پاکستان پر بھارت کا حملہ، پاکستان کا بھارت کو “سرپرائز”۔

انسانوں اور زندگی کے بارے میں دو بنیادی باتیں کہیں پڑھی تھیں۔ ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ چیونٹی کو چپل اور ہاتھی کو گرز سے مارا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ تھی کہ بعض لوگوں کو منانے کے لیے ایک پھول بھی کافی ہوتا ہے، اور کچھ لوگوں کے لیے پورا گلشن بھی کم پڑ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بھارت کے بارے میں دونوں باتیں درست ہیں۔ بھارت 71 سال میں کشمیر کے اندر چار لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کرچکا ہے، اس تناظر میں پلوامہ کا واقعہ چیونٹی کے برابر بھی نہیں، مگر بھارت اس واقعہ پر ہر طرف گرز اٹھائے گھوم رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے ٹماٹر بندکردو، پاکستان کی کرکٹ بند کردو، پاکستان کا پانی بند کردو، کشمیریوں کے جینے پر پابندی لگا دو۔ پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے گزشتہ 70 سال میں بھارت کو خیرسگالی اور نیک نیتی کا ایک گلشن نہیں، کئی گلشن پیش کردیے ہیں، مگر بھارت 70 سال سے پاکستان کی طرف پیٹھ کیے کھڑا ہے، حالانکہ ان 70 برسوں میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ کچھ بھی برا نہیں کیا، اور بھارت 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرچکا ہے۔ عقل کہتی ہے جو لوگ چیونٹی جیسے معاملات پر گرز نکال لیتے ہیں وہ کم ظرف ہوتے ہیں، اور جو لوگ گلشن سے بھی خوش نہیں ہوتے وہ ابلیس صفت ہوتے ہیں۔ علامہ خمینی امریکہ کو عالمی سطح کا شیطانِ بزرگ کہتے تھے۔ بھارت کی اوقات ابھی عالمی طاقت بننے کی نہیں ہے مگر وہ بلاشبہ علاقے کا شیطانِ بزرگ کہلانے کا مستحق ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ امریکہ کو شیطانِ بزرگ کہنے والا ایران آج علاقے کے شیطانِ بزرگ کا اتنا قریبی اتحادی ہے کہ اس نے گوادر کی بندرگاہ کی اہمیت کم کرنے کے لیے بھارت کو پاکستان کے بحری پڑوس میں چابہار کی بندرگاہ مہیا کردی ہے۔ اس کو کہتے ہیں ایسی بلندی ایسی پستی۔
کشمیر کا مسئلہ پاکستان کا پیدا کردہ نہیں۔ برصغیر کی تقسیم کا اصول یہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ ہوں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا، چنانچہ کشمیر پاکستان کو ملنا چاہیے تھا، مگر بھارت نے برطانیہ کے ساتھ سازباز کرکے کشمیر پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ کرلیا۔ اس سلسلے میں جنگ کی نوبت آئی تو بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو خود کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کشمیر کو متنازع خطہ قرار دیتے ہوئے کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادی کو تسلیم کیا، مگر بھارت نے گزشتہ 71 سال میں اہلِ کشمیر کو کبھی حقِ خودارادی مہیا نہ کیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کی تیسری صورت یہ تھی کہ پاک بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرلیا جاتا۔ پاکستان میں آج تک جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی، مگر بھارت نے کبھی پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ اس کی شیطنت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ جنرل پرویزمشرف نے کشمیر پر مذاکرات کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا، مگر اس کے باوجود بھارت نے آگرہ میں پرویزمشرف اور واجپائی کے مذاکرات کو آخری مرحلے میں سبوتاژ کردیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو 71 سال سے کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے دائرے میں جو کچھ بھی ’’منفی‘‘ اور ’’غیر انسانی‘‘ ہورہا ہے اُس کا ذمے دار سو فیصد بھارت ہے۔ پاکستان کے حکمران پاکستانی قوم کے لیے ’’بدترین‘‘ مگر بھارت کے لیے ’’بہترین‘‘ رہے ہیں۔ اس کا ایک بہت ہی بڑا ثبوت یہ ہے کہ 1962ء میں چین اور بھارت کی جنگ کے دوران چین نے پاکستان کو پیغام دیا کہ جنگ کی وجہ سے بھارت اپنی ساری عسکری طاقت چین کی سرحد پر لے آیا ہے، پاکستان کے لیے موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے اور بھارت سے اپنا کشمیر چھین لے۔ یہ پاکستان اور جنرل ایوب کے لیے سنہری موقع تھا۔ پاکستان اُس وقت پانچ ہزار فوجیوں کی یلغار کے ذریعے بھارت کے منہ پر طمانچہ مار کر اُس سے کشمیر چھین سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس بھارت کو 1971ء میں موقع ملا اور اُس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کردیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت جیسا ہے ویسا کیوں ہے؟
پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ پاک بھارت تعلقات کا اصل مسئلہ نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جو مسلمان دشمن بھی ہے اور پاکستان دشمن بھی۔ مگر یہ ایک سرسری، سطحی اور غلط تجزیہ ہے۔ بھارت کے تمام رہنما ہمیشہ سے مسلمانوں اور پاکستان کے لیے نریندر مودی، اور بھارت کی تمام جماعتیں مسلمانوں اور پاکستان کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بھارت کے اصل نریندر مودی ’’مودی نمبر ایک‘‘ ہیں، جب کہ دوسرے رہنما ’’مودی نمبر دو‘‘ اور ’’مودی نمبر تین‘‘ تھے اور ہیں۔ یہی قصہ بی جے پی کا ہے۔ اصل بی جے پی ’’بی جے پی نمبر ایک‘‘ ہے، اور بھارت کی دوسری جماعتیں بھارت کے مسلمانوں اور پاکستان کے لیے ’’بی جے پی نمبر دو‘‘ اور ’’بی جے پی نمبر تین‘‘ ہیں۔ یہ بھارت کو سمجھنے کے سلسلے میں ایک بنیادی بات ہے۔ بدقسمتی سے اس رائے کو ہندوستان کی تاریخ کی ٹھوس مثالوں سے درست ثابت کرنا معمولی بات ہے۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی جب سے اقتدار میں آئی ہے، مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے ’’گھر واپسی‘‘ کے عنوان سے ایک تحریک چلائے ہوئے ہے۔ بی جے پی کا خیال ہے کہ ہندوستان کے اکثر مسلمان ہندوازم سے نکل کر دائرۂ اسلام میں آئے ہیں، چنانچہ انہیں دوبارہ ہندوازم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے آج سے سو سال پہلے یعنی 1920ء کی دہائی میں سوامی شردھانند سرسوتی ’’شدھی‘‘ کے نام سے ایک تحریک چلائے ہوئے تھے۔ اس تحریک کے تحت بھی مسلمانوں کو ہندو بنایا جارہا تھا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بی جے پی کی ’’گھر واپسی‘‘ مہم ’’شدھی‘‘ تحریک کا تسلسل ہے۔ بدقسمتی سے کانگریس یا کسی اور جماعت نے نہ کبھی شدھی کی مخالفت کی، اور نہ کبھی ’’گھر واپسی‘‘ مہم کی مذمت کی۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی Love Jihad کے خلاف ایک مہم چلائے ہوئے ہیں۔ اس مہم کا پس منظر یہ ہے کہ بھارت میں ہندو لڑکیاں بڑے پیمانے پر مسلمان لڑکوں سے شادیاں کررہی ہیں، اور ظاہر ہے کہ مشرف بہ اسلام ہورہی ہیں۔ بی جے پی الزام لگا رہی ہے کہ مسلمان “Love Jihad” کے نام سے ایک خفیہ مہم چلا رہے ہیں، مدارس میں مسلمان لڑکوں کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے، انہیں سکھایا جارہا ہے کہ وہ کیسے خود کو ہندو لڑکیوں کے لیے ’’دلکش‘‘ بنائیں۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہندو سماج میں عورت کی کوئی عزت نہیں، چنانچہ ہندو لڑکیاں مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر مسلمانوں کے معاشرے کو عورتوں کے لیے بہتر خیال کرتے ہوئے مسلمان ہورہی ہیں، ورنہ مسلمان لڑکوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی حالت ہندو لڑکوں کے مقابلے پر کمتر ہے، اور ہندو لڑکیوں کے لیے اس حوالے سے مسلمان لڑکے رتی برابر بھی پُرکشش نہیں ہوسکتے۔ مگر بی جے پی طاقت اور خوف کے ذریعے ہندو لڑکیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شادی سے روک رہی ہے۔ بلاشبہ یہ ’’انتہا پسندی‘‘ ہے، مگر یہ انتہا پسندی بھی نئی نہیں۔ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت شائستہ اکرام اللہ کے ماموں سید حسین پر عاشق ہوگئی تھیں، اور انہوں نے مشرف بہ اسلام ہوکر سید حسین سے نکاح کرلیا تھا۔ گاندھی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ آگ بگولہ ہوگئے۔ انہوں نے وجے لکشمی پنڈت کو اپنے آشرم میں طلب کیا اور فرمایا کہ تمہیں کروڑوں ہندو لڑکوں میں سے ایک شوہر بھی دستیاب نہ ہوسکا! اس کے بعد ’’گاندھی جی‘‘ نے وجے لکشمی پر دبائو ڈال کر ان کا نکاح ختم کرایا اور وجے لکشمی پنڈت کی شادی ایک ہندو سے کرائی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بی جے پی اور گاندھی کی نفسیات، رویّے اور طریقۂ کار میں کیا ’’جوہری فرق‘‘ ہے؟
مودی کو ’’گجرات کا قسائی‘‘ کہا جاتا ہے، اور بالکل ٹھیک کہا جاتا ہے۔ مودی بھارتی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ایک مسلم کُش فساد میں دو ہزار سے زائد مسلمان شہید کردیے گئے تھے، مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا، حاملہ مسلم خواتین کے پیٹ چاک کردیے گئے تھے، مگر نہ مودی سرکار نے کچھ کیا، نہ بھارت کی مرکزی حکومت نے ہندو درندوں کو لگام دی۔ مگر یہ بھی کوئی ’’نئی بات‘‘ نہیں تھی۔ ہمارے سامنے مولانا ابوالکلام آزاد کی آخری کتاب India Wins Freedom رکھی ہوئی ہے۔ اس کتاب میں مولانا آزاد نے شکایت کی ہے کہ 1947ء میں دِلّی کو مسلمانوں کے خون سے لال کیا جارہا تھا، مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگائی جارہی تھی، انہیں گلی کوچوں میں ذبح کیا جارہا تھا، امیر ترین اور بااثر ترین مسلمان بھی محفوظ نہ تھے۔ لوگ مولانا آزاد سے مدد طلب کررہے تھے۔ مولانا آزاد ہندوستان کے وزیر داخلہ سردار پٹیل اور نہرو سے کہہ رہے تھے کہ قتل و غارت گری کی روک تھام کے لیے کچھ کرو… مگر نہرو مولانا آزاد کو بتارہے تھے کہ سردار پٹیل میری سن ہی نہیں رہے۔ سردار پٹیل ہندوستان کے وزیر داخلہ تھے، نہرو ہندوستان کے وزیراعظم تھے، اور گاندھی ہندوستان کے ’’روحانی باپ‘‘ تھے، مگر وہ کہیں اور کیا، دِلّی تک میں ’’مؤثر‘‘ نہ تھے۔ کیا سردار پٹیل، نہرو اور گاندھی سے زیادہ طاقتور تھے؟ یا اصل بات یہ ہے کہ سردار پٹیل کی طرح نہرو اور گاندھی بھی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو پاکستان بنانے کی سزا ملنی ہی چاہیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سوال یہ ہے کہ مودی، سردار پٹیل، نہرو اور گاندھی میں اصولی اعتبار سے کیا فرق ہے؟
مودی تو ’’انتہا پسند‘‘ ہیں، ’’پاکستان دشمن‘‘ ہیں، مگر گاندھی اور نہرو کی پیروکار اندرا گاندھی کیا تھیں؟ مودی پاکستان توڑنا چاہتے ہیں، اور اندرا گاندھی نے 1971ء میں صرف پاکستان نہیں توڑا بلکہ انہوں نے اس موقع پر یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ ’’ہم نے آج دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے اور (مسلمانوں سے) ایک ہزار سال (کی حکمرانی) کا بدلہ لے لیا ہے۔‘‘ بدقسمتی سے پلوامہ کے واقعے کے بعد موجودہ پاک بھارت کشیدگی کی فضا میں کانگریس نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا ہے۔ پلوامہ کے واقعے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے رویّے پر تنقید کی تو کانگریس کے ترجمان رندیپ سُرجی والا نے ایک بیان میں فرمایا:
’’کیا بی جے پی بھول گئی ہے 1947ء، 1965ء اور 1971ء میں بھارتی فوج نے کانگریس کی حکومت کے تحت پاکستان کو سبق سکھایا تھا۔ بھارت کے لوگوں کو آج بھی یاد ہے کہ اندرا جی نے کس طرح بنگلہ دیش کو پاکستان سے آزاد کرایا تھا۔ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے اپنے 91 ہزار فوجیوں کے ہمراہ بھارت کی مشرقی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔‘‘ (روزنامہ ڈان کراچی۔ 22 فروری 2019ء)
اس حوالے سے دیکھا جائے تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے مودی اور اندرا گاندھی اور کانگریس اور بی جے پی میں کیا بنیادی امتیاز ہے؟
بلاشبہ بابری مسجد بی جے پی اور دیگر انتہا پسند کہلانے والی ہندو جماعتوں نے شہید کی تھی، مگر بھارتی مسلمان اور اہلِ پاکستان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اُس وقت مرکز اور یوپی دونوں جگہ کانگریس برسرِ اقتدار تھی، اور اگر کانگریس ریاستی طاقت کا ایک فیصد بھی استعمال کرتی تو بابری مسجد کو شہید ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس میں صرف یہ فرق ہے کہ بی جے پی بھارت کی بی جے پی نمبر ایک ہے اور کانگریس بھارت کی بی جے پی نمبر دو ہے۔
اکثر لوگ بی جے پی کو مذہبی جماعت سمجھتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ بی جے پی بھارتی سیکولرازم کا مذہبی چہرہ ہے۔ ہندوازم کی مذہبی اصطلاحوں میں کلام کیا جائے تو کہا جائے گا کہ بی جے پی رام کی نہیں راون کی علامت ہے۔ راون نے سیتا کو اغوا کرلیا تھا۔ بی جے پی نے پورے جنوبی ایشیا کی امن و سلامتی کی سیتا کو اغوا کرلیا ہے۔ رام کی شخصیت امن وانصاف کی علامت تھی۔ بی جے پی جنگ اور ناانصافی کی علامت ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو فراہم ہونے والی ہندو قیادت کی وجہ سے بھارت خود پورے خطے میں راون کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بی جے پی اور بھارت پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک ہی کے لیے نہیں خود ہندوازم اور رام اور کرشن جیسی شخصیتوں کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے خود اپنے مذہب کو مسخ کردیا ہے۔ ہندوئوں کی مقدس کتاب وید کہتی ہے کہ خدا ایک ہے اور اس کی کوئی شبیہ نہیں بنائی جاسکتی۔ مگر اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے کئی خدا بھی گھڑ لیے ہیں اور انہوں نے صدیوں سے مورتی پوجا کو بھی رائج کیا ہوا ہے۔ ہندوازم کہتا ہے کہ ذات پات کے نظام میں انسانوں کی درجہ بندی اپنی اصل میں روحانی یا نفسیاتی ہے نسلی نہیں، مگر اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے برہمن اور شودر کو نسلی حقیقت بناکر کھڑا کردیا ہے۔ مہا بھارت کہتی ہے کہ برہمن کے گھر شودر اور شودر کے گھر برہمن پیدا ہوسکتا ہے، مگر اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے بقول برہمن کے گھر ہمیشہ برہمن اور شودر کے گھر ہمیشہ شودر پیدا ہوگا۔ اس تفریق اور درجہ بندی کی وجہ سے کروڑوں شودر پانچ، چھے ہزار سال سے حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کررہے ہیں، اور اس کا ذمے دار کوئی اور نہیں خود اعلیٰ ذات کے وہ ہندو ہیں جو بی جے پی میں بھی غالب ہیں اور کانگریس میں بھی۔ اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے ظلم و جبر کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا کہ بدھ ازم ہندوازم کے دائرے میں نمودار ہوا تھا، مگر چونکہ وہ ذات پات کا قائل نہ تھا اس لیے ہندوئوں نے بدھ ازم کو بھارت کے مرکز میں کبھی قدم نہ جمانے دیے، اور اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے مار مار کر بدھسٹوں کو بھارت کے مضافات میں دھکیل دیا۔ بدھ ازم بھارتی ریاست بہار میں پیدا ہوا تھا اور اسے اصولاً بہار اور یوپی میں پھیلنا چاہیے تھا، مگر بدھ ازم نے اپنے مراکز موجودہ پاکستان اور افغانستان میں بنائے۔ اس صورتِ حال نے بھارت کو آئین مہیا کرنے والے شودر ڈاکٹر امبیدکر میں ایسا ردعمل پیدا کیا کہ انہوں نے صاف کہا کہ پیدا ہونے پر میرا بس نہیں تھا چنانچہ میں ہندو پیدا ہوگیا، مگر میں ہندو کی حیثیت سے نہیں مروں گا۔ چنانچہ انہوں نے مرنے سے قبل بدھ ازم اختیار کرلیا تھا۔ سکھ ہندوئوں میں اتنا گھل مل گئے ہیں کہ وہ ہندوازم کی ایک شاخ محسوس ہوتے ہیں، مگر اندرا گاندھی کے دو سکھ محافظوں نے اندرا گاندھی کو ہلاک کیا تو ہندو پوری سکھ قوم پر ٹوٹ پڑے اور صرف دہلی میں انہوں نے ایک دن میں تین ہزار سکھوں کو مار ڈالا۔
ان حقائق کا شعور رکھنے والا اچھی طرح جان سکتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات 71 سال سے کشیدہ کیوں ہیں، اور اس کا ذمے دار کون ہے؟ ان حقائق سے یہ بات بھی بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ پلوامہ کے حملے کے بعد سے اب تک بھارت نے جنوبی ایشیا کی صورتِ حال کو دھماکہ خیز کیوں بنایا ہوا ہے؟ ساری دنیا کا اصول ہے: جیو اور جینے دو۔ بھارت کا اصول ہے: جیو مگر کسی کو نہ جینے دو۔ اس اصول کے تحت بھارت چین اور پاکستان سے جنگیں لڑ چکا ہے، وہ سری لنکا کی خانہ جنگی میں ایک فریق کا کردار ادا کرچکا ہے، وہ مالدیپ میں فوجیں اتار چکا ہے، وہ بھوٹان کو اپنی باج گزار ریاست کی طرح لیتا ہے، بنگلہ دیش کو اس نے اپنی کالونی بنایا ہوا ہے۔ بھارت نے گزشتہ 71 سال میں مقبوضہ کشمیر میں چار لاکھ سے زیادہ لوگوں کو شہید کیا ہے مگر پلوامہ میں اُس کے صرف 46 فوجی مارے گئے تو وہ ایسا ردِعمل ظاہر کررہا ہے جیسے کشمیر کے حریت پسندوں نے دو، تین لاکھ بے گناہ ہندوئوں کو مار ڈالا ہو۔
بدقسمتی سے نریندر مودی اور ان کی جماعت نے ایک چھوٹے سے واقعے پر پورے برصغیر میں ایک جنگی ماحول پیدا کردیا ہے۔ مودی سرکار اور بھارتی ذرائع ابلاغ نے ماحول میں موجود اشتعال کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اگر بھارت پاکستان پر کسی نہ کسی طرح کا حملہ نہیں کرے گا تو نریندر مودی اور بی جے پی کا پیدا کردہ اشتعال اور جنون خود مودی اور بی جے پی کو کھا جائے گا۔ پروپیگنڈہ ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہوتا ہے، اگر پروپیگنڈہ دشمن کو نقصان نہ پہنچا سکے تو وہ پھر پروپیگنڈہ کرنے والے کی طرف مجروح سانپ کی طرح لپکتا ہے۔
23 فروری 2019ء کی رات دس بجے جیو نیوز نے اپنی خبروں میں راجستھان کے علاقے ٹونک میں عوامی جلسے سے مودی کے خطاب کا ایک حصہ یہ کہہ کر نشر کیا کہ بھارتی دھمکیوں پر پاکستان کے دوٹوک مؤقف کے بعد بھارت کے مؤقف میں لچک اور زبان اور انداز میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ جیو کے مطابق نریندر مودی نے کہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے منتخب ہونے کے بعد انہیں ٹیلی فون کیا اور انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان بہت لڑ چکے، آیئے اب غربت اور جہالت کے خلاف لڑیں۔ عمران خان نے اس کے جواب میں کہا کہ میں پٹھان کا بچہ ہوں، میں سچ بولتا ہوں۔ مودی نے کہا کہ آج عمران خان کے کہے کو کسوٹی پر پرکھنے کا وقت آگیا ہے۔ مگر ہم نے مودی کی پوری تقریر خود سنی تو معلوم ہوا کہ مودی نے 23 فروری کے جلسے میں بھی بھارت کے لوگوں کو جنگ کے لیے تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پلوامہ کا درد سہہ کر چپ چاپ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن نہیں ہوگا جب تک ’’دہشت گردی کی فیکٹری‘‘ بند نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فیکٹری پر تالا لگانے کا کام بھی مجھے ہی کرنا ہے تو ایسا ہی سہی۔ انہوں نے بھارت کے عوام سے کہاکہ وہ مودی سرکار، سرحد پر ڈٹے ہوئے سپاہیوں اور بھوانی ماں کے آشیرواد پر اعتبار کریں۔ جیسا کہ ظاہر ہے اس خطاب میں نہ مودی کی زبان بدلی ہے، نہ لہجہ تبدیل ہوا ہے۔ لیکن عمران خان نے اپنے خطاب اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے بھارت کو بتادیا ہے کہ پاکستان نہ جنگ چاہتا ہے اور نہ وہ جنگ سے خوفزدہ ہے۔ ایک مسلمان کی یہی شان ہے، وہ نہ آزمائش کی تمنا کرتا ہے اور نہ آزمائش سے گھبراتا ہے۔ افسوس کہ بھارت نے 71 سال میں کبھی امن وانصاف، انسانیت اور تہذیب کی آواز پر کان نہیں دھرے۔ اس نے کبھی مذاکرات اور مکالمے سے حقیقی وابستگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نہ مذہبی ملک ہے، نہ سیکولر ملک ہے۔ بھارت چوں چوں کا مربہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے حکمرانوں کی تاریخ ہولناک تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے بھارت صرف ایک زبان سمجھتا ہے… طاقت کی زبان۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں بھارت نے پاکستان پر بڑے حملے کی تیاری کرلی تھی۔ جنرل ضیا الحق کو اس کی اطلاع ملی تو کرکٹ کی آڑ میں بھارت پہنچے اور بھارت کے دو، تین دن کے دورے کے بعد واپس لوٹتے ہوئے ہوائی اڈے پر بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ایک طرف لے گئے اور اُن سے کہا کہ ہمیں آپ کے حملے کی اطلاع مل چکی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں، چنانچہ آپ نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی تو ہم بھارت کے خلاف ایٹم بم استعمال کریں گے، لہٰذا میرے اسلام آباد پہنچنے تک سرحدوں پر صورتِ حال کو بہتر ہوجانا چاہیے۔ جنرل ضیا الحق کی اس دھمکی نے کام دکھایا اور بھارت نے پاکستان پر حملے کا ارادہ ترک کردیا۔ پاکستان کو اِس وقت بھی بھارت کو صاف صاف بتادینا چاہیے کہ پاکستان پر اس کے کسی بھی حملے کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں؟ پاکستانی قوم مذہب پر عمل کرتی ہو یا نہ کرتی ہو، مگر وہ مذہب سے گہری جذباتی وابستگی ضرور رکھتی ہے، چنانچہ پوری پاکستانی قوم کو ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ اور اجتماعی شہادت کے لیے تیار کرنا زیادہ مشکل کام نہیں۔ بھارت کے سامنے جس دن اجتماعی بقا کا سوال ٹھوس بن کر کھڑا ہوگا بھارت کے چودہ کیا اٹھارہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ بدقسمتی سے بھارتی ذرائع ابلاغ ایک جانب ہندوستان میں جنگی جنون پیدا کررہے ہیں اور دوسری جانب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنان کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کردی ہے۔ یہ صورت حال پورے خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے۔ لوگ کم علمی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ایٹم بم استعمال کے لیے نہیں ہوتے، ان سے صرف خوف کا توازن قائم کیا جاتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ انسان کی جیب میں پستول بھی ہوتا ہے تو پستول انسان کو Dictate کرتا ہے۔ ہندوستان پاکستان، کشمیریوں اور خود بھارت کے مسلمانوں پر اتنا ظلم کرچکا ہے کہ اس ظلم میں ذرا سا مزید اضافہ پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے استفادے پر مائل کرسکتا ہے۔ بظاہر وقت اور امریکہ ان حالات میں بھارت کے ساتھ نہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں پاکستان کی ضرورت ہے، مگر امریکہ پر اعتبار سے زیادہ بھیانک بات کوئی نہیں ہوسکتی۔ امریکہ کو بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف صف آرا ہونے کے لیے صرف ایک بیان کی ضرورت ہوگی، لیکن امریکہ سے بھی بڑا مسئلہ خود پاکستان کے حکمرانوں کا ہے۔ جنرل پرویزمشرف ’’کارگل کے ہیرو‘‘ تھے، مگر کارگل کا یہ ہیرو کارگل سے اترا تو بھارت سے صبح شام مذاکرات اور امن کی بھیک مانگنے لگا۔ اسے کوشش کے بعد امن کی بھیک ملی مگر امن فراہم نہ ہوسکا۔ بدقسمتی سے عمران خان بھی ’’کارگل کے ہیرو‘‘ کے نقشِ قدم پر چلتے نظر آرہے ہیں۔ ایک جانب وہ بھارت سے کہہ رہے ہیں کہ تم نے حملہ کیا تو ہم سوچے بغیر تم پر حملہ کردیں گے۔ دوسری جانب انہوں نے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی رمیش کمار کو ’’خفیہ امن مشن‘‘ پر بھارت بھیجا ہوا ہے جہاں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی ہے۔ خود عمران خان نے فرمایا ہے کہ وہ مودی کو امن کا ایک اور موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اصول ہے کہ بھکاریوں کو امن اور جنگ میں سے کسی ایک کے انتخاب کی آزادی نہیںہوتی۔ بلاشبہ عمران کا یہ متضاد طرزِعمل ان کی کمزوری کا مظہر اور غلامانہ ہے، اور غلاموں کے بارے میں اقبال نے بنیادی بات کہہ دی ہے، انہوں نے فرمایا ہے:
غلاموں کی بصیرت پر بھروسہ کر نہیں سکتے
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
مذکورہ بالا سطور 23 فروری 2019ء کو تحریر کی گئی تھیں، اور ان سطور میں اس اندیشے کا اظہار موجود تھا کہ نریندر مودی اور بی جے پی نے بھارت میں جو جنگی جنون پیدا کردیا ہے اُس کے نتیجے میں بھارت کو پاکستان پر کسی نہ کسی قسم کا حملہ کرنا پڑے گا ورنہ بھارت میں پیدا کیا گیا جنگی جنون خود مودی اور بی جے پی کو نقصان پہنچائے گا۔ بدقسمتی سے یہ اندیشہ 26 فروری 2019ء کو درست ثابت ہوگیا۔ بھارت نے بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں بالاکوٹ کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا۔ بھارت کی تاریخ جھوٹ، مکر اور فریب کی تاریخ ہے۔ اسی تاریخ کے زیر سایہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کے حملے سے جیشِ محمد کے تین سے ساڑھے تین سو افراد شہید ہوئے ہیں۔ لیکن دستیاب شواہد سے صرف اتنا ثابت ہوا ہے کہ بھارت کے حملے سے چند درخت اکھڑ گئے، ایک شخص زخمی ہوا اور دھماکے سے پیدا ہونے والی دھمک سے ایک گھر کو نقصان پہنچا۔ بھارت کا جھوٹ اور مکر اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گھوکھلے اپنی نیوز کانفرنس میں صرف بیان پڑھ کر فرار ہوگئے اور انہوں نے خود بھارت کے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ بھارت کا دعویٰ سچا ہوتا تو بھارتی سیکریٹری خارجہ ڈٹ کر نیوز کانفرنس کرتے اور ہر سوال کا جواب دیتے۔ بدقسمتی سے بھارتی حملے نے پاکستان کے حکمرانوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان سوچے گا نہیں، فوراً حملے کا جواب حملے سے دے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ بھارت ہمیں حیران نہیں کرسکتا بلکہ ہم اُسے حیران کریں گے۔ مگر بھارت نے پہل کاری یا Initiative کے ذریعے پاکستان کو حیران کیا ہے۔ تاہم میجرجنرل آصف غفور نے حملے کے بعد کہا کہ ہم بھارت کو حیران کریں گے، وہ انتظار کرے۔ قوم کی دعا ہے کہ اس بار میجر جنرل آصف غفور کی بات درست ثابت ہو۔ بھارتی حملے کا افسوس ناک ترین پہلو یہ ہے کہ بھارت حملے کی تیاری کررہا تھا اور پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار عمران خان کے خفیہ ایلچی کا کردار ادا کرتے ہوئے بھارت پہنچے ہوئے تھے اور مودی و سشما سوراج کے ساتھ ملاقات کررہے تھے، اور فرما رہے تھے: میں نے امن کا پیغام بھارتی قیادت تک پہنچایا ہے، اور جلد ہی بھارت کی جانب سے بھی پاکستان کے لیے امن کا پیغام سامنے آئے گا۔ لیکن بھارت نے بالاکوٹ پر حملے کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کے اجتماعی منہ پر طمانچہ رسید کردیا ہے اور بتادیا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ 71 سال میں بھی بھارت کو سمجھ نہیں پایا ہے، حالانکہ بھارت 1971ء میں پاکستان کو توڑ چکا ہے اور باقی ماندہ پاکستان کے درپے ہے۔ یہ سطور لکھی جا چکی تھیں کہ پاک فضائیہ نے 1965ء کی یاد تازہ کرتے ہوئے دو بھارتی طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ پاک فضائیہ معرکے کے پہلے مرحلے میں قوم کی توقعات پر پوری اتری، البتہ عمران خان نے ایک بار پھر قوم سے خطاب کرڈالا ہے۔ تحمل اور امن پسندی اچھی چیز ہے مگر اس سے کمزوری اور خوف کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان دو تین دن انتظار کرکے قوم سے خطاب کرلیتے تو اچھا تھا۔

Share this: