حیاکیا ہے؟۔

محمد اسعد الدین
حیا کیا ہے؟… چلنے پھرنے، بات چیت کا خاص انداز… بالکل ٹھیک۔ واضح کردیے گئے ستر کے مطابق جسم کو ڈھانپنا… بجا۔ صنفِ مخالف سے خاص فاصلہ… یہ بھی صحیح۔ نگاہوں کی حفاظت… مکمل اتفاق۔ اس میں ذہن پہ زور ڈال کر مزید کچھ اور چیزوں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ حیا کا یہ موجودہ لیکن ادھورا تصور ہے۔ اب ایک مشکل ہے، جس موضوع پر جس قدر لکھا، پڑھا، سنا، یا ڈسکس کیا جاتا ہے عام طور پر اُس موضوع کا اصل تصور، مفہوم اتنا ہی دھندلا ہوجاتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا کہ اصل بات کیا ہے۔ آج حیا بھی ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے ہی سلوک سے دوچار ہے، اور جب تک حیا کا ’’مکمل‘‘ اور ’’اصل‘‘ تصور سمجھ میں نہیں آئے گا، ذہن اور نظریں چند ظاہری علامتوں، طور طریقوں میں اٹکتے، الجھتے رہیں گے۔
نہ فلسفہ، نہ راکٹ سائنس… صرف دو باتیں… ایک یہ کہ حیا کو ٹھیک ٹھیک جاننے، پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اس کے متضاد کا بھی پتا ہو۔ دونوں چیزیں ایک وقت میں نگاہ میں رہیں گی تو آسانی رہے گی۔ اتنا ہی نہیں، حیا کو مکمل اختیار کرنے میں سہولت ہوجائے گی۔
ایک چھوٹے سے بچے کو بھی معلوم ہے کہ حیا کا الٹ بے حیائی ہے… اور بے حیائی کیا ہے؟ اس کے بارے میں بتانے، سمجھانے کے لیے موٹی کتابوں، اور لمبی تقریروں کی ضرورت نہیں ہے۔ بے ہودہ لباس، جسم کی نمائش، بے شرمی کی باتیں، نظروں کی آوارگی بے حیائی ہے۔ اس فہرست میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ تمام ہی باتیں ٹھیک، بے حیائی کی ان تمام علامتوں کے ٹھیک ہونے میں کوئی دورائے نہیں ہیں۔ بے حیائی کا یہ تصور بھی مگر ادھورا ہے۔ دوسری بات ذرا توجہ مانگتی ہے۔ دنیا میں اور چیزوں کی طرح حیا کا بھی ایک جسم ہے۔ ایک اُس کی روح۔ ایک سامنے کا مشاہدہ ہے اور ایک پوشیدہ حقیقت۔ پردہ، نقاب، جھکی نظریں، پست آواز، حیادار لباس، شائستہ انداز، مہذب، بے ہودگی سے پاک گفتگو… یہ تمام چیزیں حیا کا جسم قرار پائیں، حیا کی ظاہری علامات ٹھیریں۔ اور اس کی روح…؟؟
اسے بدقسمتی کہیے، بدنصیبی سمجھیے یا کوئی اور نام دیجیے… بات مگر حقیقت ہے کہ آج کے ظاہر پرست معاشرے اور اچھے اچھوں کی عقل و نگاہ سامنے دکھائی دینے والی چند ظاہری علامتوں، طور طریقوں، نشانیوں کے کانٹوں میں ململ کی طرح اٹک کر رہ گئی۔ چنانچہ حیا کے ساتھ بھی سب سے بڑی بے حیائی یہ ہوئی کہ حیا کے مفہوم اور تصور کو محدود کردیا گیا۔ گھوم پھر کر دیکھ لیجیے، دل چاہے تو فہرست بھی بنا لیں پوری سوسائٹی کی غیر تحریر شدہ، دو جسموں میں درجہ بندی موجود ہے۔ کس نے کی؟ یہ وہی ظاہربیں نگاہ اور عقل کی بے حیائی تھی کہ اس نے حیا کا ایک خودساختہ معیار گھڑ لیا۔ چند ظاہری علامتیں اور اہتمام ہی کُل اور اصل بن گیا۔ باقی اس دائرے سے باہر رہے… وہ جانیں، ان کا خدا جانے…
اب سوال یہ ہے کہ حیا کا مکمل اور اصل تصور کیا ہے؟ کس کوچہ میں یہ پائی جاتی ہے؟ حیا اصل میں پوری شعوری زندگی پر پھیلے ہوئے ایک عمل، رویّے، ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ ذہن میں آنے والی سوچ پر نظر، خیال پہ گرفت، نظر کا محاسبہ، اٹھتے قدم، زبان سے نکلتے ہوئے الفاظ کا جائزہ، دل کے چور کی نگرانی، بہکتے، بھٹکتے ارادوں پر کنٹرول، پیٹ میں جانے والے لقمے اور دماغ میں بدلتی منصوبہ بندی کی جانچ پڑتال، آتی آمدنی، چڑھتی جوانی کی دیکھ بھال کا نام حیا ہے۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بات سمجھنے کے لیے کتنی آسانی کردی، فرمایا: جب تم میں حیا نہ رہے تو ’’جو‘‘ چاہے کرو… اس ’’جو‘‘ میں شعوری زندگی کا ہر ہر کام اور اقدام شامل ہے۔
حیا جلسے میں لگایا جانے والا کوئی نعرہ نہیں، کسی مہم کا سلوگن نہیں، کتابی الفاظ نہیں۔ یہ تو مکمل لائف اسٹائل ہے۔ حیا کا ایک عملی اور ناگزیر پہلو یہ ہے کہ آدمی خالقِ کائنات کے ساتھ پہلے اپنے تعلق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے کہ مجھے پیدا کرنے والے، پالنے، کھلانے پلانے والے، مُردہ وجود میں جان ڈالنے اور روح نکال کر واپس بے جان کردینے والی ہستی کے ساتھ میرا رشتہ کیا ہے؟ اس رشتے کی حقیقت کیاہے؟ پھر محبوبِ کائنات کے ساتھ اپنی نسبت کو جانے، اور آخر میں مالکِ کائنات، اور محبوبِ کائنات کے حکم کو اپنا فیصلہ، اُن کی مرضی، پسند کو اپنی چاہت، اُن کی ہدایت کو اپنی پسند، اُن کی خواہش کو ذاتی رغبت میں ڈھال دے۔ نہ بتائے ہوئے حکم سے زیادہ، نہ دی گئی ہدایات سے کم۔ من مانی نہ سرکشی۔ اِدھر نہ اُدھر۔ چوں کہ، چناں چہ، اگر مگر سب ختم… ہر نقشِ قدم پر اپنا قدم…
ذہن پہ تھوڑا سا زور ڈالیے، یہ نکتہ بھی سمجھ میں آجائے گا کہ محض چند ظاہری علامتیں اختیار کرلینے سے رسم حیا تو ضرور ادا ہوجائے گی، لیکن حیا کے مکمل تصور کو ممکن بنانے، اور اصل ’’رزلٹ‘‘ کے حصول کے لیے کرنے کے جو اصل کام ہیں انہیں کتابوں سے نکال کر، نعروں سے آگے بڑھ کر ’’پریکٹیکل‘‘ بنایا جائے، اور اس حوالے سے محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، جنہوں نے بنیادی بات بتائی ’’جب تم میں حیا نہ ہو تو جو چاہے کرو‘‘ کی واضح ہدایت کو پھر سے ذہنوں میں تازہ کرنا ضروری ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تین چیزوں میں جلدی کرو۔ اُن تین میں سے ایک، جب اولاد بالغ ہوجائے تو مناسب رشتہ تلاش کرکے نکاح کرو۔ آگے پڑھیے! کہا: رشتہ عموماً چار بنیادوں پر کیا جاتا ہے (1) خاندان، حسب نسب (2) مال و دولت (3) خوب صورتی (4) دین داری، تقویٰ۔ آپؐ نے ہر دور میں یکساں رائج بقیہ تینوں ’’اسٹینڈرڈ‘‘ کو مسترد کرکے دین داری کو معیار بنانے کا حکم دیا۔ مزید دیکھیے… فرمایا: بہترین نکاح وہ ہے جو سادگی سے کیا جائے۔ اب ذرا ’’آج‘‘ دیکھیے۔ ہوا کے رخ پر بہنے والے عام دنیاداروں کو، دولت، طاقت، قابلیت، خوب صورتی، بینک بیلنس، ڈگری کے ڈھیروں کا ڈسپلے کرنے والوں کو چھوڑیے، ان سے کیا شکوہ، بیچارے سر جھکائے بھیڑ چال چلنے والوں کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں۔ اصل دکھ تو اُن کے لیے ہے جو جانتے بھی ہیں، مانتے بھی ہیں مگر عملی رویہ…؟ ادھوری نہیں مکمل تصویر نظروں میں رہے۔ ہماری سوسائٹی میں لڑکا ہو یا لڑکی، 14۔15 سال میں میٹرک مکمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد انٹر، گریجویشن اور ماسٹرز کے میدان پار کرتے کرتے عمر 22۔23 برس تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ ریسرچ کے مطابق مغرب میں کیمیائی مادوں سے تیار ہونے والی غذائوں کے استعمال سے لڑکوں، لڑکیوں کی بلوغت کی عمر سات سال کم ہوگئی ہے۔ یعنی جو بچے، بچیاں سترہ سال کی عمر میں بالغ ہوتے تھے وہ اب دس برس میں ہی بالغ ہورہے ہیں۔ جنک فوڈ کے بے تحاشا استعمال، اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہمارے معاشرے میں بھی لڑکے، لڑکیوں کی بلوغت کا معاملہ (مغرب سے تناسب کے فرق کے ساتھ) وہی شکل اختیار کرتا جارہا ہے، یعنی ماسٹرز تک پہنچتے پہنچتے لڑکے، یا لڑکی کو بالغ ہوئے دس سال کا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے۔ پھر ستم بالائے ستم، بات صرف بلوغت تک محدود نہیں… دائیں، بائیں۔ آگے پیچھے۔ اُٹھتے بیٹھتے ہر ہر جگہ زندہ چلتے پھرتے مناظر، اکسانے، ورغلانے، آمادہ کرنے کی ترکیبیں، نسخے ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے سوچ، خیالات، فطری جذبات، احساسات میں آگ لگا رہے ہیں۔ قدرت کے پیدا کردہ جذبات کا کوئی مسلک ہوتا ہے نہ کوئی فرقہ، اور نہ ہی ان کی کوئی سیاسی اور مذہبی وابستگی ہوتی ہے۔ اس موضوع پر ایک ضمنی ریسرچ کے دوراں راقم کا ایسے متعدد بچوں، بچیوں سے رابطہ ہوا جن کے والدین نہایت سلجھے ہوئے، باعمل مسلمان اور تعلیم یافتہ، لیکن ان کی اولاد کا معاملہ… دکھ بھری داستان کے سوا کچھ نہیں۔
کیسی عجیب بات ہے، سامنے کی کھلی حقیقت… معاشرے میں ایک جانب بچے بچیوں کی بلوغت کی عمر کم ہورہی ہے۔ اُن کی ذہنی، جذباتی، جسمانی ضروریات شدت اختیار کررہی ہیں۔ اس حوالے سے نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات بھی موجود ہیں، تو دوسری طرف بچوں کے والدین، سرپرست بچوں کے جذبات، احساسات، ضروریات کو شعوری یا لاشعوری طور پر آج کی روایات، زمانے کے چلن، حالات کے تقاضوں، وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے، ’’لوگ کیاکہیں گے‘‘ ایسے ہی اور عنوانوں کے نام پر بظاہر نظر انداز اور حقیقت میں کچل رہے ہیں۔ کیا ظلم ہے؟ کیا حیا اسی رویّے کا نام ہے؟ ذرا تصور کیجیے کہیں آگ لگی ہو، اور اردگرد آگ بھڑکانے کا سامان اور اہتمام موجود ہو، تو آگ بجھانے کے لیے اپنی گنجائش اور استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنے، شعلوں پر پانی ڈالنے کے بجائے آگ کے خلاف کوئی تقریر، کوئی نعرہ، کوئی جلسہ جلوس اس آگ کو ٹھنڈا کردے گا؟ بے حیائی بھی ایک خوفناک آگ ہے تباہ کن حد تک، اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کا واحد حل حیا کے ادھورے اور فقط ظاہری نہیں بلکہ مکمل تصور کو بطور واحد اور آخری آپشن اختیار کرنا ہے۔ اس حل کو چند بڑی نمایاں شکلوں میں سے ایک ’نکاح‘ کو جلد اور آسان بنانا ہے۔

Share this: