بیرونی خطرات اور سیاسی قیادت کے رویے

امریکہ، طالبان مذاکرات کے مابعد اثرات سے غفلت

انتظامی بحران میں گھری ہوئی حکومت اپنی ناقص منصوبہ بندی اور صلاحیتوں میں کمی کے باعث پریشان کن صورت حال سے دوچار ہے۔ ہماری سرحدوں پر ہونے والی غیر معمولی پیش رفت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلام آباد کی حکومت اس خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرے، لیکن تحریک انصاف کی قیادت ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے اور فیصلہ کن قوت ہی متحرک ہے۔ امریکہ طالبان مذاکرات اس قدر اہم پیش رفت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ اب فاٹا میں زندگی واپس لانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں اُن سے متعلق آگاہی آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے حالیہ دورۂ فاٹا سے ملی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے۔وزارت خارجہ وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم امریکہ طالبان مذاکرات، کے حوالے سے کوئی خبر دینے کے لیے دستیاب نہیں۔ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں اس قدر حساس ہوچکی ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے آنکھ جھپکنے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔ بھارت میں ہونے والے انتخابات کے ماحول میں پاکستان دشمنی کے ماحول میں ہو رہے ہیں بھارت کی جانب سے کیسے خطرات لاحق ہیں سیاسی قیادت قوم کو اس بارے میں آگاہی دینے میں اب تک ناکام نظر آتی ہیں۔ ہمارے لیے بھار ت کی جانب سے سیزفائر لائن کی خلاف ورزیوں میں اب غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جان بوجھ کر سول آبادی کو نشانہ بنایا جا رہاہے، اور یہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اگر مغربی سرحدوں سے جڑے ہوئے واقعات پر بحث کی جائے تو اس وقت امریکہ اور طالبان معاہدے کے لیے خاموشی سے پیش رفت ہورہی ہے۔ عقاب اور فاختائیں بھی فضا میں موجود ہیں۔ عقاب سمجھتے ہیں کہ امریکہ کابل چھوڑنے کی غلطی کررہا ہے، کابل چھوڑ دینے سے امریکہ ان تمام فوائد سے دست بردار ہوجائے گا جو اس نے اٹھارہ سال کی جنگ سے حاصل کیے تھے، جبکہ کابل دوبارہ اُن ہاتھوں میں چلا جائے گا جو انخلا کو اپنی کامیابی تعبیر کریں گے اور پھر سے نائن الیون جیسا منصوبہ بنائیں گے۔ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں میں کام کرنے والوں کی رائے ہے کہ افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے، امریکہ نے تعلیم اور صحتِ عامہ سمیت ملک میں انفرااسٹرکچر بنایا ہے، یہ منصوبے ضائع ہوجائیں گے۔الزام یہ لگایاجاتا ہے کہ طالبان کے دور میں ملک میں تعلیم کے دروازے صرف طلبہ کے لیے کھلے اور طالبات کے لیے بند تھے۔ اس وقت طلبہ کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ چکی ہے اور چالیس فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ اگر امریکہ نے طالبان سے اپنی فوجوں کو نکالنے کا معاہدہ صرف اس وعدے پر کیاکہ وہ دوبارہ اپنے ملک میں القاعدہ جیسے عناصر کو نہیں آنے دیں گے، تو یہ غلط فیصلہ ہوگا۔ معاہدے میں افغان حکومت کو شامل ہونا چاہیے، صرف طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے امریکہ خود انہیں قانونی حیثیت دے رہا ہے۔ امریکہ کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ یہ معاہدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب افغان حکومت بھی اس میں شامل ہوگی۔ اس شرط کو پورا کیے بغیر امریکہ اُس وقت تک افغانستان میں رہے گا جب تک موجودہ حکومت چاہے گی، اور اس کی قومی سلامتی کے مقاصد تقاضا کریں گے۔
جبکہ مغرب کی فاختاؤں کا مؤقف ہے کہ طالبان کی حکومت سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ طالبان نے تو یہ تجویز رکھی تھی کہ ہم اسامہ اور القاعدہ کے دیگر عناصر (جو پشتون روایات کے مطابق ان کی پناہ میں تھے اور جن کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کرنے سے گریز کیا جارہا ہے) کو ایک تیسرے ملک کے حوالے کرنے کو تیار ہیں، تو اس تجویز کو نہایت تحقیر اور تکبر کیساتھ رد کردیا گیا تھا لیکن امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے غلطی تھی اور اس کے سامنے کوئی واضح مقصد بھی نہیں تھا یہ دو نکتہ نظر امریکا طالبان مذاکرات کے دوران سامنے آئے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ امریکہ نے بار بار موقف تبدیل کیا افغان قوم کی تعمیر و ترقی، القاعدہ کا خاتمہ اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر وہ گزشتہ بیس سالوں سے یہاں موجود ہے ۔ طالبان نے افیون کی کاشت کو ختم کردیا تھا لیکن اب اس سے بنی ہیروئین ساری دنیا میں برآمد ہورہی ہے امریکہ نے افغان جنگ میں اپنے تین ہزار فوجی کھوئے اور بیس ہزار زخمی ہوئے جن کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئی۔ لاکھوں افغان عوام اس جنگ میں جان سے گئے ہیں جو اصل المیہ ہے امریکہ اور اتحادیوں نے اس جنگ میں ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کے جنگی اخراجات براداشت کیے یہ سب کچھ امریکا کی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے تھا امریکی پالیسی ساز جو بھی رائے دیں لیکن مذاکرات کی میز پر صرف فریقین ہی بیٹھیں گے اور طالبان ایک فریق ہیں کوئی دنیاوی طاقت ان کی حیثیت کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اس وقت افغانستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ علاقہ پر افغان طالبان کی رٹ چل رہی ہے اور افغان حکومت کی رٹ سکڑ رہی ہے لیکن اسلام آباد میں پارلیمنٹ میں آج تک یہ بحث نہیں ہوسکی کہ اس معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے، ہر وزیر ایڈ ہاک ازم پر چل رہے ہیں کہ چلو آج کا دن گزر گیا، آنے والے کل کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس کی کسی کو فکر ہے اور نہ کوئی فکر دکھائی دے رہی ہے۔ کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں تحریک انصاف نے ہزارہ صوبے اورمسلم لیگ (ن) نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبے بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کا بل پیش کردیا ہے، یہ بل احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر اور عبدالرحمن کانجو کے دستخطوں سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا ہے، صوبہ بہاولپور پرانی ریاست بہاول پور کی حدود پر مشتمل ہوگا جو اس وقت تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان پر مشتمل ہے جبکہ صوبہ جنوبی پنجاب دو ڈویژنوں یعنی ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژن پر مشتمل ہوگا، قومی اسمبلی میں یہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی چال ہے۔ پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں یہ بل دوتہائی اکثریت سے منظور ہوجائے اور پھر پنجاب اسمبلی میں اس کی تائید میں دوتہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرے صوبے میں دوتہائی اکثریت تو رہی ایک طرف، اس وقت قومی اسمبلی میں کسی جماعت کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے، تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں کئی حلیف جماعتوں کے سہارے قائم ہے جن میں سے بعض کے تحریک انصاف کے ساتھ اختلافات بھی سامنے آ چکے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کی تھی، تاہم اس نے حکومت سے اپنے راستے بھی الگ نہیں کیے۔ مسلم لیگ (ق) نے بھی پچھلے دنوں تحریک انصاف کے ساتھ اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کیا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود یہ اختلافات دور نہیں ہوسکے تھے اور یہ طے پایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوگی چند دنوں میں یہ ملاقات لاہور یا اسلام آباد میں ہوگی قیاس یہی ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے مطالبات مان لیے جائیں گے، مسلم لیگ (ن) نے یہ بل اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے حمایت نہ کی تو وہ یہ کہہ سکے گی کہ ہم تو پنجاب میں ایک کے بجائے دو نئے صوبے بنانے کے لیے تیار ہیں حکمران جماعت ہی اس پر آمادہ نہیں ہے۔ ملکی معیشت سے ہی جڑا ہوا مسئلہ گرے لسٹ کا ہے پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ اس لسٹ سے باہر نکل آئے بین الاقوامی ادارے فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو،گرے لسٹ’میں شامل کیا گیا پاکستان اپنی سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ وہ فی الفور اس لسٹ سے باہر آسکے اور اپنی اسی خواہش کے پیش نظر پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 36 نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے جو جون 2018ء سے ستمبر 2019ء تک کہ 15 ماہ کے عرصے پر محیط ہے اس کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کوششوں کا ازسر نو جائزہ لے گا، حکومت نے کبھی یہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کا نہیں سوچا، اور نہ کبھی اپوزیشن جماعتوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے، عام آدمی کے لیے چیزیں مہنگی ہورہی ہیں یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ حکومت کا ہوم ورک نہیں ہے اسی وجہ سے وہ سیاسی عناصر جو کرپشن میں ملوث رہے، جن کے خاندانوں میں گھاس کی طرح فیکٹریاں اگی ہیں ان کے این آر او ہوتا نظر آرہا ہے۔

Share this: