اسلحہ کے تاجر غلام محمد ڈوسل کی کہانی

گزشتہ سےپیوستہ
اب نئے قیدی کی وجہ سے میری قیدِ تنہائی ختم ہوگئی۔ میرے احاطے کا نیا قیدی کوئی عام آدمی نہ تھا، بلکہ پاکستان کی ممتاز شخصیت تھی… یعنی پاکستان کے اسلحہ کے تاجر غلام محمد ڈوسل۔ انہیں جب احاطے میں داخل ہوتے دیکھا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ وہ سیاسی آدمی نہیں لگ رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا کہ نام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا غلام محمد ڈوسل۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ اسلحہ کے تاجر ہیں، یہ بعد میں پتا چلا۔ کچھ دیر بعد ان کا سامان بھی پہنچا دیا گیا۔ ہم نے ایک دوسرے سے اپنا تعارف کرایا اور پھر کمرے کے سامنے لان میں بیٹھ گئے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کس جرم میں پکڑے گئے ہیں؟ تو ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ کچھ دیر روتے رہے، پھر کچھ پُرسکون ہوگئے تو کہا:
’’میں نواب بگٹی کو گورنری کی مبارک باد دینے کراچی سے آیا تھا، جب نواب صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، وہ مجھے جانتے تھے اس لیے کہ کوئٹہ میں میری اسلحہ کی دکان تھی جہاں سے وہ بھی اسلحہ خریدتے تھے۔ میں نے انہیں مبارک باد دی تو انہوں نے فوراً مجھ سے کہا کہ تم نیپ کو اسلحہ فراہم کرتے ہو اور پہاڑوں میں اس کو حکومت کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ جب یہ سنا تو میرے تو اوسطان خطا ہوگئے اور میں نے اس سے انکار کیا، لیکن انہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا۔ اب میرے لیے وہاں بیٹھنا مشکل ہوگیا تھا، جب گورنر ہائوس سے باہر نکلا تو پولیس نے فوراً گرفتار کرلیا اور مجھے جیل پہنچا دیا۔‘‘
اپنی داستان سناکر وہ خاموش ہوگئے۔ اب انہوں نے وضو کیا اور احاطے میں موجود چھوٹی سی مسجد میں نماز پڑھنے بیٹھ گئے۔ یہ کوئی نماز کا وقت نہ تھا، بلکہ وہ نفل پڑھ رہے تھے۔ ایک کروڑپتی تاجر بڑی عاجزی سے اللہ کے حضور سجدہ ریز تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ کچھ دیر دعا کرتے رہے، جب پُرسکون ہوگئے تو میری طرف رخ کرکے پوچھا کہ اللہ دعا قبول کرتا ہے؟ ان سے کہا کہ جی ہاں بالکل، اللہ ہی تو دعا قبول کرتا ہے۔ وہ پھر رونے لگے اور مجھ سے کہا کہ آپ بھی میرے لیے دعا کریں۔ میں نے اُن کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ ایک کروڑپتی ایک فٹ پاتھ پر چلنے والے سے دعا کی دخواست کررہا تھا ۔ ہم دونوں اللہ کے حضور دعا کررہے تھے۔ کچھ دیر بعد انہیں والدہ کی یاد آئی تو وہ پھر رو دیے۔ ان کی عاجزی مجھے اچھی لگ رہی تھی۔ وہ سیاسی قیدی نہ تھے، صرف نواب بگٹی کے عتاب کا شکار ہوگئے تھے۔ مجھے خود بڑی حیرت ہورہی تھی۔ ایک شخص گورنری کی مبارک باد دے رہا تھا اور گورنر بگٹی قید کا فیصلہ کررہے تھے! نواب کا رعب دار چہرہ عام آدمی کو خوفناک لگتا تھا لیکن وہ مجلسی شخصیت تھے۔ میری حیثیت بھی نواب کے قیدی کی تھی۔ بعد میں ان سے دوستی ہوگئی تو تقریباً22 سال یہ سیاسی یارانہ اُن کے پہاڑ پر جانے تک رہا۔ نواب کی زندگی کے تمام نشیب و فراز میری نگاہوں میں ہیں، وہ مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ تم میری سوانح حیات لکھو، تمہاری تحریر اچھی ہے اور مجھے پسند ہے۔ کئی دفعہ انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ جب تمہاری فیملی کراچی چلی جائے تو تم میرے پاس ڈیرہ بگٹی آجانا، تمہیں وہ سب کچھ بتا دوں گا جو میرے سینے میں ہے۔ میں دسمبر 2003ء میں ایڈووکیٹ امان کنرائی کے دفتر گیا تو نواب کا فون امان کنرائی کے پاس آگیا۔ اُن سے کہا کہ میرا سلام نواب کو دیں۔ نواب نے فون کیا تو پہلا سوال تھا کہ تم کیا لکھ رہے ہو؟ انہیں بتلایا کہ سعودی عرب کے ایک رسالے میں مصروف ہوں، تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے رسالے میں لکھو۔ ان سے کہا کہلکھ رہا ہوں۔ وہ مجھ سے کچھ کچھ گلہ مند بھی تھے، کہا کہ تم نے تو ہماری خبر بھی نہیں لی۔ بس یہ نواب بگٹی سے میری آخری بات چیت تھی۔ پھر وہ پہاڑوں پر چلے گئے اور جان کی بازی لگادی۔ یوں بلوچستان کی سیاست کا ایک باب ختم ہوگیا۔
جن لوگوں نے نواب بگٹی کو دیکھا ہے انہیں اندازہ ہے کہ ان کی شخصیت بڑی رعب دار اور دبدبے والی تھی۔ جب وہ گورنر تھے تو ٹیچرز کی ملازمت کے لیے انٹرویو خود لیتے تھے۔ انہوں نے عابد علی عابد کی بیٹی کا دلچسپ واقعہ خود سنایا اور خوب ہنستے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی اردو کی ٹیچر کی ملازمت کے لیے کمرے میں داخل ہوئی اور میرے سامنے انٹرویو کے لیے بیٹھ گئی، جونہی میں نے سوال کیا تو وہ کانپنے لگی اور زور زور سے رونا شروع کردیا، میں نے اس سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کے والد میرے اچھے دوست ہیں۔ وہ پھر بھی کچھ نہ بول سکی تو اس سے کہا کہ آپ ڈریں نہیں، میں نے آپ کو منتخب کرلیا ہے۔ وہ خاموش ہوگئی اور چلی گئی۔ نواب نے یہ واقعہ سنایا تو میں نے اُن سے کہا کہ نواب صاحب آپ نے ایک بیچاری عورت کو خوف زدہ کردیا۔ وہ پھر خوب ہنسے اور کہا کہ ایک عورت کے رونے نے مجھے مجبور کردیا اور اُسے ٹیچر بنادیا ۔
چند واقعات کا عینی شاہد ہوں۔ نواب صاحب بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے تو ایک دن میں اُن کی محفل میں موجود تھا۔ اتنے میں بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈی کے ریاض (D.K Riaz) ان سے ملنے آئے، نواب صاحب کو بلوچی میں مبارک باد دی اور ہاتھ ملانے کے بعد ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ نواب کے بائیں طرف پین اور لکھنے کا گتا رکھا ہوا تھا، اس پر کاغذ موجود تھے۔ نواب نے گتا اٹھایا اور اس پر کچھ لکھ کر ڈی کے ریاض کو دے دیا۔ انہوں نے پرچی کھول کر اسے پڑھا اور نواب کو سلام کیا اور کمرے سے چلے گئے۔ نواب کچھ غصے میں تھے اور کچھ کچھ مسکرا رہے تھے۔ وہ کچھ پُرسکون ہوئے تو میں نے پوچھا کہ نواب صاحب آپ نے کیا لکھا تھا؟ نواب نے کہا کہ یہ اپنی ملازمت میں توسیع کے لیے آیا تھا، نالائق شخص ہے، میں نے انگریزی میں ایک لفظ لکھا اور کہا کہ اس کے معنی بتلائو۔ اس نے اسے پڑھا اور چل دیا۔ اسے اتنی انگریزی بھی نہیں آتی! ڈی۔ کے ریاض بولان میڈیکل کالج کے پرنسپل رہ چکے تھے، بعد میں انہیں اختر مینگل نے وائس چانسلر بنادیا تھا۔
اپنے موضوع کی طرف لوٹتا ہوں۔ جناب غلام محمد ڈوسل میرے لیے تو الٰہ دین کا چراغ ثابت ہوئے۔ دوپہر اور شام کا کھانا بڑا لذیذ ہوتا اور بہت زیادہ لایا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے عملے کو بتلایا ہوگا کہ ایک اور قیدی بھی ہے۔ جو کھانا بچ جاتا وہ B.S.O کے نوجوانوں کے لیے رکھ دیتا، وہ دوپہر کو پہنچ جاتے اور کھانا کھاکر خوش ہوتے اور کہتے کہ یار شادیزئی جناب ڈوسل کو جلدی نہیں چھوٹنا چاہیے، ورنہ ہم ان کھانوں سے محروم ہوجائیں گے۔ 3 یا 4 دن کے بعد نواب بگٹی نے غلام محمد ڈوسل کو چھوڑ دیا، وہ بڑے تپاک سے ملے اور رخصت ہوگئے۔ جب وہ رخصت ہوئے اور مجھے بھی رہائی مل گئی تو کئی دفعہ خیال آیا کہ اپنے اس قیدی ساتھی سے ملوں، لیکن نہیں مل سکا۔ اب غلام محمد ڈوسل اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین
اب دوبارہ میری قیدِ تنہائی شروع ہوگئی ۔ دن کوB.S.O کے نوجوانوں سے گپ شپ ہوتی اور ’وڈیرے‘ سے گانا سنتے، اور رات کو تنہائی کا سفر شروع ہوجاتا۔ تنہائی کے لمحات جتنے بھی مختصر ہوں لیکن بڑے طویل لگتے ہیں۔ اسی طرح خوشی کے لمحات جتنے طویل ہوں ہوا کے جھونکوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ اب تک میرے ساتھی مختلف جیلوں میں تھے، وہ مجھے خطوط لکھتے رہتے تھے۔ بعض دفعہ کاغذ نہ ہوتا تو سگریٹ کی ڈبی کے اندر والے حصے پر لکھتے تھے۔ مجھے ان کے خطوط ملتے رہتے تھے۔ علی احمد کرد کو لورا لائی جیل، آغا وہاب شاہ کو سبی جیل، اکبر اچکزئی کو جو نیپ چمن کے صدر تھے، چمن میں قید کیا ہوا تھا۔ حسام الدین کا علم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا ہوا تھا۔ کچھ دنوں بعد ان سب کو آہستہ آہستہ کوئٹہ جیل منتقل کردیا گیا۔ انہیں کوئٹہ لانے میں وقت لگا۔
ایک دن دوپہر کا وقت تھا کہ چکر جمعدار کے ساتھ ایک قیدی میرے احاطے میں داخل ہوا۔ میں ان کو جانتا تھا، یہ نواب زادہ شیر علی تھے، نیپ سے تعلق تھا۔ شاید وزیر تھے۔ نواب بگٹی کے عتاب کا کوڑا چل رہا تھا اور نیپ کا ایک ایک لیڈر گرفت میں آ رہا تھا۔ مرکز میں بھٹو اور بلوچستان میں نواب بگٹی کا راج تھا۔ نیپ کے کچھ عمائدین سندھ کی طرف اور کچھ زیر زمین چلے گئے تھے، اور کچھ نے افغانستان کا رخ کرلیا تھا۔ جو بلوچستان میں تھے وہ نواب کی گرفت میں آرہے تھے ۔
نواب زادہ شیر علی میرے ہمسائے تھے، ان سے سلام دعا تھی۔ جب وہ جیل میں آئے تو انہوں نے بھی فوراً وضو کیا اور احاطے میں موجود مسجد میں نماز پڑھنی شروع کی۔ یہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ ان کا تعلق خاران کے مکرانی خاندان سے تھا۔ جس نے بھی پہلی بار جیل دیکھی اسے فوراً اللہ ضرور یاد آتا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ خاران کا نواب زادہ میرا جیل فیلو بن رہا ہے۔ لیکن دو دن بعد ہی ان کو رہائی مل گئی، معلوم ہوا کہ انہوں نے حکومت کو کچھ لکھ کر دے دیا، اور یہ لکھنا ان کے لیے پروانۂ آزادی ثابت ہوا۔ بعد میں وہ پی پی پی میں شامل ہوگئے۔
بھٹو حکومت کی پوری کوشش تھی کہ نیپ کا خاتمہ کردیا جائے۔ نیپ کے وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، گوریلا لیڈر شیرو مری، غوث بخش بزنجو مرحوم اور دیگر اہم لیڈر جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔
بھٹو اور بگٹی دونوں نیپ کے لیے مشکلات پیدا کررہے تھے اور جیلیں بھر رہی تھیں۔
اب دوسرا قیدی بھی صرف دو دن بعد جیل کی سلاخوں کو خیرباد کہہ رہا تھا اور یہ سب کچھ میری نگاہوں کے سامنے ہورہا تھا، اور میں اس کو روزانہ قلم بند کرلیا کرتا تھا۔ وہ ڈائری کہیں کھو گئی ہے اور اب اپنے دماغ کی ڈائری کھول لی ہے، جس کی مدد سے لکھ رہا ہوں۔

Share this: