سود کے بارے میں سینیٹ کا منظور کردہ بل

مولانا زاہد الراشدی
سینیٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودۂ قانون منظور کرلیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینیٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔
بل کے محرک جناب سراج الحق نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ سود بہت بڑی لعنت ہے اور اس نے خاندانوں کے خاندان سودی قرضوں میں جکڑ رکھے ہیں، میں نے کوشش کی ہے کہ نجی قرضوں کے لین دین کی صورت میں سود پر پابندی لگائی جائے، مگر ہمیں اس ملک میں سود کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھنا ہوگا، اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ جبکہ منظور ہونے والے مسودۂ قانون میں کہا گیا ہے کہ قرآن و سنت میں وضع کردہ اسلامی احکامات واضح طور پر قرضوں پر سود لاگو کرنے کے مخالف ہیں اور سود کا خاتمہ نہ کرنے والوں کے خلاف اعلانِ جنگ کی ہدایات دیتے ہیں۔ قانون کے مطابق کوئی بھی قرض فراہم کرنے والا کسی فرد یا افراد کو گروپ کی صورت میں سود کی غرض سے قرضہ یا ایڈوانس لون فراہم نہیں کرے گا، اور نہ ہی دارالحکومت اسلام آباد میں سود پر مبنی کاروبار کرے گا۔ جو کوئی ان احکامات کی خلاف ورزی کرے گا اُسے تین سے دس سال تک قید یا دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی اور اس سلسلے میں معاونت کرنے والا بھی سزا کا مستحق ہوگا۔
ہمارے خیال میں سینیٹ آف پاکستان کے اس فیصلے نے اُن حلقوں کو خوشی کے اظہار کا ایک موقع فراہم کیا ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کے معاشی نظام و قوانین کو سود کی نحوست سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، اور اس سے قیام پاکستان کے اصل مقصد کی طرف پیش رفت ہوئی ہے جس کی ایک جھلک بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اس خطاب میں دیکھی جا سکتی ہے جو انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا اور اس میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام کو مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اسی لیے دستورِ پاکستان نے سود سے پاک معیشت کو پاکستان کی معاشی منزل قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ قومی معیشت کو جلد از جلد سودی اصول و قوانین سے نجات دلائے۔
سود کے خاتمے کی جدوجہد کی داستان بہت طویل ہے جو پارلیمنٹ اور عدالتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ عوامی محاذ پر بھی قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل جاری ہے، مگر ہر سطح پر واضح فیصلوں اور اعلانات کے باوجود ابھی تک سودی قوانین و نظام سے چھٹکارے کی کوئی عملی صورت سامنے نہیں آرہی، اور سودی نظام و قوانین کے خاتمے کی ہر جدوجہد کو بین الاقوامی اور قومی ماحول میں ناقابلِ عبور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ایک موقع پر واضح طور پر تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر ان کے خاتمے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل درآمد کرنے کے بجائے اسے نظرثانی کے چکر میں ڈال دیا گیا، اور سالہا سال گزر جانے کے باوجود وہ اب بھی وفاقی شرعی عدالت کی بھول بھلیوں میں گم ہے۔
اس پس منظر میں سینیٹ آف پاکستان کا منظور کردہ یہ قانون جو اگرچہ صرف نجی قرضوں کے حوالے سے ہے اور وفاقی دارالحکومت کے دائرے میں محدود ہے، مگر سودی نظام کے خاتمے کی طرف عملی سفر کا آغاز محسوس ہوتا ہے، اور یہ امید نظر آنے لگی ہے کہ اگر ارکانِ پارلیمنٹ اسی جذبے کے تحت آگے بڑھتے رہے تو ملک کو سودی نظام کی لعنت و نحوست سے پاک کرنے کی مرحلہ وار کوئی نہ کوئی صورت شاید نکل آئے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علمائے کرام کچھ عرصہ پہلے تک ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کے عنوان سے اس سلسلے میں سرگرم عمل رہے ہیں، جس کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی حیثیت سے راقم الحروف بھی متحرک رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا تو بعض دوستوں نے توجہ دلائی کہ اس فورم کو ازسرنو متحرک کرنے کی ضرورت ہے جس پر ان سے وعدہ کیا کہ احباب سے رابطہ کرکے جلد ہی اس حوالے سے کسی مشاورت کا اہتمام کروں گا۔ ابھی اس بارے میں کوئی ترتیب سوچ رہا تھا کہ جناب سراج الحق نے سینیٹ میں یہ بل پیش کردیا اور ایوانِ بالا نے اسے منظور کرکے قوم کو ایک اچھی پیش رفت کی خبر دے دی۔ چنانچہ تحریک انسدادِ سود پاکستان کے فورم پر دس مارچ کو لاہور میں ایک مشاورتی نشست کا پروگرام ترتیب دیا جارہا ہے جس میں اب تک کی صورت حال کا جائزہ لے کر آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ان گزارشات کے ساتھ میں تحریک انسدادِ سود پاکستان کی طرف سے جناب سراج الحق اور سینیٹ آف پاکستان کے تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دیتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو اس مہم میں کامیابی سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔

Share this: