آہ! امت مسلمہ داعی قرآن سے محروم ہوگئی

الطاف جمیل ندوی۔۔۔ سری نگر
آج سے ایک سال پہلے ہم ایک قرآنی کلاس میں بیٹھے تھے، جہاں درسِ قرآن کا فریضہ انجام دینے والے صاحب کی زبان سے بار بار روح القرآن نامی تفسیر کا تذکرہ سنا دل، انگڑائی لی کہ اس تفسیر کو دیکھا جائے جس کا یہ حضرت بار بار ذکر کر رہے ہیں، ویسے تو اردو تفاسیر میں تفھیم القرآن، تیسر القرآن ، معارف القرآن ، تدبر القرآن، بیان القرآن جیسی عظیم اور بہترین تفاسیر موجود تھیں جن کا مطالعہ الحمد اللہ قرآن فہمی میں معاون ثابت ہوا پر ہر بار کی طرح اس بار بھی شوق مطالعہ نے تحریک دی کہ اس تفسیر کو بھی دیکھا جائے ،تفسیر روح القرآن میں ہم جگہ جگہ علم و تدبر کے موتے بکھرے دیکھتے ہیں جو انسان کو تحریک دیتے ہیں مزید مطالعہ اور قرآن و سنت سے تعلق جوڑنے کا صاحب تفسیر ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب بھی ان خوش قسمت ہستیوں میں شامل ہیں جنھیں تفسیر قرآن کی فضلیت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے ان کی زندگی قرآن پاک میں غورو فکر ، تفسیری ذخیرے کے مطالعے اور دروس قرآن دینے میں گزری جو پھر کتابی شکل میں مرتب ہو کر سامنے آگئی یہ دروس ڈاکٹر صاحب نے طلبا، اساتذہ، مختلف طبقات سے وابستہ افراد کے سامنے دیے۔ ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب عربی زبان ، اردوا دب میں بھی مہارت رکھتے تھے، تحریک اور دعوت کے مختلف مراحل اور تاریخ اسلام میں بھی بصیرت رکھتے تھے اسلام کو ایک نظام کی حیثیت سے انھوں نے اچھی طرح سمجھا تھا اور شریعت اسلامیہ میں گہرائی کے حامل تھے،تفسیری اور فقہی ذخیرے پر بھی عبور رکھتے تھے، ایک مفسر میں جو خوبیاں اور کمالات ہونی چاہییں وہ بھی ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔
تفسیر روح القرآن کے امتیازات کے ضمن میں اس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اسلوب عام تفاسیر سے مختلف ہے جس میں جگہ جگہ ایسی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا اپنی پیاس بجا کر ہی رہتا ہے
آج یہ روح کو مضحمل کر دینے والی خبر سنی کہ صاحب روح القرآن دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں رب الکریم ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

Share this: