امریکہ چین تجارتی جنگ

صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں مزید اضافہ مؤخر کردینے کے اعلان نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ کو وقتی طور پر ٹھنڈا کردیا ہے۔ امریکہ کو ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ باہمی تجارت میں چین کی نیت ٹھیک نہیں۔ یعنی بیجنگ امریکہ کے آزاد تجارتی نظام کا فائدہ اٹھاکر اپنی مصنوعات دھڑلے سے امریکہ بھیج رہا ہے لیکن اُس نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنے ملک میں طرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ امریکہ کو اعتراض ہے کہ:
٭چین میں املاکِ دانش (Intellectual Property) کے قوانین مؤثر نہیں، جس کی وجہ سے چینی صنعت کار امریکی ماہرین کی عرق ریزی اور برسوں کی تحقیقات کے بعد تیار ہونے والی جدید ترین مصنوعات کی Reverse Engineering کے ذریعے نقل تیار کرلیتے ہیں۔
٭ چین نے کچھ ایسے قوانین بنا رکھے ہیں جن کے مطابق غیر ملکی اداروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی مصنوعات اور خدمات فروخت کرنے کے ساتھ مقامی کارکنوں کو اس ٹیکنالوجی کی تربیت بھی دیں تاکہ یہ مصنوعات مقامی سطح پر تیار ہوسکیں۔ امریکہ اس جبری و بلامعاوضہ انتقالِِ ٹیکنالوجی (Technology Transfer) کو پسند نہیں کرتا۔
٭ چین امریکہ کی زرعی پیداوار اور جانوروں کے گوشت کا سب سے بڑا خریدار ہے، لیکن ادھر کچھ عرصے سے بیجنگ نے امریکہ پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے دوسرے ملکوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔
٭چین نے اپنی کرنسی کی قیمت مصنوعی طور پر کم رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مقامی منڈی میں درآمدی مصنوعات نسبتاً مہنگی ہیں اور امریکہ کے صنعت کاروں کو غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا ہے۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے کہ امریکی صنعت کی تباہی کا بنیادی سبب چین کی جارحانہ پالیسی ہے، اور وہ برسراقتدار آتے ہی بیجنگ سے اسی زبان میں بات کریں گے جسے وہ اچھی طرح سمجھتا ہے۔
گزشتہ برس مارچ میں انھوں نے چین کے خلاف تجارتی جنگ یاTrade War کا طبل بجا دیا اور املاکِ دانش کی چوری کا الزام لگاکر امریکی صدر نے چینی مصنوعات کی درآمد پر 50 ارب ڈالر کے اضافی محصولات عائد کردیے۔ امریکہ نے فولاد اور المونیمکو نشانہ بنایا جس پر بالترتیب 25 اور 10 فیصد ڈیوٹی لگادی گئی۔ واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ یہ محض آغاز ہے اور وہ امریکی اداروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے قبل ان کی انتطامیہ نے سات مہینے تک امریکی املاکِ دانش کی چوری کی تحقیقات کی ہیں اور انھیں یقین ہے کہ امریکی اداروں اور سائنس دانوں کی روزوشب کی محنت چین کوڑیوں کے بھائو خرید رہا ہے۔ بیجنگ نے ایسے قوانین بنا رکھے ہیں جن کے تحت وہاں فروخت ہونے والی مصنوعات کے ڈیزائن کی ساری تفصیلات تقسیم کنندہ کو دینا ضروری ہے، اور مشارکہ کی صورت میں اُن مصنوعات کی تفصیلات کی فراہمی پر بھی اصرار کیا جاتا ہے جو چین میں فروخت ہی نہیں ہوتیں۔ صدرٹرمپ نے World Trade Organization (WTO)کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ WTO امریکہ کی تباہی کا عالمی معاہدہ ہے۔
اس گل افشانی کے ساتھ صدر ٹرمپ نے چین کی اشک شوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ صدر ژی ان کے بہت اچھے دوست ہیں اور وہ چین سے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انھوں نے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار سازی سے روکنے کے لیے چین کی کوششوں کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔صدر کے اس اعلان کے ساتھ ہی دنیا بھر کے بازارِ حصص گراوٹ کا شکار ہوگئے۔ امریکہ کا نیویارک اسٹاک ایکس چینج صرف چند گھنٹوں میں 700 پوائنٹ نیچے گرکیا۔ بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، ایپل سمیت اُن تمام اداروں کے حصص زمین پر آرہے جو چین سے کاروبار کرتے ہیں۔
امریکی صدر کے اعلان پر چینی وزیراعظم لی کیوانگ (Li Keqiang) نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عسکری ہو یا تجارتی، جنگ جنگ ہے جس میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور عام لوگ نقصان میں رہتے ہیں۔ جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا چین امریکی درآمدات پر جوابی قدغن عائد کرے گا؟ تو چینی وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک غیر جذباتی قوم ہیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرتے ہیں۔
لیکن بیجنگ نے سوچ بچار میں بہت زیادہ وقت نہیں لگایا اور صرف دوہفتے بعد چین نے امریکہ سے خریدی جانے والی زرعی پیداوار، سبزی، پھل، سور کے گوشت اور شراب پر بھاری محصولات عائد کرکے نہلے پہ دہلا جمادیا۔ اعلان کے تحت اب امریکہ سے آنے والے سور کے گوشت پر 25 فیصد، گائے کے گوشت پر 20فیصد، پھل، مچھلی، سبزی اور غذائی اجناس پر 15 فیصد ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ چین کے جوابی اقدام سے اُس تجارتی جنگ (Trade War) میں شدت آگئی جس کا امریکی تاجروں کو خوف تھا۔
چین اور امریکہ کا تجارتی حجم 605 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اور امریکہ کی تقریباً ہر ریاست چین سے کاروبار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر الاسکا (Alaska)کی ایک تہائی برآمد چین کو ہوتی ہے جو اس کی مچھلیوں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ چین اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد سویابین اور مکئی امریکہ سے خریدتا ہے جو ریاست الی نوائے (Illinois)اور ایووا(Iowa) سے فراہم کی جاتی ہے۔ اسی طرح اربوں ڈالر کی کپاس ٹیکساس (Texas) فراہم کرتا ہے۔ ریاست پنسلوانیا اور مغربی ورجینیا سے لاکھوں ٹن کوئلہ چین جاتا ہے۔ ان چار ریاستوں سے چین کو 30 ارب ڈالر کی زرعی اجناس اور کوئلہ فراہم کیا جاتا ہے۔ بلکہ اب جبکہ چین نے شمالی کوریا سے کوئلے کی خریداری بند کردی ہے امریکہ میں کانوں کے مالکان نے اپنی پیداوار میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکہ کی وسط مغربی ریاستوں سے جانوروں کے گوشت اور دودھ، مکھن و پنیر کی فروخت کا تخمینہ کئی ارب ڈالر ہے۔
جنگ کے آغاز سے ہی چین کا پلہ بھاری نظر آرہا ہے۔ چینی مصنوعات اتنی سستی ہیں کہ اضافی محصولات کے بعد بھی امریکی خام مال اور مصنوعات سے ان کی قیمت کم ہے، یا یوں کہیے کہ محصولات کا سارا بوجھ امریکی صارفین برداشت کررہے ہیں۔ دوسری طرف امریکی مچھلیوں، زرعی اجناس، پھل، سبزی، گوشت، دودھ، مکھن اور پنیر پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی سے ایشیا اور یورپ کے تاجروں کو چین سے تجارت کے نئے مواقع میسر آگئے، کہ محصولات کے بعد چین کی منڈیوں میں امریکی اجناس دوسرے ملکوں کے مال سے مہنگی ہوگئی ہیں۔
اسی کے ساتھ چین نے امریکی ڈالر کو اپنا ہدف بنالیا اور خام تیل کی خریداری امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں کرنے کے لیے بات چیت شروع کردی۔ شنید ہے کہ پُرکشش شرائط کے نتیجے میں روس اور انگولا اپنے تیل کی قیمت یووان (Yuan)میں لینے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ چین کے لوگ اپنی کرنسی یعنی یووان کو پیار سے ژنیبی (Renminbi) کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ’عوام کی دولت‘۔ چین دنیا میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ روس، انگولا اور سعودی عرب اپنی پیداوار کا بڑا حصہ چین کو فروخت کرتے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد اپنے حالیہ دورۂ چین میں تیل کی کم ازکم نصف قیمت چینی کرنسی میں لینے پر رضامند ہوگئے ہیں۔
اس وقت ساری دنیا میں تیل کی خرید و فروخت کا سالانہ حجم 14 ہزار ارب ڈالر ہے، اور اگر اس کا ایک تہائی کاروبار بھی مقامی کرنسیوں میں ہونے لگا تو اس سے دنیا میں ڈالر کی بالادستی متاثر ہوسکتی ہے۔ دودہائی پہلے ملائشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے تیل کی خرید و فروخت کے لیے پیٹرو ڈالر کے نام سے ایک کرنسی بنانے کی تجویز دی تھی، لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اِس بار ایسا لگ رہا ہے کہ کم ازکم چین کی حد تک تیل کی خرید و فروخت کے لیے ڈالر کا متبادل سامنے آنے والا ہے۔
ڈالر کے خلاف جنگ کے ساتھ چین نے امریکی زراعت پر حملہ جاری رکھا۔ امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ژی اپنے امریکی ہم منصب کی سیاسی کمزوریوں کو سمجھتے ہیں اور وہ تاک تاک کر ری پبلکن پارٹی کے قلعے یعنی دیہی امریکہ کو نشانہ بنارہے ہیں، یعنی چین کا اصل،اور تزویراتی (Strategic)حملہ امریکہ کی زراعت پر ہے۔ سور کے گوشت یا Pork پر 25 فیصد ڈیوٹی لگاکر ایووا، الی نوئے اور دوسری زرعی ریاستوں میں تھر تھلی مچانے کے بعد چین نے سویابین پر بھاری محصولات عائد کردیے۔
دنیا بھر میں پیدا ہونے والے سویابین کا 60 فیصد چین میں استعمال ہوتا ہے۔ سبزی خور چینیوں میں سویابین برگر بہت مقبول ہے۔ اس کے علاوہ سویابین گدھوں اور سوروں کو بھی کھلایا جاتا ہے۔ چین میں درآمد ہونے والے سویابین کا نصف برازیل اور ایک تہائی امریکہ سے آتا ہے، جبکہ ارجنٹینا کا تیسرا نمبر ہے۔
گزشتہ انتخابات میں سویابین فراہم کرنے والی زیادہ تر ریاستوں سے ری پبلکن پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو سزا دینے کے لیے سویابین کا انتخاب اقتصادی اور کاروباری سے زیادہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ اس لیے کہ امریکہ کے سوا کہیں اور سے اتنی بڑی مقدار میں سویابین حاصل کرنا چینیوں کے لیے ممکن نہیں۔ خاص طور سے آج کل جبکہ ارجنٹینا خشک سالی کا شکار ہے۔ یعنی وقتی طور پر ہی سہی، محصولات کا بوجھ چینی صارفین کو برداشت کرنا ہوگا۔ چینی قیادت کی نظریں 2020ء کے انتخابات پر ہیں۔ دیہی امریکہ صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اصل قوت اور گڑھ ہے جہاں ووٹ ڈالنے کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔ وسط مغرب (Midwest)کی 10 میں سے 8 ریاستوں میں صدر ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی، جن کی معیشت کا دارومداد زراعت پر ہے۔
امریکی زراعت، گوشت اور دودھ و پنیر کے ساتھ چین نے امریکی گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا۔ ایک حکم کے تحت اس نے 125 سے زیادہ درآمدات پر 25 فیصد اضافی محصولات نافذ کردیے، جن میں گاڑیاں اور ہوائی جہاز شامل ہیں۔ امریکی گاڑیوں پر پہلے ہی 25 فیصد ڈیوٹی نافذ ہے جو 50 فیصد کردی گئی۔ چینیوں میں جاپانی اور کوریائی گاڑیاں بہت مقبول ہیں۔ امریکی گاڑیوں میں صرف شیورلے اور فورڈ برانڈ پک اپ ٹرک کی وہاں خاصی مانگ ہے۔ اسی کمی کو ٹویوٹا کی پک اپ اور مٹسوبشی کی بچارو پورا کرسکتی ہے۔
چین کے اقدامات سے ری پبلکن پارٹی کے رہنمائوں کو اپنے حلقۂ انتخاب میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ بعض مقامات پر لوگوں نے ان کا گھیرائو بھی کیا۔ لیکن صدر ٹرمپ نے مدافعانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے حسبِ عادت ایک فیصلہ کن حملے کا فیصلہ کرلیا اور بین الاقوامی تجارت کے امریکی نمائندے USTR کو ہدایت کی کہ چینی درآمدات پر 100 ارب ڈالر کے اضافی محصولات عائد کردیے جائیں۔ چینی کہاں پیچھے رہنے والے تھے، بیجنگ نے اسی بحر اور قافیے میں جوابِ آں غزل پیش کردی کہ ’ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے، جو تم کروگے وہی کریں گے‘۔
امریکی صدر کے اس فیصلے کی خود اُن کی جماعت نے مزاحمت کی۔ امریکی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اب تک جن چینی درآمدات پر محصولات عائد کیے گئے ہیں ان سے بیجنگ کو بہت زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ مثلاً فولاد اور المونیم پر لگنے والے محصولات سے جنوبی کوریا، برازیل اور ہندوستان کا نقصان ہے، کہ چین تو خود فولاد اور المونیم کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ دوسری جانب چین نے گوشت اور زرعی اجناس پر ڈیوٹی عائد کرکے دیہی امریکہ میں صفِ ماتم بچھادی ہے جو صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کا گڑھ ہے۔
ری پبلکن پارٹی کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری صدر کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو (Larry Kudlow) کو سونپی گئی، جنھوں نے امید دلائی کہ چین پر اضافی محصولات عائد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔ کڈلو صاحب کے اس بیان نے بازارِ حصص پر مثبت اثر ڈالا اور زمین کی طرف مائل قیمتیں کسی حد تک مستحکم ہوگئیں۔
دسمبر 2018ء میں G-20 سربراہ کانفرنس کے دوران ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں صدر ٹرمپ اور اُن کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ تجارتی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر رضامند ہوگئے اور ملاقات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں رہنمائوں نے 90 دن کے لیے محصولات میں مزید اضافہ معطل کردیا۔ باہمی مشورے سے تجارتی معاہدے کے لیے یکم مارچ 2019ء کا ہدف طے ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدہ نہ ہوا تو یکم مارچ سے چینی درآمدات پر اضافی محصولات عائد کردیے جائیں گے۔
تجارتی معاہدے کے لیے دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام نے پہلے بیجنگ میں ملاقات کی، جو حوصلہ افزا تو تھی لیکن کوئی معاہدہ نہ ہوسکا۔ گزشتہ ہفتے صدر ژی کے دستِ راست، ماہر معاشیات اور چین کے نائب وزیراعظم لیو ہی (Liu He)اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے لیے واشنگٹن آئے۔ امریکی لہجے میں شستہ انگریزی بولنے والے لیو ہی جامعہ ہارورڈ (Harvard) کے MPAہیں اور امریکی وزارتِ تجارت اور خزانہ کے بہت سے افسران اُن کے ہم جماعت رہ چکے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ چین نے امریکہ سے اپنی درآمدات کا حجم 200 ارب ڈالر بڑھانے کا وعدہ کرلیا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا خسارہ کافی حد تک سکڑ جائے گا۔ یہ خبر سعودی عرب، ایران اور روس کے لیے اچھی نہیں جو چین کو تیل فراہم کرتے ہیں۔ خیال ہے کہ درآمد بڑھانے کے لیے چین درآمدی تیل کی بڑی مقدار امریکہ سے خریدے گا۔
22 فروری کو چینی نائب وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں مذاکرات کی تفصیل بتانے کے ساتھ صدر ژی کا ایک خط بھی انھیں پیش کیا۔ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک منصفانہ معاہدے کی جانب مثبت پیش قدمی ہوتی نظر آرہی ہے۔ 24 فروری کو اپنے ٹویٹ پیغام میں امریکی صدر نے محصولات کو چینی صدر سے ملاقات تک منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ چینی صدر سے ملاقات کے دوران دونوں رہنما اس بحران کے ایک منصفانہ حل تک پہنچ جائیں گے، جس کے لیے انھوں نے Win-deal-Winکا لفظ استعمال کیا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ ملاقات صدر ٹرمپ کے ذاتی پُرتعیش گولف کورس مارالاگو (Mar-a-Lago)میں ہوگی۔ اپنے ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا لیکن خیال ہے کہ چینی صدر مارچ کے دوسرے ہفتے میں امریکہ آئیں گے۔
شعلہ فشاں صدر ٹرمپ کے رویّے میں تبدیلی کی وجہ سیاسی ہے۔ تجارتی جنگ سے دیہی امریکہ میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے جس سے آئندہ صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کے جوہری تنازعے کو حل کرنے کے لیے چین کی حمایت درکار ہے، چنانچہ صدر ٹرمپ اپنے ہاتھ میں زیتون کی شاخ لہراتے گنگنا رہے ہیں کہ ’کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی‘۔ کتنا فرق ہے دنیا کے بڑوں اور تیسری دنیا کے ملکوں میں۔ یہ بڑے کم بخت لڑائی اور دشمنی بھی ہوش کے ساتھ کرتے ہیں۔

……

اب آپ مسعود ابدالی کی فیس بک پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comپر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

Share this: