ہندوقیادت نے پاکستان کی نظریاتی تقسیم کو کبھی تسلیم نہیں کیا

ممتاز ادیب، شاعر، محقق، ڈائریکٹر قائداعظم اکادمی خواجہ رضی حیدرسے مکالمہ

دوسرا اور آخری حصہ
ممتاز ادیب، شاعر، محقق، ڈائریکٹر قائداعظم اکادمی خواجہ رضی حیدر ہندوستان کے صوبے یوپی کے شہر پیلی بھیت کے ایک علمی خانوادے میں 1946ء میں پیدا ہوئے، جب ڈھائی سال کے تھے تو خاندان نے کراچی ہجرت کی، ابتدائی دس سال کھارادر میں رہے جہاں چوتھی جماعت تک گورنمنٹ ہائی اسکول میں پڑھا، پھر والد صاحب نے وہاں سے نکال کر میٹھادر میں قائم ایک ایرانین ٹیکنیکل اسکول میں داخل کرادیا۔ وہاں آٹھویں تک تعلیم حاصل کی۔ 1958ء میں ناظم آباد آگئے جہاں حسینی ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’میں پڑھنے لکھنے میں غبی قسم کا طالب علم تھا، شرارتیں،ہنگامہ آرائی، کھیل کود یہ سب مجھے زیادہ عزیز تھے‘‘۔ دورانِ تعلیم 1966ء میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز روزنامہ ’’حریت‘‘ کراچی سے بطور سب ایڈیٹر کیا۔ مگر جلد ہی تحریک پاکستان کی تاریخ اور قائداعظم محمد علی جناح کی سوانح میں دلچسپی لینے لگے۔ 1976ء میں قائداعظم کے صد سالہ جشنِ ولادت کے موقع پر پانچ سو صفحات پر مشتمل کتاب ’’قائداعظم کے 72 سال‘‘ شائع ہوئی، جس کے اب تک چار ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ خواجہ رضی حیدر کی دیگر تصانیف میں ’’تذکرہ محدث سورتی‘‘ 1981ء۔ ’’قائداعظم خطوط کے آئینے میں‘‘ 1985ء۔ ’’قراردادِ پاکستان‘‘ 2014ء۔ ’’رتی جناح: قائداعظم کی رفیقہ حیات‘‘ 1995ء۔ ’’سید شمس الحسن: تحریک پاکستان کا ایک اہم کردار‘‘ 2003ء۔ ’’کانپور نزدیک سے دور تک‘‘ 2003ء۔ ’’راجا صاحب محمود آباد: حیات و خدمات‘‘ 2005ء۔ ’’بابائے صحافتِ سرحد اللہ بخش یوسفی‘‘ 2006ء۔ ’’محترمہ فاطمہ جناح: رفقا کی نظر میں‘‘ 2006ء۔ دو شعری مجموعے ’’بے دیار شام‘‘ 1995ء۔ ’’گماں گشت‘‘ 2007ء شامل ہیں۔ رَتی جناح کا انگریزی ایڈیشن 2004ء میں پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی سے اور 2010ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوا۔ آپ کا مکتبہ فکر وہی ہے جو معروف شاعر اور نقاد سلیم احمد کا تھا۔ ان کے دبستان روایت سے وابستہ ہیں اور اس روایت کے تحت جو چیزیں آتی ہیں ان پر بحث بھی کرتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔ 2012ء میں سلیم احمد پر آپ کی تاثراتی کتاب شائع ہوئی، جبکہ 2013ء میں انہوں نے جدید نظم کے اہم ترین شاعر مجید امجد کے بارے میں ایک ضخیم کتاب ’’مجید امجد: ایک منفرد آواز‘‘ مرتب کی۔ 2014ء میں انہوں نے اپنے والد اور ممتاز عالم دین اور مورخ مولانا حکیم قاری احمد پیلی بھیتی کی حیات و خدمات پر مبنی سوانح تصنیف کی۔ 2015ء میں ان کی کتاب ’’اللہ بخش یوسفی: قائداعظم کی سیاسی فکر کے ترجمان‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ خواجہ رضی حیدر نے محترمہ فاطمہ جناح، پروفیسر شریف المجاہد، لطف احمد شیروانی، خواجہ سرور حسن، ڈاکٹر زوار حسین زیدی، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، ڈاکٹر ریاض احمد کی کتابوں کے اردو تراجم بھی کیے ہیں۔ نظموں کا ایک مجموعہ ابھی حال ہی میں ’’لفظ بوسیدہ نہیں ہوتے‘‘ شائع ہوا ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے دو سو سے زائد اسکرپٹ لکھے۔ خصوصاً پاکستان ٹیلی ویژن کی ڈراما سیریل ’’جناح سے قائد‘‘ 1997ء کا تحقیقی اسکرپٹ ان کی ہی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ روزنامہ ’’حریت‘‘ کے بعد 1981ء میں انہوں نے سینئر ریسرچ فیلو کی حیثیت سے قائداعظم اکادمی سے وابستگی اختیار کی اور 27 سال تک اس ادارے میں ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر آپ سرسیدیونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں بحیثیت کنسلٹنٹ خدمات انجام دے رہے تھے، اس کے بعد اب پھر قائداعظم اکادمی کے ڈائریکٹر کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ آرٹس کونسل آف پاکستان کے تاحیات رکن ہیں اور قائداعظم رائٹرز گلڈ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ خواجہ رضی حیدر سے مکالمہ کا دوسرا اور آخری حصہ نذرِ قارئین ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: جتنے لبرل دانشور ہیں وہ قائداعظم کی 11اگست کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ ان کے اس دعوے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
خواجہ رضی حیدر: جو لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ پاکستان ایک سیکولر اسٹیٹ ہے اور پاکستانی سیکولر نظریات کے حامی ہیں اُن کو قائداعظم کی اتنی تقاریر میں سے جو چار سو سے بھی زیادہ ہیں جو پوری تحریک کے دوران کی گئی ہیں، واحد یہ تقریر نظر آتی ہے جس کو وہ سیکولر نظریات کا حامل قرار دیتے ہیں۔ اب یہ دیکھیے کہ اس میں بعض چیزیں ایسی کہی گئی ہیں جیسے کہ اگر اصل تقریر سامنے ہوتی تو میں آپ کو بتاتا کہ ہندو ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا، مذہبی طور پر نہیں، اسٹیٹ کی بنیاد پر۔ جب اسٹیٹ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد ہے کہ پاکستان کی بنیاد پر ہندو بھی پاکستانی ہوگا اور مسلمان بھی پاکستانی ہوگا۔ دونوں کی قومیت ایک ہوگی۔ دونوں کو وہی سہولیات میسر ہوں گی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میثاقِ مدینہ جو یہود سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، قائداعظم کی تقریر کے یہ دو پیراگراف اس کے مطابق ہیں اِس میں۔ پروفیسر شریف المجاہد جو قائداعظم پر بہت بڑے اسکالر اور بہت بڑے دانشور ہیں تحریک پاکستان اور قائداعظم کے، انہوں نے 2006ء میں ڈان میں بہت تفصیلی مضمون اس حوالے سے لکھا تھا جس میں انہوں نے یہ ثابت کیا تھا کہ یہ پیراگراف میثاقِ مدینہ کے پیراگراف کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔ تو ایسی صورت حال میں اسے سیکولر نظریات سے جوڑنا بدترین خیانت ہے۔ اس کا تو کوئی جواب کسی نے دیا نہیں علمی سطح پر، جزوی طور پر یہ بات یہ لوگ کہتے رہتے ہیں۔ کسی چینل پر آگئے، کسی میڈیا پر آگئے،کسی اخبار میں مضمون چھپ گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس تقریر میں ردوبدل کی باتیں بھی کی جاتی ہیں؟
خواجہ رضی حیدر: ایسا نہیں ہے۔ اس تقریر کے بارے میں ایک بات عرصۂ دراز تک کہی جاتی رہی کہ اس تقریر میں سے بعض پیراگراف نکال دیے گئے ہیں، اور یہی وجہ تھی کہ جب 1988ء میں بے نظیر پہلی بار برسرِ اقتدار آئیں، اُس وقت اُن کے حکم پر اور اُس وقت بائیں بازو کے جو دانشور تھے اُن کے مشورے سے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے ایک کتاب شائع ہوئی تھی
Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah Speeches: As Governor-General of Pakistan,1947-1948 ، اس میں یہ پوری تقریر موجود ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے لکھا ہے اور یہ خود اسے قبول نہیں کررہے، جبکہ انہوں نے کتاب خود مرتب کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ بددیانت ہیں اس بنیاد پر آپ نہیں سمجھ رہے، ورنہ آپ کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ اوریجنل تقریرہے، اور میں اس کی گواہی دے رہا ہوں کہ یہ مستند ہے، تو آپ بھی اسے مستند کہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: سیکولر قوتوں کی جانب سے اس بات پر اصرار کا کیا مقصد ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں نہیں آیا؟
خواجہ رضی حیدر: اس سوال کا جواب تو شاید وہ ہی دے سکتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ بہرحال، بہت پیچھے سے ایک حوالہ دیتا ہوں کہ پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت دو قوتیں بڑی واضح تھیں: روس اور امریکہ۔ قائداعظم کے انتقال کے بعد روس نے لیاقت علی خان کو دعوت دی کہ وہ روس کا دورہ کریں، لیاقت علی خان راضی بھی ہوگئے تھے لیکن روس نے اُس وقت یہ کیا کہ جو تاریخ مقرر کی تھی یعنی 26 یا 27اگست، اُسے منسوخ کرکے 15اگست کردیا تھا، جس پر لیاقت علی خان نے منع کردیا۔ کیوں منع کیا تھا؟ اس کی ایک بہت واضح وجہ تھی (1949ء کی بات ہے یہ)، اس لیے منع کیا تھا انہوں نے کہ قائداعظم کے انتقال کے بعد پہلا یوم آزادیِ پاکستان آنے والا تھا اور وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر کسی دورے پر چلے جائیں، انہیں اپنی قوم کے درمیان رہنا تھا، اس لیے انہوں نے منع کردیا تھا۔ دریں اثناء امریکہ کی دعوت آگئی، جو بعد کی تھی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔ اُس وقت جو لوگ تھے جنہیں آج آپ لیفٹ کا آدمی کہتے ہیں، انہیں لیاقت علی خان کی یہ بات بہت ناگوار گزری کہ انہوں نے روس کی دعوت کو کیسے مسترد کردیا۔ اس لیے آپ اگر دیکھیں 1949ء کے بعد سے لیفٹ کی قوتیں پاکستان میں منظم ہونا شروع ہوگئیں۔ حتیٰ کہ ایک کمیونسٹ لیڈر سجاد ظہیر بھی انڈیا سے پاکستان آگئے اور یہاں پر مختلف کارروائیوں میں مصروف رہے، اور انہوں نے لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنایا تھا۔ چنانچہ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ اُسی زمانے میں قائم ہوا جس میں سجاد ظہیر اور دوسرے گرفتار بھی ہوئے تھے۔ تو یہ قوتیں تو پاکستان کے خلاف ہمیشہ سے مصروف رہیں۔ اب انہیں چونکہ بڑی سطح پر کسی سازش کا موقع نہیں ملتا، لہٰذا یہ الفاظ کے ذریعے سے انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ قائداعظم کی، بیماری کے دوران کوئٹہ سے کراچی منتقلی کا جو واقعہ ہے اُس پر شک و شبہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی سازش تھی کہ قائداعظم کو وقت پر علاج مہیا نہ ہوسکے، اور ان کا انتقال ہوگیا۔ شریف الدین پیرزادہ نے ایک بار کہا تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی موت فطری نہیں تھی، لیاقت علی خان کے قتل کو بھی ساتھ ملا لیتے ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس کے پس پشت کوئی سازش کارفرما تھی، اس بارے میں آپ کی تحقیق کیا کہتی ہے؟
خواجہ رضی حیدر: قائداعظم شدید علیل تھے۔ یہ تو جال مستری کو انہوں نے 1944ء میں اعتماد میں لیا تھا کہ میرے جو ٹی بی ایکسرے ہیں یہ اپنے پاس رکھنا اور ان کو کسی صورت بھی ظاہر نہ کرنا، جب تک کہ حصول پاکستان کا مطالبہ میرے پیشِ نظر ہے، اور جال مستری (ایک ہندو ڈاکٹر) نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ چیزیں اس نے قائداعظم کے کہنے پر ظاہر نہیں کیں۔ آپ دیکھیے کہDominique Lapierre and Larry Collins نےfreedom at midnight نامی کتاب لکھی تو اس میں انہوں نے نہروکا بھی انٹرویو کیا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا بھی۔ اور ان دونوں نے یہ بات کی ہے کہ اگر ہمیں یہ پتا چلتا کہ جناح اتنے بیمار ہیں اور بہت جلد ان کا انتقال ہوجائے گا تو ہم اس پراسیس کو جو تقسیم یا آزادی کا تھا، طویل کردیتے،کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین تھا کہ قائداعظم کے انتقال کے بعد پاکستان نہ بن پاتا۔ اور اس بات کا قائداعظم کو بھی اندازہ تھا، اس لیے انہوں نے یہ بات پوشیدہ رکھی۔ ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ جس وقت ان کے جہاز نے ماری پور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، اُس وقت وہاں پر کوئی آدمی نہیں تھا جو انہیں ریسیو کرتا۔ یہ بھی قائداعظم کے ایما کے مطابق تھا۔ آپ فاطمہ جناح کی کتاب پڑھ لیجیے، کرنل الٰہی بخش کی کتاب پڑھ لیجیے، دونوں نے یہ بات لکھی ہے کہ انہوں نے خود یہ بات کہی تھی کہ کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ میں کراچی واپس جاؤں گا۔ کیونکہ قائداعظم جانتے تھے کہ جس منتشر ہجوم کو میں نے ایک مضبوط قوم کی صورت دی ہے، اس کے تمام مسئلے میری ذات سے وابستہ ہیں۔ تو وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ جس طرح وہ 7 اگست کو کراچی آئے ہیں تقسیم ہند کے اعلان کے بعد تو ماری پور ایئرپورٹ پر سندھ میں اس روز چھٹی کردی گئی تھی، عام تعطیل تھی، اور ایئرپورٹ پر بے پناہ لوگ جمع تھے جنہوں نے قائداعظم کا استقبال کیا تھا، اور ان کی نگاہ میں اپنا وہ استقبال موجود تھا اور وہ جانتے تھے کہ جب یہاں پتا چلے گا تو بڑی تعداد میں لوگ آئیں گے اور قائداعظم اسٹریچر پر اتر رہے ہوں گے تو اس سے قوم کا حوصلہ پست ہوجائے گا۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ خاموشی کے ساتھ ہی مجھے گورنر ہاؤس پہنچا دیا جائے۔ یہ الگ بات تھی کہ گاڑی خراب ہوگئی ماری پور سے آتے ہوئے۔ اور اس میں آپ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، گاڑی کوئی بھی خراب ہوسکتی ہے۔ اُس وقت کراچی میں دو ایمبولینس تھیں جو دوسری عالمی جنگ کے زمانے کی تھیں، ان میں جو بہترین ایمبولینس تھی وہ ایئرپورٹ بھیجی گئی تھی، اور جو ڈرائیور لے جارہا تھا وہ وہاں اس وقت اسپتال کا انچارج تھا، اور جو ڈپٹی کمشنر تھے سید ہاشم رضا، انھوں نے لکھا ہے کہ کسی کو یہ پتا نہیں تھا کہ قائداعظم آرہے ہیں۔ وہ تو ملٹری سیکریٹری نے کہا کہ ایک ایمبولینس بھیج دیں ماری پور ایئرپورٹ پر، تو جو بہتر ایمبولینس تھی وہ بھیجی گئی، اور وہ خراب ہوگئی درمیان میں۔ تو اس کا تو کوئی علاج نہیں ہے کہ آپ اس کو بھی سازش قرار دے دیں۔
فرائیڈے اسپیشل: فاطمہ جناح نے بھی ایک کتاب لکھی ’’مائی برادر‘‘ جو آپ کے ادارے قائداعظم اکیڈمی نے شائع کی جس کا اردو ترجمہ آپ نے کیا۔ وہ کتاب ایڈٹ ہوئی۔آپ کیا کہتے ہیں ان حذف شدہ حصوں کے بارے میں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قائداعظم اپنے رفیقوں سے خوش نہیں تھے؟
خواجہ رضی حیدر: اس کتاب کا مسودہ 1975ء میں سامنے آیا، اور یہ کتاب نہیں ہے بلکہ تین ابواب ہیں اُس کتاب کے جو فاطمہ جناح اپنے بھائی پر لکھنا چاہتی تھیں لیکن 1964-65ء کے الیکشن میں مصروفیت کے باعث وہ اس جانب توجہ نہ دے سکیں۔ تو ان تین مضامین کے بارے میں بعد میں یہ طے ہوا کہ قائداعظم اکیڈمی شائع کرے گی۔ جس وقت یہ مسودہ سامنے آیا تھا اس میں یہ متنازع فقرے موجود تھے۔ اس وقت کے جو سیکریٹری ایجوکیشن تھے قدرت اللہ شہاب صاحب، وہ اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ان جملوں کو شائع نہ کیا جائے۔ 1975ء سے لے کر 1986ء میں چھپی قائداعظم اکیڈمی سے، شریف المجاہد صاحب نے اسے ایڈٹ کیا اور کتابی صورت میں قائداعظم اکیڈمی سے شائع کیا، انہوں نے وہ جملے ایڈٹ کردیے جو پاکستان کی قومی سالمیت اور ہمارے قومی اتحاد کے منافی تھے۔ انہیں شائع نہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے خلاف اس طرح کی بات کرنا شاید مناسب نہیں تھا قومی نقطہ نظر سے، تو انہوں نے حذف کردیا تھا اور وہ کتاب شائع ہوگئی، جس پر بعض لوگوں نے اعتراضات کیے کہ صاحب یہ حصے نکال دیئے گئے۔ لیکن دوسری بات زیادہ اہم ہے کہ قدرت اللہ شہاب صاحب نے 1975ء میں اس کو ناقابلِ اشاعت قرار دیا تھا، اور جب انہوں نے اپنی آپ بیتی ’شہاب نامہ‘ لکھی تو جو جملے شریف المجاہد نے حذف کردیے تھے وہ جملے انہوں نے اس میں شامل کرلیے۔ ایک آدمی جس نے خود پابندی لگائی تھی اس نے اپنی کتاب میں پورے کے پورے حذف شدہ جملے شامل کرکے شائع کردیے،جس کی وجہ سے تنازع کھڑا ہوگیا۔ یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے ہمارے ملک کی کہ کوئی آدمی اپنی کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتا۔ شریف المجاہد صاحب نے بدنیتی کی بنیاد پر نہیں کیا تھا، کچھ قومی تقاضے تھے ہمارے، جس کی بنیاد پر انہوں نے ایسا کیا۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں شریف المجاہد صاحب اتنے گناہ گار نہیں ہیں جتنے قدرت اللہ شہاب صاحب گناہ گار ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: جو جملے حذف کیے گئے تھے اس کی بنیاد کیا تھی؟ قائداعظم بستر مرگ پر کیا سوچ رہے تھے، وہ جس کا فاطمہ جناح نے بھی اظہار کیا؟
خواجہ رضی حیدر: فاطمہ جناح نے یہ کتاب خود نہیں لکھی تھی، اس کتاب کے لیے وہ ایک مصنف تلاش کررہی تھیں۔ ہیکٹر بولایتھو کی کتاب آنے کے بعد سے انہیں یہ غصہ تھا، اور ہیکٹر بولایتھو کو چونکہ لیاقت علی خان نے اپائنٹ کیا تھا قائداعظم کی بائیو گرافی لکھنے کے لیے، اس لیے انہوں نے اس سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا، اور جس کا ملال تھا ہیکٹر بولایتھو کوکہ اصل ریکارڈ جو ہیں وہ قائداعظم کی بہن کے پاس ہیں، ان سے میرا کوئی رابطہ بحال نہ ہوسکا اور وہ یہاں میٹرو پول ہوٹل کراچی میں ٹھیرا ہوا تھا 1952-53ء میں، وہ کئی روز یہاں قیام پذیر رہا۔ قدرت اللہ شہاب بھی اس سے رابطے میں تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ پوری تفصیلات بھی درج کی ہیں کہ وہ چاہتا تھا کہ فاطمہ جناح سے رابطہ کرے، لیکن فاطمہ جناح نے منع کردیا۔ اس کے بعد سے فاطمہ جناح کسی ایسے آدمی کی تلاش میں رہیں جو قائداعظم کی بائیو گرافی ان کی خواہش کے مطابق لکھ سکے۔ شریف المجاہد نے ’’مائی برادر‘‘ جو کتاب آئی ہے اس میں بہت تفصیل سے یہ بات کی ہے۔ تو انہوں نے یہ کتاب خود نہیں لکھی تھی بلکہ یہ کتاب ڈکٹیٹ کرائی تھی۔ جب ان کو کوئی آدمی نہیں ملا تو جی الانہ کو انہوں نے ڈکٹیٹ کرائی تھی، تو یہ مسودہ جی الانہ نے تیار کیا تھا۔ اب میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں اور شاید وہ ناگوار بھی گزرے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب اس مسودے کو آپ فاطمہ جناح کا مسودہ تو نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ یہ جی الانہ کا لکھا ہوا ہے، اور جی الانہ کے ٹائپسٹ نے اسے ٹائپ کیا تھا، تو ہو سکتا ہے کہ کچھ چیزیں شامل ہوگئی ہوں۔ جب غالب کے دیوان میں الحاقات ہوسکتے ہیں، میر کے دیوان میں الحاقات ہوسکتے ہیں، اور بعد کی کتابوں میں الحاقات ہوسکتے ہیں تو اس میں کیا بعید! اس لیے اس کا پورا الزام آپ فاطمہ جناح پر نہیں رکھ سکتے، بلکہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے ڈکٹیٹ کرائی ہے تو اس لیے ہوسکتا ہے کہ اس میں کچھ الحاقات شامل ہوگئے ہوں۔
فرائیڈے اسپیشل: اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟
خواجہ رضی حیدر: جی ہاں اس پر نام لکھا ہوا ہے جی الانہ کا، اور جو اصل مسودہ برآمد ہوا تھا وہ نیشنل آرکائیوز میں موجود ہے، اس پر جی الانہ کا نام موجود ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: پھر اس بات کا بھی کیا ثبوت ہے کہ فاطمہ جناح نے ڈکٹیٹ کرایا ہے؟
خواجہ رضی حیدر: جو لوگ اُس وقت موجود تھے اور وہ یہ دیکھتے رہے کہ فاطمہ جناح جی الانہ کو ڈکٹیٹ کرارہی ہیں اُن میں رضوان احمد، شریف المجاہد صاحب اور شریف الدین پیرزادہ جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس کا پورا الزام آپ محترمہ پر نہیں ڈال سکتے، وہ ہمارے لیے بہت محترم ہیں۔ قائد کی بہن ہیں اور ان کی بہت قربانیاں ہیں پاکستان کے لیے، تو ہم ان پر کس طرح سے ایسا الزام عائد کرسکتے ہیں!
فرائیڈے اسپیشل: قائداعظم محمد علی جناح کانگریس کے رہنما تھے،گاندھی جنوبی افریقہ سے لوٹے تو ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا، قائداعظم اس کی صدارت کررہے تھے۔ پھر کیا سبب ہوا کہ قائداعظم کانگریس سے نکل کر مسلم لیگ میں چلے گئے اور بالآخر اس کے سربراہ بن گئے؟
خواجہ رضی حیدر: بنیادی بات تو یہ سمجھ لیں کہ 1906ء میں جب مسلم لیگ بن رہی تھی اُس وقت قائداعظم نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ قائداعظم چونکہ اُس وقت بمبئی میں تھے اور ہائی کورٹ میں پریکٹس کررہے تھے، اور ان کا زیادہ ملنا جلنا غیر مسلموں سے تھا، کچھ مسلمانوں سے بھی تھا، بدر الدین طیب جی سے بھی تھا، نواب محسن الملک سے بھی تھا اور دیگر مسلمانوں سے بھی تھا، لیکن بیشتر ان کا ملنا جلنا اُس زمانے میں اُن لوگوں سے تھا جو کانگریسی سیاست کے ہمنوا تھے۔ گوکھلے کے انتقال پر قائداعظم نے بڑے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ ان رہنماؤں میں سر فیروز شاہ مہتا، دادا بھائی نوروجی، گوپال کرشنا گوکھلے، سریندر ناتھ بینرجی وغیرہ شامل تھے۔ یہ تمام اُس وقت اعتدال پسند رہنما تھے اور محمد علی جناح کو یہ احساس تھا کہ بحیثیت مسلمان ان کو اعتدال پسند افراد کے ساتھ رہ کر ہی کام کرنے کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ محمد علی جناح کانگریس کے مجموعی مؤقف سے مطمئن نہیں تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی نمائندگی کی طرف مائل ہے۔ اس لیے 1913ء میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی رکنیت قبول کی۔ محمد علی جناح نے جس وقت لندن میں مولانا محمد علی جوہر اور سید وزیر حسن کے ایما پر مسلم لیگ کی رکنیت قبول کی اُس وقت وہ گوکھلے کے ہمراہ انگلستان گئے ہوئے تھے، لیکن گوکھلے کو کوئی اعتراض نہیں ہوا، بلکہ انہوں نے محمد علی جناح کو ہندو مسلم اتحاد کا پیغامبر کہا۔ ان رہنماؤں کے درمیان رہ کر قائداعظم نے ہندو ذہنیت کو بہت اچھی طرح سے سمجھ لیا۔ 1909ء میں قائداعظم بمبئی کی ایک مسلمان سیٹ سے لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ پھر جب وہ گئے لیجسلیٹو کونسل میں، تو پہلا بل جو ہے وہ مسلمانوں کے حوالے سے پیش کیا۔ یہ بل بعد کی بات ہے، جب 1906ء میں وہ سورت کے اجلاس میں شریک تھے اس میں مسلم وقف علی الاولاد کے بارے میں ایک قرارداد پیش ہوئی تھی، قائداعظم کی پہلی سیاسی تقریر اس قرارداد کے بارے میں ہے۔ اور وہ تقریر ہے مسلم مفادات کے حوالے سے، کہ مسلمانوں کی جو وقف جائدادیں تھیں ان کو حکومتِ وقت نے اپنی نگرانی میں لے لیا تھا، تو اس کو بحال کرانے کے لیے انہوں نے تقریر کی تھی، کیونکہ ان وقف جائدادوں کے چلے جانے سے مسلمان محروم ہوگئے تھے، ان کی آمدنیاں ان کے پاس نہیں تھیں جس کی وجہ سے مسلمان پریشان تھے۔ 1909ء میں اسمبلی کے رکن ہوئے تو 1910ء میں انہوں نے پہلا بل پیش کیا جو مسلم وقف علی الاولاد بل تھا۔ وہ کانگریس کے پلیٹ فارم پر بھی مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کررہے تھے۔ اور اس کی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ 1913ء سے پہلے بھی وہ مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں شریک ہوئے تھے جب مسلم لیگ کے ممبر نہیں تھے، اور انہوں نے اُس وقت بھی یہ بات کہی تھی کہ ہندوستان کی دو بڑی جماعتیں ہیں انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ، اگر مقصد ہندوستان کو آزاد کرانا ہے تو ان دونوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرکے کام کرنا چاہیے۔ اور اس کے لیے انہوں نے کوششیں بھی کیں 1916ء میں جب ایک ہی جگہ ایک ہی پلیٹ فارم پر اجلاس ہوا۔ لیکن جو میثاقِ لکھنؤ ہے 1916ء کا، اس اجلاس کے نتیجے میں جو معاہدہ سامنے آیا تھا اس میں جداگانہ انتخابات کا مسئلہ طے ہوا تھا جو بہت بڑا ایشو تھا مسلمانوں کا، تو اس اجلاس کے بعد قائداعظم کو اندازہ ہوا کہ ہندو مسلمانوں کو ان کے سیاسی حقوق بالکل دینا ہی نہیں چاہتے۔گاندھی 1915ء میں جنوبی افریقہ سے انڈیا آئے ہیں۔ اور جس وقت ان کا استقبالیہ بمبئی میں ہوا ہے سروجنی نائیڈو نے طے کیا کہ چونکہ گاندھی آرہے ہیں، وہ ہندو رہنما ہیں، اگر اس اجلاس کی صدارت جناح کریں گے تو ایک بہت مثبت پیغام جائے گا لوگوں تک اس اتحاد کے حوالے سے، جو جناح کے بھی ذہن میں تھا، اور جناح کے جو ہندو دوست تھے ان کے بھی ذہن میں تھا۔ تو جناح نے اس اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اور جناح کا صدارت کرنا روزِ اوّل سے ہی گاندھی کے لیے مسئلہ بن گیا تھا کہ ایک مسلمان کو سیاسی طور پر اتنی اہمیت کیسے حاصل ہوگئی کہ وہ کانگریس کے اجلاس کی صدارت کررہا ہے؟ میرے استقبالیے کی صدارت کررہا ہے؟ تو وہ روزِاوّل سے ہی جناح کے خلاف ہوگیاتھا اور اس نے جناح کے خلاف کمپین شروع کردی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 1918ء میں جب ترکِ موالات کی تحریک شروع ہوئی تو گاندھی نے ایجی ٹیشن شروع کردیا ہندوستان میں۔ پھر رولٹ بل کا مسئلہ تھا، اس پر جناح نے بہت زیادہ احتجاج کیا تو وہ بھی اُسے بہت ناگوار گزار، کیونکہ اس وقت جناح صاحب پورے ہندوستان کے قائد بننے جارہے تھے۔ یہ جو بمبئی میں پیپلز جناح ہال بنا تھا اُس کے لیے پورے ہندوستان سے لوگوں نے چندہ کیا تھا۔ اس وقت رولٹ بل کے سلسلے میں جناح کی جو خدمات تھیں ان کو خراج دینے کے لیے وہ ہال بنایا گیا تھا۔ یہ تمام باتیں گاندھی کو ناگوار گزرتی تھیں۔ چونکہ قائداعظم پُرتشدد سیاست کا کبھی حصہ نہیں رہے، وہ ہمیشہ قانون اور آئین کی بات کیا کرتے تھے، تو گاندھی نے اس مرحلے پر جب جناح سے کہا کہ ہم نے جو ایک سیاسی موومنٹ بنائی ہے اس میں شامل ہوں، تو قائداعظم نے انہیں خط لکھ کر منع کردیا تھا اور کہا تھا کہ میں کسی بھی ایسی نئی جماعت اور کسی ایسی تحریک میں شامل نہیں ہوسکتا جو طالب علموں کو اسکولوں اور کالجوں سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے، جو مزدوروں کو کارخانوں سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے اور امن و امان کی فضا کو مکدر کردے، اس لیے میرا راستہ الگ ہے اور آپ کا راستہ الگ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نان کوآپریشن موومنٹ کے بعد کے زمانے میں گاندھی نے یہ کیا کہ تمام ایسے ادارے یا ایسی تنظیمیں جیسی اینی بیسنٹ کی جماعت ’’ہوم رول لیگ‘‘ ہے، اس جماعت کے بمبئی کے صدر محمد علی جناح تھے۔تو گاندھی نے اس جماعت پر چھاپہ مارا اور جماعت کی صدارت بھی خود حاصل کرلی۔ تو یہ جو رویہ تھا گاندھی کا، وہ قائداعظم کو قطعاً پسند نہیں تھا، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا اور 1921ء میں کانگریس چھوڑ دی۔
فرائیڈے اسپیشل: نذیر نیازی نے علامہ اقبال سے گفتگو کے حوالے سے جو کتاب لکھی ہے اُس میں گاندھی کے بارے میں لکھا ہے کہ گاندھی کوئی بہت بڑی شخصیت نہیں بلکہ بہت بڑا کردار ہے؟
خواجہ رضی حیدر: گاندھی ہندو سیاست میں تو بہت اہم آدمی تھا، یہ تو طے شدہ بات ہے۔ اسی لیے قائداعظم نے 1944ء میں اس سے مذاکرات معطل کردیے تھے۔ جب اُس نے کہا کہ میں تو کانگریس کا ممبر بھی نہیں ہوں، تو قائداعظم نے کہا کہ پھر میں کس سے بات کررہا ہوں! کانگریس ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے، جب اس کا نمائندہ ہی مجھ سے بات نہیں کررہا تو میں کس سے بات کررہا ہوں! اس طرح مذاکرات معطل ہوگئے تھے۔ اور مذہب کو ہندوستان کی سیاست میں پہلی دفعہ گاندھی نے داخل کیا تھا۔ اسی لیے تو ’’مہاتما‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا اُسے۔ پھر جناح اور گاندھی میں یہ فرق تھا کہ قائداعظم کے انتقال پر Beverly Nichols نے جو ایک بہت بڑا صحافی ہے، اس نے قائداعظم کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا تھا، جو بیان دیا وہ بڑی اہمیت رکھتا ہے، اس نے کہا تھا کہ ’’گاندھی ایک قاتل کے ہاتھوں مارا گیا اور جناح نے ایک ملک کی خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ دیا‘‘۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ جس آدمی کی سیاست تشدد سے شروع ہوئی تھی اس کا خاتمہ بھی تشدد پر ہوتا ہے، اس کے برعکس ایک آدمی جس نے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا اور اس پر تمام عمر کاربند رہا، وہ پُرامن طریقے سے دنیا سے گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: برصغیر کے رہنماؤں کا جب موازنہ کیا جاتا ہے تو مغربی دنیا میں گاندھی کو کیا، نہرو کو بھی قائداعظم سے بڑا بناکر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ ہم قائداعظم کی شخصیت کو اس طرح نمایاں کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے؟ یا یہ مغربی ممالک کا قائداعظم اور مسلمانوں کے خلاف کوئی تعصب ہے کہ قائداعظم کی شخصیت بین الاقوامی طور پر اتنی بڑی نظر نہیں آتی جتنی بڑی گاندھی یا نہرو کی نظر آتی ہے؟
خواجہ رضی حیدر: ہاں ایسا ہے! لیکن مغرب پر آپ بہت زیادہ الزام نہیں رکھ سکتے۔ جو مثبت کتابیں آئی ہیں مغرب سے، جیسے اسٹینلے والپرٹ کی کتاب ہے اُس میں چند مقامات کے سوا قائداعظم بہت بڑے آدمی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح ہیکٹربولایتھو کی کتاب ہے، وہ تو برطانوی نژاد تھا، اس کی کتاب بھی دیکھیے کیسی ہے کہ آج بھی وہ پڑھی جاتی ہے اور بہت اہم کتاب ہے۔ لیکن جو تجزیاتی کتابیں ہوتی ہیں ان میں لوگ اپنے ذہن کے مطابق شخصیت کو پیش کرتے ہیں۔ گاندھی پر بہت کام ہوا ہے اور اس کو بڑا بناکر پیش کیا گیا تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گاندھی ہندوستان میں ایک Myth کے طور پر سامنے آیا تھا۔ جبکہ قائداعظم ایک باوقار سیاست دان کے طور پر سامنے آئے تھے۔ ایسا سیاست دان جو اپنے قومی معاملات کو آگے لے کر چل رہا تھا، جو اپنی قوم سے اِدھر سے اُدھر نہیں ہورہا تھا۔ اس کو اتنی اہمیت مغرب نے نہیں دی جتنی اہمیت گاندھی کو دی، اور خود ہندو پریس نے بھی گاندھی کو بہت اُچھالا اور آگے بڑھایا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس بات کا کیا سبب ہے کہ قیام پاکستان کو ہندو قیادت نے کبھی بھی دل سے قبول نہیں کیا، حالانکہ اصولی اعتبار سے یہ فیصلہ ہوگیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور پاکستان مسلمانوں کا ملک ہوگا،پھر ہندو قیادت پاکستان کے خلاف مسلسل سازشیں کیوں کرتی رہی ہے، اس کے کیا نظریاتی و تاریخی اسباب ہیں؟
خواجہ رضی حیدر: بنیادی بات یہ ہے کہ چاہے وہ نہرو ہوں، چاہے گاندھی ہوں، چاہے دوسرے ہوں، اس میں مَیں مسلمان رہنماؤں ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی،خان عبدالغفار خان کو بھی شامل کرلوں تو انہوں نے اصل میں پاکستان کے قیام کو ذہنی طور پر کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔ انہوں نے جغرافیائی تقسیم کو دیکھا لیکن اس کی نظریاتی تقسیم کو کبھی تسلیم نہیں کیا، جس کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے، اور ہندوستان میں آج عام لوگ اور ان کے رہنما بھی نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ متعدد جاسوس بھی پکڑے جاتے ہیں جو یہ اقرار کرتے ہیں کہ ہم یہاں پر تشدد کے لیے آئے تھے، ہم یہاں پر دہشت گردی کے لیے آئے تھے۔ اور اس کا کوئی ملال کسی انڈین کو کبھی نہیں رہا۔ وہ اپنے جاسوسوں کو بھی محب وطن ہی قرار دیتے ہیں، اُن کے اس عمل کو وہ برا تصور نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے ملک کے لیے اقدامات کررہے تھے۔ ہندوستان کی یہ سیاست پاکستان کے خلاف ہمیشہ سے رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اندرا گاندھی یہ بیان نہ دیتی کہ ہم نے دو قومی نظریے کو بحیرہ عرب میں ڈبو دیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ایک تنازع یہ بھی موجود ہے کہ پاکستان کا ترانہ’’ پاک سرزمین شادباد ‘‘سے پہلے ’’اے سرزمین پاک‘‘ تھا، کہنے والے کہتے ہیں کہ ’’پاک سرزمین شادباد ‘‘ سے پہلے بانی پاکستان کی خواہش کے مطابق ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد نے لاہور میں 9اگست 1947ء کو پاکستان کا ترانہ ’’اے سرزمین پاک‘‘ لکھا جسے قائداعظم نے منظور کیا۔ اٹھارہ ماہ تک ریڈیو پاکستان پر یہ ترانہ بجتا رہا،آخراس کی کیا تفصیلات ہیں؟
خواجہ رضی حیدر: سب بکواس ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا، اس بات کی تردید تو خود جگن ناتھ آزاد نے بھی کردی ہے، اس موضوع پر کئی کتابیں اور مضامین بھی چھپ چکے ہیں کہ ایسا کوئی ترانہ نہیں پڑھا گیا جو جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا ہو یا قائداعظم نے کبھی جگن ناتھ آزاد سے کہا ہو، یا وہ کبھی اُس سے ملے ہوں۔ایک کتاب Visitors Of Quaid Azamموجود ہے، اس میں آپ دیکھ لیجیے کہ قائداعظم سے ملاقات کرنے والوں میں جگن ناتھ موجودنہیں۔ کیا جگن ناتھ آزاد کی 1947ء میں اتنی حیثیت تھی کہ وہ قائداعظم سے مل سکتا، یا قائداعظم اس کو شناخت کرسکتے کہ یہ کوئی بہت بڑا شاعر ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: پاکستان قائداعظم کے بعد نہ اسلامی بن سکا اور نہ جمہوری۔۔۔ یہاں تک کہ 1947 سے 1954 تک کوئی آئین بھی فراہم نہ ہو سکا۔ ایسا کیوں ہوا؟
خواجہ رضی حیدر: یہ طے شدہ بات ہے کہ قائداعظم کے انتقال اور پھر لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سازشی عناصر نے کوئی استحکام پیدا ہونے نہیں دیا۔ دوسری ہمارے یہاں کی بیوروکریسی تھی جس نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت ختم کی۔ وہ ایک باعمل مسلمان تھے، لیکن ان کو جتنا بدنام کیا گیا اُس کا سبب کیا تھا؟ خواجہ ناظم الدین کو بدنام نہیں کیا جارہا تھا بلکہ اصل میں اُس نظریے کو بدنام کیا جارہا تھا جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا۔ خواجہ ناظم الدین تحریک پاکستان کے رہنما تھے۔ نہایت ہی شریف النفس۔۔۔ غلام محمد نے سازش کرکے انہیں ہٹایا، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غلام محمد یا پھر اسکندر مرزا پاکستان کا آئین بنا سکتے تھے؟ چودھری محمد علی نے 1956ء میں کوشش کی ، لیکن اس آئین کو بھی نافذ نہیں ہونے دیا گیا۔ اس کا سبب کیا تھا؟ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اسلامی آئین تھا۔ اس کے خلاف سازشیں کی گئیں، مظاہرے کیے گئے، مضامین لکھے گئے۔ دوسری بات یہ کہ اُس وقت بیشتر لوگ یا تو مسلم لیگی ذہن کے تھے یا سیکولر اور کمیونسٹ، جن کا پرنٹ میڈیا پر غلبہ تھا، جس کی وجہ سے کوئی ایسی بات جو پاکستان کے اسلامی آئین یا پاکستان کی نظریاتی حیثیت کے حوالے سے ہو وہ کبھی ہائی لائٹ نہیں ہوپاتی تھی۔ اُس زمانے کے اخبارات آج بھی اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ان کے ایڈیٹروں کے نام سوچیے، یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کی نظریاتی حیثیت سے منحرف لوگ تھے۔ اور انہوں نے پاکستان کے ان خطوط کو جن پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا، کبھی ہائی لائٹ ہونے ہی نہیں دیا۔ پھر 1958ء میں مارشل لا نافذ ہوگیا اور 1962ء کا آئین قبول کرنا پڑ گیا۔ لیکن لیاقت علی خان کے زمانے میں یہ لوگ جدوجہد کرتے رہے، جیسے شبیراحمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، ظفر احمد انصاری، مولانا عبدالحامد بدایونی، علامہ ابن حسن جارچوی تھے انہوں نے کوششیں کیں جس کے نتیجے میں 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی، اور یہ قرارداد مقاصد اسلامی قرارداد تھی کہ پاکستان کا جو بھی آئین بنے گا وہ اس قرارداد کی روشنی میں بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قراردادِ مقاصد آج تک ان لوگوں کو ہضم نہیں ہوئی۔
فرائیڈے اسپیشل: کہا جاتا ہے کہ قائداعظم نے کہا تھا ان کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں؟
خواجہ رضی حیدر: ایک بات میں آپ سے عرض کردوں کہ میں ڈاکومنٹس کا آدمی ہوں، جب تک مجھے کسی ڈاکومنٹ میں کوئی چیز نظر نہ آئے میں اسے تسلیم نہیں کرتا۔ مختلف لوگوں نے اپنی یادداشتوں میں اس طرح کی چیزیں لکھی ہیں۔ قائداعظم نے کوئی خط لکھا ہو جس میں یہ بات لکھ دی ہو کہ ’’میری جیب میں سارے کھوٹے سکے ہیں‘‘ تو میں اسے تسلیم کرلوں گا۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا قائداعظم بطور گورنر جنرل علامتی طور پر ایک روپیہ تنخواہ لیا کرتے تھے؟
خواجہ رضی حیدر: یہ بات بہت سارے لوگوں نے لکھی ہے جو بالکل بے بنیاد ہے۔ ’’قائداعظم پیپرز‘‘ میں اس زمانے کا جو کمپٹولرجنرل آفس ہوتا تھا جو آج آڈیٹر جنرل کا آفس کہلاتا ہے جہاں سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں آتی ہیں، اس کی دستاویز میں بل موجود ہیں، جن کے مطابق قائداعظم کی بحیثیت گورنر جنرل باقاعدہ تنخواہ 10ہزار 4 سو کچھ روپے تھی۔ اس ملک کے ایک صدر نے بیان دیا تھا کہ میں چونکہ صدر ہوں تو میری تنخواہ سے انکم ٹیکس نہیں کٹ سکتا۔ جبکہ اس بل میں قائداعظم کا انکم ٹیکس بھی کٹا ہوا ہے۔ جب بانیِ پاکستان کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کٹ سکتا ہے تو کسی صدر کی تنخواہ سے کیوں نہیں کٹ سکتا! بات یہ ہے کہ جب مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ بات آئی تو ایک شخص نے کہا کہ قائداعظم علامتی طور پرایک روپیہ تنخواہ لیں۔ کیونکہ قائداعظم ایک متمول ترین شخص تھے اوربانیِ پاکستان بھی تھے۔ اس کا جواب قائداعظم نے یہ دیا تھا کہ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے، جو گورنر جنرل کی تنخواہ ہے وہی لوں گا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ تو اس طرح کے بہت سارے جھوٹ بولے گئے ہیں جو ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی سازش ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: بعض تاریخی شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم نے مولانا مودودیؒ کو ریڈیو پر تقریر کرنے کی دعوت دی، لیکن بعض لوگ ایسے کسی واقعے کے منکر ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
خواجہ رضی حیدر: مولانا مودودی بلاشبہ بہت بڑے عالم دین تھے۔ لیکن اگر ایسی کوئی بات ہے بھی تو میرے بہت ہی بچپن کی ہوگی، اس لیے میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا، لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ مولانا مودودی نے قائداعظم کے انتقال پر جو مضمون لکھا تھا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قائداعظم کو پسند بھی کرتے تھے اور تحریک پاکستان کی انہوں نے حمایت بھی کی، اور پاکستان کو ایک اسلامی نظریے کے مطابق ڈھالنے کے لیے جدوجہد بھی کی۔ یہ بات عمومی طور پر کہی جاتی ہے کہ مولانا مودودی نے قائداعظم کے ایما پر ریڈیو پاکستان سے تقاریر کی تھیں جن میں انہوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کیا تھا، اور یہ بات اپنی جگہ پر ہے۔ لوگ کہتے بھی ہیں، لکھتے بھی ہیں۔ اور یہ صرف وہی لوگ نہیں لکھتے جن کا جماعت اسلامی سے تعلق ہے، ان سے ہٹ کر بھی بہت سارے لوگوں نے لکھا ہے۔ اور پھر دوسری سب سے بڑی چیز یہ کہ تقسیم ہند کا ایک تصور مولانا مودودی نے بھی پیش کیا تھا۔ بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ، 144تجاویز آئی تھیں قرارداد پاکستان کے حوالے سے، ان میں ایک تجویز مولانا مودودی کی بھی بہت واضح ترین موجود ہے۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی کتاب Ulma in Politics میں ان تجاویز اور مولانا مودودی کی تحریک پاکستان کے لیے نظریاتی جدوجہد پر بھی بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ تو آپ کسی صورت سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس تقسیم یا اس اسلامی ملک کے قیام کے خلاف تھے۔ یہ بات بربنائے مخاصمت ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: قائداعظم کی حیات میں ہی مسلم لیگ یوپی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پاکستان کے لیے دستور کا خاکہ تیار کرے۔ اس خاکے کی تیاری میں کون کون اہم لوگ شامل تھے؟
خواجہ رضی حیدر: دیکھیے 1940ء کی قرارداد کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ملک ہوگا؟ اور کیا اس کا آئین اسلامی ہوگا؟ لہٰذا اس سوال کی روشنی میں آل انڈیا مسلم لیگ اور علما نے غور کرنا شروع کیا۔ یوپی مسلم لیگ کے صدر نواب محمد اسماعیل خان نے اُس زمانے میں علما اور دانشوروں کی ایک کانفرنس طلب کی تاکہ مجوزہ پاکستان کے لیے اسلامی آئین کا کوئی خاکہ مرتب کیا جاسکے۔ اس کانفرنس میں نواب اسماعیل خان کے ساتھ مولانا عبدالماجد دریا بادی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا آزاد سبحانی اور مولانا سید سلیمان ندوی وغیرہ شریک ہوئے تھے۔ یہ کانفرنس ندوۃ العلما لکھنؤ میں منعقد ہوئی اور سید سلیمان ندوی کو اس کا کنوینر مقرر کیا گیا۔ اس کانفرنس کی کارروائی کو مولانا محمد اسحق سندیلوی نے مرتب کرکے فرسٹ ڈرافٹ کے طور پر مسلم لیگ کو پیش کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم کے بعد مولانا سید سلیمان ندوی کو پاکستان بلایا گیا تاکہ وہ اسلامی آئین کی تیاری میں پاکستان کی قومی اسمبلی کو مشورے دے سکیں۔ یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے، اس کا تذکرہ مشہور محقق فرانسس رابنسن نے تحریک پاکستان کے رہنما مولانا جمال میاں فرنگی محلی کی سوانح عمری میں بھی کیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے رہنما گاندھی کے فلسفے متحدہ قومیت سے متاثر ہوگئے تھے، بلکہ اس انتہا پر پہنچ گئے تھے کہ مسلمان مساجد چھوڑ کر مندر میں بھی جانے لگے، ہندو لیڈروں کو مساجد میں منبروں پر بٹھانے لگے، وید کو الہامی کتاب تسلیم کرنے لگے، وغیرہ۔ آپ ان باتوں کو کس طرح دیکھتے ہیں، کیا ایسا ہی ہوا تھا جیسا بیان کیا جاتا ہے؟
خواجہ رضی حیدر: جی ہاں، متحدہ قومیت کے نعرے کو تقویت پہنچانے کے لیے ایسا کیا گیا۔ گاندھی کو تو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایسا کرنا تھا، لیکن جمعیت علمائے ہند کے زیراثر علما نے بھی اس کی تائید کی۔ بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے تو جو متحدہ قومیت کے پرچار میں بہت آگے نکل گئے تھے، ایک ہندو سوامی شردھانند کو جامع مسجد دہلی میں لے جانے کے جواز پر ایک فتویٰ بھی دیا تھا، جس کا اُس وقت علما نے تعاقب بھی کیا۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اُس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کو پسماندہ اقلیت تصور کرتے تھے۔ وہ مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تسلیم کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوئے، اس لیے ان کا اس دور میں کانگریس اور گاندھی کا ہمنوا ہوجانا ایک لازمی امر تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: برصغیر کی سیاست میں علماء کا ایک تاریخی کردار رہا ہے۔ آپ تحریکِ پاکستان یا تاریخی اعتبار سے نظریۂ پاکستان اور دو قومی نظریے کے فروغ کے لیے علماء کے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
خواجہ رضی حیدر: آل انڈیا مسلم لیگ سے ابتدا ہی سے بہت سارے علماء وابستہ رہے، لیکن جب علماء کی علیحدہ تنظیم جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی تو اُس کا جھکاؤ مسلم لیگ سے زیادہ کانگریس کی طرف رہا، جس کے نتیجے میں 1936ء کے انتخابات کے موقع پر جمعیت علمائے ہند نے مسلم لیگ اور قائداعظم سے مطالبہ کیا کہ ہمیں فنڈز دیے جائیں تو ہم مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے کام کریں گے۔ قائداعظم نے منع کردیا اور کہا کہ مسلم لیگ کے پاس تو فنڈ ہی نہیں ہے ہم کہاں سے دیں! تو پھر علماء کی ایک جماعت مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ، مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، سمیت اُس وقت کے بڑے لوگ جن کی آواز کوئی معنی رکھتی تھی، مسلم لیگ سے علیحدہ ہوکر کانگریس کے پلیٹ فارم سے کام کرنے لگے۔ نتیجے میں ثانوی طور پر جو علماء موجود تھے وہ منظر پر آگئے، ان میں مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، پیر سید جماعت علی شاہ، مولانا جمال میاں فرنگی محلی، مولانا نعیم الدین مراد آبادی شامل تھے۔ ان سب لوگوں نے تحریک پاکستان کے حوالے سے اہم ترین کردار ادا کیا۔ جب یہ علماء تحریک پاکستان کے حوالے سے کردار ادا کررہے تھے تو کیا یہ کسی سیکولر پاکستان کے لیے کام کررہے تھے؟ اور مولانا شوکت علی نے تو 1937ء میں خلافت ہاؤس سے خلافت کا پرچم اتارکر قائداعظم سے مسلم لیگ کا پرچم چڑھوا دیا تھا۔ جس وقت وہ پرچم اوپر گیا اُس وقت خلافت تحریک پہلی عوامی تحریک تھی۔ یہ تحریک ملک کے مختلف علاقوں میں موجود تھی جن میں شکارپور، لاڑکانہ، چارسدہ، مردان، چیچہ وطنی،ملتان اور پنجاب کے دیگر علاقے شامل ہیں۔ یہ سب تحریک خلافت سے وابستہ تھے اور یہ سارے علماء عالم دین ہواکرتے تھے، اور یہ سب کے سب مسلم لیگ کے پرچم تلے آگئے۔ اسی لیے قائداعظم نے 1937ء کے آخر میں ایک مرحلے پر بیان دیا کہ اب مجھے کسی عالم کی ضرورت نہیں، الحمدللہ میرے پاس بہت سارے عالم موجود ہیں جو مسلم لیگ کی تحریک کو منظم بھی کررہے ہیں اور جو بعد میں پاکستان کے لیے بھی اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ ان میں مشائخ بھی تھے، پیر مانکی شریف تھے، پیرجماعت علی شاہ تھے، پیر صاحب گولڑہ شریف تھے، یہ سارے لوگ تحریک پاکستان کے حامی تھے۔ تو جو لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ یہ پاکستان سیکولر اسٹیٹ کے طور پر معرضِ وجود میں آیا تھا وہ کیا اتنے کند ذہن ہیں کہ انہیں یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ علماء جو اپنے وقت کے ثقہ ترین عالم تھے کیا سیکولر پاکستان کے لیے جدوجہد کررہے تھے؟ مسلم لیگ کے جلسوں میں نعرۂ تکبیر اور اسلام زندہ باد کے نعرے کیوں لگائے جاتے تھے؟ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم سیکولر پاکستان بنانے جارہے تھے؟ مسلم لیگ کا ریکارڈ موجود ہے، اس میں علماء کے خطوط موجود ہیں، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بہت تیزی سے اس سلسلے میں کام نہیں کرسکے۔ یہاں ایک بات اور عرض کردوں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 1938ء میں پٹنہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ کو ایک بڑی کامیابی نصیب ہوئی، وہ یہ کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے علما کا ایک وفد قائداعظم سے ملاقات کے لیے بھیجا تھا جس میں مولانا شبیر علی تھانوی، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا عبدالغفور پھولپوری، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری وغیرہ شامل تھے۔ یہ وفد پٹنہ کے بیرسٹر عبدالعزیز کے مکان پر قائداعظم سے ملا اور قائداعظم کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ بعد میں علما کے اس طبقے نے خصوصاً 1945ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ پھر قائداعظم کی تقریر دیکھ لیجیے جو ٹرانسفر آف پاور کا مرحلہ تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 14 اگست 1947ء کو یہ بات کہی کہ ’’مجھے یقین ہے کہ آپ جو بھی ہیں اکبر اعظم کی پالیسی پر عمل کریں گے اور اقلیتوں کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو اکبر اعظم نے کیا تھا‘‘۔ تو قائداعظم نے جوابی تقریر میں فرمایا کہ ’’الحمدللہ ہمیں اکبر اعظم پر عمل کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیرہ سو سال پہلے کا عمل موجود ہے، جس طرح انہوں نے اپنی ریاست مدینہ میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کیا تھا ہم اسی طرح کریں گے، اور مسلمان حکمران ہمیشہ اقلیتوں کے ساتھ بہت اچھا، انصاف اور رواداری پر مبنی سلوک کرتے رہے ہیں‘‘۔ تو یہ بات قائداعظم نے کیوں کہی تھی؟
فرائیڈے اسپیشل: آج کا طالب علم تحریک پاکستان کو سمجھنا اور پڑھنا چاہے تو آپ کن بنیادی کتابوں کے نام تجویز کریں گے؟
خواجہ رضی حیدر: ڈاکٹر اشتیاق قریشی کی کتاب Struggle for Pakistan جس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے ’’جدوجہد پاکستان‘‘۔ مولانا حسن ریاض کی کتاب ہے ’’پاکستان ناگزیر تھا‘‘ وہ پڑھنی چاہیے۔ شریف الدین پیرزادہ کی Foundations of Pakistan ہے جس سے آپ مسلم لیگ کی تاریخ سے بہتر طور پر واقف ہوسکتے ہیں۔ قائداعظم اکادمی اب تک 100سے زائد کتابیں شائع کرچکی ہے، اور یہ کتابیں جہاں دستاویزات پر مبنی ہیں وہیں تخلیقی نثر پر بھی مشتمل ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی مفید ہے۔ ان میں قائداعظم کی تقاریر کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔Nation’s Voice کے نام سے ایک کتاب قائداعظم اکادمی نے شائع کی ہے جو تقریباً سات ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی سات جلدیں ہیں۔ یہ قائداعظم کی تقاریر کے سلسلے میں سب سے مستند اور معلومات افزا کتاب ہے۔

Share this: