مچھ جیل سے کوئٹہ جیل کا سفر؟

مچھ جیل سے کوئٹہ میں دوبارہ آنا میرے لیے مفید ثابت ہوا۔ یہاں نیپ کے اکثر قائدین سے ملاقات کا موقع ملا اور مجھے نیپ کی سوچ سے زیادہ آگہی حاصل ہوگئی اور میں ان کے قریب ہوگیا۔ وہ میرا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔ یہاں اپنے احاطے کے علاوہ پوری جیل میں گھومنے پھرنے کی آزادی تھی، مجھے جو مشقتی ملا وہ بڑا دلچسپ انسان تھا۔ جیل مینوئل کے مطابق بی کلاس کے قیدی کے لیے ناپ تول کے حساب سے خوراک دی جاتی تھی۔ میرا مشقتی وڈیرے کے نام سے مشہور تھا، وہ روزانہ صبح جیل کے گودام سے کھانا پکانے کی چیزیں لاتا تھا۔ بی کلاس کے قیدی کا پورے ہفتے کا ایک ٹائم ٹیبل تھا جس کے مطابق سامانِ خورونوش فراہم کیا جاتا تھا، گوشت بھی دیا جاتا تھا۔ میرے ساتھ والے احاطے میں نیپ کے ایک لیڈر قید تھے، ان کا نام ملک یوسف اچکزئی تھا۔ انہوں نے جیل مینوئل پڑھا ہوا تھا۔ وہ صبح خود اپنا خورونوش کا سامان لاتے تھے اور ایک ایک چیز ناپ تول کے لیتے تھے۔ یہ اُن کا روز کا معمول تھا۔ ایک دن انچارج نے مجھ سے کہاکہ آپ تو کبھی ہماری طرف آتے بھی نہیں اور ہم جو سامان مشقتی کو دیتے ہیں وہ آپ کو لاکر دے دیتا ہے، لیکن ملک صاحب روزانہ ہمارے پاس آتے اور ایک ایک چیز گن کر اور وزن کرکے لیتے ہیں۔
سامان کا منتظم اُن سے بڑا نالاں اور پریشان رہتا تھا جبکہ مجھ سے مطمئن تھا۔ مشقتی کمرہ صاف کرتا اور بستر کو ترتیب سے لگاتا تھا، اور وہ چرس کے کش بھی خوب لگاتا۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ چرس کہاں سے لاتے ہو؟ اس نے کہا کہ جیل میں سب کچھ مل جاتا ہے، آپ کو ضرورت ہو تو مجھے حکم کریں۔ یہ کہہ کر وہ خوب ہنسا۔ وہ کھانا پکانے کا ماہر تھا اور گوشت پکاتے وقت اُس میں تھوڑا گڑ ڈال دیتا تھا اور کہتا تھا اس سے ذائقہ اچھا ہوجاتا ہے۔ اور واقعی کھانا مزیدار ہوتا اور لطف آتا۔ ’وڈیرہ‘ بڑا خوش مزاج جوان تھا، مگر چہرے پر غربت کی وجہ سے بڑھاپے کے آثار نمایاں تھے، یوں وہ اپنی عمر سے زیادہ لگتا تھا۔ اس کی آواز بڑی خوب صورت تھی اور جب سرور میں ہوتا تو اپنی پسند کے گانے گاتا اور مجھ سے کہتا کہ سر جو گانا آپ کو پسند ہے وہ بھی سنا سکتا ہوں۔ اور وہ میری فرمائش پر گانا سناتا۔ یوں اس کی صحبت میں خوب دن گزرتے رہتے۔ ہمارا یہ وڈیرہ جیب کتروں کا لیڈر تھا، اس کا پورا گینگ تھا، اتفاق سے جب وہ پکڑا گیا تو اس کا پورا گینگ اس کے ساتھ جیل میں تھا۔ ایک دن اس نے اپنے پورے گینگ سے تعارف کرایا۔ یہ تمام کے تمام ٹین ایجر تھے اور جیب کترے تھے۔ وڈیرہ کوئٹہ شہر میں ان کی ڈیوٹیاں لگاتا اور شام کو وہ اپنے استاد کو رقم لاکر دیتے اور پورے دن کی داستان بھی سناتے تھے۔ جیل کے قریب جیل کی کھیتی تھی، جیل سپرنٹنڈنٹ ان کو لے جاتا اور ان سے کام کراتا تھا۔ ایک دن وڈیرے نے بڑا دلچسپ واقعہ سنایا، اس نے کہاکہ ایک دن کوئٹہ میں پیپلزپارٹی کا جلسہ تھا جس میں اس کے لیڈر ممتاز بھٹو کا خطاب تھا۔ جلسہ ختم ہوا تو بہت رش تھا، میں ممتاز بھٹو کے قریب گیا اور ان کے ہاتھ کی گھڑی اتارلی، رش میں اُن کو اندازہ ہی نہیں ہوا۔ یہ واقعہ سناکر وہ خوب ہنسا۔ ایک دن میں نے اس سے کہاکہ یار وڈیرہ آپ یہ دھندہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ اس نے کہا: سر کئی دفعہ یہ کام چھوڑا تو پولیس پکڑ لیتی اور کہتی کہ آپ کام جاری رکھیں اور ہمارا حصہ دیا کریں، یوں میں مجبور ہوجاتا ہوں۔ ان کو بھتہ دیتا ہوں تو آزاد رہتا ہوں، اور اگر یہ دھندہ نہ کروں تو جیل میں ڈال دیتے ہیں۔
میں جب جیل سے چھوٹا تو یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ ایک دن لوکل بس میں چڑھا تو وڈیرے کا ایک ساتھی بھی بس میں واردات کے لیے چڑھا ۔مجھے دیکھا تو سلام کیا اور بس سے اتر گیا۔ اس نے میرا احترام کیا اور جیب نہیں کاٹی۔بعض دفعہ کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ان سے ملاقات ہوتی۔ مجھے دیکھتے، سلام کرتے اور کارروائی نہیں کرتے تھے۔ یہ 1973ء کا دور تھا۔ طویل عرصے تک جیل کے وڈیرے سے ملاقات ہوتی تو اس کو چائے کی دعوت دیتا تھا۔ اب کئی برسوں سے اسے نہیں دیکھا، معلوم نہیں وہ اس دنیا میں ہے یا نہیں!
جیل میں جب صبح ہوتی تو بی ایس او کے نوجوان میرے احاطے میں آجاتے تھے۔ ان میں خورشید جمالدینی، قیوم بلوچ اور دیگر کارکن شامل تھے، ان سے جیل میں دوستی ہوگئی تھی۔ حشمت نوجوان طالب علم تھا، اُس نے جیل سے امتحان دیا۔ میں اس کی مدد کرتا، اس کے پرچے حل کراتا۔ اب وہ ایڈووکیٹ ہے اور اس سے بارروم اور کچہری میں ملاقات ہوتی ہے۔ ایک دن ایک پرچے کے دوران اُس نے کہا: شادیزئی صاحب لکھتے لکھتے ہاتھ تھک گیا ہے۔ اُس سے کہا کہ جو کچھ ڈکٹیٹ کرا رہا ہوں اس کا ایک ایک لفظ ہر حال میں لکھنا پڑھے گا، اور وہ لکھنا شروع کردیتا۔ میرا بی ایڈ کا پرچہ رہ گیا تھا، جیل سے چھوٹا تو مختیار صاحب سے جو استاد تھے، کہاکہ سر ایک پرچہ رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: امان میاں تم آجائو تاریخ طے کرلیں گے، فلاں اسکول میں آجانا وہاں تمہارا پرچہ لے لیں گے۔ انہوں نے امتحان لیا اور مجھے اچھے نمبر دیئے۔
بلوچستان کے محکمہ اطلاعات کے سابق ڈائریکٹر پرویز بختیار اُس کے والد تھے۔ اب دونوں اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور درگزر سے کام لے (آمین)۔
بی کلاس کا قیدی تھا اور سیاست کی وجہ سے جیل میں تھا تو دوسرے عام قیدی بھی بڑا احترام کرتے تھے، میں ان قیدیوں سے ان کی کہانیاں سنتا رہتا تھا۔ مختلف قیدی مزے لے لے کر سیاسی لیڈروں کی نقلیں اتارتے، ان کی تقاریر سناتے تھے۔ ایک قیدی بھٹو کی تقریر کی نقل کرتا تھا۔ اُس کو بھی چوری کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک دن مجھ سے کہاکہ جس قیدی سے پوچھیے وہ کہتا ہے کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ اور پھر وہ ایک زبردست گالی دیتا اور کہتاکہ اگر یہ مجرم اور چور نہیں ہیں تو پھر یہ جیل کیوں بھری ہوئی ہے! یہ سب مجرم ہیں لیکن مانتے نہیں۔
کوئٹہ جیل میں میڈیکل وارڈ بھی تھا اور اس کے ساتھ پاگل خانہ بھی تھا۔ ایک مسجد کا طالب پاگل ہوگیا تھا۔ چونکہ وہ کسی مسجد میں اذان دیتا تھا اس لیے جب اُس پر پاگل پن کا دورہ پڑتا تو وہ ہر 10 یا 13 منٹ کے بعد اذان دیتا تھا۔ ایک دن اُس نے بے وقت اذان دی تو اس دوران ایک اور پاگل جس کا تعلق بگٹی قبیلے سے تھا، جب اس نے یہ اذان سنی تو اپنے کمرے سے بھاگ کر آیا، اس طالب علم کو زمین پر گرایا اور اس کے سینے پر بیٹھ کر اسے مارنا شروع کردیا اور کہاکہ بے وقت اذان دیتا ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے اس سے چھڑایا۔ بگٹی پاگل خوب قد آور اور طاقتور تھا اور اپنے آپ کو شہزادہ سلیم کہتا تھا اور ہم دوست خوب ہنستے تھے۔ نواب بگٹی کے بڑے بیٹے کا نام سلیم بگٹی تھا، وہ اس حوالے سے اپنے آپ کو شہزادہ سلیم کہتا تھا۔ جیل کے پاگل خانے میں ایک صحت مند، سرخ و سفید روسی ایجنٹ بھی تھا، اس کے سنہرے بال تھے۔ میں نے جیل وارڈن سے پوچھا کہ یہ کچھ بولتا بھی ہے یا نہیں؟ اس نے بتلایا کہ جس دن سے اس کو گرفتار کیا گیا ہے ایک لفظ بھی نہیں بولتا، بس خاموش رہتا ہے، تنگ نہیں کرتا۔ ایک دن پاگل خانے کی طرف گیا جہاں کچھ پاگل بند تھے۔ یہ نقصان پہنچاتے تھے، اس لیے ان کو کمروں میں بند ہی رکھا جاتا تھا۔ اتفاق سے ایک پاگل نے میرا نام پکارا ’’امان صاحب، امان صاحب‘‘۔ آواز سن کر اس کمرے کی طرف گیا تو میرا کلاس فیلو بند تھا۔ یہ میرا فرسٹ ایئر کا ساتھی تھا۔ احاطے کے وارڈن سے پوچھا کہ اس کو کیوں بند کیا ہے، یہ تو پاگل نہیں لگتا؟ اس نے کہا: سر یہ پاگل ہے، اس پر پاگل پن کا دورہ پڑتا ہے۔ اور میں اسے حیرت سے دیکھتا رہا۔ وارڈن نے کہا اس کے قریب نہ جائیں کچھ بھی کرسکتا ہے۔ میں نے اس کے دروازے سے دور کھڑے ہوکر بات چیت کی، وہ اُس وقت بالکل نارمل تھا۔ مجھ سے پوچھا کہ آپ نے انگریزی فلم سیمسن ڈیلائلہ دیکھی ہے؟ میں نے اتفاق سے دیکھی تھی۔ اُس نے پوچھا کہ سیمسن کی کس چیز میں طاقت تھی؟ پھر خود ہی بتایا کہ اس کے بالوں میں طاقت تھی۔ اور پھر خوب ہنسا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے بالوں میں طاقت ہے؟ اس سے کہاکہ نہیں۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ اس کے بعد اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا اور اس نے چیخنا چلاّنا شروع کردیا اور کتاب کو پھاڑ کر کمرے سے باہر پھینکتا رہا۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ ایک ماہ بعد وہ ٹھیک ہوگیا اور گھر چلا گیا۔
جیل کے کچھ واقعات کا تعلق اُس وقت سے ہے جب کوئٹہ جیل میں تھا، اور بی کلاس نہیں ملی تھی تو کچھ عرصہ جیل کے میڈیکل وارڈ میں بھی رہا۔ علی احمد کرد، آغا وہاب شاہ، عبدالحمید کرد، اسلم کرد، سلیم کرد، قیوم بلوچ، خورشید جمالدینی اور آغا مجید شاہ اس میڈیکل وارڈ میں تھے۔ میڈیکل وارڈ پاگل خانے کے ساتھ تھا، ساری رات یہ پاگل اپنا راگ الاپتے تھے اور دن کو پُرسکون ہوتے۔ ایک مرتبہ کوئی نصف شب کے قریب چیخ و پکار بلند ہوئی کہ بچائو یہ مجھے قتل کررہا ہے۔ پورا احاطہ اس کی چیخ و پکار سے گونج رہا تھا۔ جیل کے سائرن زور زور سے بجنا شروع ہوگئے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ اور عملہ بھاگتا ہوا احاطے میں داخل ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ ایک پاگل بگٹی نے ایک اور قیدی کو گرایا ہوا ہے اور اس کا گلا دبا رہا ہے اور خود ہی چیخ رہا ہے کہ مجھے بچائو یہ مجھے قتل کررہا ہے۔ عملے نے کمرے کو کھولا اور دونوں کو چھڑا دیا اور پھر ان کو الگ الگ کمرے میں بند کردیا۔ اس پاگل خانے کے احاطے میں سب ہی پاگل بند نہ تھے بلکہ کچھ اور قیدی بھی تھے۔ ایک دن وہاں گیا تو ایک کمرے میں میر لونگ خان کے عزیز، ایک نوجوان لڑکا اور دیگر 4 افراد بند تھے، ان سے بات چیت کی تو انہوں نے بتلایا کہ یہ نوجوان لڑکا لونگ خان کا بیٹا یا رشتہ دار ہے۔ ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ ہمیں سارا دن بند رکھتے ہیں اور ہم بڑی مشکل میں ہیں، جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہیں کہ ہمیں تھوڑی دیر کمرے سے باہر گھومنے دیں اور دھوپ میں بیٹھنے دیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے انہیں یہ آزادی دے دی۔
میر لونگ خان بھٹو دور میں ایف ایس ایف سے مقابلے میں مارے گئے تھے۔ میر لونگ خان میر گل خان نصیر کے بڑے بھائی تھے۔ میر گل خان نصیر وزیر تعلیم تھے اور نیپ سے تعلق تھا۔ حکومت نے میر لونگ خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب ایف ایس ایف (فیڈرل سیکورٹی فورس) ان کے گائوں پہنچی تو انہوں نے گرفتاری دینے سے انکار کیا۔ ان کے گھر کو فورس نے گھیر لیا اور وہ اوپر چلے گئے تو ان کے گھر پر فائرنگ شروع کردی۔ ان کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی، انہوں نے اپنی رائفل سے مقابلہ کیا۔ ان کا چھوٹا بیٹا رائفل میں گولی بھر کر دیتا اور وہ فائر کرتے۔ یوں یہ مقابلہ خاصی دیر چلتا رہا۔ انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ مقابلہ چھت سے جاری رہا تو فورس گھر میں گھس آئے گی، اس لیے انہوں نے اس مقام کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے گھر سے نکل کر کسی اور طرف جانا چاہتے تھے۔ جونہی وہ چھت سے نیچے اترے اور باہر نکلے، ایف ایس ایف نے ان پر فائرنگ شروع کردی اور وہ وہیں گر گئے اور جان دے دی۔ یہ کہانی مجھے لونگ خان کے رشتہ دار نے سنائی۔
دن یونہی گزر رہے تھے۔ ابتداً میں شام کو ڈائری لکھتا تھا، بعد میں لکھنا چھوڑ دیا۔ نہ چھوڑتا تو بہت سے واقعات تحریر میں آجاتے۔ ایک خوشگوار صبح کو اپنے احاطے میں کرسی پر بیٹھا خیالوں میں گم تھا کہ میرے احاطے کا دروازہ کھلا۔ چکر جمعدار کے ہمراہ ایک بہت ہی نفیس سیاسی شخص دھیرے دھیرے چلتا ہوا میری طرف آرہا تھا۔ اس کے استقبال کے لیے چند قدم آگے بڑھا، اسے سلام کیا، مصافحہ کیا۔ اس نے خاموشی سے جواب دیا، میں نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ’’غلام محمد ڈوسل‘‘ اور تعلق کراچی سے بتلایا۔ غلام محمد ڈوسل پاکستان کے مشہور اسلحہ ڈیلر اور انتہائی اہم شخصیت تھے۔
(جاری ہے)