بلوچستان: ترقیاتی منصوبوں کی بندش

عدالت عظمیٰ کمیشن قائم کر کے ذمہ داروں کا تعین کرے وزیراعلیٰ کا مطالبہ

بلوچستان اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس 9 مارچ کو ساراوان ہائوس میں منعقد ہوا جس کی صدارت قائد حزبِ اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کی۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں صوبے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر عمل درآمد، سرکاری ملازمتوں کی فراہمی میں تاخیر اور عوامی نوعیت کے مسائل سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا، اور فیصلہ ہوا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں پی ایس ڈی پی کے معاملے پر احتجاج کا دائرہ پورے صوبے میں پھیلائیں گی، اور قرار دیا گیا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پی ایس ڈی پی ماضی کی طرح اس سال بھی لیپس ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ حکومت کو 6 ماہ کے دوران امور چلانے کا پورا موقع دیا، مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومت ڈیلیور کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے، جس کی وجہ سے پی ایس ڈی پی جاری نہ کیا جا سکا۔
اس اعتراض کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ عدالتِ عالیہ بلوچستان نے صوبے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا۔ مقصد اس کی خامیوں کو دور اور اصلاح کرنا تھا۔ جام کمال کی حکومت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے اس اقدام کو سراہا ہے، البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ خامیوں اور غلطیوں کو دور کرنا بہتر اقدام ہے، لیکن اگر باقی اسکیمیں روکی جائیں گی تو اس سے صوبے کے اندر جاری ترقیاتی عمل متاثر ہوگا۔ بہرحال حکومت چاہتی ہے کہ پی ایس ڈی پی تمام تر خامیوں اور برائیوں سے پاک ہو۔ نیز صوبے کے اندر احتساب لازم ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ جام کمال تو یہاں تک مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ بلوچستان کے اندر گزشتہ پچیس برسوں کے پی ایس ڈی پی پر کمیشن قائم کرے، اور تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
یقیناً صوبے کے اندر ماضی میں پی ایس ڈی پی پر اطمینان کا اظہار نہیں ہوا ہے، یہ متنازع ہی رہا ہے۔ چناں چہ بلوچستان ہائی کورٹ نے 19-2018ء کے پی ایس ڈی پی کا ازخود نوٹس لے کر اس پر کام روک دیا۔ پی ایس ڈی پی کیس کی عدالت میں سماعت کے دوران وہ افسران اس سے لاتعلق ہوگئے جنہوں نے اس پی ایس ڈی پی پر دستخط کیے تھے اور دباؤ کا شکوہ کیا۔ گویا انہیں دستخط کرنے پر مجبور کیاگیا تھا۔ اس بنا پر قانونی نکات و تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اسکیمیں پی ایس ڈی پی میں شامل کرلی گئی تھیں۔ عدالت نے البتہ تعلیم، امن وامان، صحت اور پانی کے شعبوں کے منصوبوں کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔ حکومت کہتی ہے کہ صوبے کے دیگر سیکٹر متاثر ہوئے ہیں اور صوبے میں زراعت، جنگلات، سڑکوں کی تعمیر، لائیو اسٹاک، توانائی ایسے سیکٹر ہیں جن پر کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ زراعت اور لائیو اسٹاک بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں، اس وجہ سے یہ شعبے متاثر ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ جام کمال کہتے ہیں کہ عدالتِ عالیہ کے حکم کی وجہ سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے محدود ہوگئے ہیں اور حکومت کے پاس گنجائش نہیں رہی۔ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے یکم ستمبر 2018ء کے بعد پی ایس ڈی پی ریویو کمیٹی اور ہر شعبے کے حوالے سے کیٹگریز بنادی ہیں۔ اسکیموں کا جائزہ لیاگیا ہے کہ کس کس اسکیم پر کتنا کام ہوا ہے۔ اور ایک بڑا فیصلہ یہ کیا کہ تقریباً چالیس ملین روپے کی 411 اسکیمیں جو 70 سے 80 فیصد تک مکمل ہونے کے باوجود گزشتہ دس برسوں سے زائد عرصے سے تاخیر کا شکار ہیں ان پر کام شروع کرایا گیا ہے تاکہ انہیں تکمیل تک پہنچایا جائے، اور اب تک 8 سے 10 ارب روپے پی ایس ڈی پی کے تحت خرچ کیے جاچکے ہیں۔ ان سمیت پی ایس ڈی پی میں 1500 جاری اسکیمیں ہیں جن کی لاگت 37 ارب روپے ہے، ان پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ عدالت سے رجوع کرکے جن سیکٹرز پر کام روکا گیا ہے اُن پر بھی کام شروع کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی جائے گی۔
جام کمال اس امید کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت رواں سال کے آخر تک صوبے کی آمدن 15 ارب روپے سے بڑھاکر 30 ارب روپے تک لے جائے گی۔ بہت سارے نقائص کا اظہار خود جام کمال بھی کرچکے ہیں۔ یقیناً وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور اس وقت اُن کی جنگ عدم شفافیت، بدعنوانی اور نظام میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف ہے۔ ضروری ہے کہ جام کمال آگے بڑھتے جائیں۔ ان کی حتی الوسع یہ کوشش ہونی چاہیے کہ مخلص اور صاف دامن لوگوں سے کام لیا جائے، خواہ وہ حکومت کا حصہ ہوں یا بیوروکریسی کا۔ خصوصاً افسرشاہی کے اندر اچھی شہرت کے لوگوں کو چن چن کر اہم ذمہ داریوں پر مامور کرنے کی ضرورت ہے، اور انہیں بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ دبائو میں آئے بغیر سرکاری اُمور کی انجام دہی کریں۔ جب آفیسر کٹھ پتلی وحریص ہوگا تو لامحالہ اس سے خلافِ قانون کام لیے جائیں گے۔ حکومت کہتی ہے کہ 1800 سے 1900 ایسے منصوبے ہیں جن کے بنیادی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ہیں، اور عدالت کے حکم پر یہ اسکیمیں ختم کردی گئی ہیں، اور جن محکموں نے یہ اسکیمیں بنائیں وہ خود گواہ بن گئے کہ یہ سب غلط ہوا ہے۔ جام کمال کا یہ مشورہ صائب اور صوبے کے مفاد میں ہے کہ اگر کسی آفیسر سے ضابطے کے برخلاف کام لینے کی کوشش ہوتی ہے تو وہ خود جاکر عدالت سے رجوع کرے، یقیناً اس طرح کالی بھیڑوں کو لگام لگ جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر بیوروکریسی خود کو درست سمجھتی ہے تو وہ حکومتی ذمہ داران کی دھونس، دباؤ اور دوسرے حربوں کے خلاف بغاوت کرے، ان کا عوام اور عدالت کے سامنے پردہ فاش کرے۔ اور اگر بیوروکریسی کے اندر بھی طرزعمل درست نہ ہو تو یہ حکومتی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے مجاز اداروں سے رجوع کریں۔ ایسا ہوگا تو بلوچستان حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر چل پڑے گا اور اس طرح صوبے کی دولت اور وسائل کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔ جام کمال کمزور وزیراعلیٰ نہیں ہیں، ان کے خلاف وہ ٹولہ سرگرم ہے جس نے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تخریب کی تھی۔ ان کے نزدیک ڈاکٹر عبدالمالک، نواب زہری اور اب بطور وزیراعلیٰ جام کمال اچھا انتخاب نہیں ہیں۔ یعنی اگر صلاحیت، اچھائی اور ایمان داری ہے تو یہ صفات صرف ان کی ذات میں جمع ہیں۔ دیکھا جائے تو ان چند افراد نے بلوچستان کے اندر سیاست کو داغ دار کیا ہے۔ یہ لوگ ڈفلی پر حرکت کرنے والے ہیں۔ عدم اعتماد کے بعد بننے والی حکومت کو کوئی کم فہم ہی اچھے الفاظ سے یاد کرے گا۔ جان جمالی بہت ہی سینئر سیاست دان ہیں، انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ اشرار کے معاون و ہم خیال بن جائیں۔ سچی بات یہ ہے کہ جان جمالی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف ان کا کندھا استعمال ہورہا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ نہلے پر دہلا مارنے والوں میں ایسے ارکانِ صوبائی اسمبلی بھی شامل ہیں کہ جن پر آئین کی دفعات 62،63 کے تحت گرفت ہوسکتی ہے۔ حزبِ اختلاف کو بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی کے مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں ہورہی! جام کمال کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ بلوچستان کے گزشتہ 25 برسوں کے پی ایس ڈی پی پر کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کرے، اور اُن کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ بلاشبہ جن سرکاری افسران نے قانون کے برخلاف پی ایس ڈی پی پر دستخط کیے ہیں وہ بھی مستحق ہیں کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ بہتر ہوگا کہ گزشتہ 25 برسوں کے پی ایس ڈی پی کے خلاف وزیراعلیٰ جام کمال خان خود سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں۔

Share this: