٰ تو یہ ہیں: خفا ہونا، کھڑا نہ رہنا۔ بعض الفاظ کے تلفظ میں فرق ہے، ان میں چراغ بھی شامل ہے۔ صاحبِ ”کشف اللغات“ نے بکسر اول دیا ہے، یعنی چ کے نیچے زیر ہے، جب کہ صاحبِ ”برہان“ نے بالفتح دیا ہےیعنی چ پر زبر۔ عوام کی زبان پر دونوں تلفظ رائج ہیں۔ شاید اس کا تعلق چراغ کی نوعیت سے ہو کہ بجھا ہوا تو نہیں یا تیل کی کمی سے ٹمٹما رہا ہو۔ کسی کا مصرع ہے ”چراغ بجھتا نہیں“ جھلملانے لگتا ہے۔ اہلِ پنجاب عموماً چراغ پر زبر لگا کر بولتےہیں۔ چراغ کو عربی میں سراج کہتے ہیں اور بعض لوگ اسے بھی بالفتح بولتے ہیں، یعنی اس پر زبر لگا لیتے ہیں، جب کہ قرآن کریم میں سراج بالکسر آیا ہے۔
چراغ کو شعراء کرام نے خوب جلایا، بجھایا ہے۔ کئی محاورے اور ضرب الامثال چراغ سے وابستہ ہیں، مثلاً چراغ بڑھ جانا، چراغ خاموش ہوجانا۔ ایک شعر ہے:

چمن سے جو وہ گلبدن بڑھ گیا
چراغِ بہار چمن بڑھ گیا

میر تقی میر کا بڑا مشہور شعر ہے:

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

عام طور پر پہلا مصرع یوں پڑھا اور لکھا جاتا ہے کہ ”شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے“۔
لیکن جناب ایس ایم معین قریشی اور جناب محمد شمس الحق نے زبان زدِ عام شعروں کی تصحیح کا بیڑا (بی ڑا) اٹھایا ہوا ہے، حالانکہ میر کے مذکورہ بالا شعر میں غلط العوام اچھا لگتا ہے کہ میر نے دوسرے مصرع میں دل کو مفلس کا چراغ کہا ہے۔ لیکن مذکورہ ماہرین نے کھوج لگا کر ہی میر کی اصلاح کی ہو گی۔ استاد ناسخ کا مصرع ہے ”بجھتا ہے چراغ آج سرِشام ہمارا“۔ ہم بھی چراغ بڑھاتے ہیں۔
خُرّم ایک بہت اچھا اور بامعنی نام ہے لیکن لغت نے اس کا بھی پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ یہ فارسی کا لفظ ہے، خ پر پیش بسکون دوم مشدد،مفتوح۔ لغت کے مطابق ”خُر“ آفتاب کو کہتے ہیں اور ”رم“ امر کا صیغہ ہے رمیدن سے، یعنی آفتاب سے بھاگنے والا۔ تاہم اس کا مطلب بطور صفت شادمان، خوش، شاداب، سرسبز وغیرہ ہے۔ خود لفظ آفتاب پر غور کریں، یعنی آفت آب۔ سورج سے پانی کی آفت آتی ہے اور وہ اڑ جاتا ہے۔
مرزا غالب کا مصرع ہے ”پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم“۔ مرزا نے خورشید کو ”خور“ کردیا ورنہ تو اس کی جگہ ”مہر“ بھی استعمال کرسکتےتھے۔ لیکن پھر انہیں غالب کون کہتا۔ خرم نام رکھنے والے خوش رہیں اور لغوی معنوں پر نہ جائیں۔
گزشتہ کئی دن سے اخبارات میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کا اشتہار شائع ہورہا ہے جس میں ایک جملہ ہے ”ضروری قوائد اور ہدایات….“ ہمارا خیال تھا کہ ایسوسی ایشن میں کوئی پڑھا لکھا شخص ضرور ہو گا جو اصلاح کردے گا، لیکن ”قوائد“ کے ساتھ یہ اشتہار بار بار شائع ہورہا ہے۔ سنا ہے کہ اشتہارات بنانے والے اداروں میں پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں جو کاپی رائٹر کہلاتے ہیں اور معقول معاوضہ لیتے ہیں۔ لیکن یہ کون بتائے کہ ”قوائد“ کیا ہوتے ہیں اور کس زبان کا لفظ ہے؟ کیا یہ قائد کی جمع بنا لی ہے؟ جب سے امریکہ نے القاعدہ کے خلاف شور مچایا ہے تب سے قواعد بھی ”قوائد“ ہوگئے ہیں۔ لیکن پاکستان بینکس ایسوسی ایشن والوں میں سے کسی نے کیا اپنے بچپن میں قاعدہ نہیں پڑھا؟ بغدادی قاعدہ یا نورانی قاعدہ؟ کبھی قعدہ میں بھی نہیں بیٹھے کیا؟ انگریزی میں قاعدہ کو BASE یا بنیاد کہتے ہیں۔ لیکن خود اردو املا بے قاعدہ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں کثیر الاشتہار اخبار کی سپرلیڈ میں ”پیشہ وارانہ“ کی غلطی نظر آئی جس کی نشاندہی کئی بار کی جا چکی ہے کہ اصل میں پیشہ ورانہ ہے، وارانہ نہیں۔ اب ایسے میں درست املا لکھنے کی کیا بات کی جائے۔

ایک عمومی اصطلاح ہے، چولی دامن کا ساتھ۔ چولی کو عموماً خواتین کا پہناوا سمجھا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھنا لازم ہے کہ چولی کا دامن سے کیا تعلق۔ دراصل پہلے شرفا عموماً انگرکھا پہنتے تھے۔ اس کے اوپر کا حصہ تنگ ہوتا تھا اور اسی کو چولی کہتے تھے۔ دامن یا چولی کا باقی حصہ منسلک ہوتا تھا۔ اسی لیے چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔ لغت کے مطابق انگرکھے کے دامن کا اوپری حصہ، اوپر کے دھڑ کا کپڑا۔ یعنی چولی اور دامن انگرکھے کے دو جز ہیں۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں گویا لازم و ملزوم۔ امیر مینائی کا شعر ہے:

جنوں اب تک سنا تھا ساتھ چولی اور دامن کا
گریباں کو نکلتے دیکھ کر کیوں آستیں نکلی

یاد آیا کہ بعض لوگ “جیب و گریباں” کی اصطلاح بھی استعمال کر بیٹھتے ہیں جب کہ جیب کا مطلب گریباں ہی ہے اور یہ مذکر ہے، عربی کا لفظ ہے۔ مرزا غالب کا مصرع ہے “ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے”۔ جیب و گریباں کے بجائے جیب و دامن استعمال کرنا چاہیے۔ ویسے جیب کھیسے کو بھی کہتےہیں جس میں لوگ رقم یا ضروری چیزیں رکھتے ہیں اور یہ کتری بھی جاتی ہے۔ یہ جیب مونث ہے اور اگر جیم بالکسر ہو یعنی ج کے نیچے زیر لگایا جائے تو یہ زبان بن جاتی ہے۔ تاہم ہندی میں یہ “جیھ” ہے۔ ایک محاورہ ہے’’جیھ چلے ستر بلا ٹلے‘‘۔ ایک محاورہ جیھ کے تلے جیھ ہے۔ یعنی کبھی کچھ کہنا ہے کبھی کچھ۔ یہ صفات عام طور پر سیاستدانوں میں پائی جاتی ہیں۔ جیب خاص حکمرانوںکے ذاتی خرچ کے واسطے خزانہ جسے خزانہعامرہ بھی کہتے ہیں۔ جیب خرچ سےتو نوجواں واقف ہی ہوں گے۔ جیب گھڑی کا اب رواج ہی نہیں رہا۔ البتہ یہ محاورہ ہے کہ تم جیسے تو کئی میری جیب میں پڑے ہیں۔

Share this: