طہارت

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’خرچ کیا کرو، گنا نہ کرو تاکہ تمہیں بھی گن کر نہ ملے، اور چھپا کر نہ رکھو تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ (اپنی نعمتوں کو) نہ چھپالے‘‘۔
(بخاری۔ عن اسما بنت ِابی بکر رضی اللہ عنہ)

مولانا امیر الدین مہر

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طہات حاصل کرنے، طہارت قائم رکھنے اور طہارت کا خیال دلوں میں پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقے سکھائے ہیں۔ ان میںسے چند ایک طریقے یہ ہیں:
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو جب تک تین بار ہاتھ نہ دھولے ان کو پانی کے برتن میں نہیں ڈالنا چاہیے، کیونکہ سوتے میں معلوم نہیں اس کا ہاتھ کہاں کہاں پڑا ہے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے جسم کے ہر عضو کی طہارت کا سوتے جاگتے ہر حالت میں خیال رکھنا چاہیے۔ ہاتھ کی صفائی پر اس لیے زور دیا گیا کہ برتن سے پانی نکالنے میں ناپاک ہاتھ پانی میں بھیگ کر پانی کو ناپاک نہ کردے۔ اس لیے خیال رکھنا چاہیے کہ ہاتھ پانی کے برتن میں اُس وقت تک نہ ڈبوئے جائیں جب تک ہاتھوں کی طہارت کا یقین نہ ہو۔
2۔ دانتوں کی گندگی بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے، لہٰذا ان کی صفائی ضروری قرار دی، مسواک کرنا سنت ٹھیرایا، فرمایا: ’’اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔‘‘
ایک دفعہ کچھ مسلمان حاضر ہوئے جن کے دانت صاف نہ ہونے کی وجہ سے زرد تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے دانت زرد کیوں ہیں؟ مسواک کیا کرو‘‘۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’مسواک کرو، اس سے منہ صاف رہتا ہے اور یہ رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ جب بھی جبریل میرے پاس آئے مجھے مسواک کی تاکید کی، یہاں تک کہ مجھے شبہ ہونے لگا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھ پر اور میری امت پر یہ فرض ہوجائے۔‘‘
3۔ عام راستوں اور درختوں کے سایے میں قضائے حاجت نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اس لیے کہ راستہ چلنے والوں اور درخت کے سایے میں بیٹھنے والے مسافروں کو اس نجاست اور گندگی سے تکلیف نہ ہو۔
4۔ ٹھیرے ہوئے پانی میں پیشاب کرکے پھر اس میں غسل کرنا جائز نہیں، ٹھیرے ہوئے پانی میں غسلِ جنابت بھی نہیں کرنا چاہیے، بلکہ مجنب کو چاہیے کہ اس سے پانی لے کر غسل کرے، کیونکہ ہماری تھوڑی سی سہل انگاری سے وہ پانی دوسروں کے لیے ناپاک یا قابلِ کراہت بلکہ عام حالت میں خود اس کی طبیعت کے لیے گھن پیدا کرے گا۔
5۔ بلاضرورت کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس حالت میں یہ خوف ہے کہ پیشاب کے چھینٹے جسم پر پڑ جائیں۔ اس طرح بے ستری کا بھی امکان ہے اور وقار کے بھی خلاف ہے۔
6۔پیشاب نرم زمین پر کرنا چاہیے، کیونکہ سخت زمین سے پیشاب کے چھینٹے اُڑ کر جسم پر پڑ سکتے ہیں۔ نیز کسی کے گھر یا مکان کی دیوار کی بنیادوں کے پاس پیشاب نہیں کرنا چاہیے۔
7۔ غسل خانہ کی زمین میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً جب کہ وہ کچی ہو۔ کیونکہ جگہ کی گندگی اور ناپاکی سے پانی کی چھینٹیں گندی اور ناپاک ہوکر اُڑیں گی اور بدن کو ناپاک کریں گی، یا ناپاک ہونے کا وسوسہ دل میں پیدا کریں گی۔
8۔ بول و براز کے بعد استنجا کرنا چاہیے۔ ڈھیلے یا کسی اور پاک و جاذب چیز سے صفائی کے بعد پانی سے دھو لینا اچھا ہے۔ استنجا بائیں ہاتھ سے کیا جائے۔ اس میں داہنا ہاتھ نہ لگایا جائے۔
9۔ طہارت کے بعد پانی کے علاوہ مٹی سے بھی ہاتھ دھونا چاہیے۔
10۔ ہفتے میں ایک روز ہر مسلمان پر غسل کرنا، کپڑے بدلنا، عطر اور تیل لگانا مستحسن ہے۔ بلکہ بعض فقہا اور محدثین کے نزدیک حدیث کے الفاظ کی بنا پر غسل واجب ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل کرنا لازم ہے‘‘۔
اسلام نے جمعہ کے دن کا غسل اس لیے مقرر کیا ہے کہ جمعہ مسلمانوں کے عام اجتماع کا دن ہوتا ہے، اور اس کی وجہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے یہ بیان کی ہے کہ عرب کے لوگ سخت تنگ دست اور پشمینہ پوش تھے اور محنت مزدوری کرتے تھے۔ ان کی مسجد نہایت تنگ اور اس کی چھت نہایت پست تھی، جو چھپر کی تھی۔ ایک بار گرم دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آئے تو لوگوں کے اس پشمینہ میں اور اس کی بو کے پھیلنے سے ہر شخص کو تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بدبو محسوس کی تو فرمایا کہ لوگو! جب یہ دن آئے تو غسل کرلیا کرو، اور ہر شخص کو جو بہترین تیل اور خوشبو میسر ہوسکے، لگائے۔ نیز بودار چیز مثلاً لہسن یا پیاز کھانے کے فوراً بعد بغیر منہ صاف کیے مسجد میں آنے کی ممانعت بھی فرمائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے پیاز یا لہسن کھایا وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں جا کر بیٹھے‘‘۔
11۔ جمعہ کے علاوہ عام حالات میں بھی انسان کو صاف ستھرا رہنا چاہیے، چنانچہ ایک بار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اُس کے بال بکھرے ہوئے ہیں تو فرمایا کہ اس کے پاس بال کے ہموارکرنے کا سامان نہ تھا؟ ایک دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اس کو پانی نہیں ملتا تھا، جس سے وہ اپنے کپڑے دھو لیتا؟
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ میلے کچیلے اور پھوہڑ کو پسند نہیں کرتا‘‘۔
[ماہنامہ دعوۃ، اسلام آباد۔ نومبر، دسمبر 2014ء]

Share this: