قائداعظم کی سیاسی فکر کے ترجمان

’’اللہ بخش یوسفی ایک انقلابی دل و دماغ لے کر پیدا ہوئے تھے، اس لیے بے خطر آتشِ نمرود میںکود پڑے۔ وہ خود بھی پٹھان تھے اور صوبہ سرحد کے عوام کی نفسیات، ان کی امنگوں اور آرزوئوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہوں نے صوبائی سطح پر ہندوئوں کی اقلیت کا سہارا لے کر اکثریت کے حقوق پامال کرنے کے سلسلے میں کانگریس کی پالیسیوں کا بغور جائزہ لیا تھا۔ خصوصاً مارچ 1924ء میں صوبہ سرحد کو آئینی اصلاحات فراہم کرنے کے سلسلے میں ’’برے کمیٹی‘‘ کی رپورٹ پر صوبہ سرحد کی ہندو اقلیت نے جس منفی ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کانگریس نے چور دروازوں سے جس طرح صوبہ سرحد کی ہندو اقلیت کی تائید کی تھی اُس سے اللہ بخش یوسفی پوری طرح واقف تھے، اس لیے انہوں نے اپنے اخبار میں نہ صرف کانگریس کی دو عملی پر شدید تنقید کی بلکہ حکومت کو بھی باور کرایا کہ اگر اُس نے اقلیت کو اکثریت پر مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج بڑے تباہ کن برآمد ہوں گے۔ اس کے برخلاف آل انڈیا مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناح صوبہ سرحد کو آئینی اصلاحات دلوانے کے سلسلے میں حکومت سے برابر مطالبہ کررہے تھے۔ جہاں ایک طرف مسلم لیگ نے اپنے پندرہویں سالانہ ملتوی شدہ اجلاس لاہور منعقدہ مئی 1924ء میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شمال مغربی سرحدی صوبے میں اصلاحات متعارف کرائے اور اس کو ہر لحاظ سے ہندوستان کے دیگر صوبوںکے برابر کا درجہ دے، وہاں دوسری طرف قائداعظم نے بھی امپریل لجسلیٹو کونسل میں 18 مارچ 1926ء کو ایک قرارداد پر تقریر کرتے ہوئے صوبہ سرحد کو پنجاب میں ضم کردینے کی تجویز کی سخت مخالفت کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبہ سرحد میں فوری طور پر اصلاحات نافذ کرکے اسے دیگر صوبوں کے برابر کا درجہ دے۔ قائداعظم نے اجلاس میں اللہ بخش یوسفی کا کتابچہ “Give us our dues” بھی کونسل کے اراکین کو دکھایا۔ یہی نہیں بلکہ قائداعظم نے 20 مارچ 1927ء کو مسلم رہنمائوں کے ایک نمائندہ اجلاس منعقدہ دہلی میں پیش کی جانے والی تجاویز میں بھی صوبہ سرحد کے مسائل کے حل پر زور دیا۔ یہی تجاویز بعد میں مسلم تجاویز دہلی کے نام سے معروف ہوئیں۔ قائداعظم نے آل پارٹیز کنونشن منعقدہ کلکتہ میں 26 دسمبر 1928ء کو ’’نہرو رپورٹ‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے بھی شمال مغربی سرحدی صوبہ میں اصلاحات کے نفاذ کی یاددہانی کرائی، اور جب 28 مارچ 1929ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے ملتوی شدہ سالانہ اجلاس میں قائداعظم نے اپنے چودہ نکات پیش کیے تو ان میں بھی صوبہ سرحدکے آئینی مسائل کے حل کا مطالبہ شامل تھا۔
یوسفی صاحب نے بھی اپنے اخبار میں قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات کی حمایت کی اور لکھا کہ یہ نکات ہندوستان کی آئندہ سیاست کو مثبت خطوط عطا کریں گے۔
اس کے برخلاف کانگریس کو صوبہ سرحد کے عوام اور ان کے مسائل سے بظاہر 1928ء تک کوئی دلچسپی نہیں تھی، دسمبر 1929ء میں کانگریس کے سالانہ اجلاس لاہور کے موقع پر خان عبدالغفار خان کو پہلی مرتبہ کانگریسی زعما سے قربت حاصل ہوئی اور اسی کے ساتھ کانگریس کو صوبہ سرحد میں تنظیمی اعتبار سے فروغ حاصل ہوا۔ بلکہ غفار خان بعد میں ’’سرحدی گاندھی‘‘ کہلائے جانے لگے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صوبہ سرحد کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو صوبہ سرحد کی ہندو اقلیت کے اثر رسوخ کا شروع سے ہی اندازہ تھا۔ اس لیے وہ کسی ایسی جماعت میں شامل ہونے پر آمادہ نہ تھے جس پر ہندو اثر غالب ہو۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کسی ایسی جماعت کے ہاتھ مضبوط کیے گئے تو صوبہ سرحد کے مسلمانوں کو ان کے حقوق کبھی میسر نہیں آسکیں گے۔ اس لیے 1924ء میں سب سے پہلے ’’برے کمیٹی‘‘ کے سامنے بیان دیتے ہوئے انجمن اسلامیہ ڈیرہ غازی خان کے صدر سردار گل محمد خان نے یہ اعلان کیا کہ ہندو مسلم اتحاد کبھی حقیقت ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جنوب میں 23 کروڑ ہندوئوں کی حکومت ہو، اور شمال میں 8 کروڑ مسلمانوں کی۔ راس کماری سے آگرہ تک کا علاقہ ہندوئوں کا ہو، اور آگرہ سے پشاور تک مسلمانوں کا۔ تقسیم ہند کی تمام تجاویز میں صوبہ سرحد کو علیحدہ ریاست کا حصہ دکھایا گیا تھا، جب کانگریس کسی ایسی تقسیم کو سرے سے تسلیم کرنے کے لیے آمادہ و تیار نہیں تھی۔
اللہ بخش یوسفی چونکہ ابتدا سے ہی خلافت کانفرنس سے وابستہ تھے اور مولانا محمد علی جوہر کو اپنا سیاسی اتالیق تصور کرتے تھے، اس لیے ان کی تمام سیاست بھی مولانا جوہر کی سیاست کے تابع تھی۔ وہ مولانا جوہر کی طرح بیک وقت صحافت اور سیاست کے شہسوار تھے اور ان ہی خطوط پر اپنی فکر کو مضبوط کررہے تھے جو مولانا محمد علی جوہر کی تھی۔ تحریکِ خلافت کے زوال کے بعد مولانا محمد علی جوہر 1918ء سے 1922ء تک کانگریس سے نہایت قربت اختیار کرگئے تھے، لیکن بعد میں بڑی حد تک کانگریس سے کنارہ کش ہوگئے۔ ان کی طبیعت میں اعتدال آنے لگا اور وہ جلد کسی حد تک اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہندو مسلم اتحاد ایک خام خیال ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے کہ جہاں سے مولانا محمد علی جوہر اور قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان ایک مثبت اور دائمی اتحاد قائم ہوا تھا۔ ایسا اتحاد جو جنوری 1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کے انتقال تک برقرار رہا۔
[بحوالہ: اللہ بخش یوسفی، قائداعظم کی سیاسی فکر کے ترجمان… خواجہ رضی حیدر]

آزادیِ شمشیر کے اعلان پر

۔1857ء میں انگریزی حکومت کے خلاف جوہنگامہ بپا ہوا تھا اس میں کامیابی حاصل کر لینے کے بعد انگریز حکمرانوں نے تمام ہندوستانیوں سے ہتھیار لے لیے تھے اور پورے ملک کو نہتا کر دیا تھا۔ 1935ء میں اہلِ پنجاب کو تلوار رکھنے کی اجازت ملی۔یہ شعر اسی موقع پر لکھے گئے تھے:

سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگر دار
اس بیت کا یہ مصرعِ اوّل ہے کہ جس میں
پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار!
ہے فکر مجھے مصرعِ ثانی کی زیادہ
اللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار
قبضے میں یہ تلوار بھی آ جائے تو مومن
یا خالدِؓ جانباز ہے یا حیدرِ کرارؓ

جگردار: جوہر والی تلوار، جو کاٹ میں بے پناہ سمجھی جاتی ہو۔
1۔ اے مسلمان! تجھے تلوار کی آزادی تو مل گئی۔ کبھی تُو نے یہ بھی سوچا کہ فولاد کی جوہردار تلوار کیا چیز ہے؟
2۔ اگر ہم فولاد کی تلوار کو ایک مصرع فرض کریں تو یہ اس شعر کا پہلا مصرع ہے، جس میں توحید کے بھید چھپے ہوئے ہیں۔
3۔ مجھے تلوار کے مصرع کا زیادہ خیال نہیں، شعر کے دوسرے مصرع کا زیادہ خیال ہے جس سے میری مراد فقیری اور درویشی کی تلوار ہے۔ اے مسلمان کاش خدا تجھے یہ تلوار بھی عطا کردے۔ یعنی تُو فولاد کی تلوار کے علاوہ درویشی کی تلوار کا مالک بن جائے۔
4۔ دونوں تلواریں جس مومن کے قبضے میں آجائیں وہ یا تو خالدِؓ جانباز بن جاتا ہے، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تلوار (سیف اللہ) کا لقب عطا فرمایا اور جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور کی تمام جنگوں میں بے مثال فتوحات حاصل کیں، یا وہ حضرت علی مرتضی اور شیرِ خدا بن جاتا ہے جن کی ذاتِ بابرکات ہر ستائش سے بے نیاز ہے۔

Share this: