قبائلی ضلع خیبرمیں صوبائی کابینہ کا تاریخ ساز اجلاس، انضمام مخالف بیوروکریسی سرگرم

گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ محمود خان کی زیرصدارت صوبہ خیبر پختون خوا کابینہ کا اجلاس تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں ہوا۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراطلاعات خیبرپختون خوا شوکت یوسف زئی نے صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع پر کسی قسم کے ٹیکس عائد نہیں کیے جائیں گے، اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق بل اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جرائم پیشہ افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے سے متعلق علیحدہ بل بھی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، کابینہ نے صوبے میں ضم شدہ قبائلی علاقے کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری بھی دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں محکمہ صحت اور تعلیم میں 17 ہزار خالی نشستوں پر تعیناتیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ نشستیں تمام قبائلی اضلاع کوآبادی کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے ذیلی اضلاع میں میونسپل کارپوریشنوں کی تشکیل کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ نے قبائلی اضلاع کی تین سو مساجد میں سولر پینل لگانے کی منظوری بھی دی۔ شوکت یوسف زئی نے مزید کہا کہ اجلاس میں صوبائی صحت پالیسی اور کانوں میں کان کنوں کے تحفظ سے متعلق پالیسی بھی منظور کی گئی۔ کان کنی سے متعلق نئی پالیسی کے تحت کان کنوں کے لیے کان میں داخل ہونے سے قبل حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے خیبرپختون خوا کی کابینہ نے ٹورازم اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ اراکین نے صوبے بھر میں سفاری ٹرین اور سفاری بس کے جلد آغاز پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ہی اجلاس میں طورخم بارڈر تک ریلوے ٹریک بحال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جو 24 گھنٹے فعال رہے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے 20 ارب روپے خرچ کرے گی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے صوبے کے سب سے بڑے اسپتال لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں ترقیاتی کاموں اور ضروری سامان اور آلات کی خریداری کے لیے 1000ملین روپے دینے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے نئی صحت پالیسی کی بھی منظوری دے دی۔ تیل و گیس کی رائلٹی کے حوالے سے ایک سمری کی بھی منظوری دی گئی جس کی رو سے تیل اور گیس کی رائلٹی میں سے 50 فیصد کوہاٹ میں گیس کے کنکشنز پر خرچ کیا جائے گا جبکہ باقی 50 فیصد ضرورت کے مطابق اس طریقے سے خرچ کیا جائے گا کہ کسی بھی شعبے کو کُل رقم میں 50 فیصد سے زیادہ حصہ نہیں ملے گا۔ صوبے میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز سے خدمات پر سیلزٹیکس کی وصولی کا معاملہ بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، اور کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز15فیصد ٹیکس دینے پر رضامند نہیں، اور اُن کا مطالبہ ہے کہ اس ٹیکس کو15فیصد کی جگہ 5 فیصد کیاجائے، جس کی کابینہ نے منظوری دی۔ صوبائی کابینہ نے پراونشل لوکل فنڈ آڈٹ کے ملازمین کے لیے 20 فیصد، اور سوات ایکسپریس وے کے ملازمین کے لیے اسپیشل پراجیکٹ الاؤنس کی منظوری بھی دی۔ قبل ازیں کابینہ اجلاس کو صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے نئے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں اور مستقبل کے حوالے سے تفصیلاً آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ ضلع خیبر میں کابینہ کے پہلے اور تاریخی اجلاس کو علاقے کی تعمیر و ترقی اور امن و خوشحالی کے لیے ایک بہت بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر قبائلی اضلاع میں بھی کابینہ کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک بظاہر تو کوئی بڑی سرگرمی نظر نہیں آتی، البتہ قبائلی اضلاع کے دورے خوب زور وشور سے جاری ہیں، اور ایسے میں بعض ترقیاتی منصوبے تو ایسے ہیں جن کی نہ صرف ایک سے زائد بار افتتاحی تقاریب منعقد ہوچکی ہیں۔ ایسے ہی منصوبوں میں ایک اہم منصوبہ جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر وانا میں پاک فوج کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والا زرعی پارک ہے، جس کا پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افتتاح کیا، اس کے بعد جب عمران خان نے اس منصوبے کا افتتاح کیا ۔ اسی تسلسل میں گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے جب جنوبی وزیرستان کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کیا تو انہیں بھی نہ صرف اس منصوبے کا معائنہ کروایا گیا، بلکہ میڈیا بریفنگ کے ذریعے بھی اس منصوبے کو ایک بار پھر حکومت کے کارناموں میں شامل کرنا ضروری سمجھا گیا۔
خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے اس موقع پر ایک قبائلی جرگے اور میڈیا سے کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود اور وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل خان وزیر کے ہمراہ گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ وانا ایک زرعی علاقہ ہے اور یہاں زراعت اور جنگلات کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں میں عمر اور تعلیم میں رعایت دی جائے گی۔ وزیرستان میں چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے۔ نئے اضلاع میں انصاف، حکمرانی اور دیرپا خدمات کا انفرااسٹرکچر قائم کریں گے، قبائل نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں، ان کی پسماندگی دور کرنے کے عمل میں یہاں کے محب وطن لوگوں کی مرضی اور منشاء شامل ہوگی۔ حکومت نے قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے خود حکمرانی کا ماڈل دیا اور اداروں کو نئے اضلاع تک توسیع دی ہے۔ نئے اضلاع کی تیز تر ترقی اور اُن کی محرومیوں کا ازالہ اجتماعی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں کوتاہی نہیں ہوگی، تمام چیلنجز سے مل کر نمٹ لیں گے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ وانا میں میڈیکل کالج کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نئے اضلاع خصوصاً طورخم، غلام خان، انگور اڈہ اور دیگر ملحقہ علاقوں پر مشتمل یہ خطہ سی پیک کے تناظر میں معیشت کی شہ رگ بننے جارہا ہے۔ حکومت اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھانے اور قبائلی عوام کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کرچکی ہے۔ نئے اضلاع کے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پُرکشش پیکیج کے ذریعے قابل ترین لوگوں کو تعینات کرنے کا بھی پلان ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ قبائل کی ثقافت و روایات کی افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، تاہم جدید دور سے ہم آہنگ ترقی اور خوشحالی کے لیے صحت و تعلیم، انصاف اور حکمرانی کا ایک مؤثر نظام ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ دیگر محکموں کی طرح جوڈیشل کمپلیکسز کو بھی قبائلی علاقوں میں توسیع دی جارہی ہے۔ تعلیم اور صحت کا مؤثر نظام ہوگا، یونیورسٹی ہوگی، میڈیکل کالج اور تدریسی اسپتال ہوگا، مؤثر تعلیم کیلیے صوبے کی طرز پر انڈیپنڈنٹ مانٹیرنگ یونٹ ہوگا۔ 5 لاکھ صحت انصاف کارڈ کی توسیع کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ مختلف منصوبوں کو سولر انرجی پرمنتقل کیا جائے گا۔
خیبر پختون خوا حکومت نے ساتوں قبائلی اضلاع کو ڈویژن کا درجہ دے دیا ہے، جبکہ سابق فرنٹیئر ریجنز کو جن اضلاع میں ضم کیا گیا تھا انہیں متعلقہ ڈویژن کے سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختون خوا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق خیبر، مہمند، باجوڑ، اورکزئی، کرم، جنوبی اور شمالی وزیرستان کو ایک ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح سابقہ فرنٹیئر ریجن حسن خیل کو پشاور ڈویژن کا سب ڈیژن، درہ آدم خیل کو کوہاٹ کا سب ڈویژن، وزیر کو بنوں کا سب ڈویژن، بیٹنی کو لکی مروت کا سب ڈویژن، درازندہ کو ڈی آئی خان کا سب ڈویژن، اور جنڈولہ کو ٹانک کا سب ڈویژن قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے پر تاحال تو کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا، البتہ بعض حلقوں میں اس فیصلے پر یہ کہہ کر تنقید کی جارہی ہے کہ اگر ان ساتوں قبائلی اضلاع کو ایک انتظامی یونٹ میں شامل کرنا تھا تو پھر بہتر یہی تھا کہ اسے ایک صوبہ بنایا جاتا، نہ کہ اسے خیبر پختون خوا میں شامل کیا جاتا، کیونکہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختون خوا میں انضمام کے وقت سب سے معتبر اور مضبوط دلیل یہی دی جاتی تھی کہ تمام قبائلی اضلاع چونکہ جغرافیائی اور انتظامی طور پر اپنی تمام ضروریات کے لیے ملحقہ بندوبستی اضلاع اور ڈویژنز پر انحصار کرتے ہیں اس لیے ان کا بندوبستی اضلاع میں ضم ہونا ہی سب سے بہترین آپشن ہوگا۔ لیکن اب موجودہ حکومت نے باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان تک تمام قبائلی اضلاع کو قریب کے ملحقہ ڈویژنز میں ضم کرنے کے بجائے ان کا ایک الگ ڈویژن بناکر عملاً انضمام کے فیصلے کی نفی کی ہے۔
دوسری جانب قبائلی اضلاع میں تعینات سول افسران نے قبائلی علاقوں میں پولیس کا نظام نافذ کرنے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے لیویز فورس کی استعدادِ کار بڑھانے اور جرگہ سسٹم کو فعال بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق قبائلی اضلاع میں تعینات ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کے دوران ان تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات میں قبائلی اضلاع میں تعینات سول افسران نے جاری اصلاحات کے تحت قبائلی اضلاع میں پولیس نظام نافذ کرنے پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر قبائلی علاقوں میں پولیس نظام نافذ کرنے سے انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت قبائلی علاقوں میں پولیس نظام کو نافذ کرنے کے بجائے وہاں پر لیویز فورس پر توجہ دے اور اس کے نظام کو فعال کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر جرگہ سسٹم کو مضبوط بنایا جائے۔ ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختون خوا نے سول افسران پر واضح کیا کہ اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
حیران کن امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت بشمول گورنر خیبر پختون خوا ایک طرف قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا بھرپور ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، اور دوسری جانب بیوروکریسی اپنے تئیں پوری کوشش کررہی ہے کہ کسی طرح انضمام کے عمل میں روڑے اٹکائے جائیں، اور بدقسمتی سے اس مہم میں انہیں بعض اعلیٰ حکومتی شخصیات کی آشیرباد بھی مبینہ طور پر حاصل ہے، کیونکہ وہ بھی اس بہتی گنگا میں نہانے کی آس میں موجودہ مناصب پر براجمان ہوئے تھے، لیکن اب انہیں اپنی دال گلتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے، لہٰذا وہ انضمام کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کبھی بیوروکریٹس اور کبھی ملک حضرات کے اعتراضات اور احتجاج کو اہمیت دینے کی صورت میں ایکسپوز ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان نے کہا ہے کہ قبائلی زعماء و مشران پر مشتمل سب ڈویژنل سطح (سابقہ ایف آرز) پر ایک قبائلی جرگہ تشکیل دیا جانا چاہیے جو مقامی سطح پر قبائلی عوام کے مسائل قبائلی روایات کے مطابق حل کرے۔ قبائلی جرگہ آئین وقانون اور اعلیٰ عدلیہ کی قبائلی علاقوں سے متعلق ہدایات کی روشنی کے مطابق ہونا چاہیے۔ جرگہ میں نمائندگی قبائلی عوام اپنی مرضی کے مطابق کریں گے۔ اس موقع پر سیکریٹری داخلہ خیبر پختون خوا اکرام اللہ خان، پرنسپل سیکریٹری برائے گورنر نظام الدین، تمام قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور سب ڈویژن (سابقہ ایف آرز) کے اسسٹنٹ کمشنرز بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ قبائلی جرگہ کے قیام کا مقصد محض قبائلی عوام کے روزمرہ کے مسائل کو قبائلی روایات، طرزِزندگی اور ثقافت کے مطابق حل کرنا ہے۔ قبائلی عوام کی عزت اور وقار ہمیں عزیز ہے، پوری قوم ملک کی خاطر قبائلی عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ جرگہ قبائلی عوام کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا اور جرگہ میں نمائندگی قبائلی عوام اپنی مرضی سے کریں گے۔ انہوں نے اس موقع پر تمام ڈپٹی کمشنرز قبائلی اضلاع اور اسسنٹ کمشنرز سب ڈویژن (سابقہ ایف آرز) کو تمام قبائل کا مکمل ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایت کی، تاکہ قبائلی علاقوں میں قبائل کی مکمل تعداد معلوم ہوسکے۔
دریں اثناء عدالتِ عالیہ پشاور نے قرار دیا ہے کہ کارخانو مارکیٹ اور انڈسٹریل زون ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں، لہٰذا کارخانو مارکیٹ کے تاجروں سے فوری طور پر پراپرٹی ٹیکس وصول کیا جائے۔ عدالتِ عالیہ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس قلندر علی خان پر مشتمل دورکنی بینچ نے یہ احکامات گزشتہ روز کارخانو مارکیٹ کے پلازہ مالکان کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر جاری کردہ حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے جاری کیے۔ عدالتِ عالیہ نے کارخانو مارکیٹ کے پلازہ مالکان کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس کے بارے میں لیے گئے حکم امتناعی کو خارج کرکے ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے حق میں فیصلہ دیا، اور حکم دیا کہ مذکورہ علاقے سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی جلد سے جلد شروع کی جائے۔ کارخانو مارکیٹ میں واقع پلازے 2002ء سے اس مؤقف پر پراپرٹی ٹیکس نہیں دے رہے کہ مذکورہ علاقے میں پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2004ء میں کارخانو مارکیٹ اور انڈسٹریل زون کو ریٹنگ ایریا قرار دے کر اس سے پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے متعلقہ علاقوں کو ایک مرتبہ پھر ریٹنگ ایریا قرار دے کر ان سے پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کا حکم دے دیا۔ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس کے لیگل ایڈوائزر بیرسٹر سید حماد علی شاہ نے کیس کا دفاع جسٹس قیصر رشید اور جسٹس قلندر علی خان پر مشتمل دو رکنی ڈویژنل بینچ میں کیا، جس پر عدالت نے فیصلہ سنایا کہ متعلقہ علاقہ ریٹنگ زون ہے۔ اور پراپرٹی ٹیکس پر جاری حکم امتناعی کو کالعدم قرار دے کر فیصلہ ڈپارٹمنٹ کے حق میں سنایا۔ ایکسائز، ٹیکسیشن ریکارڈ کے مطابق کارخانو مارکیٹ اور ملحقہ علاقے کے پراپرٹی مالکان کے ذمے پچیس کروڑ سے زائد کا پراپرٹی ٹیکس واجب الادا ہے جو کہ 2002ء سے لے کر اب تک جمع نہیں کیے گئے، اور اب پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ پراپرٹی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ادھر سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ریاض خان محسود نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی علاقہ پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہے اور قانون سب کے لیے ایک ہے۔ کارخانو مارکیٹ میں واقع پلازہ مالکان سے پراپرٹی ٹیکس کا ایک ایک روپیہ وصول کیا جائے گا اور نادہندگان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے سولہ سال سے واجب الادا تمام بقایاجات کی وصولی کی جائے گی۔ ریاض خان محسود کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسائز، ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ میں اصلاحات لائی جارہی ہیں جس کے تحت انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور اسے دورِ جدید سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی بھرپور مدد لی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ کارخانو مارکیٹ پشاور اور قبائلی ضلع خیبر کے سنگم پر واقع ہے، اس میں درجنوں مارکیٹیں اور پلازے ہیں جن میں ہزاروں چھوٹی بڑی دکانیں ہیں، جن سے لاکھوں افراد کا بالواسطہ اور بلا واسطہ روزگار وابستہ ہے۔ ان مارکیٹوں کی زیادہ تر ملکیت چونکہ ضلع خیبر کے مقامی قبائل کی ہے اور قبائلی علاقے چونکہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے، اس لیے ان پلازوں کے مالکان کا یہ مؤقف ہے کہ قبائلی ہونے کے ناتے ان پر کسی قسم کا ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ جبکہ دوسری جانب متعلقہ محکموں اور اداروں کا کہنا ہے کہ یہ علاقے چونکہ پشاور کی انتظامی حدود میں آتے ہیں اس لیے ان پر ہر طرح کا ٹیکس نافذالعمل ہے۔ اس کے خلاف پلازہ مالکان نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر رکھی تھی جس کے خلاف اب فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر لائقِ توجہ ہے کہ ان پلازوں کے مالکان کی اکثریت کا تعلق انضمام مخالف صفوں سے ہے، اور عام تاثر یہ ہے کہ یہ عناصر اپنے سرمائے کے بل پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے ہارے ہوئے کیس کو انضمام کے ایشو سے یہ کہہ کر جوڑنے کی کوشش کریں گے کہ ان پر عائد کیا جانے والا ٹیکس دراصل انضمام کا کرشمہ ہے۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ بعض عناصر اس ایشو کے ذریعے انضمام کی مخالفت میں تاویلات گھڑنے سے بھی دریغ نہ کریں، جن پر نہ صرف نگاہ رکھنا بلکہ ان قوتوں کو قابو میں رکھنا بھی موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ یہاں حکومت کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ قبائلی علاقوں کی ترقی اور انضمام کے عمل میں تیزی کے حوالے سے قبائلی عوام اب گا،گے اور گی کی گردان سننے اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کے قبائلی علاقوں کے دوروں کی میڈیا کوریج اور پروپیگنڈے کے بجائے اصلاحات کی جانب عملی اقدامات اٹھتے ہوئے دیکھنا چاہیں گے، بصورتِ دیگر ان کا پیمانۂ صبر کسی بھی وقت لبریز ہوسکتا ہے۔
Share this: