اسلام اور صحت مند زندگی

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمیؓ پر کچھ قرض تھا، وہ کعب بن مالکؓ کو راستے میں ملے تو کعب بن مالکؓ نے ان کو پکڑلیا، دونوں بلند آواز سے جھگڑ رہے تھے۔ ادھر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اے کعبؓ‘‘ اور ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض چھوڑ دے۔ حضرت کعبؓ نے آدھا قرض اس سے لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
(بخاری۔ عن عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ)

مولانا امیر الدین مہر
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عظیم نعمتیں عطا کی ہیں اُن میں سے ایک بڑی اور اہم نعمت صحت ہے۔ صحت کی قدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی ناقدری کرکے اکثرلوگ نقصان میں رہتے ہیں، ایک صحت اور دوسری فرصت‘‘۔
صحت کی نعمت پوری طرح موجود ہو تو انسان اپنی زندگی کے تمام افعال بخوبی سرانجام دے سکتا ہے۔ دوسری صورت میں نہ صرف کام رک جاتے ہیں بلکہ انسان کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا اصل جوہر اور اس کا کمال عقل و اخلاق اور ایمان و شعور ہے، اور ان چیزوں کی صحت و سلامتی کا دارومدار بھی بڑی حد تک جسمانی صحت پر ہے۔ عقل اور دماغ کے نشوونما، فضائل و اخلاق کے تقاضے اور دینی فرائض کو ادا کرنے کے لیے جسمانی صحت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے سید المرسلین و نبی الآخرین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’طاقتور مومن بہتر اور اللہ کو زیادہ پسند ہے، بہ نسبت کمزور مومن کے۔ البتہ خیر و منفعت تو دونوں ہی میں ہے۔ تم نفع دینے والی چیزوں کے حریص بنو اور اپنی مشکلات میں اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور ہمت مت ہارو‘‘۔
دنیا میں مومن کا کردار:
زندگی میں مومن کو جو اعلیٰ کارنامے انجام دینے ہیں اُن میں خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے عظیم ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا، اور نوعِ انسانی تک اللہ اور اُس کے رسولؐ کا پیغام پہنچانے کا اہم فریضہ ادا کرنا سرفہرست ہے۔ ان گراں بہا ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن انجام دینے کے لیے بھی صحت مند ہونا انتہائی ضروری ہے۔ صحت مند اور توانا افراد ہی سے زندہ قومیں بنتی ہیں۔ ایسی ہی قومیں کارگاہِ حیات میں قربانیاں پیش کرکے اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہیں۔ وہ خود بھی زندگی کی قدر و منزلت کا شعور رکھتی ہیں اور دوسروںکو بھی شعور عطا کرتی ہیں۔
پھر مومن کو ایک اور پہلو سے غور کرنا چاہیے کہ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد نہیں رکھتے، وہ جب صحت و قوت کی بے پناہ قدر کرتے ہیں تو ایک مومن کو اُن کے مقابلے میں صحت و توانائی کا بہت زیادہ طلب گار ہونا چاہیے تاکہ پیغامِ حق کا فریضہ ادا کرنے اور اللہ کے دین کا پیغام اور نورِِ ہدایت دوسروں تک پہنچانے کے لیے جس قوت و طاقت کی ضرورت ہے اس سے وہ بھرپور طریقے سے لیس ہو۔
حفظانِ صحت کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں:
اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو اپنی صحت برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے مکمل اور جامع تعلیم دی ہے۔ اگر اس تعلیم کو سامنے رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تو نہ صرف یہ کہ صحت برقرار رہتی ہے بلکہ بہترین اور عمدہ حالت میں رہتی ہے، نیز انسان اپنی دنیاوی طبعی زندگی بھی اچھی طرح گزار لیتا ہے۔
صحت اور پاکیزہ و حلال رزق
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو پاکیزہ اور حلال رزق کھانے کا حکم دیا ہے:
(ترجمہ)’’لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں، انہیں کھائو اور شیطان کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے (کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں)‘‘۔
حلال وہ اشیا ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال اور ان کا استعمال جائز قرار دیا ہے، اور پاک اور پاکیزہ ایسی چیزیں ہیں جو انسان کے بدن اور عقل کو نقصان نہ دیتی ہوں۔ اس لیے وہ اشیا جن کی حلت و حرمت کا تذکرہ قرآن و حدیث میں صراحت سے یا اشارہ و کنایہ سے نہ ہو تو ان کے استعمال میں اصول ملحوظ رکھا جائے گا کہ وہ انسانی جسم و عقل کو نقصان نہ پہنچاتی ہوں۔
[ماہنامہ دعوۃ، اسلام آباد۔ نومبر، دسمبر 2014ء]

Share this: