سپر پاور کی “ایکٹنگ”کرتا ہوا ہندوستان 

باج گزار ریاست میں رنگ بھرتا ہوا پاکستان

پاک بھارت تعلقات کے موجودہ منظرنامے کو دو فقروں میں بیان کرنا ہو، تو کہا جائے گا کہ ’’ایک طرف سپر پاور کی ’’ایکٹنگ‘‘ کرتا ہوا ہندوستان ہے، اور دوسری جانب باج گزار ریاست کی تصویر میں رنگ بھرتا ہوا عمران خان کا ’’نیا پاکستان‘‘۔۔۔ باقی جو کچھ ہے اس کی تفصیل ہے۔
حالیہ انسانی تاریخ میں دو ملکوں نے سپر پاور کا مقام حاصل کیا ہے۔ ایک سپر پاور سوویت یونین تھی، اور دوسری سپر پاور امریکہ ہے۔ سوویت یونین کا قصہ یہ تھا کہ اس کے حکمرانوں کا دل چاہتا تھا وہ یوگوسلاویہ میں گھس جاتے تھے اور اس پر قبضہ کرلیتے تھے۔ سوویت حکمرانوں کا دل چاہتا تھا وہ کیوبا میں ’’انقلاب‘‘ برپا کردیتے تھے۔ 1979ء میں ان کا دل چاہا تو وہ افغانستان میں آدھمکے، اور دس سال کے بعد ذلیل ہوکر وہاں سے نکلے۔ امریکہ کی کہانی یہ ہے کہ امریکہ کا دل چاہا ویت نام میں گھس گیا، امریکہ کا دل چاہا اُس نے خلیج کی پہلی جنگ ایجاد کرلی، امریکہ کا دل چاہا وہ افغانستان پر قابض ہوگیا، امریکہ کا دل چاہا اُس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی آڑ میں عراق کو تاراج کردیا۔ ٹھیک اسی ذہنیت اور نفسیات کا مظاہرہ ہندوستان پاکستان کے حوالے سے کررہا ہے۔ بھارت کا دل چاہا وہ مشرقی پاکستان میں در آیا، بھارت کا دل چاہا اُس نے سیاچن پر قبضہ کرلیا، نائن الیون اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے بھارت کچھ زیادہ ہی خود کو سپرپاور سمجھ رہا ہے۔ مودی اقتدار میں آئے تو انہوں نے پاکستان سمیت پورے خطے کے حکمرانوں کو اپنے ’’دربار‘‘ میں طلب کرلیا، اور میاں نوازشریف نے مودی کے ’’دربار‘‘ میں ’’باج گزار ریاست‘‘ کے حکمران کی حیثیت سے ’’حاضری‘‘ دی۔ موجودہ منظرنامے میں بھارت نے کسی ٹھوس شہادت کے بغیر پاکستان کو پلوامہ کے حملے میں ملوث کیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اس نے پاکستان کو حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے ’’دھمکیاں‘‘ دیں، اور پھر ان دھمکیوں کو عمل میں ڈھال کر بالاکوٹ پر حملہ کردیا۔ پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے اور بھارت کے ایک طیارے کے پائلٹ ابھی نندن ورتمان کو گرفتار کرلیا تو نریندر مودی نے بھارتی سائنس دانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالاکوٹ تو صرف ’’پائلٹ پروجیکٹ‘‘ تھا۔ ان کے بقول ’’Real پروجیکٹ‘‘ کو تو ابھی آنا ہے۔ لیکن جیسا کہ ظاہر ہے نہ بھارت سپر پاور تھا، نہ ہے، نہ آئندہ دس بیس برسوں میں ایسا ہونے کا امکان ہے۔ چنانچہ سپرپاور کی حیثیت سے بھارت کی ’’ایکٹنگ‘‘ ایسی ہی ہے جیسے چوہا شیر کی کھال پہن کر شیر کی ’’ایکٹنگ‘‘ کرنے لگے، جیسے کوّا ہنس کے پَر لگا کر ہنس کی ’’ایکٹنگ‘‘ کرنے لگے، جیسے سلطان راہی پینٹ شرٹ پہن کر دلیپ کمار کی ’’ایکٹنگ‘‘ کرنے لگے۔
بدقسمتی سے عمران خان بھارت کو سپر پاور تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو بھارت کی باج گزار ریاست باور کرانے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاک فضائیہ نے شان دار کردار ادا کرتے ہوئے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا اور پاکستان نے بھارت کے پائلٹ ابھی نندن ورتمان کو حراست میں لے لیا تو عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو ’’امن‘‘ کی پیشکش کر ڈالی۔ دودن بھی نہیں گزرے تھے کہ انہوں نے بھارت کے کسی مطالبے کے بغیر بھارت کے جارح پائلٹ کو رہا کرکے بھارت بھجوا دیا۔ حد یہ کہ اس دوران انہوں نے تین مرتبہ مودی کو فون کر ڈالے، مگر مودی نے ایک سپر پاور کے سربراہ کے طور پر ایک بار بھی عمران خان کا فون سن کر نہ دیا۔ اس رویّے سے مودی نے بتادیا کہ ان کی نظر میں عمران خان اور ان کے ملک پاکستان کی کیا ’’اوقات‘‘ ہے۔ مگر عمران خان اور ان کے سرپرست ’’مان نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ کے مصداق بھارت سے امن کی بھیک مانگے جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 27 فروری کی رات بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کی تیاری کرلی تھی مگر امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔ تاہم بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا امکان پوری طرح فضا میں موجود ہے۔ عمران خان جتنا امن، امن کررہے ہیں، بھارت کا تکبر اتنا ہی بڑھتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت اور اس کے ذرائع ابلاغ نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کو پاکستان کی ’’امن پرستی‘‘ کے طور پر نہیں لیا بلکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس اقدام کی پشت پر بھارت اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ تھا، اور پاکستان پائلٹ کو رہا نہ کرتا تو بھارت پاکستان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا۔ بھارت کا اصرار ہے کہ پائلٹ کی رہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی نے عمران خان اور ان کے ملک کو گھٹنوں پر جھکا دیا ہے۔
یہ کتنی شرم ناک اور افسوس ناک بات ہے کہ عمران خان اور ان کے سرپرستوں نے ایٹمی پاکستان میں ’’خوف‘‘ کو ’’پالیسی‘‘ اور ’’بزدلی‘‘ کو ’’حکمت عملی‘‘ بنادیا ہے۔ مگر خوف اور بزدلی پوری انسانی تاریخ میں نہ کبھی پالیسی رہے اور نہ حکمتِ عملی۔۔۔ اس لیے کہ خوف سے مزید خوف، اور بزدلی سے مزید بزدلی پیدا ہوتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ دشمن کو بھی معلوم ہوجائے کہ آپ خوف زدہ ہیں اور بزدلی نے آپ کو گھیر لیا ہے تو وہ آپ پر دباؤ بڑھانے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو خوف اور بزدلی میں مبتلا ہونے والے ’’شکست‘‘ کے لیے ’’دشمن‘‘ کے محتاج نہیں رہتے، وہ خود اپنے آپ کو شکست خوردہ بنا لیتے ہیں۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر کئی ٹیلی ویژن چینلز “Say no to War” اور ’’جنگ نہیں امن‘‘ کی مہم چلا رہے ہیں۔ یہ اتنی جاہلانہ، حماقت انگیز اور شرم ناک مہم ہے کہ جس کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔ اس لیے کہ یہ مہم چلانے والے نہیں جانتے کہ جو قوم جنگ کو “No” کہتی ہے جنگ اُس کی جانب زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھتی ہے، اور جو قوم کہتی ہے کہ ’’جنگ نہیں امن‘‘ اسے کبھی بھی ’’حقیقی امن‘‘ میسر نہیں آتا۔ مگر عمران خان، اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کے جاہل اور بے حیا ذرائع ابلاغ پوری انسانی تاریخ کے علم و فہم اور Wisdom کو جھٹلا رہے ہیں۔
کیا ہم بھول گئے کہ 1947ء سے 1971ء تک بھارت نے ہم پر تین جنگیں مسلط کیں، مگر1971ء سے اب تک وہ ہم پر ایک جنگ بھی مسلط نہیں کرسکا، اس کی وجہ بھارت کی ’’اخلاقیات‘‘ یا اُس کی ’’امن پسندی‘‘ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بھارت کے پاس ایٹم بم ہے تو ہمارے پاس بھی ایٹم بم ہے۔ بھارت کے پاس پانچ ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل ہیں تو ہمارے پاس بھی 2700 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل ہیں۔ بھارت کے پاس فوجی اعتبار سے ’’عددی فوقیت‘‘ ہے تو ہمارے پاس ایسے چھوٹے ایٹم بم ہیں کہ ہم بھارت کی عددی فوقیت کا ’’قیمہ‘‘ بنا سکتے ہیں۔ طاقت کا جواب طاقت ہے، اخلاقیات اور تقریریں نہیں۔ ویسے بھی عصری دنیا میں اخلاقیات کہیں موجود نہیں۔ چنانچہ عمران خان، اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کے بے حیا ذرائع ابلاغ “High Moral Ground” کی تو بات ہی نہ کریں۔
جدید مغرب خود کو ’’مہذب‘‘ کہتا ہے، ’’اخلاقیات‘‘ کا حامل کہتا ہے، ’’عقل پرست‘‘ کہتا ہے، ’’امن پسند‘‘ کہتا ہے، ’’علم پرور‘‘ کہتا ہے، مگر مغرب کے ممتاز ماہر نفسیات ایرک فرام نے اپنی معرکہ آراء تصنیف The Anatomy of Human Destructiveness میں مغرب کی تقریباً پانچ سو سال کی تاریخ میں لڑی جانے والی جنگوں کی تفصیل مہیا کی ہے۔ مغربی اقوام نے کتنے برسوں میں کتنی جنگیں لڑی ہیں، ملاحظہ فرمایئے:
سال جنگوں کی تعداد
1480 – 1499 9
1500 – 1599 87
1600 – 1699 239
1700 – 1799 781
1800 – 1899 651
1900 – 1940 892
(The Anatomy of Human Destructiveness, By Eric Fromm- Page-215)
ان جنگوں کی تعداد کو شمار کیا جائے تو مغربی اقوام نے تقریباً پانچ سو سال میں 2659 جنگیں لڑی ہیں۔ واضح رہے کہ وہ جنگیں اس کے علاوہ ہیں جو مغرب نے غیر مغربی اقوام کے درمیان شروع کروائیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی مغرب اور اس کے مقامی آلۂ کار پوری دنیا اور پاکستانی قوم کو امن کا درس دیتے پھرتے ہیں۔ زندگی میں امن سے بہتر کچھ نہیں ہے، مگر فرد ہو یا گروہ، قومیں ہوں یا تہذیبیں، انہیں امن ’’بھیک‘‘ میں نہیں ملتا، اور جو قومیں امن کی بھیک مانگتی ہیں انہیں ذلت، ہزیمت اور غلامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جس طرح جنت کا حصول آسان نہیں، اسی طرح دنیا میں امن اور عزت کا حصول بھی آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوموں کو امن کے لیے بڑی بڑی جنگیں لڑنی پڑتی ہیں۔
پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر جو ’’مجاہدین‘‘ تعینات کیے ہوئے ہیں انہوں نے جارح بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد اس خیال کو عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ فتح مکہ کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام دشمنوں کو معاف کردیا تھا، اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے وقت دشمنوں کو امان دے دی تھی۔ بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت اپنے دشمنوں کو معاف کردیا تھا، مگر ’’معافی‘‘ کا مرحلہ فتح اور اہلِ مکہ کے “Surrender” کے بعد آیا تھا۔ اہلِ مکہ “Surrender” نہ کرتے تو جنگ ہوتی۔ تو کیا عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو بھارت کے “Surrender” کے بعد معاف کیا ہے؟ سلطان صلاح الدین ایوبی کا قصہ بھی یہی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا اور عیسائی محاصرہ توڑنے اور لڑنے سے قاصر ہوگئے۔ چنانچہ انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے ’’امان‘‘ طلب کی، اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے “Surrender” کرنے والوں اور ’’امان‘‘ کی ’’بھیک‘‘ مانگنے والوں کو امان دی۔ تو کیا عمران خان نے دہلی کا محاصرہ کرلیا تھا اور بھارت نے عمران خان اور اُن کے ’’نئے پاکستان‘‘ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے جس کے بعد عمران خان نے بھارتی پائلٹ سے کہا، جا ہم تجھ پر رحم کرتے ہوئے تجھے رہا کرتے ہیں؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ’’رحم‘‘ بھی ’’طاقت ور‘‘ اور ’’فاتح‘‘ کا ہوتا ہے۔ ’’خوف زدگان‘‘ اور بزدل اور “Surrender” کرنے والے رحم کرنے کے بھی قابل نہیں ہوتے۔ ویسے عمران خان میں ’’معاف‘‘ کرنے، ’’رحم‘‘ فرمانے اور ’’امن‘‘ قائم کرنے کی جتنی صلاحیت ہے وہ ظاہر ہے۔ عمران خان کی گزشتہ دس سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی حریفوں کو نہ ’’معاف‘‘ کررہے ہیں، نہ ان پر ’’رحم‘‘ فرما رہے ہیں، اور نہ ملک میں ’’سیاسی امن‘‘ قائم کررہے ہیں۔ عمران خان اور ان کے پرستار کہیں گے کہ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری بدعنوان ہیں، انہیں کیسے معاف کیا جاسکتا ہے! بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اگر بات یہ ہے تو قصہ یہ بھی ہے کہ بھارت پاکستان توڑ چکا ہے اور وہ بچے کھچے پاکستان کو مٹانے کے لیے متحرک ہے، چنانچہ بھارت یا اس کے کسی جارح فوجی کو بھی معاف کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ عمران خان کے مزاج میں اتنی ’’بے رحمی‘‘، ’’بے تکریمی‘‘ اور اتنی ’’بدامنی‘‘ ہے کہ ملک کے ایک درجن سے زیادہ کالم نگار اور اینکر پرسن یہ شکایت کرتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ انہوں نے عمران خان پر تنقید کی تو سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ان کے مجاہدین نے عمران پر تنقید کرنے والے کالم نگاروں اور اینکرز کو بے ضمیر کہا اور ننگی گالیاں دیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ عمران کی مرضی سے ہوتا ہے، یا کم از کم عمران خان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن بھارت کے لیے ان کا دل براعظم کی طرح کشادہ ہوگیا ہے، بھارت کے لیے ان کے دل میں رحم کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا ہے، اور بھارت کے حوالے سے انہیں امن اتنا عزیز ہوگیا ہے کہ وہ ہماری پوری تہذیب اور تاریخ پر تھوک رہے ہیں اور اپنے اور اپنی اسٹیبلشمنٹ کے خوف کو پوری قوم کا خوف اور اپنی بزدلی کو پوری قوم کی بزدلی ثابت کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس خوف اور اس بزدلی کے باوجود بھارت انہیں ’’عزت‘‘ دینے پر تیار نہیں، انہیں ’’امن‘‘ مہیا کرنے پر آمادہ نہیں، انہیں بات کرنے کے لائق سمجھنے پر آمادہ نہیں ۔ دنیا میں رہنماؤں کی بے عزتی صرف رہنماؤں کی بے عزتی نہیں ہوتی، پوری قوم کی بے عزتی ہوتی ہے۔
عمران خان اپنی ’’امن پرستی‘‘ کے حوالے سے بڑی طاقتوں اور بین الاقوامی برادری میں اپنے وقار کی بات بھی کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب 1971ء میں پاکستان دولخت ہورہا تھا تو بڑی طاقتیں اور نام نہاد بین الاقوامی برادری کہاں تھی؟ اُس وقت روس بھارت کے ساتھ کھڑا تھا، امریکہ نے پاکستان کی مدد کرنے سے صاف انکار کردیا تھا اور امریکہ کا ساتواں بحری بیڑا کبھی پاکستان نہ پہنچ سکا۔ چین اُس وقت ’’خاموش‘‘ تھا۔ تازہ ترین صورتِ حال میں بھی بھارت کی جارحیت کے چار پانچ دن بعد تک پوری بین الاقوامی برادری کہیں موجود نہ تھی، کسی نے بھارت کی اس بات پر مذمت نہ کی کہ اُس نے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان کی سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے بالاکوٹ میں بم کیوں گرائے؟ پاکستان نے ’’کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی‘‘ کا اجلاس بلایا تو ساری دنیا کے کان کھڑے ہوئے۔ امریکہ متحرک ہوا، روس کو خبر ہوئی کہ جنوبی ایشیا میں کیا ہورہا ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی اشارے پر سامنے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بین الاقوامی برادری بھی اسی وقت ’’متحرک‘‘ ہوگی جب پاکستان اپنی ’’طاقت‘‘ کا اظہار کرے گا، جب پاکستان اپنے پورے قد و قامت کے ساتھ کھڑا ہوگا اور بھارت سے کہے گا کہ تم جنگ چاہتے ہو تو آؤ جنگ کرو، تم پاکستان کو صفحۂ ہستی سے مٹاتے ہو تو ہم بھی بھارت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے۔ پاکستان ایک بار یہ کہہ کر تو دیکھے، بھارت کا سارا کھایا پیا سامنے آجائے گا اور دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ بھارت کا چوہا شیر کی کھال پہن کر گھوم رہا ہے۔
پاکستان کے حکمران اور ماضی میں بھارت پرستی کا مظاہرہ کرنے والے ذرائع ابلاغ عمران خان کی کھوکھلی اور بے معنی امن پرستی کے حوالے سے یہ تاثر دینے میں لگے ہوئے ہیں کہ بھارت میں عمران کی امن پرستی کو بڑا سراہا جارہا ہے۔ ارون دھتی رائے نے ایک بیان اور ایک مضمون میں عمران خان کی تعریف کردی ہے، بھارت کے سابق جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے ایک بیان میں عمران خان کو سراہا ہے۔ ارے بھائی! ان باتوں کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ ملکوں کے تعلقات ملکوں سے اور قوموں کے تعلقات قوموں سے ہوتے ہیں، ’’افراد‘‘ سے نہیں۔ ہر قوم میں ’’کچھ‘‘ اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ اسرائیل ایک شیطان صفت ملک ہے مگر اُس کے تین درجن سے زیادہ پائلٹوں نے یہ کہہ کر اسرائیل کے جنگی جہاز اڑانے سے انکار کردیا تھا کہ ہم نہتے فلسطینیوں کو مزید نہیں مار سکتے۔ چنانچہ بھارت سے ابھرنے والی دو، چار ’’معقول آوازوں‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں۔ بھارت کی عظیم اکثریت نریندر مودی کے ساتھ ہے، اس اکثریت ہی نے اپنے ووٹ کے ذریعے نریندر مودی کو بھارت کا وزیراعظم بنایا ہے، اور اس عظیم اکثریت نے ابھی تک نریندر مودی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ چنانچہ پاکستان کے لیے اصل اہمیت ارون دھتی رائے اور مرکنڈے کاٹجو یا اُن جیسے دو چار لوگوں کی نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے اصل اہمیت نریندر مودی، ان کے کروڑوں جنونی ووٹر اور پاکستان اور مسلم دشمنی کو آسمان تک پہنچانے والے ذرائع ابلاغ کی ہے۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ بھارتی ذرائع ابلاغ کے جھوٹ، مکر و فریب اور جنگ زدگی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ بلاشبہ بھارت کے ذرائع ابلاغ جھوٹے اور مکار بھی ہیں اور جنگ پرست بھی، مگر یہی ذرائع ابلاغ بھارت کا ’’اصل چہرہ‘‘ ہیں، یہی بھارت کا ’’اصل باطن‘‘ ہیں، یہی اصل بھارت کی ’’پہچان‘‘ ہیں، یہی اصل بھارت کی آواز ہیں، اور یہی ذرائع ابلاغ ابھی تک بھارت میں رائے سازی کررہے ہیں۔ یہی باتیں پاکستان کے لیے اہم ہیں، بھارتی ذرائع ابلاغ کا جھوٹ اور War Mongering ہمارے لیے اہم نہیں۔ ویسے بھارت کے ذرائع ابلاغ جو کچھ کررہے ہیں اس میں کیا نیا ہے؟ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے کچھ سال پہلے ہی عراق پر الزام لگایا کہ اُس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں اور مغرب کے ہزاروں اخبارات اور ہزاروں چینلز دو تین ماہ تک یہی راگ الاپتے رہے۔ کسی نے بھی ان کے بارے میں یہ نہ کہا کہ ذرائع ابلاغ جھوٹ بول رہے ہیں اور War Mongering کررہے ہیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ بھارت کے ذرائع ابلاغ بھی امریکہ اور برطانیہ کے ذرائع ابلاغ کی نقل کررہے ہیں۔ اس میدان میں بھی بھارت ’’سپر پاور‘‘ کی طرح “Behave” کررہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ طاقت ور کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ طاقت ور کا جھوٹ بھی سچ کی طرح لیا جاتا ہے۔ یعنی بھارت کے ٹیلی ویژن چھوٹے موٹے سی این این، بی بی سی ورلڈ اور سی این بی سی نیوز کا کردار ادا کررہے ہیں، اور بھارت کے اخبارات چھوٹے موٹے ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ اور ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کی ’’ایکٹنگ‘‘ کررہے ہیں۔ ویسے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تم خود کیا کررہے ہو؟ کیا پاکستان کے تمام چینلز کے مواد کا بڑا حصہ ہمارے مذہب، ہماری تہذیب، ہماری اقدار اور ہماری سماجیات سے متصادم نہیں؟ کیا پاکستان میں کوئی اخبار یا چینل ایسا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی ’’ہدایت‘‘ کو پھلانگ کر کھڑا ہوسکے؟ اور زندگی کو اپنی نظر سے دیکھ اور بیان کرسکے؟ فرض کیجیے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ آج یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اسے بھارت کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑنی ہے۔ ہم وثوق سے کہتے ہیں Say no to War کی مہم چلانے والے Say yes to War کی مہم چلاتے نظر آئیں گے، اور ’’جنگ نہیں امن‘‘ کہنے والے ’’امن نہیں جنگ‘‘ کا پرچار کرتے دکھائی دیں گے۔ بھارت کے ذرائع ابلاغ وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو اُن کی اسٹیبلشمنٹ کہہ رہی ہے۔ لیکن ہمارے لیے یہ باتیں زیادہ اہم نہیں ہیں، ہمارے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پورے ہندوستان میں پاکستان کے ساتھ اُس وقت تک امن کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی جب تک پاکستان بھارت کو ’’آقا‘‘ اور خود کو ’’غلام‘‘ تسلیم نہ کرلے۔ جب تک پاکستان بھارت کو ’’بڑا‘‘ اور خود کو اس کا ’’چھوٹا‘‘ نہ مان لے۔ جب تک پاکستان بھارت کو سپر پاور اور خود کو اس کی باج گزار ریاست کی حیثیت نہ دے دے۔ جب تک پاکستان مسئلہ کشمیر کے ’’اصولی حل‘‘ سے دست بردار ہوکر بھارتی حل پر مہرِ تصدیق ثبت نہ کردے۔ ان امکانات میں جو ’’عقل‘‘ ہے، جو ’’حکمت‘‘ ہے، ملک و قوم کے لیے جو ’’عزت‘‘ ہے اور جو ’’امن‘‘ ہے وہ سامنے ہے۔ ایسی عقل، ایسی حکمت، ایسی عزت اور ایسا امن عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو مبارک ہو۔ ہمارے مذہب، ہماری تہذیب، ہماری تاریخ، ہمارے اقبال، ہمارے قائداعظم، ہماری قوم اور ہمارے ملک کا ایسی عقل، ایسی حکمت، ایسی عزت اور ایسے امن سے کوئی تعلق نہیں۔ اقبال سے معذرت کے ساتھ:

اگرچہ بت ہیں ’’بہت سوں‘‘ کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الٰہ الا اللہ

یہاں ہمیں اپنی ایک نظم ’’کھیل‘‘ یاد آرہی ہے۔ یہ نظم ہم نے نائن الیون اور افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد لکھی تھی۔ آج اس نظم کو بھارت کے تناظر میں بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ اس نظم میں ایک ’’اجتماعی میں‘‘ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن سے مخاطب ہے۔ نظم یہ ہے:
جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو؟
خندقیں کھود کے بیٹھا ہوں
میں اپنے دل میں
سرکاکیا تھا؟
اُسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
میری قسمت
کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
اور آنکھیں تو کسی خواب کی تحویل میں ہیں
برسوں سے
حافظہ
میں ابھی تاریخ کو سونپ آیا ہوں
پاؤں
صدیوں کا سفر لے گیا مدت گزری
کون کہتا ہے کہ میں صاحبِ اسباب نہیں
یہ زمیں میرا بچھونا ہے
فلک چادر ہے
اور ستارے مری امیدیں ہیں
جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو؟
دیکھیے کھیل بگڑنے کی خبر کب آئے
وہ جو موجود ہے
دنیا کو نظر کب آئے؟
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صاف کہا تھا کہ بھارت نے جو Dossier پاکستان کے حوالے کیا ہے اُس میں کوئی چیز قابلِ اقدام یا Actionable نہیں ہے، مگر اب جیشِ محمد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق 6 مارچ 2019ء کے روز جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے فرزند حماد اظہر اور ایک عزیز سمیت 44 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ داخلہ امور کے وزیر مملکت شہریار آفریدی نے 6 مارچ کے دن نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف اور انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے جو ڈوزیئر پاکستان کو دیا ہے اُس میں مولانا اظہر مسعود کے فرزند اور عزیز کا نام شامل تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ اطلاع بھی آگئی ہے کہ جماعت الدعوۃ اور اُس کے ادارے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ غور کیا جائے تو یہی پاکستان کو بھارت کی باج گزار ریاست بنانے کا عمل ہے۔ اس صورتِ حال میں بھارت اگر سپرپاور کی ’’ایکٹنگ‘‘ نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا؟ اس ایکٹنگ کا تازہ ترین مرحلہ یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 4 مارچ 2019ء کو کوئی لفظ چبائے بغیر پاکستان پر دوبارہ فضائی حملوں کی دھمکی دی ہے اور صاف کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کا فضائی حملہ آخری ایکشن نہیں۔ ان کے بقول وہ یعنی مودی بڑے فیصلے کرلیتے ہیں تو پیچھے نہیں ہٹتے اور چن چن کر حساب لینا ان کی فطرت ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا مزاج ہے کہ ہم گھر میں گھس کر ماریں گے (روزنامہ جنگ کراچی۔ 5 مارچ 2019ء)۔ اس تسلسل میں انہوں نے 6 مارچ 2019ء کو بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ خود کو بہتر نہیں بنائے گا تو اس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں (این ڈی ٹی وی)۔ ان بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو بھارت یہاں بھی سپرپاور کی زبان اور لہجے میں کلام کررہا ہے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ پاکستان کو بھارت کی باج گزار ریاست بنائے گا تو یہی ہوگا، یعنی چوہا شیر بن جائے گا۔ لیکن بھارت کی اصل حالت کیا ہے، یہ بات راز نہیں۔ امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز نے سپر پاور کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بھارت کے غبارے میں پن چبھوتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی فضائیہ ایک ایسے ملک کی فضائیہ سے پٹ گئی ہے جس کی فوج بھارت کی فوج کا نصف، اور جس کا دفاعی بجٹ بھارت کے دفاعی بجٹ کا ایک چوتھائی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ جنگ ہوجائے تو بھارت اپنی فوج کو صرف دس دن تک اسلحہ مہیا کرسکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے بقول بھارتی فوج کا 68 فیصد اسلحہ انتہائی پرانا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے بقول: یہ ہے وہ بھارت جسے امریکہ چین کے مقابلے کے لیے تیار کررہا ہے اور اس حوالے سے اُس پر انحصار فرما رہا ہے (روزنامہ دنیا کراچی۔ 5مارچ 2019ء)۔ امریکہ کے ایک ادارے نے چند روز پیشتر ہی دنیا کے 25 طاقت ور ترین ممالک کی فہرست جاری کی ہے، اس فہرست میں سپر پاور کی ایکٹنگ کرتا ہوا بھارت 17 ویں نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں سعودی عرب، ایران، ترکی اور جنوبی کوریا تک بھارت سے آگے ہیں۔ (دی نیوز کراچی۔ 3 مارچ 2019ء)۔ یہی بھارت کی اصل اوقات ہے۔ مگر پاکستان کے حکمران بھارت کو سپرپاور کا درجہ دیئے جارہے ہیں، اور وہ پاکستان کو بھارت کی باج گزار ریاست کی سطح پر لاکھڑا کررہے ہیں۔

Share this: