علامہ راشد الخیری اور ان کے خاندان کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ

نام کتاب : علامہ راشد الخیری اور ان کے خاندان کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ
مصنف و محقق : ڈاکٹر دائود عثمانی
صفحات : 530، قیمت:660 روپے
ناشر : انجمن ترقی اردو پاکستان۔ اردو باغ ایس ٹی۔10، بلاک I، گلستانِ جوہر۔ کراچی 75290
علامہ راشدالخیری سے ہمارے خاندان کا تعلق بڑا قدیم ہے۔ راقم کی بڑی چچازاد بہن رسالہ ’’عصمت‘‘ اور اس رسالے کے دفتر سے شائع ہونے والی دوسری مطبوعات کی خریدار تھیں۔ اُن کی ذات کی تشکیل میں اس ادارے کا بڑا حصہ تھا۔ وہ نہایت سنجیدہ، متین، خاموش طبیعت اور محبت کرنے والی سمجھدار خاتون تھیں، ان کے وسیلے سے راقم بھی یہ تمام مطبوعات پڑھ لیتا۔ جب ہمارے دوست سید محمد رضی دہلوی کے شاگرد دائود عثمانی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ وہ علامہ راشد الخیری اور ان کے خاندان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہے ہیں تو بڑی خوشی ہوئی، اور اس سلسلے میں ضروری لوازمے کے جمع کرنے میں کمربستہ ہوئے۔ آخر ایک دن انہوں نے فون پر اپنی کامیابی کی مبارک خبر سنائی کہ وہ ڈاکٹر ہوگئے ہیں۔ ایک دن انہوں نے انجمن ترقی اردو پاکستان سے اس مقالے کی اشاعت کا مژدہ سنایا اور اس کی ایک کاپی بذریعہ ڈاک بھجوائی جو زیر نظر ہے۔ یہ علامہ راشدی اور ان کے خاندان کا جامع تذکرہ ہے۔ محترم پروفیسر سحر انصاری تحریر فرماتے ہیں:
’’برصغیر پاک و ہند کے بہت کم خاندان ایسے ہوں گے جو صدیوں سے علم و فضل کی شناخت کے طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہوں۔ انہی میں سے ایک علامہ راشد الخیری کا خانوادہ ہے۔ علامہ کے اجداد شہاب الدین شاہ جہاں کے عہد میں ہندوستان آئے تھے، آپ کا نسب نامہ عکرمہ بن ابوجہل سے ملتا ہے۔ اس خاندان میں علمائے دین، محدث اور مفسرینِ قرآن نے نام پیدا کیا۔ علامہ راشدالخیری کے بزرگوں نے بھی علمی موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کے تمام بزرگوں کی وابستگی بہ حیثیت اتالیق مغلیہ خاندان کے بادشاہوں سے رہی۔ قلعے میں اس خاندان کی بہت عزت تھی۔
تاریخِ علم، ادب، صحافت میں مصنّفین کے حالاتِ زندگی اور خاندانی پس منظر کی بھی بہت اہمیت ہے۔ لیکن جو خاندان ’’پدرم سلطان بود‘‘ کے دعوے اور فخر کے علاوہ ذاتی طور پر بھی اپنی لیاقت کے سکے بٹھا چکے ہوں، انہیں ہر دور میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ علامہ راشدالخیری کا خاندان انہی ذاتی اوصاف سے متصف ہے۔
علامہ راشدالخیری کی ادب میں کئی حیثیتیں ہیں، تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے تاریخی، سماجی اور اخلاقی موضوعات پر ناول اور تاریخی کتب تحریر کی ہیں۔ راشدالخیری کی تحریروں میں المیہ کا عنصر زیادہ نمایاں ہوتا ہے، اسی لیے انہیں مصورِ غم کا خطاب دیا گیا۔ راشدالخیری کا سب سے اہم کارنامہ خواتین کے رسائل ہیں ’’بنات‘‘ اور ’’عصمت‘‘۔ مقامِ مسرت ہے کہ ماہ نامہ ’’عصمت‘‘ تسلسل کے ساتھ اب بھی شائع ہورہا ہے اور اسے علامہ راشد الخیری کے پوتے پوتیوں نے جدید تقاضوں کے مطابق جاری رکھا ہوا ہے۔
علامہ راشدالخیری پر ماہ نامہ ’’عصمت‘‘ نے ایک ضخیم شمارہ شائع کیا تھا۔ اُس وقت اس کے مدیر علامہ کے صاحب زادے مولانا رازق الخیری تھے۔ تاہم خیری خانوادے کے تمام اہم افراد کے علمی، ادبی کارناموں پر یقیناً تحقیقی کام کی ضرورت تھی۔ خوشی کا مقام ہے کہ ڈاکٹر دائود عثمانی نے پی ایچ ڈی کے تحقیقی کام کے لیے ’’علامہ راشدالخیری اور ان کے خاندان کی ادبی خدمات کا جائزہ‘‘ بہ طور موضوع منتخب کیا۔ ڈاکٹر دائود نے اپنے مقالے کو دس ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے بڑی محنت اور دقت نظر سے علامہ راشدالخیری کے نسب نامے کی تفصیل پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد ناول نگار، افسانہ نگار، مضمون نگار، تاریخ و سیرت نگار، سفرنامہ نگار، مدیر، مزاح نگار، مترجم، شاعر اور مرتب کی حیثیت سے علامہ کی تصانیف کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ تحریر کیا ہے۔ کسی ایک ادیب و شاعر کی تحریروں میں اتنا تنوع مشکل سے ملے گا۔ علامہ راشد الخیری کا اسلوب بہت منفرد ہے اور اپنی جداگانہ شناخت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر دائود عثمانی نے ان کے اسلوب اور تحریروں کے تنقیدی جائزے کے لیے ایک پورا باب مختص کیا ہے۔
خیری خاندان کی دیگر اہم شخصیات میں مولانا رازق الخیری، خاتون اکرم اور آمنہ نازلی، صادق الخیری اور مولانا رازق الخیری کی اولاد کے ادبی کام پر بھی تحقیق و تنقید کی روشنی میں تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔
آخر میں اردو ادب میں راشدالخیری اور ان کے خاندان کی علمی و ادبی خدمات کا تعین کیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ ایک اہم تحقیقی مقالہ ہے۔ انجمن ترقی اردو اس طرح کے تحقیقی و تنقیدی کاموں کی قدر کرتی اور کوشش کرتی ہے کہ سنجیدہ علمی حلقے بھی ان سے مستفید ہوں‘‘۔
بقول ڈاکٹر دائود عثمانی:
’’اردو ادب کے ذخیرے میں افراد کے ساتھ ساتھ بعض خاندانوں نے بھی قابلِ قدر اضافے کیے ہیں، لیکن محققین کی توجہ کا مرکز عموماً شعرا اور ادبا رہے ہیں، اور علمی و ادبی خاندانوں پر ان کے ادبی کارناموں پر نسبتاً کم کام ہوا ہے۔
میر انیس، الطاف حسین حالی، سجاد حیدر یلدرم اور محمد حسین آزاد کے علاوہ علامہ راشدالخیری کا خاندان اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بلکہ ادبی خدمات کے لحاظ سے یہ شاید اردو ادب کا سب سے بڑا خاندان ہے جس کی خدمات کا دائرہ دو صدیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ نہ صرف علامہ راشدالخیری کی اولاد اور ان کی اولاد کے ادبی کارنامے تاریخِ اردو ادب میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ راشدالخیری سے پہلے بھی نامور اہلِ قلم اس خاندان کا حصہ رہے ہیں۔ مولوی میاں نذیر حسین محدث دہلوی، مولانا عبدالخالق اور ڈپٹی نذیر احمد وغیرہ اس کی نمایاں مثال ہیں۔
اس مقالے میں علامہ راشد الخیری اور ان کے خاندان کی ادبی خدمات کا جائزہ اسی نقطہ نظر سے لیا گیا ہے کہ اس خاندان کی علمی اور ادبی حیثیت کو اجاگر کیا جاسکے اور اردو ادب میں ان کے مقام کا تعین ہوسکے۔
زیر نظر مقالے کو دس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:
پہلے باب میں علامہ راشدالخیری کے آباو اجداد کی علمی و ادبی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ علامہ موصوف کے جدِّامجد شاہ جہاں کے عہد میں دِلّی میں آکر آباد ہوئے تھے۔ ان میں راشدالخیری کے سکڑ دادا مولوی عبدالخالق بھی ہیں جن کے علم و فضل کے سرسید احمد خان بھی بڑے معترف تھے۔ نیز مولوی عبدالرب کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ اس کے علاوہ مایہ ناز ادیب و ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد کے ساتھ ساتھ دوسرے بزرگوں کی علمی و ادبی خدمات کا تذکرہ بھی اس باب میں شامل ہے۔
دوسرے باب میں علامہ راشد الخیری کے عہد کے سماجی و ثقافتی اور تعلیمی پس منظر بالخصوص تعلیم نسواں اور اصلاحِ نسواں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز مسلم معاشرے کے وہ کوائف بیان کیے گئے ہیں جو علامہ کی تحریروں میں عیاں ہیں۔
تیسرے باب میں علامہ راشدالخیری کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے حالات و واقعات اور زندگی کے اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے، اور ان کے جاری کردہ رسائل و جرائد اور ان کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
چوتھا باب علامہ راشد الخیری کی مختلف ادبی حیثیتوں کے تذکرے پر مبنی ہے، جس میں ان کی اصلاحی و معاشرتی اور تاریخی ناول نگاری، افسانہ نگاری، مضمون نویسی، تاریخ و سیرت نگاری، مزاح نگاری، شاعری، ترجمہ نویسی، سفرنامہ نویسی اور بحیثیت مدیر و مرتب ان کی علمی و ادبی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پانچویں باب میں علامہ راشد الخیری کے اسلوب اور تخلیقات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ خاص طور پر پلاٹ، کردار، منظر اور مکالمے پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
چھٹا باب، رازق الخیری جو علامہ راشدالخیری کے فرزندِ اکبر ہیں، کے علمی و ادبی کام کے حوالے سے ہے جس میں ان کی ادارتی زندگی کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور مشرقی پاکستان کے سفرناموں، تاریخ و سیرت نگاری اور علامہ راشدالخیری کی مفصل سوانح عمری کے مرتب کی حیثیت سے ان کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ساتواں باب رازق الخیری کی دونوں شریکِ حیات خاتون اکرم اور آمنہ نازلی کے بارے میں ہے، جس میں ان کی افسانہ نگاری، مضمون نگاری اور ڈرامہ نویسی کا مطالعہ شامل ہے۔
آٹھویں باب میں صادق الخیری کی پچاس سالہ ادبی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں بحیثیت افسانہ نگار، مترجم، خاکہ نویس اور خودنوشت نویس کے، ان کے ادبی کام کا جائزہ لیا گیا ہے۔
نواں باب رازق الخیری کی اولاد کے ادبی کارناموں پر مشتمل ہے۔ اس باب کے تحت سعد خیری، صفیہ خیری، حاذق الخیری، رازقہ خیری، صائمہ خیری، صفورا خیری، زائرہ خیری اور حنا خیری کے ادبی کام پر نظر ڈالی گئی ہے۔
دسویں باب میں علامہ راشد الخیری اور ان کے خاندان کی علمی و ادبی خدمات کے تناظر میں اس خاندان کی اردو ادب میں حیثیت اور مرتبے کا تعین کیا گیا ہے۔
کتاب کا انتساب ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی صاحب کے نام کیا گیا ہے۔ یہ انجمن کی مطبوعات میں 686 نمبرپر شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے آخر میں کتابیات کی تفصیل دی گئی ہے، اس کے علاوہ اشاریہ بھی لگایا گیا ہے جو علمی کتب کی ایک ضرورت ہے۔ ڈاکٹر دائود عثمانی کے لکھے مضامین و مقالات نظر سے گزرتے رہتے ہیں، پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے قلم سے اپنے رشتے کو منقطع نہیں کیا۔
کتاب سفید کاغذ پر طبع کی گئی ہے، مجلّد ہے، علامہ راشد الخیری کی تصویر سرورق پر دی گئی ہے۔

Share this: